en-USur-PK
  |  
03

بادشاہ اور نبی

posted on
بادشاہ اور نبی

بادشاہ اور نبی

King and Prophet

میں آپ کو ایک دفعہ کا سچا واقعہ سنانا چاہتا ہوں لیکن افسوس کہ یہ نہایت ہی رنجیدہ کہانی ہے ۔ یہ ایک گناہ تھا جو ایک ایسے آدمی نے کیا جس کے لئے ہم خیال بھی نہیں کرسکتے تھے کہ وہ ایسا کام کرے گا۔ میں آپ کو حضرت داؤد   د کے بارے میں بتارہا ہوں جو بنی اسرائیل کے ایک شریف بادشاہ اور پروردگار کے ایک نبی تھے ۔ او رجہاں تک ہمیں معلوم ہے وہ جہاں کہیں جاتے تھے ،اور جوکچھ کرتے تھے ،اس میں ہمیشہ کامیاب ہی ہوتے تھے ۔

ایک دن حضرت داؤد   شاہی محل کی چھت پر ٹہل رہے تھے ان کی نظر اوریاہ (جو حضرت داؤد  د کی رعیت کا ایک فرد تھا ) کی بیوی پر پڑی جو نہاری تھی ۔ ان کے دل میں برا خیا ل پیدا ہوا ۔ اور وہ اس عورت کو اپنے گھر لے آئے۔ آہ؛گناہ کتنا برا ہوتا ہے ۔ حضرت داؤد   سا عظیم بادشاہ بھی اس کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا اور گناہ نے انہیں جکڑ لیا۔ تب انہوں نے گناہ کی کڑواہٹ کو سخت کڑوی بوٹیوں سے بھی تلخ ترپایا۔ انہوں نے کئی طریقوں سے اس کا علاج کرنا چاہا اور ضمیر کی آواز کو جو ان کی پریشانی کا سبب تھی دبانے کی کوشش کی اس لئے اس کے شوہر کو جنگ سے واپس بلایا اور وہاں کی خبریں دریافت کیں،پھر اسے کہا اپنے گھر جا ،کھاپی اور آرام کر "لیکن وہ آدمی گھر جانے پر راضی نہ تھا ۔ اس نے کہا "پروردگار کے لوگ تو جنگ میں مشغول ہوں اور میں آرام کرنے گھر جاؤں ؛یہ نا ممکن ہے "۔

جب بادشاہ نے دیکھا کہ وہ چال ناکام رہی تو اس نے سپہ سالار کو خط لکھا جس میں یہ ہدایت دی کہ اوریا ہ کو جنگ میں سب سے آگے بھیج دواور اسے وہاں تنا چھوڑ دو تاکہ وہ مارا جائے جیسا بادشاہ نے کہا تھا ویسا ہی ہوا اوریاہ جنگ میں کام آیا اور جب حضرت داؤ    د  تک خبر پہنچی تو اس نے اپنے دل کو تسلی دی اور کہا " کو ئی نہ کوئی تلوار سے قتل ہوتا ہی ہے " پھر اس نے اوریاہ کی بیوی پر قبضہ کرکے اس سے شادی کرلی۔

انسان کی فطرت ایسی ہی ہے وہ اپنے فائدے اور خوشی کے لئے سب کچھ کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے ۔ یہاں تک کہ جب گناہ سے اس کی اپنی خواہشات پوری ہوتی ہوں تو وہ اسے اتنا مکر وہ نہیں لگتا اور وہ جلد ی سے اپنے ضمیر کی آواز کو دبا دیتا ہے ۔ لیکن خدا کی آواز کو تو دبا یا نہیں جاسکتا ۔ کیونکہ ہر گناہ  خداکے خلاف ہوتا ہے اور وہ بنی نوع انسان کے قدوس خداوند کی نظروں میں مکروہ ہے۔ اس لئے خدا نہایت ہی سختی سے گناہ کو مذموم ومعلون ٹھہراتا ہے اور گنہگاروں کو سزا دیتا ہے ۔ اس کے ملزم ٹھہرانے والے الفاظ اس کے پاک کلام میں صاف سنائی دیتے ہیں۔ جہاں لکھا ہے " جوجان گناہ کریگی مریگی " خدانے حضرت داؤد   و  کے پاس ایک نبی کو بھیجا کہ وہ خود یہ ملزم ٹھہرانے والا کلام اس تک پہنچادے۔

