en-USur-PK
  |  
09

صراط مستقیم

posted on
صراط مستقیم

صراط مستقیم

بعض اوقات اپنی مصروف زندگی میں یہ بات بھول جاتے ہیں ، کہ ہم زندگی کے اس سفر میں انتہائی معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ابدیت بھی کوئی چیز ہے اور ایک خدا جس کو ہم جوابدہ ہیں۔ روزِ عدالت میں فردوس میں جانے کے لئے آپ کس پر بھروسہ کرسکتے ہیں؟آپ کہاں ہونگے؟ جس سفر پر آپ گامزن ہیں، بآلاخر آپ کو جنت یا دوزخ کی جانب لیجائیگا۔ کیونکہ لکھا ہے '

" اور اگر آدمی ساری دنیا حاصل کرے اور اپنی جان کا نقصان اٹھائے تو اسے کیا فائدہ ہوگا؟یا آدمی اپنی جان کے بدلے کیا دیگا؟ (متی 16:26)

ہم سب گنہگار ہیں:

اسی لیئے اللہ تعالی نے محمد کو تنبیہ کی کہ وہ اپنے اور دوسروں کے گناہوں کے لئے معافی مانگے۔ سورۃ 47 اس کی 19 آیت

فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ  وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ ترجمہ: پس جان رکھو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور (اور) مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی۔ اور خدا تم لوگوں کے چلنے پھرنے اور ٹھیرنے سے واقف ہے ۔

ہم سب گنہگار ہیں:

اسی لیئے اللہ تعالی نے محمد کو تنبیہ کی کہ وہ اپنے اور دوسروں کے گناہوں کے لئے معافی مانگے۔ سورۃ 47 اس کی 19 آیت  میں یوں مرقوم ہے:

فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ  وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ ترجمہ: پس جان رکھو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور (اور) مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی۔ اور خدا تم لوگوں کے چلنے پھرنے اور ٹھیرنے سے واقف ہے ۔

صحیح البخاری جلد 8، 407اور صحیح البخاری 319 جلد نمبر 8 کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔

محمد از خود یہ بات جانتا تھا کہ فرمانبرداری پر تکیہ کر کے جنت میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ ہم قرآن میں پڑھتے ہیں (سورۃ 46 اس کی 9آیت )

قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ  إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ

کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔

 اور صحیح البخاری حدیث نمبر 266 جلد نمبر 5 میں  بھی ہے۔

محمد آپ کو نہیں بچانے پر قادر نہیں:

قرآن میں لفظ ، نجات دہندہ کہیں بھی وارد نہیں ہوا۔ اگر کسی ڈوبتے کو بچانا مقصود ہو تو بچانے والے کو تیرنا آنا چاہئے، صرف ہاتھ پیر چلانا نہیں بلکہ اچھی طرح سے تیرنا آنا چاہئے کیونکہ یہ دونوں کے لئے ضروری ہے ۔ اوپر بیان کئے گئے حوالہ جات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ محمد تیرنے کے قابل نہیں تھا اس لئے وہ آپ کو بھی نہیں بچا سکتا۔

جب ہم سورۃ 26 اس کی آیت نمبر 214 کا مطالعہ کرتے ہیں جہاں یہ لکھا ہے کہ "   " کو خبردار کرو، تو ہم پر یہ عیاں ہو جاتا ہے کہ محمد سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کرے۔ آئیے اس آیت کو سمجھنے کے لئے صحیح مسلم کی حدیث 398 اور 402 ، جلد نمبر 1 کا مطالعہ کریں

(کتاب انوار الجندی –میزان السلام کا صحفہ 170 پڑھنے کے قابل ہے۔)

محمد لوگوں کو کہتا ہے کہ جہنم کی آگ سےبچنے کے لئے انہیں خود ہی کوئی اہتمام کرنا ہوگا۔ اور ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ محمد خود کو بچانے کا اہل نہیں تھا ، کیونکہ وہ خود بھی ںہیں جانتا کہ اللہ اس کے ساتھ کیا سلوک روا رکھے گا۔

 

کون بیگناہ ہے، کون بچا سکتا ہے؟

قرآن کے مطابق یسوع بیگناہ تھا:انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں)کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں۔ (سورۃ 19:19) عیسی مسیح اور ان کی والدہ شیطان کے لمس سے محفوظ رہے۔ (3:36)

   اور بائبل مقدس میں لکھا ہے کہ " کیونکہ ہمارا ایسا سردار کاہن نہیں جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے بلکہ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تو بھی بیگناہ رہا۔ " (عبرانیوں 4:15-16)

