en-USur-PK
  |  
18

خواتین اور اسلام

posted on
خواتین اور اسلام
خواتین اور اسلام

انتباہ:

اسلامی کتب میں قرآن اور احادیث ہی حرف ِ آخر ہیں ۔ مسلمان یہ ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ کا الہی مکاشفہ ہے، (مختلف ترجموں میں آئیتوں میں خفیف سا اختلاف پایا جاتاہے)۔ ہر سورۃ پورے باب کا پیشہ خیمہ ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق محمد مرد کامل کے طور پر ایک نمونہ ہیں جس کی تقلید ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جو کچھ انہوں نے کہا اور عمل میں لائے وہ حدیث کہلاتی ہے۔ احادیث چھ طرح کی ہیں۔ احادیث : بخاری ، مسلم، ابو داؤد ، ترمزی، سنن ابنِ ماجہ، اور سنن نسائی۔ اس کتابچہ کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو محمد کی تعلیمات اور انکے کاموں سے روشناس کروایا جائے، نہ کہ ان کے جذبات کو برانگیختہ کیا جائے؛ مسلمانوں کو کسی حد اپنے خدا  کے بارے میں آگاہی ہو کہ اس موضوع کے حوالے سے اللہ اور محمد نے کیا کہا ہے۔

 

مسیحٰی ایمان کے مطابق، شوہر کو بطور فرض یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ " اپنی بیوی کو ایسے ہی پیار کرے جیسے مسیح خداوند نے کلیسیاء سے کیا اور اپنی جان اس کے لئے دی" (افسیوں 5:25)

لیکن جب لوگ بائبل مقدس سے منہ موڑ لیتے ہیں تو خواتین کیساتھ طلم و استبداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کچھ حضرات نے تو خواتین سے ناروا سلوک کے لئے بائبل مقدس کو دلیل بنانے کا دعوی بھی کیا ہے۔ لیکن بائبل مقدس میں موجود چھوٹے سے چھوٹا شوشہ بھی اس طرح کی تعلیم کی پزیرائی نہیں کرتا!

قطع نظر، نسل ، مذہب، جنس، مغربی تہذیب میں مساوات کی بنیاد ان سطور پر قائم ہے:

1۔ یہواہ جو بائبل کا خدا ہے ، اس نے مرد اور عورت  کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ پر تخلیق کیا ہے۔ (پیدائش 1:27)

2۔ مسیح خداوند میں، جو اسے اپنا خداوند اور نجات دہندہ قبول کرتے ہیں وہ اس کے خاندان کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ ( انجیل بمطابق یوحنا 1:12)

3۔ خدا تعالیٰ جانب داری یا منافقت کو پسند نہیں کرتا (1۔ تیمتھیس 5:21)؛( یعقوب کا خط 3:17  )

 

اسلام کیمطابق اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو بطور غلام تخلیق کیا (سورۃ 19:93) اور اسی بنا پر کوئی بھی یا کسی بھی طرح سے خدا تعالی کے حلقہ فرزنئیت میں نہیں آسکتا۔ نتیجتاً اسلامی شریعہ کی نظر میں لوگ مساوی حقوق نہیں رکھتے جس کی بنیاد قرآن اور احادیث کی تعلیمات ہیں۔

اسلامی شریعۃ کیمطابق خواتین کمترین ہیں۔ عدالت میں عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں آدھی تصور کی جاتی ہے (سورۃ 2:282؛ البخاری :حدیث نمبر 826، جلد نمبر 3) خواتین عقل کے لحاظ سے کوتاہ اور مذہبی معامعلات میں بھی کمترین ہیں (البخاری:حدیث نمبر 301؛ جلد نمبر 1؛ حدیث نمبر 826، جلد نمبر 3؛ حدیث نمبر 541، جلد نمبر 2)؛ عورتوں کے متعلق حوالہ جات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حیثیت مال و متاع جیسے سونا، چاندی ، گھوڑے اور مال مویشی سے زیادہ کچھ نہیں (سورۃ 2:223)؛ ایک عورت کو اس کا شوہر اپنی نفسانی خواہشات کے لئے ایک کھیت کی طرح استعمال کرسکتا ہے (سورۃ 2:223) ایک مرد اپنی بیوی کے بدلے میں دوسری بیویاں لاسکتا ہے (سورۃ 4:20) ؛ اور احادیث کیمطابق شیطان عورت کے روپ میں ظاہر ہوسکتا ہے (صحیح مسلم : حدیث نمبر 3240، جلد نمبر 2)

عورتوں کے متعلق اسلام کی تعلیمات حسب ذیل ہے:

۔ دوزخ میں سب سے زیادہ تعداد عورتوں کی ہوگی (البخاری جلد نمبر 1: حدیث نمبر 301؛ مسلم جلد نمبر 4: حدیث نمبر 6600)

۔ سب سے بہترین خواتین وہ ہیں جنہیں کوئی دیکھ نہ پائے اور نہ ہی وہ کسی مرد کو دیکھ پائیں ( امام غزالی نے اس کا حدیث کو الحیا العلومِ دین، جلد نمبر 2 ، کتاب آداب النکاح ، بیروت: دارالکتوب المہیا ، صحفہ نمبر 53 میں  ذکر کیا ہے)

۔ ایک آدمی چار خواتین کو زوجیت میں لا سکتا ہے (سورۃ 4:3 اور 129)

