en-USur-PK
  |  
16

طبقہ ء نسواں اور اصول ِ مساوات

posted on
طبقہ ء نسواں اور اصول ِ مساوات

Women in Islam & Quran

طبقہ ء نسواں اور اصول ِ مساوات

علامہ برکت اللہ

عورات کے متعلق قرآنی احکام مرد اور عورت کی مساوات کے اصول کے خلاف ہیں۔ اور اسلامی ممالک میں عورتوں کی پست  حالت کے ذمہ وار ہیں۔ اسلام نے عورتوں کے لئے ایک خاص حد مقرر کردی ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرسکتیں جس کا نتیجہ  عورات  کی جہالت توہم پرستی اور قوم کی تنزلی ہے کیونکہ قوم کی ترقی بیش  تر اس کی عورات  پر منحصر ہوتی ہے ۔

          قرآن میں عورتوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ پردہ کیاکریں (احزاب 33و54و59وغیرہ)

اس حکم کے خلاف دورِ حاضرہ کے اسلامی ممالک  کے مسلمان بغاوت کرتے ہیں۔ مثلاً اخبار الجریدہ میں ایک مسلمان توفیق  دائب کہتاہے " کیا تم پردہ کے اس لئے حامی ہو کہ قرآن میں اس کا  حکم ہے ۔ اگر یہ بات ہے تو تم کیوں ایک حکم کو مانتے ہو اور دوسروں کو طاق  نسیان پر رکھ دیتے ہو۔ تم کیوں شرابی اور بے نمازی کو دُرے نہیں لگاتے ۔ تم چور کے ہاتھ کیوں نہیں کاٹتے  اور زنا کاروں کو سنگسار  کیوں نہیں کرتے ۔"

          مصری عالم منصور فہمی پردے کے خلاف ایک مدلل مقالہ لکھ کر کہتا ہے کہ " پردہ کی رسم رسول الله کے زمانہ سے پہلے رائج نہ تھی۔"

          صوبہ مدراس کے مجسٹریٹ  محی الدین صاحب کہتے ہیں " ہم کو اس بات کافخر ہے  کہ قرآن میں عورتوں کا درجہ دیگر مذاہب کے مقابلہ میں اعلیٰ اور بالا  ہے ۔ اگر یہ درست  ہے تو ہم کیوں ان کو جانوروں کی طرح پنجروں میں بند رکھتے ہیں۔ ہم اپنی تعداد کے نصف  حصہ  کو قید کرکے رکھتے ہیں اور پھر اپنی قسمت  پرروتے ہیں۔" کچھ عرصہ کا ذکر ہے کہ مسز  حسین صاحبہ نے بنگال ویمن  ایجوکیشنل  کانفرنس میں ان اسلامی پابندیوں کا ذکر کرکے  مسلمانوں کی غفلت  شعاری  لاپرواہی اور مایوس  کن سلوک پر اظہار افسوس کیا۔ اس خاتون نے پردہ کو زہریلی  گیس  کے نام سے موسوم کیا اور ا کہا " ہماری بہنیں  پردہ کے اندر پردہ گیس سے مررہی ہیں۔ اسلام نے دختر کشی کا خاتمہ کیا تھا لیکن یہ خیال نہیں کیا جاتا کہ عورتوں کے دل اور دماغ کو مارا جارہا ہے ۔"

