en-USur-PK
  |  
20

حقانیت کتاب مقدس

posted on
حقانیت کتاب مقدس

اسلامی کتب میں قرآن اور احادیث ہی حرف ِ آخر ہیں ۔ مسلمان یہ ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ کا الہی مکاشفہ ہے، (مختلف ترجموں میں آئیتوں میں خفیف سا اختلاف پایا جاتاہے)۔ ہر سورۃ پورے باب کا پیشہ خیمہ ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق محمد مرد کامل کے طور پر ایک نمونہ ہیں جس کی تقلید ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جو کچھ انہوں نے کہا اور عمل میں لائے وہ حدیث کہلاتی ہے۔ احادیث چھ طرح کی ہیں۔ احادیث : بخاری ، مسلم، ابو داؤد ، ترمزی، سنن ابنِ ماجہ، اور سنن نسائی۔ اس کتابچہ کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو محمد کی تعلیمات اور انکے کاموں سے روشناس کروایا جائے، نہ کہ ان کے جذبات کو برانگیختہ کیا جائے؛ مسلمانوں کو کسی حد اپنے خدا  کے بارے میں آگاہی ہو کہ اس موضوع کے حوالے سے اللہ اور محمد نے کیا کہا ہے۔

ڈکشنری میں بیان کردہ معنوں کے مطابق "اصلی" کسی چیز کا اپنی موجودہ حالت میں اپنی ابتدائی حالت کے مطابق ہونا ہے جو کسی بھی شک و شبہ سے بآلاتر ہو۔ مزید مترادف الفاظ میں جو جعلی کے عین ہیں ، ان میں میں ، مستند ، معتبر، حقیقی جیسے الفاظ شامل ہیں ۔

بائبل مقدس صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ 66 دیگر کتب پر مشتمل ہے جو عہدعتیق اور عہد جدید میں منقسم ہے۔ یہ مختلف کتب کس طرح سے احاطہء تحریر میں آئیں؟، وہ کون لوگ تھے جنہوں نے انہیں لکھا؟ اور کس طرح سے کچھ خاص کتابیں بائبل مقدس کا حصہ بن پائیں؟ اور اللہ، بائبل مقدس کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے ؟

بائبل مقدس سے متعلق اسلامی تعلیمات:

اندرونی طورپر اسلامی تعلیمات تضاد کا شکار ہیں۔ ایک طرف تو پاک صحیفوں کو اعلی رتبے سے نوازا جاتا ہے اور دوسری طرف یہ دعوی بھی کیا جاتا ہے کہ یہ کتب تحریف کا شکار ہوچکیں ہیں ، اپنی اصل حالت میں موجود نہیں!

یہودی و مسیحی صحائف کو قرآن میں نہائیت ادب و احترام کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے ، اور نہائیت معزز القابات سے نوازا گیا ہے ، خدا کی کتاب، خدا کا کلام، بنی نوع انسان کے لئے نور و ہدایت، معیار القدر، انجیل جو کہ ہدایت و نور ہے اور پچھلی کتاب یعنی توارۃ کی تصدیق کرتی ہے ، اور جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ان کے لئے ہدائیت اور انتباہ ہے۔

سورۃ 5:46

وَقَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ

ترجمہ: اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے ۔

سورۃ 5:47 ؛ اور سورۃ 5 کی 68ویں اور 69ویں آیات ۔ سورۃ 5:47 مسیحیوں کو ہدائیت فرماتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے بارے میں سچائی جاننے کے لئے ان کے پاس پہلے سے موجود صحائف سے رجوع کریں۔ اللہ نے محمد سے کہا کہ مشورہ کے لئے مسیحیوں اور یہودیوں سے رابطہ کریں۔

سورۃ 10:94

 فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ

ترجمہ:

اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

سورۃ 10:95

وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ الْخَاسِرِينَ

ترجمہ؛

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے

مزید دیکھئے سورۃ 2:41

قرآن کا دعویٰ ہے کہ کلام خدا کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا!