۔ آدمی ایک کم سن بیوی سے بیاہ رچا سکتا ہے (سورۃ 65:4 ' قرآن کریم ') ؛ مرد حضرات عارضی طور پر ایک عورت کو بیوی بنا سکتے ہیں (متاع) (سورۃ 4:24؛ البخاری جلد نمبر 7: حدیث نمبر 13 الف ، 52؛ صحیح مسلم جلد نمبر 2: حدیث نمبر 3247، البخاری ، جلد نمبر 6: حدیث نمبر 139)

۔ مردوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کی پٹائی کریں (سورۃ 4:34)

۔ مرد کثیر التعداد حرمیں رکھ سکتے ہیں (سورۃ 70 اسکی 29 تا 30 آیات)

۔ مرد عورتوں سے افضل ہیں (سورۃ 4:34)

بیان کردہ تعلیمات مسلمان مردوں کے لئے عورتوں پر ظلم کرنے کے لئے کھلی چھٹی کا اجازت نامہ ہے۔ کچھ مسیحی مرد حضرات بھی اپنی زوجاؤں سے برا سلوک کرتے ہیں لیکن ان کے پاس اس حوالے سے کتاب مقدس کی کوئی سند موجود نہیں۔

 

آبرو ریزی اور زناکاری:

سنہء 1979 میں حکومتِ پاکستان نے حدود آرڈینس کا اجراء کیا جو کہ شرعی قانون ہے۔ ان قوانین نے آبرو ریزی اور زنا کے درمیان تفریق کا قریباً دھندلا دیا ہے۔

زنا تبھی قرار پاتا ہے جب متعلقہ شخص یہ اقرار کر لے کہ اس نے کسی کے ساتھ جنسی اختلاط کیا ہے جو کہ غیر منکوحہ تھا۔ اس قانون کے مطابق   غیر مسلم ،مسلمانوں کے خلاف گواہی نہیں دے سکتے۔ گواہ کےلئے ضروری ہے کہ وہ بالغ مرد اور مسلمان ہو کیونکہ عورت کی گواہی آدھی تصور کی جاتی ہے (سورۃ 24:4) نتیجتاً اگر عورت اپنے حق میں گواہ مہیا نہ کرسکے تو وہ زنا کی مرتکب گردانی جاتی ہے ۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے ایک اندازہ کیمطابق ہر 8 منٹ کے بعد پاکستان میں زنابالجبر ہوتا ہے اور ہر سال عزت کے نام پر 1500 خواتین کو قتل کردیا جاتا ہے۔ سابقہ آسٹریلوی مفتی ، شیخ الحلالی کے مطابق " اگر کوئی عورت اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈھانپنے میں کسی کوتاہی کی مرتکب ہو وہ زنا کے لائق ہے یا اس کے ساتھ زنا جائز ہے "  ۔

شامی خبررساں ایجنسی (مورخہ 27 دسمبر ، سنہ 2005) میں خبر شائع کرتی ہے کہ لبنانی شیخ فیض محمد نے کہا کہ  " عورت کسی پر الزام نہیں لگا سکتی سوائے خود کے " اسی طرح ڈنمارک کے مفتی اور ایک اسلامی پینل جس کی سربراہی مصری اسکالر شیخ یوسف القردوای کرتے ہیں، فرماتے ہیں کہ " ان خواتین کو جن کی آبروریزی اس وجہ سے کی گئی ہو کہ انہوں نے غیرمہذب لباس زیب تن کئے ہوئے تھے ، سزا کے لائق ہیں ، " کیونکہ " جرم سے بری ہونے کے لئے ضروری ہے کہ عصمت دری کا شکار عورت اچھے کردار کا مظاہرہ کرے"۔ (ٹیلیگراف 11، جولائی 2004)

1998 میں انڈونیشیا میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں کے 100 سے زائد چینی خواتین کی رواداد شائع کی جن کیساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی یہ دلسوز واقعات صدر شراتو کی حکومت کے تختہ الٹنے سے پہلے بغاتوں کے دوران پیش آئے۔ ان میں سے بیشتر سے یہ کہا گیا کہ : ضرور ہے کہ تمہاری عزتیں لوٹی جائیں کیونکہ تم چینی نثزاد ہو اور غیرملسم ہو! یہ سورۃ 33:59 کے عین مطابق ہے "مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرکے ان کو ہاتھ لگانے (یعنی ان کے پاس جانے) سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ۔ ان کو کچھ فائدہ (یعنی خرچ ) دے کر اچھی طرح سے رخصت کردو"  ، ایک موقع پر محمد نے ایک مرد کو جو کہ زنا کا مرتکب ہوا تھا کوڑوں کی سزا سنائی ، لیکن عورت کو سنگسار کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارنے کی (البخاری ، جلد نمبر 3؛ حدیث نمبر 860)

اس کے برعکس جناب مسیح کا ارشاد مبارک ہے کہ " اگر آپ نے کسی عورت کی طرف بری نئیت سے نگاہ کرلی تو گویا آپ نے زنا کرلیا " ( انجیل بمطابق متی رسول 5:28) ان آیات کی روشنی میں مسیحی مرد حضرات سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ نوجوان عورتوں کو اپنی بہنوں کی نظر سے دیکھیں اور عمررسیدہ خواتین کو اپنی ماؤں کی حیثیت سے مقدم جانیں (1-تیمتھیس 5:2)

 

پردہ داری :

مارچ 2002 کو شہر مکہ میں اسکول نمبر 31 میں ایک اندھوناک واقعہ پیش آیا، جب سعودی عوام نے 15 لڑکیوں کی لاشیں اور 40 سے زائد لڑکیوں کو زخمی حالت میں پایا، واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک اہل اسلام کے مقدس شہر مکہ کے ایک اسکول میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، لڑکیاں ایک کمرے میں بند تھیں جب یہ آگ بھڑک اٹھی۔ فائر فائٹرز نے جب چاہا کہ دروازہ کو کھول دیا جائے تو انہیں متاواہ (مذہبی پولیس ) نے انہیں جبراً روک دیا کہ وہ لڑکیاں باہر آسکیں  کیونکہ وہ لڑکیاں حجاب کے بغیر تھیں ۔ (نیوز ویک مورخہ 22 جولائی، سنہء 2002)