          ہندوستان میں پردے کے خلاف ہر طرف سے صدائے  احتجاج  اس قدر بلند ہورہی ہے  کہ مرحوم شبلی لکھتے ہیں" یورپ کے عامیانہ  تقلید نے ملک  میں جونئے  مباحث  پیدا کردئے  ہیں ان میں ایک پردہ کا مسئلہ بھی ہے ۔ دعویٰ کیاجاتا ہے کہ خود مذہب اسلام میں پردہ  کا حکم نہیں اور اس سے  بڑھ کر یہ کہ قرون ِ اولیٰ میں پردہ کا رواج نہ تھا۔۔۔۔۔ اس موقعہ  پر عبرت  کے قابل یہ امر ہے کہ اسلام کی تاریخ  اور اسلام کی تعبیر کرنے والے دو گروہ ہوسکتے تھے ۔ علمائے  قدیم  اور جدید  تعلیم یافتہ ۔ علماء کا یہ حال ہے کہ ان کو زمانہ  کی موجود ہ زبان میں بولنا نہیں آتا۔ جدید تعلیم یافتہ  لوگوں کے مبلغ علم کا نئے  تعلیم یافتہ گروہ کے سب سے مشہور اور مستند  مصنف  مولوی امیر علی  کی اس عبارت  سے اندازہ ہوسکتا ہے جو ابھی اوپر گذر چکی ۔ لیکن بدقسمتی سے یہی دوسرا گروہ قومی لٹریچر پر قبضہ کرتا جاتا ہے اور چونکہ غیر قوموں کے کانوں میں صرف اسی گروہ کی آواز پہنچتی ہے  اس لئے مسائل اور تاریخ اسلام کے متعلق  آیندہ زمانہ میں اسی گروہ کی آواز اسلام کی آواز سمجھی جائیگی ۔" (مقالات  شبلی صفحہ 105)۔

          ایام ِ جاہلیت  میں عورتوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ اسلام نے اس حالت  کو کسی قدر بہتر بنادیا۔ لیکن ہم کو ایام ِ جاہلیت  اور اسلام کا موازنہ اور مقابلہ کرنا مقصود نہیں بلکہ  ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ آیا اسلام میں طبقہ نسواں کی حیثیت  ایسی ہے کہ وہ بمقابلہ مسیحیت  ایک عالمگیر مذہب ہونے کی صلاحیت رکھ سکے ؟

ایامِ جاہلیت  میں یہ دستور تھا کہ بیاہ کے لئے عورتیں خریدی جاتی تھیں[1]۔ زر مہر دلہن  کو دیا جاتا تھا اور عورت  شوہر کا مال متصور ہوتی تھی۔ اسلام میں یہ قانون بحال رکھا گیا ۔ چنانچہ  قرآن میں وارد ہے کہ "عورتوں  کو ان کے مہر خوشی سے دو ۔" (نساء آیت 3)۔

          اس زر مہر  کو ادا کرنے کی وجہ سے عورتیں  آدمیوں کی نسبت کم درجہ خیال کی جاتی ہیں چنانچہ  قرآن میں ہے کہ " مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس لئے کہ الله نے ایک کو ایک پر فضیلت بخشی ہے  اور اس لئے بھی کہ مردوں نے عورتوں  پر اپنا مال ( زرمہر اور نان ونفقہ  دیکھو ترجمہ نذیر احمد) خرچ کیا ہے ۔ پس نیک بخت  عورتیں  اپنے شوہروں کی اطاعت کرتی ہیں۔" (نساء آیت 38)۔ اس آیت  پر ڈاکٹر عبدالحمید  صاحب اپنی تفسیر القرآن  میں لکھتے ہیں" ایک حدیث  شریف میں وارد ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو دوسرے شخص کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا توعورت کے لئے  یہ حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کیا کرے ۔اسلام میں سجدہ کرنا انتہا  درجہ کی ذلت اور دوسرے کی اعلیٰ درجہ کی عظمت   ظاہر کرنا ہے اور اپنی ساری  طاقتوں اور قوتوں  سے اس کے آگے جھک جانا ہوتا ہے  تو گویا اس کا دوسرے الفاظ میں یہ مطلب ہے کہ عورت پر اس درجہ  کی تابعداری اور خدمت  گذاری اپنے خاوند  کے لئے  واجب ہے جو دوسرے کسی شخص کے لئے واجب نہیں۔"(صفحہ 367)۔

