en-USur-PK
  |  
22

بقر عید

posted on
بقر عید

بقرعید

          بقر عید کا دن تھا۔ حسین کی والدہ کو اچانک اطلاع ملی کہ اس کی شادی شدہ لڑکی بیمار ہے۔اس لئے عید منانے کےبعد دوسرے ہی روز وہ گاڑی پر سوار ہوکر اپنی لڑکی سے ملنے کےلئے  روانہ ہوئی ۔ گاڑی کے جس ڈبے میں وہ بیٹھی تھی اس میں ایک عیسائی خاتون بھی تھی۔ جس کے ساتھ اس کا چھوٹا سا لڑکا داؤد بھی تھا۔ حسین کی والدہ نے اسے اپنی پریشانی سنائی اور وہ دونوں سہیلیاں بن گئیں۔

حسین کی والدہ   : کل بقر عیدتھی جس کی باعث خبر ملنے پر بھی روانہ نہیں ہوسکی۔ کیا آپ عیسائی لوگ بھی اسے مناتے ہیں؟

داؤد کی والدہ     : ہم جانوروں کی قربانیاں نہیں دیتے ۔ آپ لوگوں کیوں دیتے ہیں ؟

حسین کی والدہ    : اس کا قرآن مجید میں حکم ہے ۔ کیا حضرت موسیٰ                                                                     نے گائے کی قربانی نہیں دی تھی؟ اورکیا ہمارے رسول ﷺ اور ان کے صحابہ کرام نے اونٹوں ، گائیوں اور بکروں کی قربانی نہیں دی تھی۔ قربانی ہمارے دین کا جزو ہے۔ ہر بقرعید کے موقع پر حضرت ابراہیم خلیل الله                                                                                                                                                                                                                    کی قربانی کی یاد میں ہم قربانیاں دیتے ہیں۔ کیا آپ کو اس کاعلم ہے ؟ "

داؤد کی والدہ     : " جی ہاں ! معلوم ہے اور بڑی خوشی کی بات ہے کہ آپ بھی جانتی ہیں۔ یہ کتنا عجیب قصہ ہے حضرت ابراہیم                                                                                                                                       کا کتنابڑا ایمان تھا ؟ وہ پروردگار کے حضور اپنے پیارے بیٹے کی بیش بہا قربانی دینے پر بھی رضا مند ہوگئے ۔ میں اپنے لڑکے داؤد کو یہ قصہ اکثر سناتی رہتی ہوں ۔لیکن اسے یہ نہیں سکھاتی کہ اس یاد میں جانوروں کی قربانی کی جائے ۔ میں اس سے کہتی ہو ں کہ وہ بھی حضرت ابراہیم                                                                                                                                                                                                                                                            کی   پیروی کرتے ہوئے باری تعالیٰ پر ایمان رکھے اوراس کا فرمانبردار ہو۔ اگر پروردگار ِ عالم اس کے سپرد کوئی مشکل سے مشکل کام بھی کرے تو اسے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔"

حسین کی والدہ     : " کیا عیسائی لوگ جانوروں کی قربانی نہیں کرتے ؟"

داؤد کی والدہ     : جی ہاں ! بنی اسرائيل  اور ان کے انبیاء ، حضرت نوح ، حضرت موسی ٰ اور حضرت داؤد ، حضرت الیاس وغیرہ وغیرہ جانوروں کی قربانیاں دیا کرتے تھے۔توریت شریف میں ان کے متعلق احکام ہیں۔ مگر ان تمام قربانیوں کا اشارہ آنے والے سیدنا مسیح کی طرف تھا جسے جہان کے گناہوں کے لئے اپنے آپ کو قربان کرنا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ  ایک دفعہ  میں نے حضرت یسعیاه کے صحیفہ میں آنے والے مسیح اور اس کی قربانی کے متعلق  کچھ حفظ کیا تھی نبی نے جو کچھ فرمایا آپ اسے بائبل شریف میں پڑھ سکتی ہیں۔"