 اسی لئے جنابِ یسوع مسیح خاصکر انہیں جو ان کے ذریعے سے خدا تعالی تک رسائی حاصل کرتے ہیں بچانے پر قادر ہیں ، کیونکہ بمطابق عبرانیوں کے نام خط 7:25 آیت میں یوں لکھا ہے ، " اس لئے جو اس کے وسیلہ سے خدا کے پاس آتے ہیں وہ انہیں پوری پوری نجات دے سکتا ہے کیونکہ وہ انکی نجات کے لئے ہمیشہ زندہ ہے ۔ "

خود قرآن کی گواہی یہ ہے کہ یسوع ، کلمتہ اللہ اور خدا کی روح ہیں، (دیکھئے سورۃ 3:45؛ 4:171؛ 19:34؛ 21:91) وہ اعلی مرتبہ پر فائز ہیں۔ خدا تعالی نے اپنے کلمہ کے ذریعے سے ہی سب کچھ تخلیق کیا۔ (دیکھئے، سورۃ 2:117؛ 3:47 اور 3:49؛ 6:73؛ 16:40؛ 19:35؛ 36:82؛ 40:68) خود بائبل مقدس بھی اس بات کی تائید کرتی ہے (دیکھئے زبور 33:6) اسی لئے، کلمہ نہ صرف تخلیق کے عمل میں کارفرما ہے بلکہ ازلی بھی ہے۔ علاوہ ازیں کلمتہ اللہ کے متعلق بائبل مقدس کا فرمان ہے ، " ابتدا میں کلام تھا، کلام خدا کے ساتھ تھا ، کلام خدا تھا، (انجیل بمطابق یوحنا رسول 1:1)

اس سے پہلے کہ آپ یہ کہیں کہ بائبل مقدس بدل سکتی ہے آپ ذرا سوچئیے: کیا ایک خاکی و فانی انسانی قادر مطلق کے کلام کو بدل سکتا ہے؟ اس سے پہلے کہ آپ یہ کہیں کہ مسیحی تین خداؤں کو مانتے ہیں؛ آپ کو چاہئے کہ آپ یہ سوال پوچھیں، کہ کیا مسیحی واقعی تین خداؤں کو مانتے ہیں ؟ کیا آپ نے کبھی بائبل مقدس کا مطالعہ فرمایا ہے؟ جب تک قصور ثابت نہ ہوجائے، ہر مشتبہ شخص معصوم ہے!

بائبل مقدس میں نجات:

لیکن خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر موا۔ (رومیوں کے نام پولوس رسول کا خط 5:8)

اگر تو اپنی زبان سے یسوع کے خدانوند ہونے کا اقرار کرے اور اپنے دل سے ایمان لائے کہ خدا نے اسے مردوں سے جِلایا تو نجات پائیگا۔ (رومیوں کے نام پولوس رسول کا خط 10:9)

لیکن جتنوں نے اسے قبول کیا اس نے انہیں خدا کے فرزند ہونے کا حق بخشا، یعنی انہیں جو اس کے نام پر ایمان لاتے ہیں۔ (انجیل بمطابق یوحنا رسول 1:12)

یسوع نے کہا ، " راہ اور حق اور زندگی میں ہوں۔ کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پا س نہیں آتا " ( انجیل بمطابق یوحنا رسول 14:6)

گو کہ ہم گناہ کی پستیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ، پاک خدا کے حضور قصور وار ہیں خدا تعالی ہم سے بہت زیادہ محبت کرتاہے، بلکہ مسیح کلمتہ اللہ، ہماری طرح انسان کی صورت میں بھیج کر اور کرکے جب ہم خدا کے مخالف تھے اور فقط گنہگار ہی تھے، ہماری جگہ مصلوب ہو کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرکے، محبت کی انتہا کردی۔ اس نے یہ ہمارے لئے کیا ۔ اس نے اپنی مرضی صلیب پر جان دیکر ہمارا فدیہ ادا کیا، " کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے ، مگر خدا کی بخشش ہمارے یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے" ۔ (پولوس رسول کا خط رومیوں کے نام  6:23)