ایک دن خدا نے ناتن نبی کو حضرت داؤد  کے پاس بھیجا حضرت ناتن نے حضرت داؤد د سے یوں کہا " عالیجا ہ؛میں آپ کی خدمت میں ایک ضروری بات پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ اس کا فیصلہ کریں کیونکہ آپ اپنے انصاف اور شرافت کی وجہ سے مشہور ہیں ۔"

حضرت داؤد نے کہا "مہربانی سے بیان جاری رکھئیے " تب حضرت ناتن نے ان سے فرمایا :بادشاہ سلامت ؛ایک امیر آدمی تھا " وہ بہت خوشحال تھا۔ اس کے پاس بہت سے بھیڑ بکریاں اور مویشی تھے ۔ ایک مہمان اس کے گھر میں آیا۔ اگر چہ وہ آسانی سے اپنے جانور وں میں سے ایک اس کے لئے ذبح کرسکتا تھا لیکن اس نے اپنے گاؤں کے ایک غریب آدمی کے بھیڑ کے بچہ پر قبضہ کرلیا۔ اس غریب کے پاس صرف یہی ایک جانور تھا ۔ جسے اس نے پالا تھا اور بہت پیار کرتا تھا ۔ یہ بچہ اپنے مالک کی خوراک کھاتا،اسی کے گھڑے میں سے پانی پیتا او راسی کے پہلو میں سوتا تھا۔ اس امیر آدمی نے اسے لے کر اپنے مہمان کے لئے ذبح کر ڈالا اب بادشاہ سلامت ؛آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ اور اس آدمی کی نسبت آپ کا کیا فیصلہ ہے ؟ تب بادشاہ ناراض ہوکر غصے سے بھر گیا اور کہنے لگا "واقعی یہ بہت بڑی ناانصافی ہے کیونکہ زندہ خدا کی قسم ، جس آدمی نے ایسا کیا ضرور مرے گا اور اس بکر ی کے بچے کا چوگنا ادا کرے گا۔ کیونکہ اس نے نہایت ہی بے رحمی سے ایسا کیا۔ تب حضرت ناتن     نے حضرت داؤد    د  سے کہا " وہ آدمی آپ ہی ہیں۔"

دیکھئے ؛آدمی خود کس حد تک گناہ میں مبتلا ہوسکتا ہے ۔ لیکن دوسروں کی تقصیروں کو فوراً دیکھ لیتا ہے اور سخت فیصلہ بھی کردیتا ہے ۔ حضرت داؤد   د نے خیال کہ جو کوئی اس کی حکومت میں کسی دوسرے سے ناانصافی کرے اس کا فوراً فیصلہ ہونا چاہیئے ۔لیکن جونہی اس نے فیصلے کے بارے میں کہنا شروع کیا حضرت ناتن  نے ان سے فرمایا "وہ آدمی آپ ہی ہیں "یہ الفاظ بادشاہ کے کانوں میں چیخ کی طرح گونج گئے ۔ اس نے اپنا سرزمین کی طرف جھکالیابہت افسوس کیا اور زار زار رونے لگا۔ اس پر کیا گزری اور وہ کتنا پیشمان اور رنجیدہ ہوا بیان سے باہر ہے ۔

