en-USur-PK
  |  
09

تصور گنا ہ

posted on
تصور گنا ہ

Concept of Sin

تصور گنا ہ

پادری برکت اﷲ ایم ۔اے

  گناہ اور اخلاقی برائی میں عوام الناس تمیز نہیں کرتے ۔ ان کے خیال میں دونوں الفاظ ہم معنی و مترادف ہیں ۔ لیکن درحقیقت ان میں بڑا فرق ہے۔ علم الاخلاق اس شخص کو براقرار دیتا ہے۔ جو کسی نصب العین کے حاصل کرنے سے قاصر رہا ہو لیکن گناہگار شخص وہ ہے جو اپنے چال چلن کو خد ا کی مرضی کے مطابق درست نہیں رکھتا گناہ محض خدا کے احکام توڑنا نہیں ہے بلکہ خدا کے ساتھ ذاتی رشتے کو بگاڑنے کا نام گناہ ہے۔ خدا ہمارا آسمانی باپ ہے اور ہم اس کے روحانی بیٹے ہیں۔ اس کے ساتھ ذاتی اور شخصی رشتے میں منسلک ہیں اور وہ رشتہ محبت کا رشتہ ہے۔ پس گناہ محض خدا کی حکم عددلی ہی نہیں بلکہ اس کی محبت کی نعمت عظمی سے موڑنا ہے احکام کی تعمیل محض بیرونی فعل ہے اور اسکا تعلق ظاہری حرکت سے ہے لیکن گناہ اندرونی رشتہ ہے اور اس کا تعلق دل سے ہے احکام کی تعمیل بغیر دلی محبت کے ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر دل میں محبت ہو تو احکام کی تعمیل خود بخود ظہور پذیر ہو جاتی ہے۔ پس گناہ کی تعریف میں اس فرق کو ضرور مدنظر رکھنا ہو گا ۔ آو ہم دیکھیں کہ ہمارا بھی کن افعال کو گناہ سے منسوب کرتا ہے۔ مسرف بیٹے کی تمثیل میں بیٹا کہتا ہے۔ اے باپ میں آسمان کا اور تیری نظر میں گناہگار ہوا۔ اب اس لائق نہیں رہا کہ تیرا بیٹا کہلاوں ۔ لوقا ۔ ۱۲:۱۵ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ خدا وند ان افعال کو گناہ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ جن میں ہم خدا کی محبت سے منہ موڑ کر خود مختار ہو جاتے ہیں ۔ اس عورت کو جو زنا میں پکڑی گئی تھی۔ خداوند نے فرمایا کہ اب گناہ نہ کرنا خداوند فرماتے ہیں ناپاک باتیں دل سے نکلتی ہیں ۔ متی ۔ ۱۲:۱۵:۲۹ دل ہمارے خیالات جذبات اور تصورات کا سرچشمہ ہے پس ناپاکی درحقیقت دل کی ناپاکی ہے۔ اور فاعل کو اس کی ناپاکی کا وقوف ہوتا ہے۔ لہذا وہ گناہ میں شامل ہے۔

