en-USur-PK
  |  
14

مذہب اور صلح وامن

posted on
مذہب اور صلح وامن

RELIGION & PEACE

BY PROF: LOOTFY LEVONIAN

TRANSLATED BY

Mrs. F .D. Warris

 

مذہب اور صلح وامن 

پروفیسر:لطیفی لیونیان

مترجمہ ۔ مسز۔ایف ۔ ڈی ۔ وارث صاحبہ

                        صدیوں سے صُلح وامن کا اہم ترین سوال ابنائے روزگار کے درپیش رہا ہے۔ انسان کے اعلیٰ ترین مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ باشندگان ِ عالم کے درمیان صُلح وامن کو برقرار رکھا جائے ۔ حیوانات ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے اورایک دوسرے کو پھاڑکھاتے ہیں اوراسی اصول پر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ تمند  کی ابتدائی  منازل میں انسان کا بھی یہی اصول رہا ہے ۔ انصاف اور حق کے اصولوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرتی رہی ہے۔ انسانی تاریخ ایسی مثالوں سے پرُ ہے اورجنگ عالمگیر بھی اسی رویہ اور انداز کی ایک صاف اور صریح مثال ہے۔ دنیا کی بزرگترین اقوام ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئیں  جس کا نتیجہ  یہ ہوا کہ ایک کروڑ جو ان میدان ِجنگ  میں مارے گئے ۔ بے شمار خاندان برباد ہوئے اور ہزارہا  بچے یتیم ہوگئے ہزارہا روپیہ جونسل انسانی بہتری وبہبودی کے لئے استعمال کیا جاسکتا تھا ان کی بربادی اورتباہی کے لئے صرف ہوا اور نتیجہ اس کا کیا ہوا؟ یہ کہ مصیبت وتنگدستی اور مفلسی  عام طورپر دنیا میں رونما ہوئیں۔ اسی وجہ سے دور حاضرہ میں صلح  کا مسئلہ تمام دیگر دینوی مسائل کی نسبت  اہم تر ہے۔اقوامِ دنیا جنگ کو بیخ وبن سے اکھاڑنے اورعالمگیر  امن وامان کو قائم کرنے کی تجاویز  پر غوروفکر کرنے میں مصروف ہیں۔ آج یہ خیال عموماً  رائج ہے کہ بنی نوع انسان کی تمام مصائب کی خاص وجہ جنگ ہی ہے اوراس کو کسی نہ کسی طور سے دفع کرنا چاہیے ۔

          جنگ کی وجوہ میں سے ایک وجہ نسلوں کا باہمی عناد وعداوت  ہے۔ بنی آدم مختلف  نسلوں سے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے نقش ونگار ۔ شکل وشباہت ۔ رنگ ڈھنگ اور زبان اور دستور ایک دوسرے سے مختلف  ہیں۔ تمام بنی نوع انسان ایک ہی صورت میں نہیں ڈھالے گئے ۔ بعض سیاہ فام ہیں بعض گندمی بعض زرد رنگ کے ہوتے ہیں اوربعض گورے رنگ کے ۔ ہر ایک کی ایک ہی زبان وتغت نہیں اور ہر قوم وجماعت کے دستور اور رسوم ورواج یکسا ں نہیں۔ ان ہی باتوں نے اقوام کے درمیان عداوت  وافتراق  پیدا کردیا ہے۔جس کی وجہ سے جنگ وجدل رونما ہوئے ہیں۔ عالمگیر  صُلح وامن کو قائم کرنے کے لئے ان باتوں کا انسداد ضروری ہے۔

          پھر تجارت اور لین دین کے معاملات نے بھی عالمگیر  صُلح  کے مسئلہ میں رخنہ اندازی کی ہے۔ مزدوروں ۔ سرمایہ داروں اور امیروں اور ناداروں کے درمیان بھی زبردست کش مکش بلکہ چپلقش  رہی ہے۔ صلح کی خاطر  اس کی اصلاح بھی ضرور ہے۔ مفلسوں اور غریبوں کی حالت کوبہتر بنانے اور سرمایہ داروں اور مزدوروں کے درمیان منصفانہ انداز کو قائم کرنے کی بے شمار مساعی کی گئی ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ ایک نہایت  اہم وعظیم مسئل ہے اور اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہرفرد ِ بشر کا فرض ِ اولین ہوناچاہیے۔