پس قرآن کے مطابق  عورتیں پست درجہ کی ہیں چنانچہ صاف لکھا ہے کہ " مردوں کا عورتوں کے اوپر درجہ ہے ۔" (بقر آیت 228)۔ بت پرستی

کے خلاف  قرآن یہ دلیل لاتا ہے ۔" بھلا تم دیکھو تو لات  وعزیٰ اور منات اور تیسری  دیوی منات ۔ یہ تو بے انصافی  کی تقسیم  ہے کہ تمہارے لئے لڑکے  ہوں اور الله کے لئے لڑکیاں ہوں۔" (سورہ نجم آیت 21)اس دلیل کی بنیاد یہ ہے کہ  الله نے لڑکوں کو لڑکیوں پر فضیلت  بخشی ہے ۔ لڑکیاں  کم درجہ کی ہیں تم الله کے لئے  لڑکیاں  اور اپنے لئے  لڑکے تجویز کرتے ہو۔ یہ بڑی بے انصافی  ہے ۔ پھر لکھا ہے " جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کے نام عورتوں کے سے نام رکھتے ہیں۔" (نجم آیت 29)۔

ورثہ کے معاملہ میں " مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے ۔" (نساء آیت 12)۔

شہادت کے معاملہ میں دوعورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے ۔ (بقر آیت 282)۔

قرآن میں کہیں ان شرائط کا ذکر نہیں جن کے ماتحت  مرد عورت کو طلاق  دے جس کا مطلب یہ ہے کہ  مرد کو اختیار کلی حاصل ہے کہ  عورت کو معقول اور نا معقول وجوہ کی بنا پر طلاق دیدے۔ (سورہ بقر )لیکن کسی عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنے  شوہر کو معقول بنا پر بھی طلاق  دے سکے۔

قرآن شوہر کو اجازت دیتا ہے کہ  اپنی بیوی کو مارے پیٹے۔ چنانچہ لکھا ہے " جو عورتیں ایسی ہوں کہ تم کو ان کی بدد ماغی کا احتمال ہو تو ان کو زبانی نصحیت کرو اور ان کو ان کی خواب گاہوں  میں اکیلے  چھوڑ دو اور ان کو پیٹو۔" (نساء آیت 38)۔ لیکن اگر عورتیں  اپنے مردوں کی بدخوئی سے لرزاں اور ترساں ہوں تو وہ غریب کچھ نہیں کرسکتیں۔

زناکی سزا  یہ ثابت کرتی ہے[2]  کہ منکوحہ عورت اپنے خاوند  کا مال ہے ۔ چنانچہ اگر کوئی منکوحہ عورت زناکاری کی مرتکب ہو تو زانی اور زانیہ کی سزا سنگساری ہے لیکن اگر عورت نے بیاہ نہ کیا ہو تو اس کی سزا سور درے ہیں۔ اس تمیز  کی وجہ یہ ہے کہ منکوحہ عورت اپنے خاوند کا مال شمار کی جاتی ہے  لیکن کنواری عورت کسی کا مال نہیں ہوتی۔

عورتیں نہ صرف مردوں سے کم درجہ رکھتی ہیں بلکہ  وہ مردوں کی آلہ شہوت ہیں۔ چنانچہ قران میں ہے کہ " تمہاری بیویاں تمہاری کھتییاں  ہیں سو تم اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ۔" (بقر آیت 223)۔