قرآن میں سورۃ 24:31 میں لکھا ہے کہ  "اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ"

اللہ کے نبی محمد نے عاصمہ ابوبکر کی بیٹی سے کہا ، " کہ وہ لڑکیاں جو حیض کی عدت پوری کرچکی ہوں، سوائے اپنے ہاتھوں اور چہرے کے خود کو مکمل طور پر ڈھانپیں ، ( ابوداؤد، جلد نمبر 3، حدیث نمبر 4092)

بیاہ:

البخاری ، جلد نمبر 7، حدیث نمبر 17: جب میرا بیاہ ہوا تو اللہ کے پیغمبر نے مجھ سے کہا، " تم نے کس طرح کی عورت سے شادی رچائی ہے؟ ، " میں نے جواب دیا، " ایک بڑی عمرکی عورت سے ، " اللہ کے پیغمبر نے مجھ سے کہا ، " تم نے ایک کم عمر لڑکی سے شادی کیوں ںہیں کی، تاکہ تم اسے سے لطف اندوز ہوسکتے اور وہ تم سے "۔

محمد کے مطابق کسی کنواری کا خاموش رہنا اس بات کا عندیہ ہے کہ وہ رشتہ ازدواج سے منسلک ہونا چاہتی ہے ۔ (البخاری جلد نمبر 7، حدیث نمبر 67) آئیت اللہ خیمینی کا کہنا تھا کہ کمسن لڑکی جسے ابھی حیض نہ آئے ہوں "الہی بخشش" ہے اور لڑکیوں سے ان کے حیض کے دنوں سے پہلے شادی کرنا چاہئیے۔ (طاہری 1986، صحفہ نمبر 91-90) محمد نے 6 سال کی کمسن بچی سے شادی رچائ (البخاری جلد نمبر 7، حدیث نمبر 64) اور اس کی کئی بیویاں تھیں۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زواج المسیار جائز نہیں ، منع ہے لیکن محمد نے زواج المسیار کی اجازت دی جب اس کے سپاہیوں کو ان کی ضرورت تھی (سورۃ 4:24؛ اور البخاری جلد نمبر 7، حدیث نمبر 51) پہلے خلیفہ (اول) نے اسے جاری و ساری رکھا، صرف خلیفہ دوم نے اسے معطل کیا لیکن آخری خلیفہ (صدیق الزماں) نے ازدواج المسیارکو دوبارہ جاری کردیا ۔ اس قسم کے نکاح کے لئے حق مہر کچھ کھجوریں اور آٹا کی قلیل مقدار مخصوص کی گئی ( ابو داؤد ، جلد نمبر 2، حدیث نمبر 2105)

 

عام حالات میں :

البخاری کی ایک حدیث (جلد نمبر 1، حدیث نمبر 490) کیمطابق عورتیں، کتے اور گدھے کسی مرد کی نماز قضا کرسکتے ہیں ۔ جبکہ اس کے برعکس بائبل مقدس کا کہنا ہے کہ ، " اے شوہرو، تم اپنی بیویوں کے ساتھ عقلمندی سے بسر کرو اور عورت کو نازک ظرف جان کر اس کی عزت کرو اور یوں سمجھو کہ ہم دونوں زندگی کی نعمت کے وارث ہیں تا کہ تمہاری دعائیں نہ رک جائیں" ۔ ( 1 پ پطرس 3 باب اس کی 7ویں آئیت)

 

محمد کی دلاری بیوی عائشہ فرماتی ہیں ، " اے عورتو! اگر آپ اس حق کو جانتی جو تمہارے شوہروں کو تم پر ہے تو تم اپنے چہروں سے انکے پاؤں کی دھول کو صاف کرتیں"،

Al-Hashimi, M. The Ideal Muslimah, (1996), Chapter, 4

محمد نے یہ تعلیم دی کہ عورتوں کو علیحدہ کمروں میں بند کردیا کرو، اور زود کوب کیا کرو، لیکن زیادہ سختی سے نہیں۔ عورتوں سے اچھی طرح سے پیش آؤ کیونکہ وہ پالتو جانوروں (آوان) کی طرح سے تمہارے ساتھ کردی گئیں ہیں ، اور ان کی ملکیت میں کچھ رکھ نہ چھوڑو۔"

The History of al-Tabri, Volume IX, pg 113

اس کے برعکس، عورتوں کے حقوق اور عزت و منزلت کے حوالے سے، مسیحیوں کا تصور بالکل جدا ہے ۔ بائبل مقدس فرماتی ہے کہ ، " اور تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا مسیح کو پہن لیا۔ نہ کوئی یہودی رہا نہ یونانی۔ نہ کوئی غلام نہ آزاد۔ نہ کوئی مرد نہ عورت کیونکہ تم 'سب مسیح یسوع میں ایک ہو۔ " (گلتیوں کا خط 3 باب اس کی 28 تا 29 آیات)

شوہروں کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے پیار کریں، محبت سےپیش آئیں ایسے جیسے جناب مسیح اپنی کلیسیاء سے کرتے ہیں اور اپنی جان کلیسیاء کے صلیب پر گزرانی ۔ (افسیوں کے نام خط 5:25) ؛ نہ ہی ان پر غصہ ہون اور برے طور پر پیش آئیں (کلسیوں 3:19)؛ اپنی بیویوں سے اپنی مانند محبت کریں (افسیوں 5 باب اس کی 28 تا 33 آیات) اور ان سے نرمی سے پیش آئیں، ( 1 کرنتھیوں 7 باب 3 تا 5 آیات)