          اب یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آیا مذہب اس مسئلہ صُلح کو حل کر سکتاہے یا نہیں؟ مذہب زیست انسانی کا ایک ہم اترین عنصر ہے ۔ اس نے انسانی زندگی کے انداز  ورویہ کو قائم کرنے میں بڑا حصہ لیا ہے ۔ مذہب اساسی طورپر محبت ہے اور محبت انسان کے انداز ِ زندگی  کا ایک بڑا عنصر ہے اگر محبت  کا استعمال اعلیٰ اور نیک  مقاصد کے لئے کیا جائے تو وہ نیکی  کی جانب بنی نوع انسان کی رہنمائی  کرتی ہے اور اگراس کا برُا استعمال ہو توبدی  کی جانب اور تاریخ  اس امر کی تصدیق کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ راستبازلوگوں نے بے شمارنیک  اور عمدہ تحریکوں کی بنا ڈالی ۔ اسی طرح  بیشمار  نقصان دہ اور مضر تحریکوں کی بنیاد بھی مذہب  ہی میں پائی گئی ہے۔ جس حال کہ  مذہب کو ایک حبل المتیں  ہونا چاہیے تھا کہ جس سے یگانگی اوراتحاد کا رشتہ استوار ہوتا اس نے جدائی  اور عداوت کی طرح ڈال دی ہے۔ بنی آدم نے اپنے آپ کو مختلف  مذہبی فرقوں میں تقسیم کرلیا ہے ۔ جو ہروقت  ایک دوسرے کو بنظر ِ حقارت دیکھتے اور ایک دوسرے کو ایذا وعذاب پہنچاتے ہیں ۔ اکثر اوقات  مذہب نے محبت کی تلقین  کرنے کے بجائے باہمی مخالفت اور عداوت کی ترغیب دی ہے۔ مذہبی  مقاصد تمام دیگر مقاصد  کی نسبت  بہت  زیادہ پرُجوش ہوتے ہیں اوران کے ذریعہ  سے بہت بربادی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے اشخاص  نے مذہب کی مخالفت  کی ہے بلکہ یہاں تک کہاہے کہ مذہب انسانی خوشی اور اس کی ترقی کے لئے نقصان دہ ہے۔

          اس کاسبب کیا ہے ؟ مذہب کی بنیاد خدا کا تصور ہے اوربنی نوع انسان کے باہمی تعلقات اسی تصورپرجو وہ خدا کے متعلق  رکھتے ہیں منحصر ہیں ۔ زمانہ قدیم میں خدا کا یہ تصور نہایت ادنیٰ تھا۔ مثلاً لوگوں نے خدا کو محض ایک ملک یا حصہ ملک تک محدود کردیا اوریہ خیال کیاکہ خدا فقط  ان کے ملک یا حصہ کا خدا ہے اوراس لئے انہوں نے دیگر اقوام کو خدا کا دشمن سمجھ لیا۔ یعنی ایک خاص فرقہ کا خیال تھا کہ خدا صرف انہی کا خدا ہے لہذا اس کی تمام برکات  فقط ان کے لئے وقف تھیں اور اس کا غضب دوسری اقوام کے لئے ۔ مزید برآں لوگوں کے درمیان یہ خیال بھی عام طورپر رائج رہا ہے کہ  ان کے معبود دراصل  جنگ کے معبود ہیں۔ پس جنگ میں ان سے امداد  حاصل کرنے کے لئے وہ ان کے حضور دعا کرتے اور قربانیاں گذارنتے  اوراپنے دشمنوں  کے خلاف  التجائیں  کرتے رہے ہیں۔ اوراس مذہبی  جوش کو دل میں جگہ دئے ہوئے اور وہ اپنے ہمسایوں پر حملے کرتے اور ان کو قتل کرتے رہے بلکہ  مستورات  اور بچوں کو بھی تہ تیغ کرتے اورا ن کا مال واسباب لوٹتے  اوران کے گھروں کو آگ سے برباد کرتے رہے اوراپنے اس فعل  کو انہوں نے حکم ِ خدا  تصور کیا ہے۔ مثلاً بنی اسرائیلیوں کے زعم میں ان کا خدا یہواہ جنگ کا خدا تھا جس کے حکم سے وہ اپنے ہمسایوں پر جو ان کے خیال کے مطابق  بُت پرست  تھے حملہ  آور ہوتے رہے۔ بعینہ  قدیم یونانیوں اور رومیوں کے خدا بھی چونکہ وہ جنگ کے خدا تھے ہمیشہ جنگ وجدل میں مصروف رہے اور وہ اپنے اپنے معتقدوں کو بھی ترغیب دیتے تھے کہ وہ جنگ کریں اورایک دوسرے کو قتل کریں۔ پس وہ لوگ اپنے ہمسایوں  کو اسیر کرتے رہے کیونکہ  اس بات کو انہوں نے خداؤں کا فرمان وحکم تصور کیا تھا۔

