en-USur-PK
  |  
10

یریحو میں دو اندھوں کی آنکھوں کو روشن کرنا

posted on
یریحو میں  دو اندھوں کی آنکھوں کو روشن کرنا

THE MIRACLES OF CHRIST

معجزاتِ مسیح

30-Miracle   

Jesus Heals Two Blind Men   

Matthew 20:29-34

 

 

یریحو میں  دو اندھوں کی آنکھوں کو روشن کرنا

۳۰ ۔معجزہ

انجیل شریف بہ مطابق حضرت۲۰باب ۲۹تا۳۴

مرحوم علامہ طالب الدین صاحب بی ۔ اے

؁ ۱۹۰۵ء

اس معجزے کے ان تینوں بیانوں کوجو انجیل شریف میں پائے جاتے ہیں جب ہم ملا کر پڑھتے ہیں تو ان میں کچھ کچھ فرق نظر آتا ہے لہذا ان کی باہمی مطابقت دکھانا ضروری امر معلوم ہوتا ہے کیونکہ جو فرق پایا جاتا ہے اس کے سبب سے بعض لوگوں نے ان کو دو بلکہ تین معجزے قرار دیا ہے ۔

(1)دوسری مشکل یہ ہے کہ حضرت متی اور حضرت مرقس  بتاتے ہیں کہ یہ معجزہ اس وقت سرزد ہوا جبکہ مسیح یریحو سے نکل رہے تھے۔ مگر حضرت لوقا کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت وقوع میں آیا جبکہ وہ یریحو میں داخل ہورہے تھے۔ یہ مشکل طرح طرح سے حل کی گئی ہے ۔ مگر وہ خیال سب سے بہتر معلوم ہوتے ہیں اور ان کو ہم یہاں ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔ اول یہ ہے کہ مسیح جب یریحو میں داخل ہورہے تھے اس وقت اس کو فقط ایک اندھا ملا جس نے یہ دعا کہ میری آنکھیں کھولی جائیں۔ مگر مسیح نے اس کی آ نکھیں اس وقت نہ کھولیں کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ پہلے اس کے ایمان کی مضبوطی اور ترقی ہو۔ مگر جب دوسرے دن یریحو سے نکلے تو پھر وہی اندھا اور اس کے ساتھ ایک اور اسے ملا اور اس وقت اس نے ان دونوں اندھوں کی آنکھیں کھولیں۔ دوسرا خیال یہ ہے کہ جہاں اندھوں کی آنکھیں کھولئی گئیں نئے اور پرانے یریحو کے درمیان واقع تھی لہذا دونوں بیان درست ہیں۔ یعنی یریحو سے نکلنا اور یریحو میں داخل ہونا دونوں طرح کہنا درست ہے ۔ کیونکہ وہ ایک سے نکل کر دوسرے میں داخل ہورہے تھے۔

آیت نمبر ۲۹۔اور جب وہ یریحو سے نکلتے تھے تو ایک بڑی بھیڑ آپ کے پیچھے ہولی۔

یریحو۔ اس وقت ہمارے مولا اور ان کے شاگرد اور وہ لوگ جو عید فسح کے لئے یروشلم کو جارہے تھے یردن کو عبور کرکے یریحو پہنچ گئے تھے۔ یریحو سے یروشلم قریباً ایک دن کی راہ تھا۔ شہر یریحو کا حال جو بنی اسرائیل کے ملک کنعان میں داخل ہونے کے وقت خوب آباد تھا اور جسے اسرائیل نے معجزانہ طور پر برباد کیا تھا یشوع کی کتاب میں قلمبند ہے۔ اور وہ لعنت جو یشوع (بائبل مقدس کتاب ِ یشوع 6باب 26آیت )کے وسیلے اس شخص پر بھیجی گئی تھی جو اسے ازسر نو بنانے کا بیڑا اٹھائے اخیاب کے زمانہ میں پوری ہوئی ( 1سلاطین 16باب 34آیت ) راحب اسی جگہ کے رہنے والی تھی۔ جس میدان میں یہ شہر واقعہ تھا وہ سبز پھولوں اور پھلوں سے پھلا پھولا رہتا تھا۔ ہمارے مالک کےلئے یہ تمام باتیں بڑی فرحت اور دلچسپی کا باعث تھیں۔ وہ رات بھر وہاں رہے ۔ حضرت لوقا زکی کا جس کے گھر میں آپ تشریف لے گئے بڑا دلچسپ قصہ بیان کرتے ہیں (حضرت لوقا 19باب 1تا 28آیت )۔