ایام جاہلیت میں بیاہ کا ایک دستور[3]  یہ تھا کہ مہر دے کر بیاہ لینے کی بجائے  متعہ کرلیتے تھے ۔ اس کا مقصد خاندان  کا قیام اور بچوں  کی پیدائش  اور پرورش نہ تھی۔ بلکہ یہ تھا کہ  جب آدمی اپنے گھر سے باہر جنگ کے لئے  یا کسی اور مطلب کے لئے جائے  تو کسی عورت کے وسیلے  مقرری ایام کے لئے اپنی نفسانی خواہشات  کی آگ کو فرو کرلے اور ایسا نکاح اور مردا اور عورت دونو کی رضا مندی پر موقوف ہوتا تھا اور اس میں کسی  درمیانی یا ولی یا عورت کےکسی رشتہ دار  کی ضرورت نہ ہوتی تھی ۔ مقررہ ایام کے بعد اجرت  پانے پر  عورت کا مرد سے کسی قسم کا تعلق نہ رہتا ۔ اس قسم کا بیاہ  قرآن میں بھی جائز قرار دیا گیا ہے ۔ چنانچہ لکھا ہے " وہ سب عورتیں  تم کو حلال  ہیں جن کو تم مال دے کر طلب کرو۔ ان عورتوں میں سے  جس سے تم نے خط اٹھایا ہے ان کی مقررہ اجرت دے دو " (نساء آیت 28)۔

ضربت حیدریہ میں قاطع دلائل سے یہ ثابت کیاگیا ہے  کہ یہ آیت متعہ پرنص ہے ۔ اس قسم کے نکاح اور زناکاری میں اتنا کم فرق ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ  رسول الله  نے اس نکاح کو حرام قرار دے دیا تھا۔ لیکن جس طرح تفسیر  ثعلبی میں منقول ہے کہ " عمران بن حصین  کہتا ہے کہ آیت  متعہ  کتاب الله میں نازل ہوئی اور اس آیت  کے نازل ہونے کے بعد کوئی  دوسری آیت  نازل نہیں ہوئی جس نے اس آیت  کو منسوخ کیا ہو" پس قرآن میں متعہ  کی ممانعت  کا ذکر نہیں۔ لیکن متعہ  کی اجازت  کا ذکر ہے ۔ اگر قرآن میں متعہ کی نسبت  صریح آیت وارد  نہ ہوتی  تو عبدالله  بن مسعود  سا قرآن دان متعہ پر کیونکر  اصرار  کرسکتا تھا؟ اگر آنحضرت  نے اپنی حین حیات میں متعہ  کو حرام کیا ہوتا تو خلیفہ  اول کے عہد  میں وہ کس طرح حلال ہوگیا؟ خلیفہ  عمر نے  اپنی خلافت  کے نصف  میں متعہ  کو بند کیا۔ خلیفہ  ماموں نے متعہ کو دوبارہ جاری کیا لیکن چونکہ رائے عامہ اس قسم کے نکاح کے خلاف تھی اس نے اپنے حکم کو واپس لے لیا۔ اہل سنت  متعہ کو حرام قرار دیتے ہیں لیکن اس کو حرام ٹھہرانا  قرآن اور تاریخ کا انکار کرنا ہے ۔