          مرورِ زمانہ کے ساتھ مذہب قومیت اور امورِ مملکت  سے متعلق ہوگیا۔ اور یہ بات  خود مذہب اور قومی زندگی کے لئے ایک  آفت ثابت ہوئی ۔ پس ایک طرف تو شاہانِ ممالک نے اپنے مملکی  مقاصد کو انجام دینے کی خاطر  اپنے لوگوں کے مذہبی جذبات کو جوش دلا کر ان کو ترغیب دلائی کہ وہ ہزارہا لوگوں کا خون بہائیں۔دوسری جانب متعصب مذہبی ہادیان نے اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے  ملکی طاقتوں کو جوش میں لا کر اپنے مذہب کی اشاعت  اور حفاظت  کے لئے قتل  عام کروائے ہیں۔ مذہب اور امور مملکت  نے اپنے اپنے مقاصد او رمطالب کی برآری کے لئے اتحادویگانگی  قائم کی ہے۔ مذہب نے ملکی  طاقت  اور امورِ مملکت  نے مذہبی  طاقتوں کو استعمال کیا ۔ لہذا مذہب نے صلح کا طریقہ  بتانے کے بجائے اپنے آپ کو وجوہ جنگ میں سے ایک  اہم وجہ بنالیا۔ نتیجہ  یہ ہوا کہ  آخر کار  مذہب اور اپنے روحانی معنی کھوبیٹھا اور تفرقہ  اور تعصب کا باعث ہوگیا اور نسل ِ انسانی کی اصلاح  کرنے کے بجائے ان پر مصیبت  اور آفت لے آیا۔ ایسے تصورات  تایں زمانہ بھی کلیتہً  مفقود نہیں ہوئے ۔ جنگ عالمگیر کے ایام میں ہر قوم اپنی عبادت گاہوں میں یہی دعا کرتی تھی کہ خدا اسے دوسروں پر فتح بخشے۔

          اگرہم اس امر کے خواہشمند ہیں کہ زمین پر صُلح او ربنی آدم میں رضا مندی ہو تو چاہیے کہ ہم خدا سے متعلق ایسے تصورات کو تبدیل کرڈالیں۔ خدا کسی ملک یا کسی خاص قوم کا خدا نہیں ۔ خدا کو کوئی  ایک قوم اپنے لئے مخصوص  نہیں کرسکتی کیونکہ  خدا تمام اقوام ِ عالم کا خالق اورمالک ہے خواہ ان کی رنگت ۔ ان کا ملک یا ان کی زبان کچھ ہی کیوں نہ ہو۔ چاہیے کہ تمام بنی آدم اس حقیقت  کوخوب سمجھ لیں۔ اسی طرح  خدا حق اور انصاف کا خدا ہے اور وہ ہر ایک  کے خلاف ہے جو حق اور انصاف  کی راہ سے  عدل کرتاہے۔خدا کسی کا طرفدار نہیں۔ وہ یہ نہیں کرتا کہ ایک قوم کا دوست ہو اور دوسری کا دشمن۔ وہ ہر شخص کے ساتھ ایک ہی محبت رکھتاہے اور اپنی برکات تمام بنی آدم کو بلا تمیز عطا فرماتاہے ۔ وہ اپنے آفتاب عالمتاب  کو ہر ایک پر روشن کرتا اور سب کو برکت بخشتاہے ۔