زبور شریف کے صحیفہ کے چھٹے زبور میں حضرت داؤد کی آہ زاری کی آواز سنیئے ؛

اے خداوند تو مجھے اپنے قہر میں نہ جھڑک

او راپنے غیظ وغَضب میں مجھے تنبیہ نہ دے

اے خداوند مجھ پر رحم کر کیونکہ میں پژمردہ ہوگیا ہوں

اے خداوند مجھے شفا دے کیونکہ میری ہڈیوں میں بے قرار ی ہے ۔

میری جان بھی نہایت بے قرار ہے ۔

اورتو اے خداوند کب تک ؟

میں کراہتے کراہتے تھک گیا

میں اپنا پلنگ آنسوؤں سے بھگوتا ہوں ۔

حضرت داؤد      کیوں غمزدہ ہے ؟کیا اپنی سزا کی وجہ سے ؟ بے شک سزا تو بہت بڑی تھی ۔ حضرت ناتن نبی نے ان سے فرمایا :اب تلوا ر آپ کے گھر سے ہر گز جدا نہ ہوگی کیونکہ آپ نے مجھے حقیر جانا اور قو می حتی کے فرد اوریاہ کی بیوی لے لی تاکہ وہ آپ کی بیوی ہو " لیکن حضرت داؤد       کے غم کی وجہ یہ نہیں انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ خدا کی رفاقت ان کے ہاتھ سے جاتی رہی وہ حضرت ناتن کو پکار کر کہتے ہیں :

"میں نے پروردگار عالم کا گناہ کیا " وہ جانتا ہے کہ اس کے خوفناک گناہ نے اس کے اور   خداکے درمیان دیوار کھڑی کردی ہے اور یوں خدا سے اس کا رشتہ ٹوٹ گیا ہے ۔ خدا کے بغیر و ہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ اسے یاد آتا ہے کہ پہلے وہ کس قدر خوش رہتا تھا ۔ اب اس کی روح خدا کی حضوری کے لئے گھلی جاتی ہے ۔ اس کے بیتاب دل سے یہ پکار سنائی دیتی ہے ۔

(زبور ۴۲)

"جیسے ہرنی پانی کے نالوں کو ترستی ہے

ویسے ہی اے خدا ؛میری روح تیرے لئے ترستی ہے

میری روح خدا کی زندہ خدا کی پیاسی ہے

میں کب جاکر خدا کے حضور ہوں گا ؟

ان باتوں کو یاد کرکے میرا دال بھر آتا ہے

کہ میں کس طرح بھیڑ یعنی عید منانے والی جماعت کے ہمراہ

خوشی اور حمد کرتا ہوا ان کو خدا کے گھر میں لے جاتا تھا۔"

حضرت داؤد      کا دل انہیں بتاتا ہے کہ اب انہیں کیا کرنا چاہیئے وہ اپنے گناہ کے لئے نہایت ہی شرمندہ ہے اور اس ناپاک دل کے لئے بھی جس سے وہ نکلا پیشمانی کی حالت میں وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے او راپنی بدحالی کا اقرار کرتا ہے ۔ زبور ۵۱ میں وہ خدا کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیتے ہیں اور خدا سے معافی اور پاکیزگی کی التجا کرتے ہیں۔

"اے خداوند ،اپنی شفقت کے مطابق مجھ پر رحم کر

اپنی رحمت کی کثرت کے مطابق میری خطائیں مٹادے

میری بدی کو مجھ کو دھو ڈال

اور میرے گناہ سے مجھے پاک کر

کیونکہ میں اپنی خطاؤں کو مانتا ہوں

اور میرا گناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے

میں نے فقط وہ کام کیا ہے جو تیری نظر میں برا ہے

تاکہ تو اپنی باتوں میں راست ٹھہرے

اور اپنی عدالت میں بے عیب رہے

دیکھ میں نے بدی میں صورت پکڑی

اور گناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا

دیکھ تو باطن کی سچائی پسند کرتا ہے

اور باطن ہی میں مجھے دانائی سکھائے گا

زوفے سے مجھے صاف کر تو میں پاک ہوں گا

مجھے دھو اور میں برف سے زیادہ سفید ہوں گا

مجھے خوشی اور خرمی کی خبر سنا

تاکہ وہ ہڈیاں جو تونے توڑڈالی ہیں شادمان ہوں

میرے گناہوں کی طرف سے اپنا منہ پھیر لے

اور میر سب بدکاری مٹاڈال

اے خدا میرے اندر پاک دل پیدا کر

اور میرے باطن میں از سر نو مستقیم روح ڈال

مجھے اپنے حضور سے خارج نہ کر

اپنی پاک روح کو مجھ سے جدا نہ کر

اپنی نجات کی شادمانی مجھے پھر عنایت کر

اور مستعد روح سے مجھے سنبھال "