شوہروں اور بیویوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ مسیح خداوند کے لئے ایک دوسرے کے  تابع رہیں (افسیوں 5:21) ، لیکن شوہر اپنی بیویوں کی ذمہ داری، خبرگیری کریں ۔  (ا-تیمتھیس 5:8)

افسیوں 5:31 کیمطابق ، خدا کی نظر میں یکدل ، یک جان ہوں، یہاں تک کہ طلاق سے خدا کو نفرت ہے ( ملاکی 2:16)۔ آدمیوں اور عورتوں سے متعلق سلوک، قرآن اور بائبل میں واضع طور پر مختلف ہے۔

ممکن ہے کہ جو معلومات اس کتابچہ کے ذریعے سے آپ کو فراہم کی گئیں آپ کے اذہان میں کچھ سوالات اٹھائیں۔ مسلمانوں کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ اس کلام کو جو یہودیوں اور مسیحیوں کے لئے نازل ہوا اس سے مستفید ہوں ، اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کتب انسانی دسترس سے محفوظ نہ رہ سکیں تو یاد رکھئے کہ قرآن میں خود آیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام کسی طور پر بھی رد و بدل کا شکار نہیں ہوسکتا۔ (سورۃ 6:115؛ سورۃ 10 اسکی 64 تا 65 آیات؛ سورۃ 18:27؛ 48:23) اگر آپ کتاب مقدس کی صداقت و حقانئیت کے متعلق مذید جاننا چاہتے ہیں تو درج ذیل پتہ پر رجوع کیجئے

 

 

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, اسلام, خواتین | Tags: | Comments (6) | View Count: (97298)