          بنی نوع انسان نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اورانہوں نے ایک دوسرے  کے ساتھ انصاف رحم ومحبت کے اصولوں کے مطابق سلو ک نہیں کیا۔ خدا کوا پنی خواہشوں کے حصول کے لئے استعمال کرنے اوراس کو اپنی جانب کھینچ لینے کے لئے انسان نے بہت  سی رسوم کو ایجاد کیا ہے۔ مذہب کے نام سے لوگوں نے انصاف کو پائمال کیا ہے اوراپنی بے ثبات تجاویز کو انجام دینے کے لئے انہوں نے خدا کی امداد کے لئے التجائیں کی ہیں۔ مذہبی تاریخ میں یہ حقیقت  نہایت افسوسناک حقیقت ہے۔سیدنا عیسیٰ مسیح کی تعلیم اور ہادیان ِ اہل یہود کی تعلیم کے درمیان فرق اس حقیقت کو ظاہر کرتاہے ۔ اس زمانہ میں اہل یہود ایک ملکی بادشاہی کی تلاش میں تھے اور چاہتے تھے کہ جس طرح ممکن ہو اس بادشاہی کو حاصل کرلیں۔ وہ متواتر یہ دعا کرتے تھے کہ مسیح آئے اوران کو رومی حکومت کی قید سے رہا کرے ۔ سیدنا عیسیٰ مسیح موعود ہوکر آیا لیکن اس نے ان کے مقصد کو پورا نہ کیا۔ علاوہ ازیں اس نے فرمایا کہ اس کی بادشاہی  اس دنیا کی نہیں لہذا  وہ ان کو خدا کی بادشاہی  کے متعلق  تعلیم دینے لگا ۔ درحالیکہ  بعض  یہودی ایسے مسیح کی انتظار میں تھے جو شان وشوکت  اور قوت  وقدرت کےساتھ آئے اور غیر اقوام کو برباد کرے۔ سیدنا عیسیٰ مسیح  کمال حلم اور فروتنی کے ساتھ ظاہر ہوا اور وہ دوسروں کے مارنے  اوربرباد کرنے کے بجائے ان سے محبت رکھتا تھا ۔ یہ حقیقت  سیدنا عیسیٰ مسیح کی زندگی اوراس کی تعلیم  سے خوب عیاں ہے۔ اس نے فرمایا جو تم کو ستاتے ہیں ان کے لئے  دعا مانگو اپنے دشمنوں  سے محبت  رکھو۔ دانت  کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ  نہ لو۔بلکہ سب کے ساتھ  رحم سے پیش آؤ۔ مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ  وہ خدا کے فرزند کہلائینگے ۔ مبارک ہیں وہ جو پاک ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھینگے ۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب  ستائے جاتے ہیں کیونکہ  آسمان کی بادشاہی  ایسوں ہی کی ہے "۔ سیدنا عیسیٰ مسیح شہر بہ شہر  پھرتا اوران کی باتوں دیتا رہا۔ اس نے تمام لوگوں کے ساتھ بھلائی کی ۔ اسے کسی خاص قوم وملت کا پاس نہ تھا۔ وہ لوگوں کی معاشرتی حالت کی تمیز نہ کرتا تھا۔ اس کے معجزات  بنی آدم کے لئے  اس کی رحمت وشفقت کے نشان تھے۔ اس نے اہل ِیہود کے مختلف فرقوں میں سے بارہ شاگردوں کا انتخاب کیا اور اس نے انہیں سکھایا کہ وہ محبت کے ساتھ  باہم بودوباش کریں "۔ اگر کوئی تم میں سے بڑا ہونا چاہے تو چاہیے کہ و ہ سب کا خادم بنے "۔

          ایک مرتبہ سیدنا عیسیٰ مسیح اپنے شاگردوں کے سامریہ میں سے گذرتے ہوئے ایک گاؤں میں پہنچے۔ جب سامریوں کو معلوم ہوا کہ وہ یہودی ہیں تو انہوں نے  ان کی مہمان نوازی نہ کی کیونکہ سامری اوریہودی ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے ۔ تب شاگردوں نے سیدنا عیسیٰ مسیح سےکہا " کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم حکم دیں کہ آسمان پر سے آگ نازل ہوکر انہیں بھسم کردے"؟ لیکن سیدنا مسیح نے ان کے اس مخالفانہ  انداز پر ان کو ملامت  کی۔ ان کی طبعیت  میں تعصب  اور دشمنی تھی لیکن سیدنا مسیح کی طبعیت  پر ُرحم اور پر شفقت  تھی وہ کسی پر آسمان سے آگ نازل نہ کرواسکتا تھا۔ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں جبکہ  یہودی اور رومی سپاہی اس کو ایذا پہنچا رہے تھے خاموش رہا اوراس نے ان کو کچھ جواب نہ دیا بلکہ اس نے ان کے لئے  دعائے خیر کی ۔ سیدنا مسیح نے اپنی تعلیم اور بالخصوص  اپنی زندگی  سے خود انکاری اورایثار نفسی کا طریقہ دکھادیا۔ اور وہ طریقہ  صُلح ،سلامتی ،نیکی اورمحبت  کا طریقہ تھا۔

          سیدنا مسیح کے اس طریقہ  میں تین اُصول موجود ہیں اوریہ ہر زمانہ کے لئے مفید ہیں۔ اوّل یہ کہ خدا تمام بنی آدم کا باپ ہے  لہذا وہ سب  ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ سیدنا مسیح خدا کوآسمانی باپ کی صورت میں جانتا تھا نہ کہ جنگ کرنے والے یا مطلق العنان ظالم خدا کی صورت میں ۔ اس نے یہ تعلیم  دی کہ درحالیکہ  تمام بنی آدم ایک دوسرے کے بھائی ہیں  لہذا ان کا فرض ہے کہ ایک دوسرے سے محبت رکھیں اور باہم ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اگر بنی نوع انسان کا مفہوم خدا بھی یہی ہو تو یقیناً  عالمگیر  صلح  ہوجائے کیونکہ  کوئی شخص  اپنے بھائی  کو نہ مارے۔اگر دنیا کو ایک خاندان ِ خدا تصور کیا جائے اورجنگ ناممکن ہوجائے۔ یہی سیدنا عیسیٰ کا یقین تھا اور اسی کی اس نے تعلیم دی اور اسی کے مطابق اس نے اپنی زندگی بسر کی۔ دنیا کے لئے بھی اسی انداز اور طریقہ زندگی کی ضرورت ہے ۔