          " اس نے ہماری مشتقیں اٹھالیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا پر ہم نے اسے پروردگار کا مارا اور کوٹا اور ستایا ہوا سمجھا۔ حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کےسبب سے گھائل کیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعث کچلا گیا۔ ہماری ہی سلامتی کے لئے اس پر سیاست ہوئی تاکہ  اس کے مار کھانے سے ہم شفا پائیں ۔ ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے ۔ ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کوپھرا پر پروردگار نے ہم سب کی بدکرداری اس پر لادی ۔"

          " وہ ستایا گیا تو بھی اس نے برداشت کی اور منہ نہ کھولا جس طرح بره (مینڈھے کا بچہ) جسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور جس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والے کےسامنے  بے زبان ہے اسی طرح  وہ خاموش رہا وہ ظلم کرکے اور فتویٰ لگا کر اسے لے گئے پراس کے زمانہ کے لوگوں میں سے کس نے خیال کیا وہ زندوں کی زمین سے کاٹ ڈالا گیا ؟ میرے لوگوں کی خطاؤں کے سبب سے اس پر مار پڑی۔ اس کی قبر بھی شریروں کےد رمیان ٹھہرائی گئی اور وہ اپنی موت میں دولت مندوں کے ساتھ ہوا حالانکہ اس نے کسی طرح کا ظلم نہ کیا اور اس کے منہ میں ہر گز چھل نہ تھا ۔" (بائبل شریف صحیفہ حضرت یسعیاہ رکوع 53 آیت 4تا9)۔

          "لوگ واقعی سمجھتے تھے کہ سیدنا مسیح کو قتل کرکے خدا کی خدمت کررہے تھے۔ مگر وہ خدا تعالیٰ کا برہ (مینڈھے کا بچہ ) تھاجو ہمارے گناہوں کو اٹھانے کے لئے مرے۔ اب چونکہ سیدنا عیسیٰ مسیح جسے آپ لو گ حضرت عیسیٰ کہتے ہیں  پروردگار کے کلام اور انبیاء کرام کی پیشن گویوں کے مطابق  ہمارے گناہوں  کی خاطر قربان ہوئے اس لئے خدا تعالیٰ کا کلام ہم سے کہتاہے کہ اب ہماری جانب سے جانوروں کی قربانیوں کی ضرورت نہیں ۔ تمام پچھلی قربانیوں کا اشارہ اسی بڑی حقیقت کی طرف تھا۔ جس کی اطاعت  میں اب ہم کو پروردگار کے لئے  اپنے نفس کی قربانی پیش کرنا چاہیے۔

حسین کی والدہ    : آپ کے عقیدہ کے بارے میں مجھے نئی باتیں معلوم ہویں۔اس سے پہلے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔ کچھ دن ہوئے ہمارے گاؤں میں ایک مولوی صاحب وعظ کرنے آئے تھے۔ وہ بڑے ہی سنجیدہ اور اچھے آدمی تھے۔ کہتے تھے صرف جانوروں کی قربانیاں ہی کافی نہیں بلکہ ہمیں چاہیے کہ خود اپنی قربانی دیں۔"

داؤد کی والدہ     : بہن۔یہی تو انجیل شریف کی تعلیم ہے ہمارے پادری صاحب نے پچھلے اتوار انجیل شریف کی ایسی ہی ایک آیت پر وعظ دیا تھا۔ آیت کے الفاظ  ابھی تک میرے ذہن میں تازہ ہیں۔ خدا تعالیٰ کے کلام میں مرقوم ہے " اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ او رپاک اور باری تعالیٰ کو پسندیدہ ہو۔" پادری صاحب نے فرمایا کہ باری تعالیٰ کو بیچارے جانوروں کی قربانی پسند نہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ  ہم اس کے حضور اپنے زندہ ، جسموں یعنی اپنے ہاتھوں اور پاؤں ۔ اپنی  آنکھوں اور کانوں۔ اپنےہونٹوں اور اپنے دلوں کو اس کی خدمت میں لگائیں۔ گائے  اور بکری کی قربانی دینا تو آسان ہے مگر پاک اور بے گناہ زندگی جو خدا کی پسندیدہ  ہے بسرکنا مشکل ہے۔

حسین کی والدہ    : آپ بجا کہتی ہیں۔"