          قرآن نے عورات کی حیثیت کو یہاں تک پست کردیا ہے کہ بہشت میں بھی ان جسمانی  جذبات  کوروا رکھا ہے جو اس دنیا میں مردود اور مطعون شمار کئے جاتے ہیں۔ اہل جنت  کو" ستھری عورتیں " ملینگی (بقر آیت 23۔ آل عمران 13 نساء 60)"گورے رنگ کی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں  جیسے چھپے ہوئے  موتی ۔"(دخان 54 ، طور 20، واقعہ 22)وہ "خیموں میں رکی بیٹھی ہیں اور ان سے پہلے کوئی  آدمی اور جن ان سے ہم بستر نہیں ہوا۔ سبز چاندیوں اور قیمتی قالینوں پر تکیہ لگائے بیٹھی ہیں۔" (رحمنٰ72 تا 76)وہ فراخ چشم والی نیچی نگاہ والی ہم عمر عورتیں  ہونگی گو یا وہ چپھے ہوئے انڈے ہیں۔" (صافات 47 ص 51)۔ " ان عورتوں کو ہم نے (خدا نے ) ایک اٹھان پر اٹھایا ہے ۔ پھرہم نے ان کو کنواریاں  بنایا۔ شوہروں کی پیاری  ہم عمر بنایا۔" ( واقعہ 32تا 37)اس جنت میں ان حوروں کے علاوہ غلمان بھی موجود ہیں۔" آس پاس جوان لڑکے پھرتے  ہیں گویا وہ چھپے  ہوئے موتی ہیں "(طور 24،واقعہ 17) اس بہشت میں پانی ، دودھ ، شہد اور شراب کی نہریں بہتی ہیں (محمد 17) وہاں تخت  پیالے چاندنیاں ،قالین فرش وغیرہ سب مہیا ہیں (حجر 47 ۔واقعہ 15 و33 ۔دہر 12تا 22 ۔ غاشیہ  10 تا 16)وہاں میوے اور پھل ہیں (بقر 23 ۔ یسینٰ 57 ۔صافات 41 وغیرہ) خوشے لٹکتے ہیں (رحمنٰ 44وغیرہ) وہاں سفید  شراب اور انواع واقسام کے شربتوں کے پیالوں کا دور چلیگا ۔ (صافات  44 تا 54۔ طور 20 تا 23 ۔ واقعہ 17تا 19)اہلِ جنت  کو سونے چاندی کے کنگن ۔ ریشمی لباس اور موتی پہنائے جائینگے۔(کہف 20 حج 23 ۔فاطر 30 ۔ دخان 53) ان کو پرندوں کا گوشت جس قسم کا وہ چاہینگے  ملیگا۔(طور 22 ۔ واقعہ 21)غرضیکہ  قرآن کے مطابق بہشت ایک عشرت کدہ ہے جس میں ہر قسم کی نفسانی خواہشات پوری کی جاتی ہیں۔

چہار چیز کہ غم مے برد کدام چہار؟

شراب وسبز وآبِ روان وروئے نگار

          قرآنی بہشت میں یہ سب اور بہت سی دوسری عیش  وعشرت کی چیز یں موجود ہیں۔ اس کی وجہ مولانا نیاز فتح پوری یہ بتاتے ہیں کہ " عرب کے لوگ عورت ، شہد ، دودھ ، سونا ، چاندی ، جواہرات  وغیرہ پر جان دیتے تھے ۔

ان کے نزدیک ان اشیاء سے زیادہ کوئی چیز محبوب تھی ہی نہیں اس لئے  اگر ان کی ترغیب  کےلئے صرف یہ کہہ دیا جاتا کہ اچھے کاموں کا بدلہ ایک روحانی  مسرت کی صورت میں پایا جائیگا تو وہ بالکل  اس کو نہ سمجھتے اور کبھی اچھے کاموں کی طرف مائل نہ ہوتے۔ کلام مجید  نے بھی عموماً  وہی انداز ِ بیان اختیار کیا جس کو لوگ سمجھ سکتے تھے۔" ( رسالہ نگار بابت جولائی 1928ء) لیکن عالمگیر  مذہب کا یہ کام نہیں ہے کہ لوگوں کے بے لگام ارادوں  کو الہام کی صورت میں دلفریب الفاظ  میں اد ا کرے بلکہ  اس کا یہ فرض ہے کہ  لوگوں کے خیالات  تصورات  جذبات اور افعال کو سدھارے  اور ان کی قوتِ متخیلہ کو صراط مستقیم  کی طرف چلائے۔جنت کی قرآنی تصویر یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اسلام صرف اہل عرب کے لئے تھا اور اس میں عالمگیر  ہونے کی صلاحیت  ہی نہیں۔