          اصول دوم یہ ہے کہ  سیدنا عیسیٰ مسیح کے خیال کے مطابق انسانی شخصیت  تمام دیگر اشیاسے زیادہ قیمتی  اوربہتر ہے۔ سیدنا عیسیٰ مسیح کے نزدیک ایک شخص  کی زندگی تمام دنیاوی مقبوضات  کی نسبت زیادہ قدرومنزلت  رکھتی تھی۔ اور یہ واقعی درُست ہے۔ انسان کی بہترین  الہیٰ بخشش  اس کی شخصیت  ہے اور خدا یہ انعام ہر ایک  کو عطا کرتاہے۔ جب تک کوئی شخص اپنی شخصی زندگی  کا مالک ہے تب تک وہ واجب التعظیم  اور قیمتی ہے خواہ  وہ کسی رنگ یا نسل کا کیوں نہ ہو۔ کسی شخص  کی قدروقیمت  کا اندازہ اس کے لباس۔ اس کے ملک ۔ اس کے رنگ ۔ اس کی زبان اوراس کی دولت  سے نہیں بلکہ اس اس کی شخصیت  سے لگانا چاہیے۔ شخصیت  واجب التعظیم ہے اور اس پر ہر گز  حملہ نہیں کرنا چاہیے ۔ انسانی زندگی کو تمام دیگر اشیا پر ترجیح دینا چاہیے ۔ سیدنا مسیح اسی طریق پر تمام آدمیوں سے پیش آتا تھا۔ اگر دنیا بھی اس اصول کو تسلیم کرلے تو امیر وغریب اور مختلف  اقوام کے درمیان  سے دشمنی  اور عداوت عنقاد ہوجائے۔اوراس حالت میں کوئی دینوی مال واسباب کی خاطر  انسانی زندگی  کوبرباد کرنے کی کوشش نہ کرے۔ بلکہ تمام  بنی آدم ایسی تجاویز  پر غور کریں جن کے باعث  ان کے تمام معاملات  صلح وسلامتی  کے ساتھ حل ہوجائیں۔ کارخانجات میں ہلاک کنُ اصلاح نہیں بلکہ ایسی چیزيں بنائی جائیں جو افادہ ِ عام کے لئے ہوں۔ امیر ناداروں اور مفلسوں کی تحقیر نہ کریں۔ نہ ہی سرمایہ دار مزدوروں سے نفرت کریں  اورنہ مہذب اقوام مہذب اقوام سے ۔ برعکس اس کے وہ ایسی تدبیریں سوچیں جن کے ذریعہ  سے وہ ان کو زندگی کے اعلیٰ منازل تک پہنچا کر ان کو فرحت وراحت  بخش سکیں۔