ہمارے گناہوں کی سزا موت ہے، لیکن یسوع، ازلی کلمتہ اللہ ، بیگناہ ہوئے ہوئے اس دنیا میں اس لئے آیا کہ ہمارے گناہوں کا ازالہ ہو سکے۔ اگر جناب ِ مسیح صرف بیگناہ اور ایک رسول ہی ہوتے تو زیادہ سے زیادہ صرف ایک انسان کے لئے ہی جان دیتے۔ لیکن ازلی کلمتہ اللہ ہونے کی حیثیت سے ان کی قربانی تمام بنی نوع انسان کے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ وہ تحفہ کے طور پر ہمیں ہمیشہ کی زندگی عطا کرتے ہیں تا کہ ہم ہمیشہ تک ان کی رفاقت سے فیض اٹھا سکیں۔

یسوع نے صلیب پر ہمارے گناہوں کے عوض جان دی اور تیسرے دن مردوں میں سے زندہ ہو کر موت پر ایک تاریخی فتح حاصل کی، لیکن ہم میں سے ہر ایک کو یہ مفت بخشش حاصل کرنے کے لئے فیصلہ خود کرنا ہے۔ اگر آپ اس بخشش کو وصول کرنے سے انکار کرتے ہیں تو آپ اس بخشش سے فیضیاب ہونے کے اہل نہیں رہتے ۔ تحفہ دیا جاتا ہے ، اسے کمایا نہیں جاسکتا۔ اوربخشنے والے کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر آپ کسی طرح سے ان کے تحفے کی قیمیت ادا کرنا چاہیں تو وہ اپنی ناراضگی کا برملا  اظہار کر سکے۔ خدا آپ کا قرض خواہ نہیں ہوسکتا! خدا صرف یہ چاہتا ہےکہ آپ ازراہ عقیدت یہ تحفہ صدقِ دل سے قبول کرلیں۔

 اپنے منہ سے یہ اقرار کرنا کہ یسوع مسیح خداوند ہے سھے مراد ہے کہ :

1۔ آپ گہنگار ہیں اور موت کے سزاوار ہیں

2۔ آپ جہنم کی آگ سے از خود بچ نہیں سکتے

3۔ خداوند یسوع مسیح نے صلیب پر جان دیکر اپنے قیمتی خون کے ذریعے سے آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کیا۔

4۔ آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ اور خداوند قبول کریں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح پر ایمان کے ذریعے سے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کریں تو آپ کو صرف اپنا دل ان کے لئے کھولنا ہوگا، اور خدا سے سادہ لفظوں میں یہ کہنا ہوگا، جیسے کہ :

اے خداوند یسوع! میں جانتا ہوں کہ میں گنہگار ہوں، اور مانتا ہوں کہ میرے نیک اعمال میرے گناہوں کو دھو نہیں سکتے اور میں آپ کو اپنا خداوند اور نجات دہندہ قبول کرتا/کرتی ہوں۔ آپ اپنے پاک خون کے ذریعے سے میرے گناہوں کو دھو دیجیئے اور اس قابل بنائے کہ آپ کی بتلائی ہوئی راہوں پر چل سکوں۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے وہ راستہ فراہم کیا کہ میں آپ کے قریب آسکوں۔ آمین

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, اسلام, مُحمد, غلط فہمیاں, تفسیر القران | Tags: | Comments (3) | View Count: (16561)

