en-USur-PK
  |  
Dr. Daniel's Blog
12

مسیح کا جی اٹھنا ایک دھوکہ یا حقیقت ؟ اسلام اور مسیحت

posted on
مسیح کا جی اٹھنا ایک دھوکہ یا حقیقت ؟ اسلام اور مسیحت

 

مسیح کا جی اٹھنا ایک دھوکہ یا حقیقت ؟ اسلام اور مسیحت

ڈاکٹر دانیال

پوری دنیا میں ھر سال مسیح کے مُردوں میں سے جی اٹھنے کی عید منائی جاتی ہے ۔ اس پر کئی طرح کے اعتراض بھی کئے جاتے ہیں مگر فرمان قرآن و بائبل روشنی میں غور و تحقیق ضروری ہے ۔

یسوع میسح ( عیسٰی ) کا مُردوں میں سے جی اٹھنا ( عربی کا جو لفظ اس آیت میں استعمال ہوا ہے اسکا مطلب ہے مر کے جی اٹھنا ) فرمان قرآن سورۃ مریم ۳۳

محمد جوناگڑھی، اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوباره زنده کھڑا کیا جاؤں گا، سلام ہی سلام ہے۔

مسیح کی رومی عدالت میں پیشی، یو حنا ۱۸ ، یِسُوع کی پیلاطُس کے سامنے پیشی

متّی ۲۷‏:۱‏-۲‏،۱۱‏-۱۴؛ مرقس ۱۵‏:۱‏-۵؛ لُوقا ۲۳‏:۱‏-۵

28پِھر وہ یِسُو ع کو کائِفا کے پاس سے قلعہ کو لے گئے اور صُبح کا وقت تھا اور وہ خُود قلعہ میں نہ گئے تاکہ ناپاک نہ ہوں بلکہ فَسح کھا سکیں۔ 29پس پِیلا طُس نے اُن کے پاس باہر آ کر کہا تُم اِس آدمی پر کیا اِلزام لگاتے ہو؟۔

30اُنہوں نے جواب میں اُس سے کہا کہ اگر یہ بدکار نہ ہوتا تو ہم اِسے تیرے حوالہ نہ کرتے۔

۱۹باب ، 16اِس پر اُس نے اُس کو اُن کے حوالہ کِیا کہ مصلُوب کِیا جائے۔ پس وہ یِسُوع کو لے گئے۔ 17اور وہ اپنی صلِیب آپ اُٹھائے ہُوئے اُس جگہ تک باہر گیا جو کھوپڑی کی جگہ کہلاتی ہے ۔ جِس کا تَرجُمہ عِبرانی میں گُلگُتا ہے۔

یِسُوع کی مَوت

متّی۲۷‏:۴۵‏-۵۶؛مرقس۱۵‏:۳۳‏-۴۱؛ لُوقا ۲۳‏:۴۴‏-۴۹

28اِس کے بعد جب یِسُو ع نے جان لِیا کہ اب سب باتیں تمام ہُوئِیں تاکہ نوِشتہ پُورا ہو تو کہا کہ مَیں پیاسا ہُوں۔

29وہاں سِرکہ سے بھرا ہُؤا ایک برتن رکھا تھا ۔ پس اُنہوں نے سِرکہ میں بِھگوئے ہُوئے سپنج کو زُوفے کی شاخ پر رکھ کر اُس کے مُنہ سے لگایا۔ 30پس جب یِسُو ع نے وہ سِرکہ پِیا تو کہا کہ تمام ہُؤا