(سورۃ 6 اس کی 115 اور 116 آیات؛ 10:64؛ سورۃ 18 اس کی 27 تا 28 آیات؛ 48"23؛ سورۃ 50 اس کی 28 تا 29 آیات) اس کے باوجود مسلمان مذہبی علماء عام مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ یہودیوں نے اپنی پاک کتابوں کو بدل ڈالا، ( سورۃ 2 اس کی 41 تا 42 ، اور 59 آیات؛ 3:71، 3:78 ؛ 4:46) اور کچھ کوپاک صحائف کے بارے میں کسی قسم کی معلومات حاصل نہیں (سورۃ 2:78) ایک مسلم علم الہیات کا ماننا  ہے کہ " اس کے باوجود کے ان صحائف میں گڑبڑ کی گئی ، مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ توراۃ ، زبور، اور انجیل شریف  کو الہامی مانیں۔ "

یہ ایک متنازعہ بیان ہے کیونکہ حقیقت میں اللہ اور محمد مسلمانوں کو کبھی یہ ہدائیت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ ایک تحریف شدہ ، ضحیف توراۃ اور انجیل کو الہامی مانیں۔ وہ توراۃ اور انجیل جو محمد کے بقید حیات کے وقت مسیحیوں کے ہاتھوں میں موجود تھی ، حقیقتاً مستند مانی جاتی ہوگی ۔ تو آئیے دیکھتے ہیں کہ 600ء کےبعد سے کتاب مقدس میں کوئی تبدیلی رونما ہوئی کہ نہیں۔

پرانا عہد نامہ:

مسیحیوں کی کتاب مقدس جو کہ 39 کتب پر مشتمل ہے، یہودیوں کے لئے بھی پاک کتاب ہے ۔ یہ سب سے پہلے عبرانی زبان میں لکھی گئی ، جن میں سے مخصوص حصے جن کی تعداد قلیل ہے ارامی زبان میں تحریر ہوئے جو کہ یہودیوں کی قدیم زبان تھی۔

1947 تک عہدعتیق کے نسخہ جات کا تعلق 9 ویں اور 10ویں صدی بعد از مسیح سے تھا، لیکن 1947 میں بحیرہء مردار کے طوماروں کی دریافت نے صورتحال تبدیل کردی ۔ 1956 تک 800 طومار دریافت ہو چکے تھے۔ جن کا زمانہ 200 قبل از مسیح سے 68 بعد از مسیح کا ہے ۔ اور یہ طومار ہو بہو ان نسخوں سے مشبہات رکھتے ہیں جن کا تعلق 9 ویں صدی عیسوی سے ہے۔ اس ایک ہزار سال کے عرصے میں کاتبین نقل کرتے ہوئے نہائیت ہی خفیف سے غلطی کے مرتکب ہوئے۔  دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ آج جو عہدعتیق مسیحیوں کے پاس دستیاب ہے یہ ہو بہو اس ہی کی نقل ہے جو محمد کے دنوں میں مسیحیوں کے زیر استعمال تھا۔

 

عہدنامہ جدید:

کچھ مسلمانوں کا خیال ہے کہ جس انجیل کی قرآن بات کرتا ہے وہ اس انجیل سے مختلف ہے جو مسیحیوں کے زیر استعمال ہے ۔ جو چار انجیلیں چرچ نے مستند ٹھہرائی ہیں وہ ان پر اعتراض اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق انجیل جو مسیح یسوع پر نازل ہوئی، جو انہوں نے سنائی اور جس کی تعلیم دی وہ ایک ہی تھی۔ وہ کچھ ٹکڑوں میں موجودہ انجیل میں دستیاب ہے، مکمل طور پر نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ متن کے ساتھ گڑبڑ کی گئی ہے ۔

اگر ہم لغوی معنوں میں کہیں، تو عہدجدید کے کئ سو کی تعداد میں موجود نسخے محمد کی بعثت سے پہلے کے ہیں، جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ انجیل مقدس کی نقول ، اصل متن سے صحیح طور پر منتقل ہوئیں ہیں۔ عہدجدید کی صحت و قدامت کا مقدمہ باقی قدیم کتب کی نسبت اعلی پایہ کا ہے جس کی نہج کو کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا۔ وہ انجیل مقدس جو محمد کے زمانے میں مسیحیوں میں رائج تھیں، اور جو آج مسیحیوں کے زیر استعمال میں ہے رتی بھر بھی فرق نہیں۔ مسلمانوں کا یہ اعتراض ، وافر مقدار میں موجود قلمی نسخوں کی وجہ سے متضاد ٹھہرتا ہے ۔

 

اعلی الہام:

