en-USur-PK
  |  
03

جنم کے اندھے کوشفا بخشنا

posted on
جنم کے اندھے کوشفا بخشنا

THE MIRACLES OF CHRIST

معجزاتِ مسیح

18-Miracle   

Jesus walks on the Water

John 9:1-12

 

 

جنم کے اندھے کوشفا بخشنا

۱۸ ۔معجزہ

انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا۹باب ۱تا۱۲

مرحوم علامہ طالب الدین صاحب بی ۔ اے

؁ ۱۹۰۵ء

جس اندھے کاذکر اس باب میں پایا جاتا ہے اس کی تاریخ اسی تفصیل اور تازگی سے پر ہے کہ وہ معجزہ جس پر اب ہم غور کرنے کو ہیں انسان کی بناوٹ نہیں سمجھا جاسکتا ۔ بلکہ برعکس اس کے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کا رقم کرنے والا چشم دیدہ واقعات کو قلمبند کررہا ہے۔اس معجزے کی تاویلیں بھی قسم قسم کی پیش کی گئی ہیں۔ مثلاً کوئی کہتا ہے کہ جو شخص اندھا بتایا گیا ہے اس کی آنکھیں صرف سوجی ہوئی تھیں اورمسیح نے فقط سوج کو دور کیا۔ کوئی کہتا ہے کہ 39آیت کی غلط فہمی سے اس معجزه کا خیال برپا ہوا۔اور بعض کی یہ رائے ہے کہ یہودیوں میں یہ کہانی مروج تھی کہ نعمان کو کوڑھ یردن میں غسل کرنے سے جاتا رہا ۔انجیل نویس اس کی نقل میں ایک اندھے کو شیلوخ کے حوض میں غسل دلاتے ہیں تاکہ الیشع کی طرح مسیح کی بھی عزت کی جائے۔ پھر بعض یہ کہتے ہیں کہ صرف تعلیمات کی غرض سے یہ معجزہ گھڑا گیا ہے۔لیکن جو لوگ بے تعصب اور انصاف پسند ہیں وہ بیان کی تفصیل اور سادگی اور تازگی کو دیکھ کر ان بے اور فضول تاویلوں کو رد کریں گے ۔

آیت نمبر ۱۔پھر جناب ِ مسیح نے جا تے ہوئے ایک شخص کو دیکھا جو جنم کا اندھا تھا۔

لفظ"پھر "اس تاریخی بیان کو آٹھویں باب سے ربط دیتا ہے (8باب 59)عید خیام کے خاتمہ کے ایک روز بعد یہ معجزہ وقوع میں آیا۔ کیونکہ یہ معجزہ سبت کے دن واقع ہوا ۔ اور عیدخیام کے آخر میں جو دن آتا تھا وہ بھی سبت کا دن ہوتا تھا۔(دیکھوآیت 4)بمقابلہ توریت شریف کتاب ِ احبار 23باب 39آیت )اور جس جگہ پر یہ معجزہ وقوع میں آیا وہ کہیں ہیکل کے آس پاس ہوگی جہاں لنگڑے اندھے اور دیگر مریض بیٹھے رہا کرتے تھے (انجیل شریف اعماالرسل 3باب 1تا 2آیت )لیکن اس خیال پر دو اعتراض کئے جاتے ہیں ایک یہ کہ 8باب سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح اکیلا تھا جس وقت وہ ہیکل سے نکلا ۔ مگر اس جگہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے شاگرد بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس  طرح مسیح اکیلا خطرہ سے بچ نکلا اسی طرح اس کے شاگرد بھی ایک ایک کرکے نکل آئے ۔لیکن باہر آکر پھر اس سے مل گئے ۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ 8باب سے معلوم ہوتاہے کہ مسیح سنگسار کئے جانے کے خطرے میں تھے۔ پس ہو نہیں سکتا کہ وہ اسی روز خاطر جمعی اور سکون دلی کے ساتھ اور اسی جگہ کے قریب وجوار میں ایک ایسا معجزہ دکھاتے جیسا کہ یوحنا 9باب میں درج ہے۔ لیکن واضح ہو کہ مسیح اسی قسم کے موقعوں پر کمال استقلال اور بے ضطرابی سے محبت اور فضل کے کاموں میں مشغول ہوکر یہ ثابت کیا کرتا تھا کہ میں خداوندوں کا خداوند اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں۔ یہاں ہم اس کے اطمینان اور رحم کی ایک نہائت خوب صورت فوٹو پاتے ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بہ مشکل تمام ابھی ابھی یہودیوں کے پتھروں سے بچا ہے اور اب بھی اس کی جان معرض خطرے میں ہے مگر پھر بھی وہ اس کا ر خیر  کو انجام دینے کے لئے  ٹھہر جاتا ہے (مقابلہ کرو اس کے ساتھ 11باب 7تا 11آیت )اس مقام میں بھی وہی استقلال وہی دلیری وہی بے اضطرابی عیاں ہے۔ جو اس 9باب سے متر شیح ہے۔ لکھا ہے کہ یہ شخص جنم کا اندھا تھا۔ شائد اس آدمی کی تاریخ شاگردوں کو معلوم ہوگئی ہوگی۔کیونکہ یروشلم کے گداؤں میں مشہور تھا۔ بہت لوگ اس کے حالات سے واقف تھے (دیکھو آیت 8)یا شائد وہ خود لوگوں کو بتادیتا تھاکہ میں جنم کا اندھا ہوں تاکہ وہ اس پر ترس کھائیں اور اسے خیرات دیں ممکن ہے کہ شاگردوں نے ان صورتوں میں سے کسی صورت میں اس کے حالات سے واقفیت پیدا کی۔ مسیح نے اس اندھے کو دیکھا اور شاگرد جو اس کے اصول سے واقف تھے اس سے ایک سوال کرتے ہیں جو دوسری آیت میں درج ہے ۔