نکلتے تھے ۔ ہم اس کی شرح اوپر کرچکے ہیں۔

ایک بڑی بھیڑ اس کے پیچھے ہولی۔ یہ بھیڑ ان لوگوں سے مشتمل تھی جو یروشلم کو عید فسح کے لئے جارہے تھے۔

آیت نمبر ۳۰۔ دیکھو دو اندھوں نے جو راہ کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے یہ سن کر مسیح جارہے ہیں چلا کر کہا اے مالک ابن داؤد ہم پر رحم کریں۔

حضرت مرقس اور حضرت لوقا اندھا بتاتے ہیں۔ (دیکھو اوپر کی سطریں ) حضرت مرقس اس کا نام بھی دیتے ہیں۔ وہ تمائی کا بیٹا برتمائی تھا۔ یہ دونوں انجیل نویس فقط اس شخص کا حال بیان کرتے ہیں جو زیادہ مشہور تھا اور جو کم مشہور تھا اس کاذکر نہیں کرتے۔ علم تاریخ میں وقائع نویسی کے متعلق یہ طریقہ یااصول اختیار کرنا روا ہے او رہمیشہ استعمال میں لا یا جاتا ہے ۔ یعنی مورخ جس شخص کا ذکر کرنا  مناسب سمجھتا ہے کرتاہے اور جس کا مناسب نہیں سمجھتا نہیں کرتا۔

حضرت مرقس کہتے ہیں کہ یہ شخص فقیر تھا۔ اور حضرت لوقا بتاتے ہیں کہ وہ راہ میں بھیک مانگ رہا تھا۔

یہ سن کر کہ مسیح جارہے ہیں۔ حضر ت مرقس اور حضرت لوقا میں " یسوع ناصری " آیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے آقا ومولا غالباً اسی نام سے مشہور تھے۔

ابن داؤد ۔ اس لقب سے مراد مسیح موعود ہے۔ ہم یہ نہیں بتلاسکتے کہ ان اندھوں نے کس طرح معلوم کیا کہ یسوع ناصری مسیح موعود ہے ۔ اغلب ہے کسی نہ کسی طرح یہ بات ان کے کان تک پہنچ گئی ہوگی کہ یسوع ناصری مسیح موعود ہے۔ اور اسی طرح انکو یہ بھی معلوم ہوگیا ہوگا کہ وہ اندھوں کو بینائی بخشتا ہے ممکن ہے ان کو اس معجزے کی جوگلیل میں دکھایا گیا تھا (حضرت متی 9باب 27آیت ) یا اس کی جو یروشلم میں (حضرت یوحنا 9باب1آیت ) واقع ہوا تھا خبر پہنچ گئی تھی۔

اگر وہ ابن داؤد کااصل مطلب سمجھتے تھے تو ان میں دوباتوں کا ایمان پایا جاتا تھا۔ ایک اس با ت کاکہ یسوع ناصری ہم کو بینائی دے سکتا ہے اور دوم اس بات کا کہ یسوع ناصری ایک عام نبی نہیں ہے۔ بلکہ وہ خاص نبی ہے جس کا ذکر حضرت یسعیاہ نے اپنے صحیفہ میں کیا ہے اور جس کا کام ہی یہی ہے کہ اندھوں کو بینا کرے ۔ اگر ہم ان اندھوں کا اس جنم  کے اندھے سے جس کا بیان حضرت یوحنا کے نویں باب میں پایا جاتا ہے مقابلہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ وہ بھی ان باتوں کا مقر ہے جن کا اقرار یہ اندھے کرتے ہیں مگر فرق یہ ہے کہ وہ شفا پانے کے بعد ان باتوں کا اقرار کرتے ہیں۔ یہ شفا پانے سے پہلے ان کا اعتراف کرتے ہیں اورماسوائے اس کے ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جنم کا اندھا رفتہ رفتہ اپنے اقرار میں ترقی کرتا ہے۔

آیت نمبر ۳۱۔لوگوں نے انہیں جھڑکا تاکہ چپ رہیں لیکن وہ اور بھی چلا کر بولے ۔ اے مالک ابن داؤد ہم پر رحم کریں۔

حضرت متی بتاتے ہیں کہ " لوگوں "نے انہیں جھڑکا ۔ حضرت مرقس کہتے ہیں کہ" بہتوں نے " اور حضرت لوقا بتاتے ہیں کہ "جو لوگ آگے جاتے تھے و ہ اس کو (اندھے کو) جھڑکنے لگے۔ "

