en-USur-PK
  |  
12

یہواہ اوراللہ

posted on
یہواہ  اوراللہ

یہواہ اور اللہ

ثقافتی اور رواداری آج کے نعرے ہیں۔ اختلاف آواز سرپرستی کے ہمراہ مسترد ہوتی جارہی ہے۔آدھا سچ مکمل جھوٹ بن چکا ہے۔ بہت سے لوگوں کا یہ قیاس ہے کہ (قرآن اوراسلام) کا جو اللہ ہے وہ وہی ہے جو بائبل مقدس کا یہوداہ ہے۔حالانکہ مسیحی اور مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن وہی خدا ہے جو حضرت ابراہیم کا تھا۔لیکن  جب اس کو بہت نزدیک سے پرکھا جائے تویہ پتہ چلتاہے کہ اللہ اور یہواہ دونوں بہت ہی مختلف ہیں۔

بائبل اور قرآن میں اللہ اور یہواہ دونوں کو بطور خالق کے پیش کیا گیا ہے۔ وہی اکیلا حاکم ہے محبت کرنے والا معاف کرنے والا اور انصا ف کرنے والا ہے۔قرآن یہ دعویٰ کرتاہے کہ قرآن کا اللہ اور بائبل کا خدا دونوں ایک ہی ہیں۔

وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ  وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ۔

ترجمہ: اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے کہ نہایت اچھا ہو۔ ہاں جو اُن میں سے بےانصافی کریں (اُن کے ساتھ اسی طرح مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اُتری اور جو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں )سورہ 29آیت 46)۔

اس آیت کی تعلیم کی روشنی میں مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسیحیوں نے اللہ کو غلط طور سے پیش کیا اور تین میں سے کا ایک نہیں ہے۔اور وحدانیت کو ختم کردیا ہے۔

 

یہواہ

اللہ

وہ صرف اچھائی کا خالق ہے۔

پیدائش 1باب 1آیت۔ 1تمتھیس 4باب 4آیت۔ یعقوب 1باب 17)۔

اچھائی اور برائی دونوں کا خالق ہے۔

(سور 4آیت 78۔ سورہ 113آیت 2)۔

وہ تمام دنیا سے محبت کرتاہے۔

یوحنا 3باب 16آیت۔

صرف مسلمانوں سے پیار کرتاہے۔

سورہ 2آیت 195۔ سورہ 2آیت 190۔ سورہ 2آیت 276۔ سورہ 3آیت 32۔

وہ لاتبدیل ہے۔

ملاکی 3باب 6آیت۔ یعقوب 1باب 17آیت۔

وہ اپنا ذہن متواتر بدلتا رہتاہے۔

(سور 16آیت 101۔ سورہ 13آیت 39۔ سورہ 17آیت 86۔ سورہ 87آیت 6سے 8

ایمانداروں کے لئے جنت کی یقین دہانی۔

(یوحنا 6باب 47آیت۔ 10باب 28آیت۔ رومیوں 6باب 23آیت۔ 1یوحنا 5باب 11سے 13آیت۔ وغیرہ۔

تھوڑے عرصہ کے لئے ایمانداروں کے لئے دوزخ کی یقین دہانی۔

سورہ 19آیت 71سے 72۔

وہ جھوٹ نہیں بولتا۔اپنے وعدوں پرقائم ہے۔

گنتی 23باب 19آیت۔ 1سیموئیل 15باب 29آیت۔

جب ضرورت ہو تو جھوٹ بولتاہے۔

(سورہ 3آیت 54۔ سورہ 8آیت 30)۔

زندگی کی ر اہوں پر لوگوں کے لے چلتاہے۔

زبور 23۔ زبور 139آیت 24۔ یوحنا 14باب 6آیت

جسے چاہے گہمراہ کردے۔

سورہ 7آیت 178۔ 179۔ سورہ 13آیت 31۔

ایک پیچیدہ وحدانیت جیسے کہ لامحدود+لامحدود+لامحدود=لامحدود۔

یوحنا 10باب 30آیت۔14باب 9آیت۔ رومیوں 8باب 9سے 11آیت۔

صرف وحدانیت۔

سورہ 4آیت 171۔ سورہ 5آیت 73۔

ابدی انصاف کا تقاضہ کرتاہے۔

حزقیل18باب 4آیت۔ یسعیاہ 65باب 6آیت۔ زبور 37آیت 28۔ یسعیاہ 30باب 18آیت  ۔42باب 1-سے 4آیت۔ 61باب8آیت۔یرمیاہ 9باب 24آیت۔ متی 16باب27آیت۔

