en-USur-PK
  |  
11

خدا محبت ہے

posted on
خدا محبت ہے

God is Love

خدا محبت ہے

دُوربینوں سے یہ معلوم ہوا ہے کہ خلا میں ناقابل خیال گہرائی ہے جس میں ایسے بڑے بڑے کروڑوں ستارے ایک دوسرے سے بُہت بڑی دُوری پر لامحدود خلا میں گردش کر رہے ہیں کہ جن کے مقابل ہماری زمین کی حیثیت صرف ایک گیند کی مانند ہے جو ہزارہا ہزار سال سے خود بھی اِس لامحدود خلا میں متحرک ہے۔

اِس حساب سے خلا کا کیا حُجم ہو گا؟ کب سے اِس کا وجود ہے اور کب تک وہ رہے گی؟ ایسے سوالات ہمیں گہری سوچ و فکر کی جانب لے جاتے ہیں۔ اب ایسے بیکراں سمندر میں ہماری ہستی پانی کے ایک قطرے کی مانند ہے جو بہت ہی قلیل عرصے کی حامل ہے اور ہماری زمین تیرتے ہوئے ایک گیند کی طرح ہے۔ ہم اپنی اِس دنیا میں ذرّہ کی طرح ہیں جو ایک گھڑی کےلئے موجود ہے اور دوسرے پل اوجھل ہو جاتا ہے ۔ حضرت داؤد نے فرمایا ہے کہ "اِنسان کیا ہے کہ تُو (اے خُدا تعالیٰ) اُسے یاد رکھے اور آدم زاد کیا ہے کہ تُو اُس کی خبر لے؟" (زبور4:8)۔

جدید سائنس کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھنے میں زیادہ مدد ملتی ہے کہ ہم کیا ہیں اور ہماری زندگی کتنی کم ہے۔ اگر سچائی کو مدنظر رکھیں تو لگے گا کہ ہم تو کُچھ بھی نہیں ہیں۔

کیا خُدا جو زمین و آسمان کا خالق ہے ہماری طرح ہی سوچتا ہے؟ کیا یسعیاہ نبی نے صحیح کہا کہ "جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اُسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرے خیال تمہارے خیالوں سے بلند ہیں؟" (یسعیاہ 9:55)

عام طور پر ہم اِنسان دیدنی اور زمینی چیزوں کو بُہت اہمیت دیتے ہیں حالانکہ اُن کی اتنی وقعت نہیں ہے۔ ہمیں تو یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا ہمارے وجود سے اللہ تعالیٰ کو بھی کوئی لگاؤ ہے؟ جی ہاں ضرور ہے! کیونکہ اُس نے اِنسان کو اپنی شبیہ پر خلق کیا اور ہمیں اپنی ساری مخلوقات پر فضیلت بخشی ہے۔

یہ جان کر ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ خُدائے قادر ہماری خبر گیری اور فکر اِس سے زیادہ کرتا ہے جتنی ہم خود کرتے ہیں، وہ یہ چاہتا ہے کہ ہم ہر وقت اُس کی رحمت کے سایہ اور دائرہ میں رہیں۔ وہ ہمیں اپنی طرف بُلاتا ہے۔ ہمیں یہ حقیقت ماننی چاہئے کہ وہ ہم میں شادمان ہوتا اور ہمیں قبول کرتا ہے۔

اِس حقیقت کو یوں سمجھئے کہ ایک نوجوان لڑکے نے بڑی مہارت اور احتیاط سے ایک چھوٹی سی کھلونا کشتی بنائی جسے وہ بڑے فخر سے دریا میں چلانے کےلئے لے گیا۔ جبکہ وہ اُس کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ ایک تیز ہوا چلی اور کشتی کو دھکیل کر ایک دھارے کے ساتھ بہا لے گئی اور جلد ہی وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ اب یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ جب اُس نے دیکھا کہ وہ کشتی کھو گئی تو وہ کتنا دِلگیر ہوا ہو گا۔ بے شک وہ سستی سی چیز تھی لیکن اُس کےلئے تو وہ بہت کُچھ تھی۔