بعض اوقات بائبل مقدس کے بارے مسلمانوں کے میں خیالات ابہام کا شکار معلوم ہوتے ہیں۔ ایک مشہور و معروف جدت پسند مسلمان عالم محمد عبدو لکھتے  ہیں ، " بائبل ، نیا عہد نامہ ، اور قرآن تینوں ہم آہنگ کتابیں ہیں؛ مذہبی انسان ان تینوں کتابوں کا مطالعہ کرتے اور ان کی تعظیم کرتے ہیں ۔ اور اس طرح سے الہی تعلیم مکمل ہو جاتی ہے ، اورسچا مذہب صدیوں تک آب و تاب سے چمکتا ہے۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہودی دین ، انصاف اور حق پر زور دیتا ہے ، جبکہ مسیحیت، محبت اور خیرات یا صدقہ پر اور اسلام امن اور بھائی چارے پر۔ "

کچھ تمام عہدنامہِ عتیق کو رد کردیتے ہیں ، اور کچھ توراۃ میں سے اپنی من پسند آیات کو استعمال کرکے بنو اسرائیل کی بری عادتوں کے خلاف نیز ان کے دین کے خلاف شہادتیں پیش کرنے میں منہمک رہتے ہیں۔

کچھ مسلمانوں کے نزیدیک بائبل کی صحت تمام شکوک سے بآلاتر ہے ، لیکن وہ الہام کے ارتقائی نظریہ کیمطابق یہ ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن پچھلے تمام الہامات سے افضل حیثیت کا حامل ہے ۔ ان کے مطابق، قرآن ، خدا تعالیٰ کی جانب سے عطاکردہ الہام کی آخری کڑی ہے ۔

کیونکہ اگر یہ سچ ہے تو یہاں اس موڑ پر اسلام کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ محمد کے ایام میں انجیل مقدس کا بیان ہے کہ یسوع المسیح خدا کا بیٹا ہے ، اور اگر قرآن اس بنیادی نقطہ نظر سے اختلاف رکھتا ہے تو اس کے (قرآن) الہامی ہونے پر شک کی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے ، کیونکہ کلام مقدس (بائبل مقدس) کا خدا لاتبدیل ہے ۔ دیکھئے عہد عتیق سے ( عدد (گنتی) 23 باب اس کی 19؛ 1- سیموئیل 15:20؛ ملاکی 3:6) ، لیکن جیسا کہ ہم پہلے ظاہر کرچکے ہیں ، بائبل مقدس کے حوالے سے قرآن خود ہی اندرونی انتشار و اختلاف کا شکار ہے ۔

ان اسلامی اعتراضات کے جوابات :

قرآن میں موجود اندرونی انتشار و اختلافات ، مسیحیوں اور یہودیوں سے روا سلوک کے ذریعے سے صاف طور پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ محمد کی زندگی کے ابتدائی ایام میں ، جب وہ ایک کمزور اور حاجتمند تھا، وہ یہ تعلیم دیتا تھا کہ مسیحی اور یہودی قابلِ احترام ہیں ، لیکن جیسے جیسے وہ قوت پکڑتا گیا ، اس کا رویہ بھی بدلتا چلا گیا اور وہ مسیحیوں اور یہودیوں کو قتل کرنے کے بہانے ڈھونڈنے لگا۔ ( ہمارا کتباچہ ملاحظہ فرمائیے: مسیحی اور یہودی اسلام میں )

سوال جو آپ کو ضرور سوچنے چاہیے؟

1۔ اگر کتاب مقدس تبدیل ہو چکی ہے تو پھر مسلمانوں کو یہ تنبیہ کیوں کہ وہ توراۃ ، زبور، اور انجیل پر ایمان رکھیں ؟

2۔ خداتعالیٰ کا پاک فرمان ہے کہ اس کا کلام لاتبدیل ہے ، پھر اس الہیٰ دعوی کا کیا کیجیئے گا؟

3۔ اور کلام الہیٰ کب تبدیل ہوا، کیا خدا نے اس کا نوٹس لیا؟

4۔ اگر خدا کا ارادہ ہوتا، تو کیا وہ اپنے کلام کی حفاظت کرسکتا تھا؟

5۔ اور اگر خدا تعالیٰ اپنے کلام کی حفاظت نہ کرسکا یا نہیں کرسکتا تھا، اور کیوں اور کسطرح ہم یہ سمجھ لیں کہ وہ قرآن کو محفوظ رکھ سکتا تھا؟

6۔ قرآن میں یہ اعتراض تحریری طور پر موجود ہے کہ کتب مقدسہ تحریری طور پر تبدیل ہوچکی ہیں ؟

7۔ اور اگر بائبل مقدس تبدیل ہو چکی ہے تو پھر قرآن میں یہ کیوں آیا ہے کہ وہ توراۃ کے مطابق انصاف کریں، یا مسیحیوں کے لئے کہ وہ انجیل سے ! (سورۃ 5 اس کی 43 تا 48 آیات) دوسرے لفظوں میں محمد یا مسلمان کس بنا پر کتاب مقدس کے مطابق انصاف کا تقاضا کرسکتے ہیں اگر وہ بدل چکی ہے؟