داؤد کی والدہ    : انجیل شریف بتاتی ہے کہ دنیا کی پیدائش سے لے کر اب تک صرف ایک ہی ایسی ذات ہے جس نے خدا تعالیٰ کے حضور اپنی کامل زندگی اور روز مرہ کی کامل خدمت کی قربانی پیش کی ۔ اس عظیم المرتبت  اور لاثانی شخصیت کا خدا تعالیٰ کی خدمت سے اتنا لگاؤ تھاکہ وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی تھی۔ اطاعت خداوندی اورخدمت خلق خدا گویا ان کی روز مرہ کی روٹی تھی۔ آپ نے ایک مرتبہ فرمایا : میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق  عمل کروں۔" (انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا رکوع 4آیت 34)۔ آپ انہیں عیسیٰ روح الله کے نام سے جانتی ہیں۔

حسین کی والدہ    : "ہاں  ! میں جانتی ہوں وہ بہت ہی رحم دل تھے۔ باری تعالیٰ نے انہیں معجزے کی قدرت عطا کی تھی۔ انہو ں نے  بیماروں کو شفا دی ۔ اندھوں کو آنکھیں دیں اور مردوں کا زندہ کیا۔"

داؤد کی والدہ    : " جی ہاں ! آپ کی تمام زندگی  دوسروں کی خدمت میں بسر ہوئی۔آپ نے نہ صرف لوگوں کے جسموں کو تندرست کیا بلکہ ان کے دلوں کو بھی شفا دی۔ آپ نے برُے لوگوں کو نیک بنایا اور گنہگاروں کو توبہ کی توفیق بخشی۔ اسی لئے توشیطان کو آپ سے نفرت تھی اور آپ سے ڈرتا تھا۔ شیطان نے آپ کے دشمنوں کو بھڑکایا کہ وہ آپ کو قتل کردیں۔ انہوں نے آپ کو مارا۔ آپ کے منہ پر تھوکا اور آپ کا مذاق اڑایا۔ آخر کا ر آپ کے ہاتھ پاؤں چھید کر کیلوں سے آپ کو صلیب پر جڑدیا۔ وہاں ناقابل بیان اذیت سے آپنے اپنی جان دے دی۔"

حسین کی والدہ    : پھر الله وتبارک تعالیٰ نے ایسی خطرناک موت سے انہیں کیو ں نہ بچایا ۔ کیا پروردگارِ عالم نے حضرت ابراہیم  کے بیٹےکو نہیں بچایا تھا اور ان کے بجائے  ایک مینڈھا نہیں دیا تھا؟

داؤد کی والدہ   : خدا تعالیٰ کی اطاعت میں اپنا دھن من حتیٰ کہ اپنی جان تک قربان کردینا پروردگار کے نیک بندوں کے لئے خوبی کی بات ہے ۔ پھر آپ تو کامل اطاعت اور کامل زندگی کے مظہر تھے۔ آپ نے اپنے صحابہ کرام کو جو تعلیمات  دیں ان کی روشنی میں یہ ضروری تھاکہ آپ صحابہ کرام کے لئے کامل نمونہ بن کر گناہ کے مقابلہ میں ہر کٹھن منزل پر ثابت قدم رہیں۔ وہ چاہتے تو اپنے دشمنوں کو فناکرسکتے تھے لیکن آپ نے ایسا کرنا پسند نہیں کیا کیونکہ  آپ جانتے تھے کہ آپ کے دشمن گناہ کے زہریلے اثرات کی وجہ سے اپنا ضمیر  او راپنی نیک سمجھ کھو بیٹھے ہیں۔آپ کو ان پر ترس آتا تھا۔ گو انہوں نے  کیلوں سے آپ کے ہاتھ اور پاؤں چھید دیئے مگر آپ نے پروردگار سے دعا کی کہ وہ انہیں معاف فرمائیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ  کیا کررہے ہیں ۔ آپ نے گنہگاروں کو بچانے کے لئے اپنی بے گناہ زندگی کی قربانی دی۔

حسین کی والدہ    : " میں آپ  کا مطلب نہیں سمجھی۔ آپ کہتی ہیں وہ اوروں کو بچانا چاہتے تھے۔ بھلا وہ اوروں کوکیسے بچاسکتے تھے ؟"