حضرت داؤد    کو حقیقت بخوبی علم تھا انہیں معلوم تھا کہ جو گناہ انہوں نے اوریاہ کے خلاف کیا تھا دراصل خدا کے خلاف تھا۔ اس کی تو یہ سچی تھی وہ اس سزا کے باعث جو اسے ملی غمزدہ نہ تھا بلکہ گناہ کی وجہ سے غمزدہ تھا۔ اس کا خدا پر پکا بھروسہ تھا۔ اس کا ایمان یہ تھا کہ خدا توبہ کرنے والے گنہگار کو یہاں تک کہ اس جیسے بڑے گنہگار کو بھی اپنی رفاقت میں قبول کرلیتا ہے ۔

اس لئے خدا نے بھی اس کے گناہ معاف کردئیے۔ حضرت داؤد      کے اقرار کے بعد حضرت ناتن نبی نے اس سے کہا "خداوند نے تیرا گناہ بخشا اب تو مرے گا نہیں "خدا کی معافی کے ساتھ ہی اس کے دل میں اطمینان لوٹ آیا اور اس نے وہ خوشی پائی جو بیان سے باہر ہے ۔ یہ خدا کی معافی ہے جوانسان کے غم کو خوشی میں بدل ڈالتی ہے ۔ پس اس نے اپنا وہ بربط جسے پہلے وہ غمزدہ نالوں کے لئے استعمال کیا تھا اٹھایا اور وہ اس پر حمدوستائش کے خوشی سے بھرے ہوئے گیت گانے لگا ۔

(زبور ۳۲)

مبارک ہے وہ جس کی خطا بخشی گئی اور جس کا گناہ ڈھانکا گیا۔

مبارک ہے وہ آدمی جس کی بدکاری خداوند حساب میں نہیں لاتا ۔

اور جس کے دل میں مکر نہیں

میں نے تیرے حضور اپنے گناہ کو مان لیا او راپنی بدکاری کو نہ چھپایا

میں نے کہا میں خدا وند کے حضور اپنی خطاؤں کا اقرار کرو ں گا

اور تونے میرے گناہ کی بدی کو معاف کیا ۔

کیا آپ کے دل میں معافی کی اس گیت کو گانے کی آرزو نہیں ہے ؟

بے شک یہ آرزو تو آپ میں موجود ہے لیکن میری عزيز و اس خیال سے کہ خدا آسانی سے آپ کے گناہ کو معاف کرسکتا ہے دھوکا نہ کھائیے خدا پاک ہے اور گناہ کی سزا ملنی ہی چاہیے۔ انصاف کا قانون یہی ہے کہ فصل بیج کے مطابق ہو اور جیسا بوتاہے ویسا ہی کاٹتا ہے ۔ ایسا ہی حضرت داؤد    د  کو پیش آیا۔ بہت سے لوگ دوسروں کو ملزم ٹھہرانے میں بڑے ماہر ہوتے جیسے وہ خود بڑے راستباز ہیں اور انہوں نے کبھی کوئی خطا نہیں کی ۔ جیسا کہ خود حضرت داؤد       نے شروع میں کیا۔ لیکن ایک دن آئے گا جب ہر ایک گناہ اور قصور ظاہر کیا جائے گا اور ہر ایک چیز آشکارا کی جائے گی اس لئے یہی بہتر ہے کہ قیامت کے اس ہیبت ناک اور عظیم دن سے پہلے ہی آپ خدا کے ساتھ اپنے روحانی رشتے کی حالت پو غور کیجئے کاش اسی وقت آپ خدا کی اشارہ کرتی ہوئی انگلی کو دیکھ سکیں جو آپ سے کہہ رہی ہے " وہ آدمی تو ہے " کاش اس بات کی یاد آپ کوآج ہی کے دن تو بہ پر آمادہ کرے اور آپ اس کی معافی کے طالب ہوں۔