ابدی انصاف کا تقاضہ نہیں کرتا۔

(سورہ 7آیت 8۔ سورہ 21آیت 47۔ سورہ 23آیت 101 سے 103۔ سورہ 53آیت 32۔ سورہ 5آیت 39۔ سورہ 11آیت 114۔ اور صحیح بخاری جلد اول حدیث 17 اور 504 وغیرہ۔

ایمانداروں کو ہمیشہ معاف  کرتاہے۔

کلسیوں 2باب 13آیت۔ 1یوحنا 1باب 9آیت۔

وہ جب خوش ہوتاہے تو ایمانداروں کو معاف کرتاہے۔

سورہ 2آیت 284۔ سورہ 3آیت 129۔سورہ 4آیت 48 اور 116 وغیرہ۔

اُس کابیٹا ہے۔

زبور 2۔ امثال 30باب 4آیت۔ متی 3باب 17آیت۔ 17باب 5آیت۔

اُس کابیٹا نہیں۔

سورہ 112آیت 3سے 4آیت۔ سورہ 72آیت 1سے 5آیت۔ سورہ 19آیت 92۔

کفارہ اور شفاعت عطا کرتاہے۔

استشنا 32باب 43آیت۔ یسعیاہ 53باب 12آیت۔ رومیوں 8باب 34آیت۔ عبرانیوں 7باب 25آیت۔

بہت دفعہ کفارہ  اور شفاعت کا انکار کرنا۔

سورہ 2آیت 186۔ سورہ 6آیت 51۔ سورہ 94آیت 10 اور 18۔ سورہ 32آیت 4۔ سورہ 19آیت 95۔

گناہ سے نفرت

رومیوں 3باب 25آیت۔ 1یوحنا 2باب 2آیت۔ 4باب 10آیت۔ گنتی 19باب 1سے 2آیت۔خروج 19باب 6آیت ۔ زبور 119آیت 142۔ 160۔ متی 5باب 48آیت۔ 1پطرس 1باب 15سے 16آیت۔

گناہ کا تقاضہ کرتاہے۔

صحیح مسلم کتاب 37۔ حدیث نمبر 6622 اور 6621۔ کتاب 33حدیث 6421۔

وہ ذاتی خدا ہے۔

یرمیاہ 24باب 7آیت۔ 31باب 34آیت۔ یوحنا 10باب 14آیت۔ 14باب 9آیت۔ رومیوں 8باب 15آیت۔ گلتیوں 4باب 6آیت۔ مکاشفہ 21باب 7آیت۔

وہ بے لاک اور انجان اور غلاموں کا خدا  اور آقا ہے۔

سورہ 4آیت 172۔ سورہ 5آیت 118۔ سورہ 6آیت 18۔ سورہ 7آیت 194۔ سورہ 15آیت 49۔ سورہ 19آیت 93

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, اسلام, مُحمد | Tags: | Comments (8) | View Count: (10731)