Comments

  • عناب جنت، ہمیں ابھی بھی حیرت ہے کہ آپ یہ یقین رکھتی ہیں کہ اسلام کی آمد سے عورتوں کے حقوق کی پاسداری حاصل ہوئی، کیا آپ نے آرٹیکل کو بغور پڑھا ہے، اور یقین جانئیے اگر آپ پہلی صدی عیسوی میں جناب یسوع المسیح کی تعلیمات کو بغور پڑھ لیں تو آپ حیران رہ جائینگی کہ انہوں نے خواتین اور ان کے حقوق کے لئے کسطرح سے خطرات مول لئے؟ اور جب پہلی صدی عیسوی میں جناب یسوع المسیح کے کردار کی روشنی میں عورتوں کے حقوق و عزت نفس کی جانب دیکھتے ہیں تو یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، کہ اسلام ایسا کچھ بھی نہی کرسکا، اور ثبوت کیطور پر آپ کے لئے آرٹیکل بھی پیش کردیا۔ اگر مسیحیت نے یہ آزادی نہ دی ہوتی تو آج آپ اس قابل بھی نہ ہوتیں کہ کسی نامحرم کو قائل کرنیکے لئے کچھ کرسکتیں۔ شکریہ کوشش جاری رکھئیے ۔
    20/11/2015 10:05:55 PM Reply
  • dear brother Pervez Ahmed Arain: Brother, I think you haven't study your Qur'an, Hadith, or known Scholars, let me give u a chance to study 'em quickly: Qur'an : 4:34 , " As for these from women, fear rebellion, admonish them and banish them to beds apart and scourge them." Jalala, page 69: " Those of you who are afraid of their disobedience which symptoms become evident to you, threaten them with the fear of God and banish them to beds apart and scourge them." The Zamakhshari reiterates the same opinion (al-Kash-Shaf Vol.1, p.524) .Both Imam Baydawi (p.111), and Al-Tibri (p.92) repeat the same explanation. If we also search Akhamal-Qur'an (the Ordinances of the Qur'an) by the Imam Shafi' (Vol.1,p.211), we read: In case of a husband's ill-treatment [of his spouse], the Qur'an permits reconciliation of the spouses and arbitration, but in the case of the wife it allows scourging her." Now in the end, tell do you need more references or they enough? Prayers and blessings!
    09/11/2014 10:49:24 PM Reply
  • Dear Brother Pervez Ahmed Arain: You said that "all the information provided here is baseless" but you didn't provide us a single proof which may show that what we are saying is not true? you said Christian Community is Silent, no we are not silent, we have Church and we preach that what is wrong is wrong! we Christians do not sell prisoner girls, teen age, women, as happening in Syria and Iraq under the rule of ISIS, but you did not raise your voice against it? So I ask YOUUUUUU now what kind of religion you follow? I request you to accept the truth that you are following a cult not a religion! proof has been provided! You are just shouting, provide us some proofs! And what about the permission given by Qur'an and the life of Muhammad, and the life of Jesus and the teaching of the Gospel? You don't seem to compare these two important points! If we commit adultery we Christians commit sins, according to the teaching of our Lord, and your greatest Prophet Jesus the living one still in heavens! But if you don't commit adultery (war Captives) temporary marriages, 4 wives, (don't give the same privileges to your wives to get 4 husbands though) etc... you commit Sin (if you don't follow the Sunah of your Prophet) even you are permitted to do this sin in Heavens in the presence of Allah, in Janat!
    08/11/2014 10:02:48 AM Reply
  • All the in information provided here is baseless and reference given are mostly wrong and false. Purpose is for preaching of one side only i.e. region of christian. In all the lecture no anti comments are give by the preacher against religion of christian, is it one side game only ?. What is in the west ? Is there not any open market in west ? where every kinds of girls are provided for individual sex, but christian community is silent. What kind of religion-is this ? You are requested think briefly before write this type of tex . Can you provide any favorable comments from holy Quran or from holy proin respect of female. I think it is impossible for you because you are playing one side game only and anti of religion of Islam. It is not a way for perching of any religion.Keep in mind Not throw stones to others religion. Thanks.
    06/11/2014 9:09:12 PM Reply
  • All the in information provided here is baseless and reference given are mostly wrong and false. Purpose is for preaching of one side only i.e. region of christian. In all the lecture no anti comments are give by the preacher against religion of christian, is it one side game only ?. What is in the west ? Is there not any open market in west ? where every kinds of girls are provided for individual sex, but christian community is silent. What kind of religion-is this ? You are requested think briefly before write this type of tex Thanks.
    06/11/2014 8:44:33 PM Reply