لیکن ممکن ہے کہ آپ مایوس ہوکر پکار اٹھیں کہ اگر خدا میرے گناہ معاف نہیں کرسکتا تو وہ مجھے ایسے بڑے گنہگار کو کس طرح بخشے گا؟میرے عزیزو؛خدا نے اپنی بخشش کا ایک راستہ کھول دیا ہے۔ یہ راستہ آسان نہیں کیونکہ خدا کے راستے آسان نہیں ہوتے یہ راستہ مخلصی کا راستہ ہے وہ ہمیں مخلصی دے کر معاف کردیتا ہے ۔ اس نے اپنی طرف سے ایک مخلصی دینے والا بھیجا ہے تاکہ وہ ہمارے گناہوں کا بھاری بوجھ اٹھا لے اور جو مخلصی  دینے والا اس نے اتنے بڑے فضل سے بھیجا ہے ۔ آپ اسے جانتے ہیں وہ حضرت مسیح ہیں صلیب پر ایک بہت بڑی قیمت دے کر اس نے ہمارے گناہوں کی سزا خود اٹھالی اور خدا کا وہ غضب جو ہم پر نازل ہونے والا تھا اس نے اپنے اوپر سہہ لیا۔ اب اس کے کارنامے کی وجہ سے خدا کی معاف کردینے والی محبت ہم پر جلوہ گر ہوتی ہے ۔ میرے عزیزو آپ کی تقصیروں کا وزن خواہ کتنا ہی کیوں نہ ہو اور آپ کے گناہ خواہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں،آپ نہ گھبرائیے ۔حلیمی اور پشیمانی کے ساتھ خدا کے پاس اس مخلصی دینے والے کے وسیلے  سے جسے اس نے بھیجا آئیے۔

"ہم کو اس میں اس ( مسیح ) کے خون کے وسیلے سے مخلصی ،یعنی قصوروں کی معافی اس کے اس فضل کی دولت کے موافق حاصل ہے ۔(انجیل شریف خط ِ افسیوں ۱باب ۷آیت )۔

جونہی آپ آئیں گے وہ آپ کے گناہوں کو دھند کی طرح مٹادے گا اور آپ کی خطاؤں کو بادلوں کی مانند اور آپ سے پدرانہ الہی محبت کے ساتھ یہ کہے گا ۔

"میں تمہارے گناہوں اور قصوروں کو خاطر میں نہ لاؤں گا میں تمہیں معاف کردوں گا کیونکہ تمہارا کفارہ ہوچکا ۔"

بس آجائیے اور دیر نہ کیجئے ۔آئیے اور کسی اور پر بھروسہ نہ کیجئے ۔ یہ نہ کہیے کہ میں زکاة دوں گا یا زیارت کروں گا یا کوئی منت مانوں گا ۔ آپ کے معافی پانے سے ان چیزوں کاکوئی تعلق نہیں۔ خدا بڑا ہے وہ آپ کو آپ کے کچھ دئیے بغیر معاف کرتا ہے اس کی الہی رحمت کو قبول کیجئے ۔مسیح کی صلیب کے نیچے کھڑے ہوجائیے اور دیکھئے کہ خدا کی محبت اور معافی کا اصلی مطلب کیا ہے ؛دیکھئے خدا نے آپ کے لئے کیسے بڑے بڑے کام کئے ہیں۔ تب اے میرے عزیزو آپ بھی حضرت داؤد      کی طرح مخلصی کا یہ گیت بلند آواز کے ساتھ گائیں گے ۔

(زبور ۱۰۳)

اے میری جان خداوند کومبارک کہہ اور جو کچھ مجھ میں ہے اس کے قدوس نام کومبارک کہے ۔

"اے میری جان خداوند کو مبارک کہہ اور اس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر ۔

وہ تیری ساری بدکاری کو بخشتا ہے وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے ۔

وہ تیری جان ہلاکت سے بچاتا ہے وہ تیرے سر شفقت ورحمت کا تاج رکھتا ہے ۔

اے میری جان خداوند کو مبارک کہ
Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (11721)

Post a Comment

English Blog