          سیدنا عیسیٰ مسیح کا اصول سوم یہ تھاکہ خدا تعالیٰ تمام نعمتوں اوربرکتوں کا بخشنے  والا ہے  اور انسان صرف اس کے مقررکردہ مختار ہیں لہذا وہ ان نعمتوں اور بخششوں کے استعمال کے متعلق ان سے جواب طلب کریگا۔ سیدنا مسیح کے خیال کے مطابق دنیا اوراس کی تمام نعمتیں  خدا کی ملکیت  ہیں اور بنی آدم کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام اشیا کو الہیٰ انعام تصور کریں۔ سیدنا عیسیٰ مسیح خاص فرقہ  کا پابند نہیں تھا۔وہ شخصی ملکیت کا مخالف نہ تھا ۔اس کا یقین یہ تھاکہ ہر ایک اچھی نعمت  خدا کا انعام ہے اور بنی آدم کو حکم ہے کہ ہر بخشش کو عمدہ مقاصد کے لئے استعمال کریں۔ سیدنا عیسیٰ ایسے نازک الدنیا نہ تھے جو زرودولت  کو لعنت  اورمفلسی  کو برکت سمجھتے ہو۔ لیکن ودولت کے خود غرضانہ  استعمال کے خلاف تھے۔ آپ نے دیکھا تھاکہ دولت لوگوں کے دلوں پر قابض تھی اور اس نے ان کو حریص وطامع اور مغرور اور ظالم بنادیا تھا۔ لہذا آپ نے ایک دولتمند نوجوان کو صلح دی کہ وہ اپنا سب کچھ فروخت کرکے غریبوں کو دے دے لیکن وہ نوجوان رنجیدہ ہوکر وہاں سے رخصت  ہوا کیونکہ  وہ بڑا دولتمند  تھا۔ بعدازاں  سیدنا مسیح نے فرمایاکہ " کوئی شخص  خدا اور دولت  کی خدمت نہیں کرسکتا "۔ دولت  مال وزر کی دیوی ہے اورانسان دولت اور خدا دونوں کی عبادت نہیں کرسکتا۔ سیدنا مسیح نے تعلقات  ِ زندگی  سے اپنے آپ کو جدا نہ کرلیا تھا  نہ ہی اس نے لوگوں کوصلاح دی کہ اپنے  مال ودولت  کو نیک  اعمال کے لئے صرف کروکیونکہ  وہ دولت  کو خدا کی بخشش تصور کرتا تھا۔ اگر بنی نوع انسان اس اصول کی پیروی کریں تو دولت  لعنت  نہ ہوبلکہ  وہ ایک برکت بن جائے ۔ دولت ایک زبردست  طاقت ہے لیکن اس کی قدروقیمت  کا انحصار  اس کے استعمال  پر ہے۔ اگر دولت  کو ناجائز  مقاصد مثلاً، غرور، طمع وحرص وغیرہ کے لئے صرف کیا جائے تو وہ لعنت  بن جاتی ہے۔اوربے شمار لوگ اسی طرح اپنی دولت  کے باعث  برباد ہوگئے ہیں۔ لیکن اگر دولت  کو اعلیٰ  مقاصد اور نیک اعمال  مثلاً مفلسی  کے دور کرنے ، امراض کو رفع کرنے اورعوام الناس کی بہتری  وبہبودی لوگوں کی تعلیم اور مریضوں  اورمسکینوں کی مدد کے لئے استعمال کیا جائے تو وہ برکت  بن جاتی ہے۔ اگر دولت  کو خدا کا عطیہ سمجھا جائے اور مذکورہ بالا  طریق پر صرف کیا جائے تو یہ ممکن ہوسکتا ہے۔

          سیدنا مسیح نے خدا کی بادشاہی  سے متعلق  اپنی تعلیم  میں معاشری تعلقات اور دولت کے استعمال کا ایک نہایت اعلیٰ تصور پیش کیا ہے۔ اس نے اپنی خدمت کے آغاز میں یہ بتایا کہ خدا کی بادشاہی  نزدیک ہے اور لوگوں کو دعوت دی کہ وہ اس بادشاہی  میں داخل ہوں ۔ جس حال کہ اہل یہود ایک یہودی بادشاہی  کی تلاش میں تھے سیدنا مسیح نے خدا کی بادشاہی  کا اعلان کیا اور جس حال کہ وہ ایک ایسی دنیا کے منتظر تھے جس میں وہ حکومت  کرینگے سیدنے عیسیٰ نے ایک معاشری طبقہ  کے متعلق بتایا جو خدا محبت اور دوستی کے زیر ِحکومت  ہوگا نہ انسانی غرور وتکبر  یا عداوت اوربے ترتیبی کے۔ اوراس معاشری طبقہ  یا جماعت  میں تمام بنی آدم خدا کو باپ اورایک دوسرے کو بھائی تسلیم کرینگے اوراس طبیعت  سے ہر ایک اپنے ہماسیہ  کی خدمت کرے گا۔ اور اس معاشری طبقہ  کی بنیاد لینا نہیں بلکہ دینا ظلم نہیں بلکہ  رحم اور غرور نہیں بلکہ  خدمت ہوگی۔

          سیدنا عیسیٰ مسیح کے خیال میں دنیا کے لئے سب سے اہم ترین سوال یہ تھا کہ آیا انسانی تعلقات  ، غرور، عداوت اور غیظ وغضب کے ماتحت ہونگے یا انصاف، راستی اورمحبت  کے ۔ اسی وجہ سے اس نے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے کینہ اور عداوت سے کنارہ کشی کرکے طریقہ محبت کی جانب مائل ہوں اور غصہ وغضب کی بادشاہی کو تر ک کرکے انسانی جماعت کے فائدہ کے لئے خدا کی بادشاہی میں داخل ہوں ۔ مسیح کی کلُ تعلیم  میں قومی اور ملکی مقصد نہیں پایا جاتا ۔ اس نے ملکی  امور کے لئے نہیں بلکہ خدا کے لئے  خدمت کی۔ اس کا یقین یہ تھاکہ  خدا تمام بنی آدم کا باپ ہے اوراس کا مدعا یہ تھاکہ لوگوں کو بھی اس امر کا یقین دلائے اوران میں صلح اورباہمی رضا مندی کو قائم کرے۔