    • @Pervez Ahmed Arain: خواتین انسانی معاشرے کا ایک لازمی اور قابل احترام کردار ہیں۔ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق مرد اور عورت ایک گاڑی کے دو پہےے ہیں۔ کتنے آسان پیرائے میں یہ بات سمجھا دی گئی کہ جس سے نہ کسی کی اہمیت کم ہوئی اور نہ ہی ضرورت سے زائد بڑھ گئی۔ قرآن مجید نے اکثر انبیاءعلیھم السلام کے ساتھ انکے رشتوں کا بھی ذکر کیا ہے اور ان میں سے کچھ مردانہ رشتوں کے بارے میں تو بتایا گیا کہ وہ اپنے غلط عقائد کے باعث ان پراﷲتعالٰی کی ناراضگی نازل ہوئی لیکن نبیوں سے منسوب کوئی نسوانی رشتہ ایسا نہیں ملتا جواﷲ تعالی کے غضب کا شکار ہوا ہو، بلکہ ایک برگزیدہ نبی کو گود لینے کے عوض فرعون جیسے دشمن خدا کی بیوی بھی دولت ایمان سے مالا مال کر دی گئی۔جبکہ زمانہ جاہلیت میں جزیرة العرب میں عورت کے لئے کوئی قابل ذکر حقوق نہ تھے، عورت کی حیثیت کو ماننا تو درکنار اسکومعاشرے میں زندہ بھی رہنے کاحق تک نہ تھا، معاشرے میں عورت کا مرتبہ و مقام ناپسندیدہ تھا، وہ مظلوم اور ستائی ہوئی تھی، اور ہر قسم کی بڑائی اور فضیلت صرف مردوں کے لئے تھی۔ حتی کہ عام معاملات زندگی میں بھی مرد اچھی چیزیں خود رکھ لیتے اور بے کارچیزیں عورتوں کو دیتے، زمانہ جاہلیت کے لوگوں کے اس طرزِ عمل کو قرآن حکیم یوں بیان کرتا ہے۔ (سور ة الانعام، 6 : 139)”اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ جو (بچہ) ان چوپایوں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مَردوں کے لئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام کردیا گیا ہے، اور اگر وہ (بچہ) مرا ہوا (پیدا) ہو تو وہ (مرد اور عورتیں) سب اس میں شریک ہوتے ہیں، عنقریب وہ انہیں ان کی (من گھڑت) باتوں کی سزا دے گا، بیشک وہ بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے“ اس آیت کریمہ سے پتہ چلا کہ زمانہ جہالت میںعورتوں اور مردوں کے درمیان چیزوں کی تقسیم اور لین دین کے معاملات میں نہ صرف تفریق کی جاتی بلکہ عورت کو مرد کے مقابلے میں نسبتاً کمتر سمجھا جاتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ عورت کی حیثیت کا اقرار کرنا تو درکنار وہاں تو عورت سے اس کے جینے کا حق تک چھین لیا جاتاتھا۔ اس لئے لڑکی کے پیدا ہونے پر غصہ میں ہوتے اور انہیں زندہ دفن کردیا کرتے تھے۔ قرآن کریم میں ان قوموں کے اس طرزِ عمل کی عکاسی یوں کی گئی ہے : (سورة النحل، 16 ،58، 59)”اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی (کی پیدائش) کی خبر سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ہے وہ لوگوں سے چ ±ھپا پھرتا ہے اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے سنائی گئی ہے، (اب یہ سوچنے لگتا ہے کہ) آیا اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ (زندہ) رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے (یعنی زندہ درگور کر دے)، خبردار! کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں © © © © © © ©اس آیت مبارکہ میں اﷲتعالیٰ نے دورِ جاہلیت کی اس غلط رسم کو بیان فرمایا ہے اور اسکی مذمت کی ہے۔اسی طرح اسلام سے قبل دنیا کی مختلف تہذیبوں اور معاشروں کا بھی جائزہ لیاجائے تو ہم اس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ عورت بہت مظلوم اور معاشرتی و سماجی عزت و احترام سے محروم تھی، اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا، یونانی، رومانی، ایرانی اور زمانہ جاہلیت کی تہذیبوں اور ثقافتوں میں عورت کو ثانوی حیثیت سے بھی کمتر درجہ دیا جاتا تھا۔ مگر عورت کی عظمت، احترام اور اس کی صحیح حیثیت کا واضح تصور اسلام کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتا۔اسلام نے بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی ممانعت کرکے دورِ جاہلیت کی اس رسم بد کا قلع قمع کیا۔اور عورت کو وہ بلند مقام عطا کیا جس کا وہ مستحق تھی۔ دین اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ اسلام نے عورت کو مختلف نظریات و تصورات کے محدود دائرے سے نکال کر بحیثیت انسان کے عورت کو مرد کے یکساں درجہ دیا، اسلام کے علاوہ باقی تمام تہذیبوں نے خصوصاً مغرب جو آج عورت کی آزادی، عظمت اور معاشرے میں اس کو مقام و منصب دلوانے کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتاہے۔ لیکن اس معاشرے نے ہمیشہ عورت کے حقوق کو سبوتاژ کیا، اور عورت کو اپنی محکومہ اور مملوکہ بنا کر رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مختلف تہذیبوں اور اقوام نے عورت کے لئے سینکڑوں قانون بنائے مگر یہ قدر ت کا کرشمہ ہے کہ عورت نے اسلام کے سوا اپنے حقوق کی کہیں داد نہ پائی۔الغرض یونانی تہذیب سے لے کر روم، فارس، ہندوستان، یہودی اور عیسائی تہذیب نے عورت کو معاشرے میں کمتر درجہ دے رکھا تھا،انہوں نے دنیا میں برائی اور موت کی ذمہ دار اور اصل وجہ عورت کو قرار دیا، حتیٰ کہ انگلینڈ کے آٹھویں بادشاہ (Henry-8) کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ اس نے اپنے دور میں پارلیمنٹ میں یہ قانون پاس کیا گیا تھاکہ عورت اپنی مقدس کتاب انجیل کی تلاوت تک نہیں کرسکتی کیونکہ وہ ناپاک تصور کی جاتی تھی۔جدید تہذیب بھی عورت کو وہ حیثیت نہ دے سکی جس کی وہ مستحق تھی ۔ارتقائے تہذیب نے عورت و مرد کے درمیان فاصلوں کو اتنا بڑھا دیا کہ عورت کی حیثیت کو اور زیادہ پست کردیا۔ علاوہ ازیں مذہب اور خصوصاً بڑی بڑی تہذیبوں نے صنفِ نازک کو ناپاک بتا کر اس کا رتبہ اور بھی کم کردیا۔ مگر اسلامی تہذیب نے عورت کو عظیم مقام دیا، بلکہ کائنات کا اہم ترین جز قرار دیا۔ عصر حاضر کی جدید علمی تہذیب نے اسے ایک اٹل حقیقت تسلیم کر لیا ہے۔لیکن جہاں عورت کا وجود مرد کی زندگی کے نشو و ارتقاءمیں ایک حسین اور مو ¿ثر محرک تھا، وہاں مردوں نے عورت کو ہمیشہ اپنی عیش کوشی اور عشرت پرستی کا ادنیٰ حربہ اور ذریعہ تصور کیا اور یوں معاشرے میں اس کی حیثیت ایک زر خرید کنیز کی سی بن کر رہ گئی، اقوام عالم کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی تہذیب کی تباہی ایسے حالات میں ہوئی جب عورت اپنی صحیح حیثیت کھو بیٹھی اور مرد کے ہاتھوں میں آلہ کار بن گئی۔