کُچھ دِنوں کے بعد اُس نے دیکھا کہ اُس کی وہی کھوئی ہوئی کشتی ایک دُکان کے شوروم میں رکھی ہے۔ اُس نے اُسے جلد حاصل کرنا چاہا لیکن اُس کی قیمت اُس کےلئے بُہت زیادہ تھی۔ تاہم، اُس نے قیمت کے باوجود اُسے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے سخت محنت کی اور جلد ہی اُس کے پاس قیمت بھر کا پیسہ جمع ہو گیا۔ وہ سیدھا دُکان پر گیا، دُکاندار کے سامنے رقم رکھی اور کشتی کو خرید لیا۔ اُس نے اُسے اپنے بازوؤں میں تھام لیا اور خوشی خوشی اُسے لیے ہوئے گھر پہنچا۔ راستہ میں وہ کشتی سے کہہ رہا تھا: "دیکھ میں نے ہی تجھے بنایا تھا اور اب میں نے تجھے خرید بھی لیا ہے; اب تُو دو طرح سے میری ہے۔ "

اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی اِسی طرح خاص عنایت سے بنایا ہے اور پھر ہمیں اِس کے بعد کہ ہم اُس سے دُور ہو چکے ہیں خرید لیا ہے۔ کتابِ مُقدّس (بائبل) ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا ہمارے ساتھ اپنی محبت دکھانے کےلئے خود اِنسان بنا اور ہمیں بچانے آ گیا۔ اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ یہ کس طرح ہو گیا؟—آپ اِس پر غور کر کے اِسے مان بھی سکتے ہیں اور اِس کا انکار بھی کر سکتے ہیں لیکن اگر خُدا پر ہمارا ایمان ہے تو ہمیں یہ ماننے میں کوئی تامُّل نہ ہو گا کہ اللہ سب کُچھ کر سکتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مسیح کی ذات وشکل میں وہ ہم پر ظاہر ہوا۔ اِس سے خبرگیری کرنے والے مصلوب و منجی مسیح کی ہمارے لئے محبّت ثابت ہوتی ہے۔

کبھی بھی نہ کسی نبی نے، نہ کسی ولی نے، نہ کسی آدمی نے ویسی محبّت ہم سے کی جیسی مسیح نے کی ہے۔ اُس نے ہم جیسوں کےلئے بھی جو اُس کے دُشمن بنے ہوئے تھے، خود کو قربان کر دیا ہے۔ اُس نے ہمارے گُناہ اُٹھا لئے ہیں اور صلیب پر اپنی جان دے دینے سے ہمیں ابدی عذاب سے بچا لیا ہے۔ اُس کی محبّت ہی ہمارے لئے اب آخری اُمّید رہ گئی ہے۔ اب جب کہ ہم خُدا کے فرزند بن سکتے ہیں تو پھر گُناہ کی زنجیر میں کیوں جکڑے رہیں؟

مسیح مُردوں میں سے زندہ ہو گئے ہیں اور اِس طرح موت کے پنجہ سے ہمیں بھی چُھڑا لیا ہے تا کہ ہم ہمیشہ ہمیشہ اُن کے ساتھ رہیں۔ اُنہوں نے ہمارے گُناہ کےلئے قیمت چُکا دی ہے اور وہ قیمت بہت بڑی ہے، خُود اُن کی اپنی جان !

خُدا خود محبّت ہے جو لامحدود ہے; اِس لئے یہ باعث حیرت نہیں کہ اُس نے یہ قیمت چُکائی ہے کیونکہ یہ اُس کی بے انتہا محبّت کا نتیجہ ہے۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, نجات | Tags: | Comments (1) | View Count: (14135)

Comments

  • Dear sir...kaya hum ko Qurbani ka ghost khana chahiye khuch refrence dy...Thank you so much
    14/05/2018 11:42:43 AM Reply

Post a Comment

English Blog