          دورِ حاضرہ کا اہم ترین مسئلہ صُلح کا مسئلہ ہے یعنی اقوام کے مابین صُلح اور صنعت  وحرفت  کے درمیان صُلح۔ اس تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تمام دنیا غوروفکر میں مستغرق ہے تاکہ ایسی تجاویز وتدابیر  معلوم کریں جس سےیہ ممکن ہوجائے۔نئے عہد وپیمان باندھے جاتے ہیں کیونکہ  ہر شخص  صُلح  کا آرزومند ہے۔ یہ خیال کیا جاتاہے کہ زیست  انسانی میں جنگ  مثل ایک مرض کے ہے۔ چاہیے کہ اس مرض کو دور کیا جائے  اورانسانی تعلقات  سے مطابقت  وموافقت قائم کی جائے چاہیے کہ  انسانی طاقتیں  ایک دوسرے کے خلاف  نہ ہوں بلکہ انسانی فائدہ اور بہبودی  کے لئے باہم متفق ہوجائیں۔ابنائے  روزگار اسی قسم کے اتحاد کو قائم کرنے کی سعی وکوشش کررہے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ طریقے  نہایت  کارآمد ہیں اور صلح کو برقرار رکھنے میں ضرور مفید ثابت ہونگے۔ لیکن جس بات کی ازبس ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ  لوگوں کے خیالات میں اساسی  تبدیلی  واقع ہو۔ لازم ہے کہ  ہرایک  اپنے ہمسایہ کے متعلق  اپنے شک وشبہ کو اپنے دل سے دور کردے اورایک دوسرے  کے ساتھ نیک سلوک کرے۔غیظ وغضب غرور اور عداوت  کے عوض ، رحم ، حلم اور محبت کو اپنے دل میں جگہ دے ۔ اہل یورپ ، ایشیا کے باشندوں سے نفرت نہ کریں۔ گورے رنگ والے سیاہ فام حبشیوں کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں ۔ اسی طرح  امیر مفلسوں اورناداروں کی تحقیر نہ کریں۔ ہرایک دوسرے کی عزت کرے۔ ایک دوسرے کے قصور وں اور کوتاہیوں کو نظر انداز کرکے ان کی خوبیوں اوران کی نیک صفات کی قدر کرنی چاہیے۔ہر ایک دوسرے سے چھیننے کے بجائے خود اس کو دے اور اس کی مددکرنے پر مستعد ہو۔ جب کبھی ہم کسی شخص کو پھٹےپرانے کپڑے  پہنے یا برہنہ پا، مفلس اور فاقوں کا مارا ہوا دیکھیں تو مناسب ہے کہ ہم اس وقت یا د کریں کہ وہ بھی ہماری مانند انسان ہے لہذا  ہمارا بھائی ہے پس ہم کو اس کی مدد کرنی چاہیے نہ کہ نفرت ۔ ہم کو اپنے  دوستوں کے محدود دائرہ سے باہر قدم اٹھا کر دوسروں کے ساتھ  ہمدردی کا سلوک کرنا چاہیے۔ اورہمارا مقصد یہ نہ ہو کہ ہم مال ودولت  کو جمع کریں اوراس کا خود غرضانہ  استعمال کریں بلکہ یہ کہ ہم اس سے  اوروں کو فائدہ پہنچائیں اوران کو بھی اپنی دولت  کا حصہ دار بنائیں۔ چاہیے کہ ہمارا مدُعا فقط  دوسروں کی خدمت کرنا ہو نہ کہ  ان پر فتویٰ لگانا یہ تصور عالمگیر صُلح کےلئے از بس ضرور ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہےکہ ہم اپنی زندگی کو کس طرح بسر کریں تاکہ وہ اس تصور کے مطابق ہو۔ اور کس طورپر ہم اس تصور کی اشاعت کریں۔