داؤد کی والدہ     : سیدنا عیسیٰ مسیح کی صلیبی موت کے اس پہلو کوسمجھنے میں شاید یہ مثال آپ کی مدد کرے حسین آپ کا بیٹا ہے ؟

حسین کی والدہ    : ٹھیک ہے اور آپ جانیں مجھے اس سے بڑی محبت ہے یہ پروردگار کی بڑی نوازش ہے کہ اس نے مجھے بیٹے کی نعمت عطا کی ۔ خیر سے وہ اب دس سال کا ہوگیا اور اسکو ل جاتا ہے ۔ میرا بیٹا بڑاہوشیار ہے ۔"

داؤد کی والدہ    : میرے لڑکے کی طرح آپ کا لڑکا بھی کبھی کبھی شرارت کرتا ہوگا؟"

حسین کی  والدہ   : " ماننے والی بات ہے۔ بعض اوقات  تو یہ بہت ہی دق کرتا ہے اور کہنا نہیں مانتا۔ میں اتنی تنگ آجاتی ہوں کہ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں ؟"

داؤد کی والدہ   : الله نہ کرے کہ ایسا ہو میں صرف مثال کے طور پر کہتی ہوں۔ فرض کیجئے کہ آپ کا لڑکا بڑا ہوکر کسی بینک کی چوری کرے اور روپیہ خرد برد کرے اور پولیس اسے گرفتار کرکے جیل بھیجوادے ۔"

حسین کی والدہ   : الله نہ کرے ! ایسے منحوس تصور ہی سے میرا دل ٹوٹ رہا ہے۔ میرا بیٹا کتنا پیارا ہے۔"

داؤد کی والدہ   : " مگر اس تصور سے آپ کا دل کیوں ٹوٹتا ہے ؟ اور کیوں افسوس ہوتا ہے ؟

حسین کی والدہ   : کیونکہ میں سمجھتی ہو ں کہ میرے بیٹے کے لئے  ایسا فعل برا ہے۔ یہ انسانوں کے اور خدا تعالیٰ کے خلاف گناہ ہے میں اس سے محبت کرتی ہوں اسی لئے  اس تصور ہی سے میرا دل دکھتا ہے ۔"

داؤد کی والدہ   : " آپ درست کہتی ہیں اب صرف اتنا اور فرض کیجئے کہ آپ کے اس امر پر رضا مند ہونے سے کہ چرائی ہوئی ساری رقم آپ واپس کردیں گی اور چوری کا ہر جانہ بھی ادا کردیں گی تو آپ کے لڑکے کو رہائی مل جائے گی۔ایسی صورت میں کیا آپ رضا مند نہ ہوں گی؟

حسین کی والدہ    : " کیوں نہیں؟ میں آپ کو بتا چکی ہوں کہ یہ بیٹا مجھے بہت ہی پیارا ہے اس کے لئے میں سب کچھ قربان کردوں گی ۔"

داؤد کی والدہ   : ایسا کرنے میں شاید آپ کو اپنا سارا زیور یا جائیداد بھی فروخت کرنی پڑے۔ کیاآپ سمجھتی ہیں کہ اس سے آپ کے لڑکے پراثر نہیں ہوگا اور وہ اپنا گناہ محسوس کرکے اس پرا فسوس نہیں کرے گا ؟"

حسین کی والدہ   : " مجھے ایسی ہی توقع ہے کیونکہ وہ دیکھے گا کہ میری ماں نے میرے لئے کیا کچھ نہیں کیا مجھے امید ہے کہ اس کے طور طریقے بدل جائیں گے ۔ اور اس سے پھر ایسا فعل سرزد نہیں ہوگا۔