          عالمگیر مذہب مرد اور عورت دونو کے حقوق کی یکسا حفاظت کرتا ہے اور صنف نازک کی صحیح قدرومنزلت کرتا ہے ۔ اس امر میں قرآن اور اسلام کی تعلیم مسیحیت  کے مقابلہ میں قاصر رہتی ہے ۔ ہم نے اپنی کتاب "دین فطرت ۔ اسلام یا مسیحیت ؟" کی فصل سو م وچہارم میں یہ ثابت  کردیا ہے کہ اقوام کی شائستگی  اور تہذیب  کا معیار ازدواج کے قوانین  اور قواعد ہیں جن اقوام میں وحدتِ ازدواج  ہے اور میں اس رشتہ کے قیام وبقا پر زور دیا جاتا ہے  وہ اقوام شاہراہ  ِ ترقی پر گامزن ہوتی ہیں  لیکن جن اقوام میں کثرت  ازدواج مروج ہے  اور طلاق  کی اجازت ہے ان میں زوال پیدا ہوجاتا ہے  اس بات سے کوئی صحیح العقل شخص انکار نہیں کرسکتا کہ قرآن نے کثرت ازدواجی  کی اجازت  دے رکھی ہے ۔ چنانچہ سورہ نساء میں ہے " عورتوں میں سے جو تم کو پسند آئیں دو دو تین تین چا ر چار  نکاح میں لاؤ اور اگر یہ  خوف ہو کہ عدل قائم نہ رکھ سکوگے تو ایک ہی نکاح کرو یا وہ (باندیاں) جو تمہارے ہاتھوں کا مال ہوں۔" (نسباءآیت 3)۔

          ان چار نکاحوں کے علاوہ ایک مسلمان لا تعداد لونڈیاں اور باندیاں رکھ سکتا ہے  جس طرح  اوپر  کی آیت میں مذکور ہے پھر لکھاہے کہ  "اے نبی ہم نے تیرے لئے تیری عورتیں  حلال کردیں جن کا مہر تو دے چکا ہے  اور وہ (لونڈیاں) جو تیرے ہاتھ کا مال ہے ۔ جو خدا نے تیرے ہاتھ لگوادیا ہے " (احزاب 49)۔ اہل اسلام کو اجازت  ہے کہ وہ اپنی باندیوں کے سامنے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت نہ کریں۔چنانچہ قرآن میں لکھا ہے " وہ جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں مگر اپنی عورتوں پر یا اپنےہاتھ کے مال پر ۔ سو ان پر الزام نہیں۔" اگر شادی شدہ عورات "تمہارے ہاتھ کی ملکیت ہوجائیں (نساء آیت 28)۔ تو وہ بھی حرم میں داخل ہوسکتی ہیں۔ ان لونڈیوں اور باندیوں کی کوئی  حد مقرر نہیں کی  گئی۔ اگر کسی مرد مسلمان کے ہاتھ ایک ہزار لونڈیاں  لگ جائیں  تو وہ ان کو اپنی مدخولہ بناکر اور اپنی چار بیویوں  پر اضافہ کرکے قرآن سے باہر نہیں جاتا۔دنیائے اسلام میں اسی وجہ سے بیشمار  طلاق دئے جاتے ہیں۔ اور اسکے مقتدیوں اور پیشواؤں نے یہی دستور العمل اپنے پیش نظر رکھا ۔ چنانچہ تاريخ  الخلفا مصنفہ  علامہ جلال الدین سیوطی میں لکھا ہے کہ " ابن سعد نے علی بن حسین  سے روایت کی کہ امام حسن عورتوں کو طلاق بہت دیا کرتے تھے۔ سوا اس کے جن کو آپ سے محبت ہوجاتی۔ آپ نے نوے(90) عورتوں سے نکاح کئے تھے۔۔۔۔۔چونکہ حضرت حسن عام طور پر نکاح کرکے  طلاق دے دیا کرتے تھے اس لئے خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں  قبائل میں عداوت نہ پڑجائے۔