          اس مسئلہ کے حل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ  ہم بنی نوع انسان کے مذہبی تصورات کو بدل ڈالیں۔ جب تک مذہب کسی خاص فرقہ یا ملت سے مخصوص  رہیگا تب تک وہ ایک بدعت بنا رہیگا اوراس کا نتیجہ تعصب ہوگا جو نہایت  نقصان دہ ہے ۔ چاہیے کہ مذہب کا مفہوم راستی ، حق ، خلوص، نیتی ، تحمل ، برداشت ، خود انکاری اورمحبت ہو۔تاکہ مذہب ایک ایسا عنصر ہو جو اجتماعی  تعلقات  کی اصلاح کرے اور دشمنوں  کو بد ل کر ایک  دوسرے کا دوست بنادے اور اقوام اور خاندانوں کے درمیان صُلح  کو ترقی دے۔ مذہب کو ایک رشتہ  ہونا چاہیے جس کے ذریعہ سے اہل یورپ اوراہل ایشیا۔ سفید اور سیاہ فام اشخاص  محبت اور عزت کے جذبات سے باہم پیوست ہوجائیں۔ اس وجہ سے چاہیے کہ خدا کے متعلق  انسان کا تصور بھی بدل جائے ۔ خدا تمام بنی آدم کا باپ ہے۔ خدا انسان کی بدی کے عوض اس سےبدی نہیں کرتا بلکہ  بدی کے بدلے نیکی کرتا ہے۔ خدا خشمناک ہوکر انسان کو دھمکاتا نہیں بلکہ  اس کے ساتھ بھلائی کرتا ہے ۔ وہ بنی نوع انسان کے ساتھ ان کے اعمال کے مطابق  سلوک نہیں کرتا بلکہ ان کے ساتھ  محبت اور شفقت  سے پیش آتا ہے ۔ خدا ہمارے گناہ معاف کرتا ہے اورچاہتا ہے کہ ہم بھی اپنے قصور واروں کو معاف کریں۔ اگر لوگ اس اُصول کو بخوبی  سمجھ لیں اورخدا کی شفقت  اوررحمت  کو معلوم کرلیں توممکن نہیں کہ کینہ  اور عداوت کو  اپنے دلوں میں جگہ دیں۔

          زمانہ گذشتہ میں غلامی یا بردہ فروشی عام طورپر  رائج تھی۔ یورپ  اورامریکہ  کے باشندے  سیاہ فام حبشیوں کو گرفتار کرکے لے جاتے اوران کو اپنا غلام بنالیتے تھے اوران پر خوب جوروستم کرتے تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے محسوس کیاکہ یہ انصاف نہیں۔ انہوں نے  معلوم  کیا کہ حبشی  بھی خدا کے فرزند ہیں لہذا وہ بھی آزادی کا حق رکھتے ہیں۔آج غلامی کا باقاعدہ  سلسلہ صفحہ ہستی سے معدوم ہوگیا ہے ۔ مسئلہ  صُلح  کی بھی یہی حالت ہے۔ زمانوں سے لوگ اپنے نفع  کے لئے اپنے ہمسایوں پر حملہ کرتے اوران کو قتل کرتے رہے ہیں۔ اس تصور کو بالکل تبدیل کردینا چاہیے کیونکہ خدا کبھی کسی دوسرے کے قتل کرنے یا مارنے کا حکم نہیں دیتا۔وہ خدا رحیم وکریم ہے۔ ایذارسانی اور ظلم وستم خدا سے صادر نہیں ہوتے بلکہ  ان کا موجد شیطان ہے۔ وہ خود ہماری خود غرضی اور غرور کا نتیجہ ہیں۔ خدا کی روح  بنی آدم کو صُلح  کی ترغیب دیتی ہے او روہ ہمیشہ  نیکی اوررحم کی جانب  ہماری ہدایت کرتی ہے۔حقیقی  مذهب رحم اور صُلح  کی زندگی ہے۔ خدا  نے انسان کو ہر اچھی نعمت  عطا فرمائی ہے۔ پس چاہیے کہ وہ اس کو عمدہ اورنیک کاموں کے لئے استعمال کرے نہ اپنے خود غرضانہ مقاصد کے انجام دینے میں۔ ہمارا منشا  اور مدعا یہ ہونا چاہیے کہ ہم مال ودولت کواس لئے جمع کریں تاکہ اس کے ذریعہ سے اوروں کی خدمت کریں نہ اس لئے کہ ان پر ظلم وستم کریں۔ تمام بنی نوع انسان کو اسی اصول کے مطابق  زندگی گذراننا اوراسی کے مطابق  عمل کرنا چاہیے ۔ صُلح وسلامتی کو قائم کرنا ہرایک انسان کا فرض ہے۔ اصل دیندار لوگ وہ ہیں جو خود صُلح  کل ہیں اور دوسروں کے درمیان صُلح کراتے ہیں۔ حقیقی  راستبازی کا یہی نشان ہے۔ مذہب  کا مطلب  یہ ہےکہ  خدا اورانسان دونوں کے ساتھ صُلح ہو۔ ایمان، امید اور محبت تینوں بزرگ ہیں لیکن افضل ان میں محبت ہے۔

خدا محبت ہے۔

 

 

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (7848)

Post a Comment

English Blog