داؤد کی والدہ  :" بالکل صحیح ہے۔ اب سوچئے جب آپ کو اپنے بیٹے کا اتنا احساس ہے تو آپ یہ سمجھ سکتی ہیں کہ پروردگار کو ہمارا کتنا احساس نہ ہوگا اور ہمیں اس کا کیسا احساس ہونا چاہیے۔ دراصل ہمارا گناہ ہماری طرف سے پروردگار کی پاکیزگی اور اس کی ہم سے محبت  کے خلاف جنگ ہے۔ وہ ہمیں پیدا کرتا ہے۔ہمیں روزی دیتا ہے او رہماری رہائش کے لئے مکان دیتا ہے۔ وہ اپنی پاک شریعت کی معرفت ہم پر ظاہر کرتاہے کہ ہمیں کس قسم کی زندگی بسر کرنی چاہیے ۔ لیکن ہم اس کی شریعت  کے احکام کی خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔ اب چونکہ وہ پاک ہے اس لئے اسے ہم پر اپنی پاکیزگی کا اظہار کرنا پڑتا ہے اور یہ کہ جب ہم اس کی پاکیزگی کے خلاف  گناہ کرتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں ۔ بتائیے ایسی صورت میں پروردگار کیا کرے گا ؟ "

حسین کی والدہ   : " وہ ہم پر سخت  عذاب نازل کرے گا اور کیا؟"

داؤد کی والدہ   : " آپ بتائيے کہ اگر آپ کا لڑکا اس چوری کی سزا میں جیل میں ہو تو آپ کیا کریں گے ؟ کیا آپ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گی کہ وہ اپنے کئے کاپھل پائے۔ کیا آپ اس سے لاپرواہ ہوکر اسے کہیں گی کہ وہ اس کا مستحق تھا ۔ اس لئے اچھا ہوا؟"

حسین کی والدہ  : جی نہیں میں نے آپ کو بتایا کہ مجھے اپنے بیٹے سے محبت ہے ۔اور جو کچھ مجھ سے ہوسکے گا میں اسے بچانے کے لئے کروں گی۔ کیونکہ اس کے جیل میں رہنے سے میں خود ماں ہونے کے ناتے سے بہت دکھی ہوں گی۔

داؤد کی والدہ  : " کیا پروردگار بھی ہمیں پیار نہیں کرتا ؟ کیا وہ ہمیں  ہمارے گناہوں سے آزاد کرنے کے لئے کوئی سبیل نہ نکالے گا ؟ خاص کر اس امر کے پیشں نظر کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ گناہ کی مزدوری موت ہے ؟ کیا وہ ہمیں  بدلنے کے لئے کوئی راستہ نہ نکالے گا؟"

حسین کی والدہ  : " ہاں میرا خیال ہے کہ وہ ضرور کچھ نہ کچھ کرے گا! "

داؤد کی والدہ  : " اب ذرا یہ سمجھنے کی کوشش کیجئے کہ پروردگار نے سیدنا عیسیٰ مسیح میں ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یہ تو آپ جانتی ہیں کہ پروردگار کے خلاف جو بھی گناہ ہم نے کئے ہیں ہم ان کا ہرجانہ نہیں دے سکتے ۔ رہے ہمارے تھوڑے  نیک اعمال وہ تو ہم پر فرض ہیں ہمیں تو ان پر عمل کرنا ہی چاہیے تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت  میں رب العالمین  ہی ہماری مدد کرسکتا ہے۔ سوائے اس کے اور کوئی مدد گار نہیں ہوسکتا۔ اسی  لئے خدا تعالیٰ نے دنیا میں سیدنا عیسیٰ مسیح کو بھیجا کہ آپ کی پاک اوربے عیب کامل زندگی اورکامل قربانی سے فائدہ اٹھائيں  ۔ اسی لئے  سیدنا عیسیٰ کو " خدا تعالی ٰ کا برہ"  جو ہمارے گناہ اٹھا لے کر جاتا ہے کہا گیا ہے۔ جب مجھے خیال آتا ہے کہ گناہ کے باعث سیدنا عیسیٰ مسیح کو اس قدر دکھ اٹھانا پڑا تو مجھے  اپنے دل کے گناہوں سے نفرت ہوجاتی ہے ۔ اورپروردگار سے منت کرتی ہوں  کہ وہ مجھے معاف کرے اور اس طریقے  سے بہن ! میں سیدنا عیسیٰ کے نام میں دعا کرتی ہوں اور وہ مجھے  معاف کرکے اطمینان بخشتے ہیں۔

حسین کی والدہ   : " آپ لوگ کہتے ہیں ، عیسیٰ روح الله وفات پا گئے  حالانکہ ہم کہتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔

داؤد کی والدہ   : " تواریخ اور انجیل شریف کے مطابق  صلیب پر جمعہ کے دن آپ کی موت واقع ہوئی آپ دفن کئے گئے ۔ اتوار کے روز آپ زندہ ہوکر شیطان، گناہ اور موت پر غالب آئے ۔ آپ کا مردوں میں سے زندہ ہوجانا  پروردگار کی طرف سے اس امر کی مرہ تصدیق ہے کہ آپ نے اپنی قربانی ہمیں بچالیا ہے اور ایسی قربانی کی موجودگی میں ہمیں مزید کسی قربانی کی ضرورت نہیں۔پروردگار کی طرف سے یہ یقین دیا گیا ہے کہ جس طرح سیدنا عیسیٰ مردوں میں سے جی اٹھے اسی طرح ہم بھی جو اپنے لئے اس قربانی کو قبول کرتے ہیں مردوں میں سے جی اٹھینگے۔ وہ زندہ ہیں اور گناہ پر فتح حاصل کرنے کے لئے  میرے مددگار ہیں۔ روحانی طور پر میرے دل میں بستے ہیں۔ اور اپنے وعدہ کے مطابق  آسمان پر میرے لئے جگہ تیار کررہے ہیں۔ اور مجھے اپنے نفس اور اپنے بدن کی قربانی دینے میں مدد فرماتے ہیں۔

حسین کی والدہ   : ہماری اچانک ملاقات سے بڑا فائدہ ہوا۔ مجھے کافی معلومات حاصل ہوئیں۔

داؤد کی والدہ   : اے لو ! اب ہم اسٹیشن پر پہنچ گئے ہیں مجھے اترنا ہے۔ اور وہ ہیں داؤد کے والد جو مجھے میرے والد کے گھر لے جائیں گے ۔ میرا سفر ختم ہوچکا ہے۔ اور اسی طرح بہن ! جب ہماری زندگی کاسفر ختم ہوگا تو حضرت عیسیٰ مجھے میرے آسمانی گھر لے جائيں گے۔ کیا آپ ان پر ایمان لاکر  ان سے اپنے لئے بھی گھر تیا رکرنے کو نہیں کہیں گی ؟"

خدا حافظ۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, یسوع ألمسیح, اُردو کتابیں, نجات, اسلام, مُحمد, غلط فہمیاں | Tags: | Comments (3) | View Count: (15109)

Comments

  • Today the only divine book that remains unchanged is Quran,with all other faiths (except christianity)their divine books have lost the text while gospel lost both language(jesus taught in Aramaic
    31/10/2016 4:23:25 PM Reply
  • Baqar-e- Eid is such a big act of Ibraheem and his son Ismael that all the three Abrahamic faiths should celiberate it but only Muslims do.By the sacrifice of Ismael as it was being done in those days,and God replaced it with lamb.By this act God taught that no more human sacrifice from today onward only animal sacrifice.Imagine if today the human sacrifice was going on.WHo would have been sacrificed.,all weak people,all people who were visiting a new area,all people who were with body defects,yes there would have been such religious gangs to kidnap men and sell them for price,A young healthy man for more price than an old man. My question to you is why you are not thankful to the creator Allah for his this mercy.Today you can walk without fear of being kidnapped and sold for sacrifice.Baqar-e-eid teaches us to thank our creator and then Abraham and then Ismael.
    25/10/2016 1:28:51 PM Reply
  • you have correctly written that Jesus was put on cross and he was not found in the tomb on sunday morning.So how much time passed.Friday night,saturday day,saturday night so two nights and one day.SO why Jesus said,Just like Jonah was three days and three nights in the belly of whale so shall the son of man(i.e.himself) will remain 3 days and 3 nights in the chest of the earth.So first he was not 3 days and 3 nights away form the site was less than that.Secondly when he came and people got scared thinking this is his ghost.So he wanted to prove them he was same man,not dead but alive all along and he said touch me as the spirit doesn't have meat and bones and he asked food to eat as he was hungry and said the ghosts don't eat.He was given fish and honeycomb.So where did this story creep in that he died on cross it was someone else,his look alike who was put on the cross.
    25/10/2016 1:22:40 PM Reply

Post a Comment

English Blog