اور سر جُھکا کر جان دے دی۔

فرشتوں کی مردوں میں سے جی اٹھنے کی گواھی : متی ۲۸ باب ، 5 فرِشتہ نے عَورتوں سے کہا تُم نہ ڈرو کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ تُم یِسُو ع کو ڈھُونڈتی ہو جو مصلُوب ہُؤا تھا۔ 6وہ یہاں نہیں ہے کیونکہ اپنے کہنے کے مُطابِق جی اُٹھا ہے ۔ آؤ یہ جگہ دیکھو جہاں خُداوند پڑا تھا۔ 7اور جلد جا کر اُس کے شاگِردوں سے کہو کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور دیکھو وہ تُم سے پہلے گلِیل کو جاتا ہے ۔وہاں تُم اُسے دیکھو گے ۔ دیکھو مَیں نے تُم سے کہہ دِیا ہے۔۔ لوقا باب 24 ،4اور اَیسا ہُؤا کہ جب وہ اِس بات سے حَیران تِھیں تو دیکھو دو شخص برّاق پوشاک پہنے اُن کے پاس آ کھڑے ہُوئے 5جب وہ ڈر گئِیں اور اپنے سر زمِین پر جُھکائے تو اُنہوں نے اُن سے کہا کہ زِندہ کو مُردوں میں کیوں ڈُھونڈتی ہو؟ 6وہ یہاں نہیں بلکہ جی اُٹھا ہے یاد کرو کہ جب وہ گلِیل میں تھا تو اُس نے تُم سے کہا تھا 7ضرُور ہے کہ اِبنِ آدم گُنہگاروں کے ہاتھ میں حوالہ کِیا جائے اور مصلُوب ہو اور تِیسرے دِن جی اُٹھے۔

جی اٹھنے کے بعد شاگردوں سے ملاقاتیں : یوحنا ۲۰ باب ، یِسُوع اپنے شاگِردوں پر ظاہِر ہوتاہے۔ متّی ۲۸‏:۱۶‏-۲۰؛ مرقس ۱۶: ۱۴‏-۱۸؛ لُوقا ۲۴: ۳۶‏-۴۹

19پِھر اُسی دِن جو ہفتہ کا پہلا دِن تھا شام کے وقت جب وہاں کے دروازے جہاں شاگِرد تھے یہُودِیوں کے ڈر سے بند تھے یِسُو ع آ کر بِیچ میں کھڑا ہُؤا اور اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو!۔ 20اور یہ کہہ کر اُس نے اپنے ہاتھوں اور پسلی کو اُنہیں دِکھایا ۔ پس شاگِرد خُداوند کو دیکھ کر خُوش ہُوئے۔ 21یِسُو ع نے پِھر اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو !

مرقس 16، باب ، یِسُوع گیارہ شاگِردوں پر ظاہر ہوتاہے

متّی ۲۶: ۱۶‏-۲۰؛ لُوقا ۲۴: ۳۶‏-۴۹؛ یُوحنّا ۲۰‏:۱۹‏-۲۳؛ اَعمال ۱‏:۶‏-۸

14پِھروہ اُن گیارہ کو بھی جب کھانا کھانے بَیٹھے تھے دِکھائی دِیا اور اُس نے اُن کی بے اِعتقادی اور سخت دِلی پر اُن کو ملامت کی کیونکہ جِنہوں نے اُس کے جی اُٹھنے کے بعد اُسے دیکھا تھا اُنہوں نے اُن کا یقِین نہ کِیا تھا۔ 15اور اُس نے اُن سے کہا کہ تُم تمام دُنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے اِنجِیل کی مُنادی کرو۔

یوحنا باب ۲۰ ، ۲۵ تا ۲۹ بھی ضرور پڑھیں۔ 29یِسُو ع نے اُس سے کہا تُو تو مُجھے دیکھ کر اِیمان لایا ہے ۔ مُبارک وہ ہیں جو بغَیر دیکھے اِیمان لائے۔

مکاشفہ باب ۱ ، 17جب مَیں نے اُسے دیکھا تو اُس کے پاؤں میں مُردہ سا گِر پڑا اور اُس نے یہ کہہ کر مُجھ پر اپنا دہنا ہاتھ رکھّا کہ خَوف نہ کر ۔ مَیں اوّل اور آخِر۔ 18اور زِندہ ہُوں ۔ مَیں مَر گیا تھا اور دیکھ ابدُالآباد زِندہ رہُوں گااور مَوت اور عالَمِ ارواح کی کُنجِیاں میرے پاس ہیں۔



 

 

Posted in: | Tags: | Comments (0) | View Count: (229)

Post a Comment