Comments

  • The bible(gospel)you quoute is full of lies.I don't say this.CHristian scholars,professors of theology in American Universities say this.Then what happens is that these christians scholars leaver christianity,they become agnostic,satheists and Muslims or Hindus or what ever.A professor of theology world known has written this article but he is not alone there are many any who have written similar articles.Here is copy paste. Who Wrote The Bible and Why It Matters 03/25/2011 08:53 pm ET | Updated May 26, 2011 9.7k Bart D. Ehrman Author, ‘Forged: Writing in the Name of God—Why the Bible’s Authors Are Not Who We Think They Are’ Apart from the most rabid fundamentalists among us, nearly everyone admits that the Bible might contain errors — a faulty creation story here, a historical mistake there, a contradiction or two in some other place. But is it possible that the problem is worse than that — that the Bible actually contains lies? Most people wouldn’t put it that way, since the Bible is, after all, sacred Scripture for millions on our planet. But good Christian scholars of the Bible, including the top Protestant and Catholic scholars of America, will tell you that the Bible is full of lies, even if they refuse to use the term. And here is the truth: Many of the books of the New Testament were written by people who lied about their identity, claiming to be a famous apostle — Peter, Paul or James — knowing full well they were someone else. In modern parlance, that is a lie, and a book written by someone who lies about his identity is a forgery. Most modern scholars of the Bible shy away from these terms, and for understandable reasons, some having to do with their clientele. Teaching in Christian seminaries, or to largely Christian undergraduate populations, who wants to denigrate the cherished texts of Scripture by calling them forgeries built on lies? And so scholars use a different term for this phenomenon and call such books “pseudepigrapha.” You will find this antiseptic term throughout the writings of modern scholars of the Bible. It’s the term used in university classes on the New Testament, and in seminary courses, and in Ph.D. seminars. What the people who use the term do not tell you is that it literally means “writing that is inscribed with a lie.” And that’s what such writings are. Whoever wrote the New Testament book of 2 Peter claimed to be Peter. But scholars everywhere — except for our friends among the fundamentalists — will tell you that there is no way on God’s green earth that Peter wrote the book. Someone else wrote it claiming to be Peter. Scholars may also tell you that it was an acceptable practice in the ancient world for someone to write a book in the name of someone else. But that is where they are wrong. If you look at what ancient people actually said about the practice, you’ll see that they invariably called it lying and condemned it as a deceitful practice, even in Christian circles. 2 Peter was finally accepted into the New Testament because the church fathers, centuries later, were convinced that Peter wrote it. But he didn’t. Someone else did. And that someone else lied about his identity. The same is true of many of the letters allegedly written by Paul. Most scholars will tell you that whereas seven of the 13 letters that go under Paul’s name are his, the other six are not. Their authors merely claimed to be Paul. In the ancient world, books like that were labeled as pseudoi — lies. This may all seem like a bit of antiquarian curiosity, especially for people whose lives don’t depend on the Bible or even people of faith for whom biblical matters are a peripheral interest at best. But in fact, it matters sometimes. Whoever wrote the book of 1 Timothy claimed to be Paul. But he was lying about that — he was someone else living after Paul had died. In his book, the author of 1 Timothy used Paul’s name and authority to address a problem that he saw in the church. Women were speaking out, exercising authority and teaching men. That had to stop. The author told women to be silent and submissive, and reminded his readers about what happened the first time a woman was allowed to exercise authority over a man, in that little incident in the garden of Eden. No, the author argued, if women wanted to be saved, they were to have babies (1 Tim. 2:11-15). Largely on the basis of this passage, the apostle Paul has been branded, by more liberation minded people of recent generations, as one of history’s great misogynists. The problem, of course, is that Paul never said any such thing. And why does it matter? Because the passage is still used by church leaders today to oppress and silence women. Why are there no women priests in the Catholic Church? Why are women not allowed to preach in conservative evangelical churches? Why are there churches today that do not allow women even to speak? In no small measure it is because Paul allegedly taught that women had to be silent, submissive and pregnant. Except that the person who taught this was not Paul, but someone lying about his identity so that his readers would think he was Paul. It may be one of the greatest ironies of the Christian scriptures that some of them insist on truth, while telling a lie. For no author is truth more important than for the “Paul” of Ephesians. He refers to the gospel as “the word of truth” (1:13); he indicates that the “truth is in Jesus”; he tells his readers to “speak the truth” to their neighbors (4:24-25); and he instructs his readers to “fasten the belt of truth around your waist” (6:14). And yet he himself lied about who he was. He was not really Paul. It appears that some of the New Testament writers, such as the authors of 2 Peter, 1 Timothy and Ephesians, felt they were perfectly justified to lie in order to tell the truth. But we today can at least evaluate their claims and realize just how human, and fallible, they were. They were creatures of their time and place. And so too were their teachings, lies and all. Bart D. Ehrman is the James A. Gray Distinguished Professor of Religious Studies at the University of North Carolina, Chapel Hill, and the New York Times bestselling author of ‘Misquoting Jesus’ and ‘Jesus, Interrupted’. His latest book, ‘Forged: Writing in the Name of God — Why the Bible’s Authors Are Not Who We Think They Are’, is now available from HarperOne. More: Christianity 1 Timothy The Bible Paul’s Letters
    15/11/2016 2:23:21 PM Reply
  • بھائی اقبال خان، آپ کا جواب تو بہت اچھا ہے لیکن آپ یہ بھی تو بتائیے کہ محبت کے جواب میں محبت کی آرزو رکھنا جائز ہے کہ نہیں، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہی آپ سے محبت نہ رکھے تو پھر آپکی ان سے محبت رکھنے کا کوئی جواز نہیں، کیونکہ بدقسمتی سے اسلام میں اللہ کی بندگی بطور غلام کا تصور ہے ، الہی محبت کا کوئی تصور موجود نہیں، واسلام
    30/09/2014 9:16:12 PM Reply
  • alla pak sa mahobat kr na
    28/09/2014 10:38:35 PM Reply

Post a Comment

English Blog