اسلام کی آمد عورت کے لئے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کاپیغام تھی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں، اور عورت کو وہ حیثیت عطا کی جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔اﷲ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق کے درجے میں عورت کو مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں رکھا ہے۔ اسی طرح انسانیت کی تکوین میں عورت مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتدائ) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا“ اﷲ تعالیٰ کے ہاں نیک عمل کا اجر دونوں کے لئے برابر قرار پایا ہے، کہ جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا اسے پوری اور برابر جزاءملے گی، اس کو پاکیزہ زندگی اور جنت میں داخلے کی خوش خبری ملے گی، ارشاد ربانی ہے : (النحل، 16 : 97) ”جو کوئی نیک عمل کرے (خواہ) مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے،اور انہیں ضرور ان کا اجر (بھی) عطا فرمائیں گے ان اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے تھے اﷲ تعالیٰ نے اپنی رضا اور پاکیزہ زندگی دنیا و آخرت میں عطا کئے جانے کی خوشخبری کو عمل صالحہ کے ساتھ مشروط کیا، جس طرح دوسرے مقام پر عملِ صالحہ کو جنت کے داخلے اور رزقِ کثیر کے ساتھ مشروط کیا، ارشاد فرمایا : (سورة المومن، 40 : 40) ”جس نے برائی کی تو اسے بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی قدر، اور جس نے نیکی کی، خواہ مرد ہو یا عورت اور مومن بھی ہو تو وہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے انہیں وہاں بے حساب رِزق دیا جائے گا ۔اسی طرح ارشاد باری ہے : (آل عمران،3 : 195)”پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی (اور فرمایا) یقینا میں تم میں سے کسی محنت والے کی مزدوری ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت“ اس طرح دین اسلام نے مرد و عورت کو برابر کا مقام عطا فرمایا بلکہ عورت کو وہ مقام عطا فرمایا جو کسی بھی قدیم اور جدید تہذیب نے نہیں دیا۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ایمان کی جنت ماں کے قدموں تلے قرار دے کر ماں کو معاشرے کا سب سے زیادہ مکرم و محترم مقام عطا کیا، اور ایک بیٹی کو احترام و عزت کا مقام عطا کیا، اسلام نے نہ صرف معاشرتی و سماجی سطح پر بیٹی کا مقام بلند کیا بلکہ اسے وراثت میں حقدار ٹھہرایا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دنیا میں عورت کے تمام روپ اور کردار کو اپنی زبانِ مبارک سے یوں بیان فرمایا کہ جس دور میں عورت ہو، جس مقام پر ہو اور اپنی حیثیت کا اندازہ کرنا چاہے تو وہ ان کرداروں کو دیکھ کر اپنی حیثیت کو پہچان سکتی ہے ۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دونوں جہانوں کی عورتوںمیں بہترین عورتیں چار ہیں، حضرت مریم بنت عمران علیھماالسلام، (ا ±م المو ¿منین) حضرت خدیجہ علیھما السلام،حضرت سیدہ فاطمہ الزہراءسلام اﷲ علیہا اور فرعون کی بیوی آسیہ علیہاالسلام۔“ اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار عورتوں کی طرف اشارہ فرما کر حقیقت میں چار بہترین کرداروں کی نشاندہی فرمادی، اور وہ کردار جس سے اﷲ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہوئے اور اس مقام سے سرفراز فرمایا جو کسی اور کو نصیب نہ ہوا، وہ کردار کیا ہے۔ ایک ماں کا کردار حضرت مریم بنت عمران علیھما السلام ایک عظیم بیوی کا کردار حضرت خدیجہ الکبریٰ علیھما السلام ایک عظیم بیٹی کا کردار حضرت فاطمہ الزہراءسلام اﷲ علیہا ایک عظیم عورت کا کردار حضرت آسیہ علیہا السلام ان چاروں کرداروں پر نظر دوڑا کر ہر عورت اپنی حیثیت کو پہچان کر اپنے کردار کو متعین کرسکتی ہے،کہ وہ کون سے راز تھے جنہوں نے ان ہستیوں کو خیر النساءکے لقب سے سرفراز کیا؟ حضرت مریم بنت عمران علیھما السلام حضرت مریم بنت عمران علیھماالسلام حضرت مریم علیھا السلام کو بہترین عورت قرار دیا، اس میں کونسا راز اور حکمت تھی جس کی وجہ سے ان کو یہ مقام ملا؟ اگر ہم حضرت مریم علیھا السلام کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ عورت ہو کر اﷲ کی بہت بڑی ولیہ کاملہ، شاکرہ اور صابرہ تھیں۔ اﷲ کی ذات پر اول و آخر اعتماد رکھتی تھیں۔ انہوں نے اﷲ کی رضا کے لئے خاندان کے طعنوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ وہ ایک ایسے عظیم بیٹے کی ماں بننے والی تھیں جو اﷲ کا نبی اور رسول تھا۔ وہ بہت پاکدامن اور پاکباز تھیں کہ جن کی پاکیزگی کی شہادت اﷲ نے خود اپنے شیر خوار نبی کی زبان سے پنگھوڑے میں دلوائی۔یہ وہ صفات تھیں جن کی وجہ سے سے اﷲ تعالیٰ نے آپ کو یہ مقام عطا فرمایا کہ عورتوں میں آپ کو منتخب فرمایا اور اس کا ذکر اپنی ابدی کتاب میں یوں فرمایا کہ (آل عمران، 3 : 42) ”اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور تمہیں آج سارے جہان کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا ہے ©۔ پتہ چلا کہ جو کوئی اپنے آپ کو اپنے خدا کے سپرد کردیتا ہے، اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے دین کی سربلندی کے لئے وقف کردیتا ہے، تو اﷲاس کو وہ مقام عطا کردیتا ہے کہ وہ جس جگہ رہتا ہے اﷲ اس کو متبرک کردیتا ہے اور دوسروں کی دعاو ¿ں کی قبولیت کی جگہ بنا دیتا ہے، کیونکہ حضرت مریم علیھاالسلام کی والدہ نے اﷲ سے وعدہ کیا تھا کہ مولا مجھے جو اولاد (لڑکا یا لڑکی) عطا کرے گا اس کو میں تیرے لئے وقف کر دوں گی۔ یہ ہے وہ ماں کا کردار جس نے عظیم ہستی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جنم دیا، اور آج بھی ضرورت ہے کہ جو ماں چاہتی ہے اپنی اولادوں کو عظیم بنائے وہ اﷲ کی محبت کو اپنے من میں پیدا کرے، اپنے آپ کو اس کے دین کی سربلندی کے لئے وقف کردے، دین کی دعوت کے فروغ کے لئے گھر سے باہر نکلنے پر عار محسوس نہ کرے، تو پھر آج کے دور میں عظیم انقلابی جوان پیدا ہو سکتے ہیں۔ حضرت خدیجہ الکبریٰ علیھما اسلام سلا م کا آغاز حضرت خدیجہ الکبریٰ علیھما السلام کی لازوال اور بے مثل قربانیوں سے ہوتا ہے۔حضرت خدیجہؑ مکہ کی بہت بڑی تاجرہ تھیں۔نیک سیرت اور بہترین نسب و شرف کی مالکہ، مگر جب ایک مثالی بیوی کے روپ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقد زوجیت میں آئیں تواس وقت ضعیف و ناتواں سمجھی جانے والی صنف نازک عزم و ہمت کا کوہ گراں اورحوصلہ افزائی کا سرچشمہ بن کرنبوت محمدی کا سہارا بن جاتی ہے۔ انہوں نے اپنا وقت اور اپنا سارا مال و دولت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں دین اسلام کی خدمت کے لئے وقف کردیا، وہ اعلانِ نبوت سے پہلے ہی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و بلندمرتبہ کی قائل ہو گئی تھیں، حضرت خدیجہ ؑ کو نہ صرف زوجیّت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عظیم شرف حاصل ہوا، بلکہ ا ±مّ المو ¿منین ہونے کے ساتھ ساتھ خیر النساءکے عظیم لقب سے بھی سرفراز ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے، گویا ایک عظیم بیوی کاکردار اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ دین کی جدوجہد کرنے والے اپنے شوہروں کا ساتھ دیں۔ یہاں تک کہ وقت آنے پر اپنا مال و دولت بھی دین کی سربلندی کے لئے خرچ کردیں۔ تب اﷲ کی طرف سے خوشخبریاں ملتی ہیں۔ سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اﷲ علیہا : آپ ایک عظیم ہمہ گیر کردار ہیں جو ایک بیٹی کے روپ میں، ایک ماں کی شکل میں اور ایک بیوی کے کردار میں قیامت تک آنے والی ماو ¿ں،بہنوں اور بیٹیوں کے لئے نمونہ حیات ہے جس کو آج کے دورِ جدید میں آئیڈیل بنانے کی ضرورت ہے۔ آج کا معاشرہ اور جدید تہذیب اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک خیر النساءالعالمین سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اﷲ علیہاکی سیرت طیبہ سے رنگ نہ لے، اپنے آپ کو حضرت سیدہ فاطمہ سلام ا ﷲ علیہاکے نقش قدم پر چلائیں۔ آپ کو اگر بیٹی کے روپ میں دیکھو تو اپنے بابا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتی نظر آتی ہیں، اگر بیوی کے روپ میں دیکھو تو اطاعت شعاری کے ساتھ اپنے خاوند حضرت مولا علی شیر خداؑ کی خدمت کے ساتھ اﷲکی بارگاہ میں سجدہ ریز بھی نظر آتی ہیں۔ ماں کے روپ میں دیکھو تو ایسے عظیم تربیت یافتہ دو شہزادے حضرات حسنین ؑ تیار کئے کہ جنہوں نے دین مصطفی (ص) کے چراغ کو اپنے مقدس لہو سے روشن کر دیا۔ آج کی تہذیب میں ایک عورت کو اپنی حیثیت کا اندازہ حضرت سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا کی سیرت کی روشنی میں کرنا ہوگا۔ حضرت آسیہ زوجہ فرعون حضرت آسیہ زوجہ فرعون کونسا کردار، عمل اور فعل ایسا تھا کہ جس نے اس خاتون کو جو ایک کافر و جابر اور ظالم بادشاہ کی بیوی ہونے کے باوجود وہ عظیم عزت اور مرتبہ سے سرفراز کیا کہ خیر النساءکا لقب عطا ہوا۔ یہ عظیم کردار ایک عورت کو اس کی حیثیت کی راہ دکھلاتا ہے۔ اور ظاہری عیش و عشرت، بناو ¿ سنگھار، شاہانہ زندگی کو اﷲ کی رضا کی خاطر، اس کی محبت کے لئے قربان کر دینے کا درس دیتا ہے۔ یہ کردار بتاتا ہے کہ کس طرح عورت اپنے کردار کو پاکیزہ بنا کر کافر بادشاہ جو اپنے آپ کو خدا کہلاتا ہے، کی ایک عظیم عورت بن سکتی ہے۔ تو پھر اﷲوہ مقام عطا فرماتا ہے کہ وہ نبیوں اور رسولوں کی بیویوں اور بیٹیوں کے ساتھ ملا دیتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ انسان اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے دین کی خاطر دنیا کی ظاہری عیش و عشرت سے کنارہ کش ہو جائے۔ اسی طرح اگر ہم ایک اور خاتون کا ذکرخیر کرنا چاہیں تو ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فرمانبردار بیوی حضرت حاجرہ کی یاد بھی آتی ہے کہ جنہوںنے اللہ اور اپنے خاوند کے حکم کی تعمیل میں بے آب وگیاہ وادی میں رہنا قبول کرلیا تھا۔پھر جب وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے ،پانی کی تلاش میں دیوانہ وار صفا اور مروہ کے درمیان دوڑیں تو اللہ نے ان کی فرمانبرداری اور خلوص کی قدر کرتے ہوئے، ان کے اس عمل کی تقلید قیامت تک کے لیے تمام مردوں اور عورتوں پر لازم کردی۔ المختصراگردنیا کی معلوم تاریخ پر نظر ڈالیں یا دوسرے مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان میںہمیں عورت کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ ہر دور میں خواتین کی حیثیت مردوں کے مقابلے میں بہت ہی کم تر نظر آتی ہے۔ ان کو معاشرے میں نہایت گھٹیا مقام دیا جاتا تھا۔ اہل مذہب ان کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیتے تھے اور ان سے دور رہنے میں عافیت محسوس کرتے تھے۔ اور اگران سے کچھ رابطہ یا تعلق ہوتا بھی تو ایک ناپاک او ر دوسرے درجے کی مخلوق کی حیثیت سے ہوتا جوصرف مردوں کی ضروریات کو پورا کرنے لیے پیدا کی گئی تھی۔ یونانی اساطیر میں ایک خیالی عورت پانڈورا کو تمام انسانی مصائب کا ذمہ دار ٹھرایا گیا تھا۔ اسی طرح یہود و نصاریٰ کی مذہبی خرافات میں حضرت حوا علیہا السلام کوحضرت آدم علیہ السلام کے جنت سے نکالے جانے کا باعث قرار دیا گیا تھا۔چنانچہ عورت پر بہت طویل عرصہ ایسا گزرا کہ وہ کوئی قابل لحاظ مخلوق نہ تھی۔ یہ اسلام ہی کا کارنامہ ہے کہ حواءکی بیٹی کو عزت و احترام کے قابل تسلیم کیا گیا اور اس کومرد کے برابر حقوق دیے گئے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کی ابتدا ہی عورت کے عظیم الشان کردار سے ہوتی ہے۔
      06/11/2015 8:23:23 AM Reply

Post a Comment

English Blog