   علاوہ ازین خداوند صرف افعال کو ہی گناہ سے منسوب نہیں فرماتے ۔ بلکہ آپ کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرے اور اس کو اس ارادے پر عمل کرنے کا موقع نہ ملے یا اس کا ارادہ ظاہر ی فعل کی صورت نہ پکڑے تو بھی وہ گناہگار ٹھہرے گا۔ محض نگاہ کرنا برا فعل نہیں۔ بلکہ بری خواہش سے نگاہ کرنا گناہ میں داخل ہے ۔ ہماری نفسانی خواہشات اور قدوتی تحریکات گناہ میں شامل نہیں لیکن اگر ہم ان کو ارادتا بُرے استعما ل میں لائیں تو وہ گناہ میں مبدل ہو جاتی ہیں اگرچہ بذاتہ وہ دیگر خارجی اشیاءکی طرح انسان کو ناپاک نہیں کرتیں۔ پس معلو م ہو گیا کہ خداوند مسیح ان تمام خیالا ت جذبات اور افعال کو گناہ خیال کرتے ہیں جو ارادی ہوں اور جن میں تقسیم تو جہ اور شعور کو دخل ہو ۔ لاشعوری یا فاقد الشعرر افعا ل یا افعا ل جبلی کو آپ نے کبھی گنا ہ نہیں قرار ۔ ارادہ اور فکر اور شعور گناہ کے اجزائے اعظم ہیں ۔فاعل جانتا ہے کہ اس کا فعل خداکی نظر میں کردہ ہے اور وہ اس کو کر نے کے لیے خدا کی تعالے کے حضور خواب وہ ہے ۔ جہاں تک ہمارا خیا ل ہے خدا وند مسیح نے کبھی کسی خیا ل یا فعل کو گناہ قرار نہیں دیا جس میں یہ اجزا، مفقود ہوں ۔خداوند فریسیون کو خود فرماتے ہیں کہ اگر تم اندھے ہوتے توگناہگار نہ ٹھہرتے مگر اب کہتے ہو کہ ہم دیکھتے ہیں پس تمہارا گناہ قائم رہتا ہے۔ یو حنا ۔ ۴:۹۔ پھر ایک اور جگہ فرماتے ہیں ۔ کہ اگر میں نہ آتا اور ان سے کلام نہ کرتا تو وہ گناہگار نہ ٹھہرتے لیکن اب ان کے پاس ان کے گناہ کا کوئی عذر نہیں ۔ اگر میں ان میں وہ کام نہ کر تا جو کسی دوسرے نے نہیں کئے تو وہ گناہگار نہ ٹھہرتے ۔ پس خداوند شعور علم اور وقوف کو گناہ کا جزو اعظم قرار دیتے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ دنیا میں اسی لئے آئے تھے۔ کہ خدا گناہ سے کےسی نفرت رکھتا ہے گناہ خدا سے علیحدگی اور رشتہ محبت کو توڑتا ہے۔ اور اس لئے لازم ہے فاعل یہ علم رکھتا ہو کہ خداسے علیحدگی گناہ میں داخل ہے ہم کو اپنے گناہوں سے شرم نہیں آسکتی اگر ہم کو یہ علم اور وقوف نہ ہو کہ ہمیں وہ فعل نہیں کرنا چاہیے ۔ ذمہ داری اور جواب دہی تب ہی ہو سکتی ہے جب ہمکو یہ معلوم ہو کہ فلاں خیال بافعل برا ہے جہاں یہ علم نہیں وہاں ہم اس فعل کے ذمہ دار اور جواب وہ نہیں ہو سکتے پس تصور گناہ میں شعور علم اور وقوف ایسے اجزاءہیں ۔ جو گناہ کی ماہیت میں داخل ہیں ۔

  اناجیل کے علاوہ اگر ہم رسولوں کے خطوط کو دیکھیں تو یہی تصور وہاں بھی پایا جا تا ہے۔ مقدس یعقوب نے کیا خوب کہا ہے۔ کہ ہر شخص اپنی ہی خواہشوں میں کھینچ کراور پھنس کر آزمایا جاتا ہے۔ پھر خواہش حاملہ ہو کر گناہ جنتی ہے یعنی آپ کے خیال میں ارادہ گناہ کا لازمی عنصر ہے پھر ایک جگہ لکھا ہے پس جو کوئی بھلائی کرنا جانتا ہے اور نہیں کرتا ۔ یہ اس کے لئے گناہ ہے ۔ یہاں فاعل کاعلم ایک ضروری عنصر قرار دیا گیا ہے۔ عبرانیوں کے خط میں خدا سے جدائی کا نام گناہ رکھا گیاہے۔اور اس کا تعلق سزا کے ساتھ صاف طور پر بتا یا گیا ہے اسی خط میں ہمیں گناہ کی نسبت ایک نہایت ضروری تعلیم بھی ملتی ہے جسی مسیحی عموماً نظر انداز کر دیتے ہیں کہ حارجی تکالیف اور گناہ کا آپس میں کوئی تعلق نہیں مقدس یوحنا کا تصور گناہ محسوب نہیں ہوتا۔بغیر شریعت کے میں گناہ کو نہیں پہچانتا ۔ کیونکہ شریعت کے بغیر گناہ مردہ ہے ۔ پس ثابت ہو گیا کہ خداوند مسیح اور آپکے تمام رسول اس امر پر پر مقفق ہیں کہ تصور گناہ میں ذیل کے عنصر داخل ہیں اور جس فعل میں یہ موجود نہ ہو ں اس کو ہم گناہ نہیں کہہ سکتے گناہ کے عناصر یہ ہیں ۔

(۱)۔شریعت بااخلاقی نصب العین کی موجودگی ۔

(۲)۔ اس نصب العین کا فاعل کوعلم ۔

(۳)خواہش یا ہیجان اور ضمیر یا عقل کی جنگ۔

(۴) فاعل کا ارادہ

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, نجات | Tags: | Comments (1) | View Count: (14672)

Comments

Post a Comment

English Blog