اس لئے  حضرت علی کرم الله وجہ کو اہل کوفہ سے کہناپڑا کہ تم میرے بیٹے حسن کو لڑکیاں نہ دو۔ وہ طلاق بہت دیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔ ابن سعد نے عبدالله بن سعد سے روایت کی ہے کہ حضرت  حسن زیادہ نکاح کرنے والے خیال کے آدمی تھے اور ہمیں  بوقت نکاح بہت کم اتفاق موجودگی کا ہوا ہے اور بہت  کم ایسی  منکوحہ عورتیں  آپ کی تھیں  جن سے آپ  کو محبت  والفت تھی"(صفحہ 131)لیکن کثرت ازدواجی کے باوجود  حضرت امام صاحب نے شریعت محمدیہ کا کبھی عدول نہ کیا اور ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں نہ رکھیں۔ اسی طرح خلیفہ متوکل کی چار ہزار  کنیزيں تھیں اور وہ ان میں سے ہر ایک سے فائدہ اٹھا چکا تھا (تاريخ الخلفا صفحہ 235)۔ کلکتہ کے ماڈرن ریویو بابت جنوری 1934ء میں لکھا ہے کہ  شاہ ابن سعود نے تاحال ایک سو پچاس ازواج سے نکاح کیا ہے گوشرع اسلام کے مطابق  چار سے زائد بیویاں بیک وقت نہیں کیں۔ پس یہ کہنا  عین حق  ہے کہ قرآن واسلام کی رو سے مر دکو اختیار حاصل ہے کہ وہ جس قدر عورتیں  اپنی حرم سرائے  میں داخل کرنا چاہے کرلے۔ ان میں عدل وغیرہ کسی قسم کی حقیقی قید نہیں ہے ۔

          اخبار " ہمدرد" دہلی کےایڈیٹر مرحوم مولانا محمد علی تھے ۔ اس اخبار کی اشاعت 10 اپریل  1925ء  میں ایک صاحب " مکتوبِ فرنگ" کے زیر عنوان  یوں رقمطراز ہیں۔" ترکوں نے جس دن سے تعداد  ازدواج کو قانونی  پابندیوں سے روکا ہے مجھے ان کے مہذب متمدن اور ترقی یافتہ  ہونے کا یقین ہو چلا ہے ۔ کم از کم  میں تو ذاتی  طور پر یقین نہیں کرتاکہ اسلام نے پوری آزادی کےساتھ  تعداد ازدواج اس طرح جاری کیا ہو جس طرح اب ہندوستان کے علماء کرام اس کو اپنے اور دوسروں کے لئے جائز

 فرماتے ہیں۔ میں تو ذاتی طور پر اس کے خلاف عقیدہ رکھتا ہوں اور عملی طور پر  خود ایڈیٹر ہمدرد بھی میرے عقائد سے دور نہیں ہیں صرف فرق یہ ہےکہ  میں کہتا ہوں کہ موجودہ  حالات  میں تعداد  ازدواج ایک جرم قبیح ہے اور وہ کچھ کہتے نہیں ہنس کر خاموش ہوجاتے ہیں ۔" پس اس روشن  خیال مسلمان کے مطابق  قرآنی  اجازت " موجودہ حالات "  کے لئے موزوں  نہیں اور "ایک جرمِ قبیح"ہے ۔ لہذا بیسویں صدی کے روشن دماغ  مسلمانوں  کی خاطر  یہ کوشش کی جاتی ہے کہ کسی طرح تاویلیں کرکے کثرتِ  ازدواجی  کے بدنما دھبہ  کو قرآن سے مٹا یا جائے ۔

          ہم نے ان تاویلات پر اپنی کتاب " دین فطرت ۔ اسلام یا مسیحیت ؟" کی فصل سوم وچہارم  میں شرح اور بسط کے ساتھ بحث کی ہے ۔ ناظرین سے درخواست ہے کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کرکے خود یہ فیصلہ کرلیں کہ آیا عورات  کا جو درجہ قرآن واسلام میں ہے  وہ اصول ِ مساوات  کے نقیض ہے یاکہ نہیں۔



[1] Sociology of Islam.vol.1

[2]  Sociology of Islam,vol.1

[3] Ibidvol.1

Posted in: اسلام, خواتین, تفسیر القران | Tags: | Comments (0) | View Count: (14383)

Post a Comment

English Blog