8۔ جب ہزاروں کی تعداد میں مختلف تراجم موجود ہوں، نقول دستیاب ہوں تو کوئی کس طرح سے ان تمام کتب کو تبدیل کرسکتا ہے ؟

9۔ کب اور کہاں ، لاتبدیل شدہ بائبل مقدس گردش میں تھی ، اور اب وہ کہاں ہے ؟

10۔ اگر یہودیت اور مسیحیت دو مختلف مذاہب ہیں تو ان کی اس سازش کا مقصد کیا تھا، مسیحی حضرات اپنی کتاب مقدس کو کیوں تبدیل کرنا چاہئینگے؟

11۔ مسیحی اپنی کتاب جو کہ تبدیل شدہ ہو ، کیوں موت گوارا کرلینگے؟

12۔ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ کتاب مقدس تبدیل ہو چکی ہے ؟

مبارک مزامیر میں زبور 19 اس کی 7 سے 11 میں خدا تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ، " خدا کی شریعت کامل ہے ۔ وہ جان کو بحال کرتی ہے ۔ خداوند کی شہادت برحق ہے ۔ نادان کو دانش بخشتی ہے ۔ خداوند کے قوانین راست ہیں۔ وہ دل کو فرحت پہنچاتے ہینَ خداوند کا حکم بے عیب ہے ۔ وہ آنکھوں کو روشن کرتا ہے۔ خداوند کا خوف پاک ہے ۔ وہ ابد تک قائم رہتا ہے۔ خداوند کے احکام برحق اور بالکل راست ہیں ۔ وہ سونے سے بلکہ بہت کندں سے زیادہ پسندیدہ ہیں ۔ وہ شہد سے بلکہ چھتے کے ٹپکوں سے بھی شیرین ہین۔ نیز ان سے تیرے بندے کو آگاہی ملتی ہے ۔ انکو کو ماننے کا اجر بڑا ہے۔ "

توراۃ کی تعلیمات (شریعت خداوندی) خدا تعالیٰ کا وہ نظام اعلی ہے جس کے تحت انسانوں کوایسی  تعلیم فراہم کیجاتی ہے جس کے ذریعے سے  خدا کے بارے میں علم حاصل کرسکیں ، اس کو جان سکیں اور انہیں وہ ہدایات نصیب ہوتی ہیں جن  پر چل کر وہ خدا تعالیٰ کو راضی رکھ سکیں، اور اپنی ٹیڑھی راہوں سے باز آسکیں ۔

تو پھر آپ یہ کس طرح سوچ سکتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ خداتعالیٰ ، جو کہکشاؤں کا ، زمین کا خالق و مالک ، اس بات پر راضی ہو جائے کہ اس کے کلام میں تحریف کی جائے؟ وہ اپنے کلام کی خود حفاظت کرتا ہے کیونکہ جو کچھ اس نے فرمایا ہے اسے ضرور ہونا ہے! ورنہ وہ جھوٹا ٹھہریگا۔ خدا تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو کچھ اس نے کہا وہ ضرور اسے پورا کریگا۔ اس کی گواہی اور صداقت ، کتاب مقدس کے مستند ہونے پر انحصار کرتی ہے ۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, اسلام, غلط فہمیاں | Tags: | Comments (2) | View Count: (170182)