Comments

  • ہمارے دوست نے اپنے مضمون میں کئی نقات اٹھائے پہلے اعتراض کا جواب اس سے قبل دیا جا چکا ہے جس کا کوئی جواب تاحال نہیں آیا (اور نہ ہی انشاءاللہ آئیگا) اعتراضات میں دوسرا اعتراض یہ کیا کہ یہواہ تمام دنیا سے محبت کرتا ہے جبکہ اللہ تعالٰی صرف مسلمانوں سے محبت کرتا ہے۔ آئیے قرآن کریم کی روشنی میں موصوف کے دعوے کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے مطابق اللہ تعالٰی صرف مسلمانوں سے ہی محبت کرتا ہے۔ ہم پہلے اس بات کو قرآن مجید سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا اللہ تعالٰی تمام انسانوں سے محبت کرتا ہے کہ نہیں۔ ویسے تو قرآن مجید میں متعدد مقامات ہیں جہاں پر اللہ تعالٰی نے انسان کی افضلیت کا ذکر فرمایا ہے۔ لیکن یہاں پر کچھ ہی حوالہ جات پر اکتفا کرینگے تاکہ قارئین کا ذوق برقرار رہے جب ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ۱۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اپنی تمام مخلوقات پر اسے فضیلت و برتری عطا کی ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: سورۃ بنی اسرائیل آیت 70 وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا۔ یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ۔ ان آیات میں اللہ ربّ العزت نے انسان کے تمام مخلوقات میں مکرم و مشرف و فضیلت والا ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔ ۲۔ انسان کا زمین میں اللہ کا خلیفہ ہونا اللہ ربّ العزت نے اپنی خلافت اور نیا بت کا سہرا انسان کے سر پر سجایا ہے۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کا تذکرہ موجود ہے۔ ایک مقام کی چند آیات ملاحظہ کریں۔۔۔پھر ذرا اس وقت کا تصوّر کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا، کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرّر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا جب کہ ہم آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور تقدیس تو کرہی رہے ہیں۔ فرمایا میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ (سورۃ البقرۃ۔ آیت ۳۰) بعض علماء نے خلیفہ کی اس آیت کے تناظر میں یہ تعریف کی ہے: خلیفہ اسے کہتے ہیں جو کسی کے ملک میں اس کے تفویض کردہ اختیارات کو اس کے نائب کی حیثیت سے استعمال کرے اور اس کی منشاء کو ٹھیک ٹھیک پورا کرے۔اللہ ربّ العزت نے انسان کو یہ اعلیٰ اور ارفع مقام اس لیے عطا فرمایا ہے تاکہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکے احکام کو بجا لاتے ہوئے اسلامی نظام کو نافذ کرے اور نظامِ عدل و انصاف قائم کرے۔ ۳۔ انسان کا احسن تقویم ہونا تمام مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے لفظ ’’کن‘‘ سے پیدا کیا اور انسان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ قرآنِ مجید میں ہے: سورۃ ص آیت 75 قَالَ یٰۤاِبۡلِیۡسُ مَا مَنَعَکَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِیَدَیَّ ؕ اَسۡتَکۡبَرۡتَ اَمۡ کُنۡتَ مِنَ الۡعَالِیۡنَ۔ اے ابلیس! تجھے اس کو سجدہ کرنے سے کس نے منع کیا جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ حدیث میں ہے: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو مارے تو چہرے سے اجتناب کرے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم۔ رقم الحدیث ۶۵۳۲) اس لیے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا: لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡم.ٍ بے شک ہم نے انسان کو سب سے اچھی ساخت اور ہیئت پر پیدا کیا ہے۔ (سورۃ التین۔ آیت ۴) ۴۔ کائنات کی تمام اشیاء کا انسان کے لیے بنانا اللہ ربّ العزت نے انسان کو اپنے قرب و وصال کے لیے تخلیق فرمایا جب کہ ربِّ کائنات نے اس کائنات کی تمام اشیاء کو انسان کے نفع اور فائدے کے لیے پیدا کیا۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے سورۃ البقرہ آیت 29 ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا. وہ اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: سُبۡحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہٗ مُقۡرِنِیۡنَ ۔ سورۃ زخرف آیت 13 پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر (تابعدار کردیا) ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت رکھنے والے نہ تھے. ان آیات کی روشنی میں یہ تو روز روشن کی طرح واضع ہوگیا کہ اللہ تعالٰی تمام انسانوں سے محبت فرماتا ہے اور اسی بنیاد پر اللہ تعالٰی نے ایک انسان کے قتل ناحق کو انسانیت کا قتل قرار دیا نہ کہ فقط مسلمان کے قتل کو جسکا ذکر سورۃ المائدہ آیت 32 میں کچھ اسطرح آیا ہے۔ مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِکَ ۚ ۛ ؔ کَتَبۡنَا عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ مَنۡ اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو ، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا ، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچالے اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ کی تمام انسانوں سے محبت واضع ہوگئی اب آتے ہیں معترض کے اخذ کئے حوالہ جات کی طرف جو انہوں نے اپنے حق میں قرآن کریم سے دیئے اور ان سے حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلا حوالہ انہوں نے سورۃ البقرہ آیت 195 کا دیا جہاں لکھا ہے۔ وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚ ۖ ۛ وَ اَحۡسِنُوۡا ۚ ۛ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور سلوک و احسان کرو اللہ تعالٰی احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔ دوسری دلیل سورۃ البقرہ آیت 190 وَ قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡن۔ لڑو اللہ کی راہ میں اُن سے جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو ، اللہ تعالٰی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔ تیسری دلیل۔ سورہ البقرہ آیت 276 یَمۡحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَ یُرۡبِی الصَّدَقٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیۡم. اللہ تعالٰی سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالٰی کسی ناشکرے اور گنہگار سے محبت نہیں کرتا ۔ چوتھی دلیل سورۃ آل عمران آیت 32 قُلۡ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡکٰفِرِیۡنَ. کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالٰی اور رسول کی اطاعت کرو ، اگر یہ منہ پھیر لیں تو بیشک اللہ تعالٰی کافروں سے محبت نہیں کرتا. چونکہ اللہ تعالٰی محبت کرنے کے ساتھ ساتھ عادل بھی ہے اور عدل کا تقاضہ ہے کہ اچھے کام کرنے والوں کو انعام جبکہ برے کام کرنے والوں کی سرزنش کی جائے اور یہی طریقہ فطری تقاضوں کے عین مطابق بھی ہے اگر بالفرض کسی ملک کا کوئی حکمران یہ اعلان کردے یا قانون بنادے کہ کوئی بھی شخص کوئی بھی جرم کرے تو اسکو سزا نہ دی جائے تو کیا اسے منصفانہ قانون کہا جا سکتا ہے۔ ہر گز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی مذہب یا تہذیب چاہے انکا تعلق الہامی مذاہب سے ہو یا غیر الہامی مذاہب سے کوئی بھی قوم اس فارمولے پر عمل نہیں کرتی کہ مجرم کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ کسی بھی جرم کے بعد بھی اس قوم کا محبوب رہے۔ ایسا عمل جب انسان پسند نہیں کرتا تو اللہ تعالٰی بدرجٰہ اولٰی اسے پسند نہیں فرماتا۔ جتنا بڑا جرم ہوتا ہے اسے اتنی بڑی سزا دی جاتی ہے اور سب سے بڑا جرم اللہ تعالٰی کا انکار کرنا یا غیراللہ کو اسکا شریک ٹہرانا ہے اسی لئے اسکی سزا بھی اتنی زیادہ ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس امر پر قرآن مجید اور بائبل مقدس متفق ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود اللہ تعالٰی نے ایسے انسان کیلئے موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے بداعمالیوں کو چھوڑ کر اپنی اصلاح کرلے تو اللہ تعالٰی اسے بھی انعام و اکرام سے نوازے گا۔ جسکا ذکر قرآن مجید میں کچھ اس انداز میں کیا گیا ہے۔ قل یٰعبادی الذین اسرفو علی انفسھم لا تقنطو من رحمت اللّٰہ ط ان اللّٰہ یغفر الذنوب جمیعا ط انہ ھو الغفور الرحیمO (الزمر: 53) آپ کہہ دیجئے اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، بے شک اللہ تعالی تمام گناہ معاف کردے گا ، بے شک وہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ لیکن یہ نہیں کہ معاذاللہ اللہ تعالٰی کسی کو کسی سے ذاتی طور پر کوئی نفرت و عناد ہے بلکہ بنیادی طور پر اللہ تعالٰی ہر انسان سے محبت ہی فرماتا ہے۔ جسکا ذکر بھی قرآن مجید میں متعدد بار ہوا ہے۔ مثلًا۔ مَّنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ۗ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ (فصلت:46) ترجمہ: جو شخص نیک کام کرے گا وہ اپنے نفع کے لئے اور جو برا کام کرے گا اس کا وبال بھی اسی پر ہے اور آپ کا رب بندوں پر ذرہ برابر بھی ظلم کرنے والا نہیں ۔ سورۃ الحجرات آیت 13 یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ۔ اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ( ہی ) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے قبیلے بنا دیئے ہیں ، اللہ کے نزدیک تم سب میں سے با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے ۔ اس تمام مواد کے بعد آسانی سے اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ۔ ۱۔بنیادی طور پر اللہ پاک تمام انسانوں سے محبت فرماتا ہے ۲۔اللہ تعالٰی کسی سے بھی بنیادی طور پر نفرت نہیں رکھتا ۳۔اسکے باوجود عدل کے تقاضوں کے مطابق ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق سزا و جزا کا عمل فرماتا ہے ۴۔اسکے بعد بھی حتمی طور معاف کرنے کا اختیار اسی کے پاس ہے جسے چاہے معاف فرماتا ہے۔ یہاں پر شاید معترض یا کوئی قاری یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ. معترض نے دنیا سے محبت کی بات کی ہے نہ کہ فقط انسان سے تو ان کیلئے پیشگی گزارش ہے کہ دنیا سے محبت انسان کی محبت پر ہی موقوف ہے جیسا کہ اسی بائبل مقدس والے حوالے سے ظاہر ہے۔ یہانتک قرآنی مؤقف واضع ہوگیا۔ اب ذرا رخ کرتے ہیں بائبل مقدس کی طرف اور دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا بائبل مقدس معترض کے دعوٰی سے مکمل طور پر متفق ہے? لیکن جب ہم بائبل مقدس کا بغور مطالعہ کریں تو ہم پر یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ بائبل کا یہواہ بھی دراصل اللہ تعالٰی کی طرح ہی ہے اور بعض جگہوں پرعدل و انصاف اور الوہیت کے اس معیار پر پورا نہیں اترتا جو معیار اللہ تعالٰی کا ہے۔ بحر حال ہم نے تنقیدی پہلو سے پہلو دہی اختیار کرتے معترض کے اصولوں کے مطابق یہواہ کا تقابل اللہ تعالٰی سے کرنا ہے۔ اسکے پیش نظر فقط موضوع پر ہی محدود رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ کیا یہواہ فقط محبت ہی کرتا ہے اور کسی سے نفرت نہیں کرتا? تو یہ بات بلکل غلط اور بائبل مقدس پر بہتان کے مترادف ہے۔ کیونکہ بائبل مقدس میں متعدد حوالہ جات ملتے ہیں جس میں بائبل کا خدا لوگوں سے نفرت کرتا ہے۔ حتٰی کہ کبھی کبھی اسکی نفرت اس حد تک بڑھتی ہے کہ وہ کئی بے قصوروں اور بچوں کو ناحق قتل کا حکم دیتا ہے۔ اور کسی کے گناہ کی سزا اسکی کئی پشتوں تک دیتا ہے۔ لیکن ہم یہاں کچھ ہی حوالہ جات نقل کرینگے جس سے معترض کے دعوٰی کی مکمل طور پر نفی ہوتی ہے۔ اور جن کے مطابق یہواہ انسانوں سے اپنی نفرت کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔ مثلًا۔ استثنا باب ۳۲ 19 خداوند نے یہ دیکھ کر اُن سے نفرت کی کیونکہ اُس کے بیٹوں اور بیٹیوں نے اُسے غصہ دلایا ۔  ۲۔تواریخ باب ۳۳ 2 اور اُس نے اُن قوموں کے نفرت انگیز کاموں کے مُطابق جن کو خُدا نے بنی اسرائیل کے آگے سے دفع کیا تھا وہی کیا جو خُداوند کی نظر میں بُرا تھا ۔  زبور باب ۱۱۔ 5 خُداوند صادِق کو پرکھتا ہ پر شریر اور ظُلم دوست سے اُس کی رُوح کو نفرت ہے۔  6 وہ شریروں پر پھندے برسائیگا۔ آگ اور گندھک اور لُو اُنکے پیالے کا حصہ ہوگا 7 کیونکہ خُداوند صادق ہے۔ وہ صداقت کو پسند کرتا ہے۔ راستباز اُس کا دیدار حاصل کرینگے۔ زبور باب 26 5 بدکرداروں کی جماعت سے مجھے نفرت ہے۔ مَیں شریروں کے ساتھ نہیں بیٹھونگا۔  زبور باب 78 59 خُدا یہ سُن کر غضب ناک ہوا اور اِسرائؔیل سے سخت نفرت کی ۔  زبور باب 106 40 اِسلئے خُداوند کا قہر اپنے لوگوں پر بھڑکا اور اُسے اپنی میراث سے نفرت ہو گئی۔  زبور باب 129 4 خُداوند صادق ہے۔ اُس نے شریروں کی رسیاں کاٹ ڈالیں۔  5 صیِوُؔن سے نفرت رکھنے والے سب شرمندہ اور پسپا ہوں۔  امثال باب 3 32 کیونکہ کجروسے خداوند کو نفرت ہےلیکن راستباز اُسکے محرم راز ہیں۔  33 شریروں کے گھرپر خداوند کی لعنت ہے لیکن صادقوں کے مسکن پر اُسکی برکت ہے ۔ امثال باب6 16 چھ چیزیں ہیں جن سے خداوند کو نفرت ہےسات ہیں جن سے اُسے کراہیت ہے۔  17 اوچی آنکھیں ۔جھوٹی زبان ۔بے گناہ کاخون بہانے والے ہاتھ ۔  18 بُرے منصوبے باندھے والا دِل ۔شرارت کے لئے تیز رو پاؤں ۔  19 جھوٹا گواہ جو دروغ گوئی کر تا ہےاور جو بھائیوں میں نفاق ڈالتا ہے۔ امثال باب 12 22 جھوٹے لبوں سے خداوند کو نفرت ہے لیکن راستکار اسکی خوشنودی ہیں۔  امثال باب 15 8 شریروں کے ذبیحہ سے خداوند کو نفرت ہے پر راستکار کی دعا اسکی خوشنودی ہے۔  امثال باب 15 9 شریروں کی روش سے خداوند کو نفرت ہےپر وہ صداقت کے پیرو سے محبت رکھتاہے۔  امثال باب 15 25 خداوند مغروروں کا گھر ڈھا دیتا ہے پر وہ بیوہ کے سوانے کو قائم کرتا ہے ۔  26 برےمنصوبوں سے خداوند کو نفرت ہے پر پاک لوگوں کا کلام پسندیدہ ہے۔  29 خداوند شریروں سے دُور ہے پر وہ صادقوں کی دُعا سُنتا ہے۔ امثال باب17 15 جو شریر کو صادق اور جو صادق کو شریر ٹھہراتا ہے خداوند کو اُن دونوں سے نفرت ہے۔  امثال باب 22 14 بیغانہ عورت کا منہ گہرا گڑھا ہے۔اُس میں وہ گرتا ہے جس سے خداوند کو نفرت ہے۔  ایسعیاہ باب61 8 کیونکہ میں خداوندانصاف کو عزیز رکھتا ہوں اور غارت گری اور ظلم سے نفرت کرتا ہوں۔سو میں سچائی سے اُن کے کاموں کا اجردوں گا اور ان کے ساتھ ابدی عہد باندہوں گا۔  یرمیاہ باب44 22 پس تمہارے بد اعمال اور نفرتی کاموں کے سبب سے خداوند برداشت نہ کرسکا ۔ اِسلئے تمہارا ملک ویران ہوا اور حیرت ولعنت کا باعث بنا جس میں کوئی بسنے والا نہ رہا جیسا کہ آج کے دن ہے۔  حزقی ایل باب پانچ پورا۔ حزقی ایل باب 20 7 اور میں نے ان سے کہا کہ تم میں سے ہر ایک شخص اپنے نفرتی کاموں کوجو اسکی منظور نظر ہیں دور کرے اور تم اپنے آپ مصر کے بتوں سے پاک کرو۔ مَیں خداوند تمہارا خدا ہوں۔  8 لیکن وہ مجھ سے باغی ہوئے اور نہ چاہا کہ میری سنیں۔ ان میں سے کسی نے ان نفرتی کاموں کو جو اس کی منظور نظر تھے ترک نہ کیا اور مصر کے بتوں کو نہ چھوڑا۔ تب میں نے  کہا کہ میں اپنا قہر ان پر انڈیل دونگاتاکہ اپنے غضب کو ملک مصر میں ان پر پورا کروں۔  عاموس باب۵ 21 میں تمہاری عیدوں کو مکروہ جانتا اور اُن سے نفرت رکھتا ہُوں اور میں تمہاری مُقدس محفلوں سے بھی خُوش نہ ہوں گا۔  22 اور اگراگرچہ تم میرے حُضور سو ختنی اور نذر کی قربانیاں گُزرا نوگے تو بھی میں اُن کو قبول نہ کُروں گا اور تمہارے فربہ جانوروں کی شُکرانہ کی قربانیاں کو خاطر میں نہ لاوں گا۔  رومیوں باب ۹ 13 چُنانچہ لکِھا ہے کہ مَیں نے یَعقُوب سے تو محبّت کی مگر عیسو سے نفرت۔  قارئین کرام ان حوالہ جات کو پڑھ کر آسانی سے نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ حقیقت اسکے برعکس ہے جوکہ معترض نے بیان کرنے کی کوشش بھی کی۔ خلاصہ۔ معترض کا اللہ تعالٰی پر اٹھایا گیا اعتراض بے بنیاد اور کم علمی پر مشتمل ہے۔ جسطرح انہوں نے اللہ تعالٰی کے متعلق بتانے کی کوشش کی حقیقت اسکے برعکس ہے۔ اور یہواہ کے متعلق انکا بیان کردہ دعوٰی غلط ہے۔ امید ہے ان دو جوابات سے قارئین دوسری باتوں کا اندازہ بھی خود ہی لگالیں گے لیکن اگر وقت نے اجازت دئ تو ہر پوائنٹ پر اسئ طرح مکمل تفصیل کے ساتھ جواب دینے کی کوشش کی جائیگی۔ تمام قارئین سے معترض کی عقل اور ہدایت کی دعا کی استدعا کی جاتی ہے۔ غلام یٰسین پتافی ڈھرکی سندھ پاکستان
    16/10/2018 2:50:32 PM Reply
  • ہمارے محترم دوست نے بڑے ہی شاطرانہ انداز میں اعتراض اٹھائے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موصوف نے بغیر کسی جھجک کے جھوٹ کا سہارا لیکر خدا کا جلال بلند کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ جوکہ دلائل کے ساتھ پیش کئے جائینگے۔ چونکہ ایک آرٹیکل میں متعدد سوالات اور اعتراضات اٹھائے گئے ہیں جنکا ایک ایک کرکے جواب دینے کی کوشش کرونگا تاکہ متلاشیان حق بات کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ ہمارے دوست نے پہلا نقطہ یہ بیان کیا ہے کہ بائبل کا خدا جسے انہوں نے یہواہ لکھا اللہ تعالٰی کے مقابلے فقط اچھائی ہی کا خالق ہے جبکہ اللہ تعالٰی جسے مسلمان مانتے ہیں اچھائی اور برائی کابھئ خالق ہے۔ اچھائی کے تو دونوں خالق ہوئے لیکن موصوف پُراسرار طریقے سے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کا خدا برائی کا خالق ہے۔ اس پر انہوں نے اپنے دعویٰ پر بائبل مقدس جبکہ مخالفت میں قرآن مجید سے دلائل پیش کئے۔ آئیے سب سے پہلے انکے دعوٰی اور انکے دلائل کو انہی کی کسوٹی میں پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں موصوف کا دعوٰ ی کہ یہواہ صرف اچھائی کا خالق ہے جس پر مندرجہ ذیل دلائل بائبل مقدس سے تحریر فرمائے۔ ۱۔ پئدائش باب ۱۔ خُدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پَیدا کیا۔ دلیل نمبر ۲۔ تیمتھیس باب ۱ 4 کِیُونکہ خُدا کی پَیدا کی ہُوئی ہر چِیز اچھّی ہے اور کوئی چِیز اِنکار کے لائِق نہِیں بشرطیکہ شُکرگُذاری کے ساتھ کھائی جائے ۳دلیل نمبر یعقوب باب ۱ 17 ہر اچھّی بخشِش اور ہر کامِل اِنعام اُوپر سے ہے اور نوروں کے باپ کی طرف سے مِلتا ہے جِس میں نہ کوئی تبدیلی ہوسکتی ہے اور نہ گردِش کے سبب سے اُس پر سایہ پڑتا ہے۔ تمام قاری حضرات پڑھ سکتے ہیں کہ انکی طرف سے پیش کردہ بائبل کی کوئی بھی آیت انکے دعوٰی پر پوری نہیں اترتی ۔ ۱۔کسی بھی آیت میں نہیں لکھا کہ یہواہ صرف اچھائی کا خالق ہے۔ ۲۔کسی جگہ نہیں لکھا کہ یہواہ برائی کا خالق نہیں۔ تمام آیات کو ملاحظہ کرنے کے بعد آسانی سے نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ہمارے دوست کا دعوٰی ہی بے بنیاد اور بلادلیل ہے۔ جس سے انکے کمزور اور بے بنیاد مؤقف کا آسانی سے پتہ چل جاتا ہے۔ اب آئیے آگے دیکھتے ہیں کہ اگر یہواہ اچھائی کا خالق ہے اور برائی کا خالق نہیں تو کیا برائی کا وجود پایا جاتا ہے کہ نہیں۔? ہر شخص جانتا ہے کہ جسطرح اچھائی ہے اسی طرح برائی کا بھی وجود پایا جاتا ہے۔ تو اولًا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اگر برائی کو یہواہ نے تخلیق نہیں کیا تو اسے کس نے خلق کیا? ۲۔چونکہ موصوف کا نقطہ نظر یہی تھا کہ برائی کو یہواہ نے نہیں بنایا تو کیا یہواہ برائی تخلیق کرنے سے عاجز تھا? ۳۔برائی کو یہواہ نے خلق نہیں کیا اسکے باوجود برائی کے وجود کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہواہ خالق کل نہیں ہے۔ ۴۔اگر برائی یہواہ نے خلق نہیں کی تو اسے کس نے تخلیق کیا۔? اور جو چیز یہواہ تخلیق نہ کر سکا اسے تخلیق کرنے والے کے متعلق کیا خیال ہے۔ اسے تو یہواہ سے بھی طاقتور ماننا چاہیے۔ ۵۔اگر یہواہ برائی کو تخلیق نہ کرکے بھی خدا ہے تو جس چیز بنانے سے یہواہ عاجز ہے اسے بنانے والا بدرجٰہ اولا خدا ہونا چاہیے۔ اب ذرا دیانتداری سے بائبل سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہواہ برائی کا پیدا کرنے والا بھی ہے تو ہمیں بہت سے حوالہ جات ملتے ہیں مگر سرِدست چونکہ معترض نے قرآن کریم سے دوحوالے کوڈ کئے تو اسی کے اصول پر ہم بھی بائبل سے دو حوالہ جات پیش کرتے ہیں جن میں قرآن مجید کے حوالہ جات سے بھی واضع طور پر بیان ہوا ہے کہ یہواہ اچھائی اور برائی کا بنانے والا ہے۔ پہلا حوالہ استثنا باب 30 15 دیکھ میں نے آج کے دن زندگی اور بھلائی اور موت اور بُرائی کو تیرے آگے رکھا ہے دوسرا حوالہ۔ نوحہ باب ۳ 38 کیا بھلائی اور بُرائی حق تعالیٰ ہی کے حکم سے نہیں ہے؟ موصوف نے حوالہ جات دیئے مگر ہم نے آیات بھی کاپی کردیں تاکہ قارئین کیلئے سمجھنے میں آسانی ہو۔ خلاصہ۔ ۱۔معترض کا دعوٰی بے بنیاد بلادلیل ہے ۲۔انکے کوڈ کردہ حوالہ جات سے انکا مؤقف قطعًا ثابت نہیں ہوتا۔ ۳۔بائبل مقدس کی واضع آیات انکے دعوے کی نفی کرتی ہیں جسکی بنیاد پر انکا یہ اعتراض فقط کم علمی اور کج فھمی پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ طوالت کے باعث یہیں پر اکتفا کرتے ہیں بقیہ حوالہ جات اور اعتراضات پر اگلے آرٹیکل کا انتظار فرمائیں۔ تب تک تمام احباب معترض کیلئے عقل و ہدایت کی دعا فرمائیں آمین غلام یٰسین پتافی ڈھرکی سندھ
    15/10/2018 6:29:21 PM Reply
  • assalam alaikum
    08/10/2014 7:36:53 AM Reply
    • @mohammedghouse: وعیلکم اسلام جناب آپ کیسے ہیں؟
      10/10/2014 8:57:30 AM Reply
  • قرآنی آیات کے ساتھ جو ھیڈنگ یاابواب لگائے گئے ہیں وہ یاتو علمی بدیانتی ہے، یا لاعلمی و جہالت۔ان سے مسیحیوں کو تواندھیرے میں رکھا اور بے وقوف بنایاجاسکتا ہے کسی باعلم کو نہیں۔
    23/09/2014 10:55:13 AM Reply
    • @imran: بھائی عمران تو پھر آپ ایک عملی مظاہرہ کیجیئے اور آرٹیکل کا جواب لکھ بھیجیئے اور ثبوت فراہم کردیجیئے کہ جو کچھ بھی اسلام کے بارے میں لکھا گیا ہے وہ جھوٹ پر مبنی ہے، اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیے کہ آپ عربی ایسے ہی جانتے ہیں جیسے اردو! کیونکہ جب آپ ترجمہ پڑھتے ہیں تو تاریخ اسلام بدل جاتی ہے ، خدا آپ کے ساتھ ہو
      28/09/2014 10:08:23 PM Reply
  • bhai khuda apko barkat dy or ap isi tarhan khuda ki sachai ko bayan karty rahain God bless you.....
    20/07/2014 7:52:59 PM Reply
    • @NASIR MASIH: ہمیں آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے ، آپ ہمیں کل بھی کرسکتے ہیں ، شکریہ
      04/08/2014 7:19:42 PM Reply

Post a Comment

English Blog