جھڑکا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان اندھوں کو اس لئے جھڑکا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسیح ناصری کو ابن داؤد کا خطاب دیا جائے کیونکہ یہ بڑی عزت کا خطاب تھا اور اس سے مسیح موعود مراد تھا۔ جو اس شرح کومانتے ہیں وہ (حضرت لوقا 19باب 39آیت ) پیش کرتے ہیں۔ اس مقام میں فریسیوں کی بابت یہ لکھا ہے کہ جب انہوں نے لوگوں کو مسیح کی تعریف کرتے دیکھا تو ان کو ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی ۔ اور وہ اس طرح کہ بجائے خود روکنے کے انہوں نے مسیح سے درخواست کی کہ وہ انہیں روکے۔لیکن آئت زیر نظر سے معلوم ہوتا کہ اس موقعہ پر فریسی نہیں پر لوگ ان اندھوں کو ابن داؤد کہنے سے روکتے ہیں۔ اس سے بہتر خیال یہ ہےکہ جو لوگ یہاں موجود تھے وہ فریسیوں کی طرح کینہ ور اور متعصب نہ تھے بلکہ سادہ لوح اور سیدھے سادے تھے۔وہ مسیح کی عزت کرتے تھے اور اس کی باتیں سننا چاہتے تھے۔ پس اغلب ہے کہ جب ان اندھوں نے شور مچا نا شروع کیا تو انہوں نے ان کو اس لئے ڈانٹا کہ اس کے کام اور کلام میں خلل اندازی نہ ہو۔

لیکن ان کےدھمکانے سے یہ اندھے چلانے سے باز نہ آئے بلکہ اور زور سے چلانے لگے چونکہ وہ بہت محتاج تھے اور امید رکھتے تھے کہ مسیح ان کی سنے گا اور ان کو شفا بخشے گا لہذا وہ اور بھی زیادہ چلانے لگے ۔ حضرت مرقس اور حضرت لوقا نے جو فعل چلانے کے لئے استعمال کیا ہے وہ یونانی میں استمرار کی صورت رکھتا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنا چلانا بند نہ کیا۔ بلکہ اسے برابر جاری رکھا۔ یعنی برابر چلا تے رہے ۔ یہ حقیقی دعا کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔

اس بیان سے کئی عمدہ نصیحتیں اخذ کی گئی ہیں۔ مثلا بعض بزرگوں نے کہا ہے کہ اس بیان میں کئی لوگوں کے روحانی تجربوں کی ایک سچی تاریخ پائی جاتی ہے جب وہ اپنی خرابی کو دیکھ کر اور دنیا کے متنفر ہوکرمسیح کی طر ف راجع ہوتے ہیں تو سینکڑوں رکاوٹیں درپیش آتی ہیں اور وہ مسیح کے دشمنوں کی طرف سے نہیں آتی ہیں۔ بلکہ ان لوگوں کی طرف سے جو اپنے تیئں اس کے دوست اور رفیق سمجھتے ہیں۔ پر جب لوگ ان مشکلات پر غالب آجاتے ہیں اور مسیح کا پیچھا نہیں چھوڑتے تو مسیح ان کوبلاتے ہیں۔ اس کے بعد وہی لوگ جو پہلے ان کی دل شکنی کا باعث تھے اب ان کو تسلی دیتے اور ان کی تعریف کرتے ہیں۔

آیت نمبر ۳۲۔مسیح نے کھڑے ہوکر انہیں بلایا او رکہا ۔ تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہارے لئے کروں؟

کھڑے ہوکر ۔ یعنی کچھ عرصہ تک ان کے ایمان کی آزمائش کرکے اور انہیں سرگرم پاکر آخر کار وہ ان کی مدد کے لئے ٹھیر گئے۔ وہ کبھی کسی کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتے تھے۔

انہیں بلایا۔ حضرت مرقس کہتے ہیں کہ" مسیح نے کھڑے ہوکر کہا ۔ اسے بلاؤ ۔ پس انہوں نے یہ اندھا جس کا نام برتمائی تھا" اپنا کپڑا پھینک کر اچھل پڑا اور مسیح کے پاس آیا" معلوم ہوتا ہے کہ برتمائی نے اپنا کپڑا اس لئے پھینک دیاکہ مسیح کے حکم کوبجالائے اور کوئی چیز اس کے چلنے کی تیزی کو نہ روکے۔ کیا اس سے ہم یہ نہیں سیکھتے کہ ہمارا فرض ہے کہ مسیح کے پاس آنے کے لئے ہر چیز کو ہر تعلق کو ہر قسم کے مال واسباب کو جو بوجھ بن کرہم کو چلنے نہیں دیتا ترک کردیں۔ (دیکھو حضرت متی 13باب 44تا 46آیت اور خط فلپیوں 3باب 7آیت )۔

تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہارے لئے کروں ؟ جب وہ اندھے مسیح کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے یہ سوال کیا" تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہارے لئے کروں ؟اس سوال سے اس کی رضامندی ظاہر ہوتی ہے۔ یعنی اس سے مترشح ہے کہ وہ برکت دینے کوتیار ہے۔ اورنیز یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ دعا مانگنے والوں کا ایمان اور امید تازہ اور مضبوط ہوجائے۔ علاوبریں اس کو یہ منظور تھاکہ وہ عام طور پر رحم کے لئے دعا نہ کرے بلکہ اپنی خاص ضرورت کو محسوس کرکے اسے اس کے روبرو پیش کریں۔

آیت نمبر ۳۳۔ انہوں نے مسیح سے کہا اے مالک یہ کہ ہماری آنکھیں کھل جائیں۔

اب اس کے سوال کے جواب میں انہوں نے ایک خاص برکت جس کی ضرورت ان کو تھی اس کے سامنے پیش کی ۔ اب تک وہ عام طور چلارہے تھے۔ اب آنکھوں کی بینائی مانگنے لگے۔

آیت نمبر ۳۴۔مسیح کو ترس آیا اور اس نے ان کی آنکھوں کوچھوا اور وہ فوراً دیکھنے لگے اور اس کے پیچھے ہولئے۔

آنکھوں کے چھونے کا ذکر حضرت مرقس اور حضرت لوقا نہیں کرتے۔ آنکھوں کو چھونا ان اندھوں کے لئے اس بات کا نشان تھا کہ جس نے ان کی آنکھوں کو چھوا ہے وہی ان کو بینائی بھی بخشنے والا ہے ۔حضرت لوقا وہ الفاظ بھی رقم کرتے ہیں جومسیح کی زبان سے نکلے۔ "پھر بینا ہوجا" یہ الفاظ مسیح کی قدرت پر دلالت کرتے ہیں اور حضرت مرقس اور حضرت لوقا یہ الفاظ بھی قلمبند کرتے ہیں " تیرے ایمان نے تجھے اچھا کیا" تونے اپنے ایمان کے سبب سے شفا کی برکت حاصل کی۔

آپ کے پیچھے ہولئے۔ حضرت مرقس بتاتےہیں کہ برتمائی راہ میں اسے کےپیچھے ہولئے۔ حضرت لوقا بتاتے ہیں کہ " خدا کی بڑائی کرتا ہوا اس کے پیچھے ہولیا" اور سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ انہوں نے بینائی پاکر مسیح کی پیروی اختیار کی۔ اور نہ صرف خود خدا کے نام کی بڑائی کی بلکہ اوروں سے بھی کروائی ۔ کیونکہ حضرت لوقا ہمیں بتاتے ہیں کہ سب لوگوں نے دیکھ کر خدا کی حمد کی ۔"

نصیتحیں اورمفید اشارے

1۔اس معجزے سے ہم کئی باتیں سیکھتے ہیں (1)لوگ اکثر اوقات کئی اشخاص کونظر حقارت سے دیکھتےہیں اور انہیں مسیحی ہونے کے قابل نہیں سمجھتے۔ مگر انجام کار انہیں لوگوں سے خداوند کا جلال ظاہرہوتا ہے۔ (2)اکثر اوقات تہذیب کو چھوڑ کر گہری سرگرمی سے کام لینا پڑتا ہے۔ (3)اکثراوقات جو روک سدراہ ہوتی ہے وہی خدا کی برکت کے متلاشیوں کے لئے زیادہ اشتعال کا باعث ہوتی ہے

2۔مسیح دکھ کی آواز کو سن لیتے ہیں خواہ کیسا ہی شور کیوں نہ ہوتا ہو۔

3۔مگر وہ ہر چلانے والے سے یہی پوچھتے ہیں "تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہارے لئے کروں" ہماری دعاؤں میں اکثر اوقات یہ نقص پایا جاتاہے کہ ہم رٹے ہوئے لفظوں اور حفظ کئے ہوئے محاوروں کو اپنی ضرورت محسوس کئے بغیر دعاؤں میں استعمال کرتے ہیں۔ مسیح چاہتے ہیں کہ ہم پہلے اپنی خاص ضرورت کو محسوس کریں۔ اور پھر دعا کریں۔ 

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا, معجزات المسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (12320)

Post a Comment

English Blog