Comments

  • THE REALUITY OF BIBLE. Who Wrote The Bible and Why It Matters 03/25/2011 08:53 pm ET | Updated May 26, 2011 9.7k Bart D. Ehrman Author, ‘Forged: Writing in the Name of God—Why the Bible’s Authors Are Not Who We Think They Are’ Apart from the most rabid fundamentalists among us, nearly everyone admits that the Bible might contain errors — a faulty creation story here, a historical mistake there, a contradiction or two in some other place. But is it possible that the problem is worse than that — that the Bible actually contains lies? Most people wouldn’t put it that way, since the Bible is, after all, sacred Scripture for millions on our planet. But good Christian scholars of the Bible, including the top Protestant and Catholic scholars of America, will tell you that the Bible is full of lies, even if they refuse to use the term. And here is the truth: Many of the books of the New Testament were written by people who lied about their identity, claiming to be a famous apostle — Peter, Paul or James — knowing full well they were someone else. In modern parlance, that is a lie, and a book written by someone who lies about his identity is a forgery. Most modern scholars of the Bible shy away from these terms, and for understandable reasons, some having to do with their clientele. Teaching in Christian seminaries, or to largely Christian undergraduate populations, who wants to denigrate the cherished texts of Scripture by calling them forgeries built on lies? And so scholars use a different term for this phenomenon and call such books “pseudepigrapha.” You will find this antiseptic term throughout the writings of modern scholars of the Bible. It’s the term used in university classes on the New Testament, and in seminary courses, and in Ph.D. seminars. What the people who use the term do not tell you is that it literally means “writing that is inscribed with a lie.” And that’s what such writings are. Whoever wrote the New Testament book of 2 Peter claimed to be Peter. But scholars everywhere — except for our friends among the fundamentalists — will tell you that there is no way on God’s green earth that Peter wrote the book. Someone else wrote it claiming to be Peter. Scholars may also tell you that it was an acceptable practice in the ancient world for someone to write a book in the name of someone else. But that is where they are wrong. If you look at what ancient people actually said about the practice, you’ll see that they invariably called it lying and condemned it as a deceitful practice, even in Christian circles. 2 Peter was finally accepted into the New Testament because the church fathers, centuries later, were convinced that Peter wrote it. But he didn’t. Someone else did. And that someone else lied about his identity. The same is true of many of the letters allegedly written by Paul. Most scholars will tell you that whereas seven of the 13 letters that go under Paul’s name are his, the other six are not. Their authors merely claimed to be Paul. In the ancient world, books like that were labeled as pseudoi — lies. This may all seem like a bit of antiquarian curiosity, especially for people whose lives don’t depend on the Bible or even people of faith for whom biblical matters are a peripheral interest at best. But in fact, it matters sometimes. Whoever wrote the book of 1 Timothy claimed to be Paul. But he was lying about that — he was someone else living after Paul had died. In his book, the author of 1 Timothy used Paul’s name and authority to address a problem that he saw in the church. Women were speaking out, exercising authority and teaching men. That had to stop. The author told women to be silent and submissive, and reminded his readers about what happened the first time a woman was allowed to exercise authority over a man, in that little incident in the garden of Eden. No, the author argued, if women wanted to be saved, they were to have babies (1 Tim. 2:11-15). Largely on the basis of this passage, the apostle Paul has been branded, by more liberation minded people of recent generations, as one of history’s great misogynists. The problem, of course, is that Paul never said any such thing. And why does it matter? Because the passage is still used by church leaders today to oppress and silence women. Why are there no women priests in the Catholic Church? Why are women not allowed to preach in conservative evangelical churches? Why are there churches today that do not allow women even to speak? In no small measure it is because Paul allegedly taught that women had to be silent, submissive and pregnant. Except that the person who taught this was not Paul, but someone lying about his identity so that his readers would think he was Paul. It may be one of the greatest ironies of the Christian scriptures that some of them insist on truth, while telling a lie. For no author is truth more important than for the “Paul” of Ephesians. He refers to the gospel as “the word of truth” (1:13); he indicates that the “truth is in Jesus”; he tells his readers to “speak the truth” to their neighbors (4:24-25); and he instructs his readers to “fasten the belt of truth around your waist” (6:14). And yet he himself lied about who he was. He was not really Paul. It appears that some of the New Testament writers, such as the authors of 2 Peter, 1 Timothy and Ephesians, felt they were perfectly justified to lie in order to tell the truth. But we today can at least evaluate their claims and realize just how human, and fallible, they were. They were creatures of their time and place. And so too were their teachings, lies and all. Bart D. Ehrman is the James A. Gray Distinguished Professor of Religious Studies at the University of North Carolina, Chapel Hill, and the New York Times bestselling author of ‘Misquoting Jesus’ and ‘Jesus, Interrupted’. His latest book, ‘Forged: Writing in the Name of God — Why the Bible’s Authors Are Not Who We Think They Are’, is now available from HarperOne. More: Christianity 1 Timothy The Bible Paul’s Letters 2 Peter Next Story: Will the Real Jesus Please Stand Up? Khristi L. Adams Speaker, Author, Advocate This Blogger’s Books and Other Items from... Jesus, Interrupted: Revealing the Hidden Contradictions in the Bible (And Why We Don't Know About Them) Jesus, Interrupted: Revealing the Hidden Contradictions in the Bible (And Why We Don’t Know About Them) by Bart D. Ehrman
    14/11/2016 7:45:19 AM Reply
  • Hi help me to work in patan people
    01/07/2016 12:12:59 PM Reply

Post a Comment

English Blog