آیت نمبر ۲۔اور آپ کے شاگردوں نے آپ سے پوچھا کہ اے مولا کس نے گناہ کیا تھا جو یہ اندھا پیدا ہوا ۔ اس شخص نے یا اس کے ماں باپ نے؟

اب سوال یہ ہے کہ شاگردوں کا یہ سوال کس بنا پر مبنی ہے ؟اس سوال کےدوسرے حصے کا حل سہل ہے کیونکہ وہ ٹکڑا اس شرح کے مطابق ہے جو فریسی (توریت شریف کتابِ خروج 25باب 5آیت )کیا کرتے تھے ۔وہاں اس بات کا ذکر پایا جاتا ہے کہ خدا باپ دادوں کی بدیوں کی سزا ان کی اولاد کو کئی پشت تک دیتا ہے ۔لیکن ان کے سوال کے پہلے حصہ کی تشریح کرنا ذرا مشکل کام ہے۔ تین چار رائیں اس امر میں مروج ہیں (الف) بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہودی آواگون کو مانتے تھے۔ پس شاگرد خیال کرتے تھے کہ اس شخص کے اندھا پیدا ہونے کا یہ سبب ہوگاکہ اس نے کسی پہلی جون میں ضرور کوئی گناہ کیا ہوگا  ۔ یہ عقیدہ عام یہودیوں کے درمیان مروج نہ تھا مگر بعد میں بعض فلسفانہ طبعیت کے یہودی کیبلسٹس اس عقیدہ کو ماننگے لگ گئے تھے (ب )بعض خیال کرتے ہیں کہ یہودی یہ بھی مانا کرتے تھے کہ روحیں دنیا میں آنے سے بہت پہلے خلق کی جاتی ہیں اور جسم میں داخل ہونے سے پہلے گناہ کرسکتی ہیں۔ یہ خیال بھی پکے اور سچے یہودیوں کے درمیان  عام نہ تھا ۔ افلاطونی فلسفہ  کے وسیلے اس خیال نے اسکندریہ کے یہودیوں کی تھیالوجی میں راہ پائی مگر عام یہودی اس کے بالکل قائل نہ تھے (ُج) یہودیوں کے درمیان یہ خیال بھی مروج تھاکہ بچہ ماں کے رحم میں بھی گناہ کرسکتا ہے۔ اور اس کے ثبوت میں وہ یعقوب  اور عیساؤکا قصہ پیش کیا کرتے تھے ۔(توریت شریف کتابِ پیدائش  25باب 20تا 23آیت )لائٹ صاحب  اس خیال کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے بعد کئی اور مفسر بھی اسی رائے کو ماننے لگ گئے کہ شاگردوں کا سوال یہودیوں کے اس عقیدے  پر مبنی ہے (د)پھر ایک شرح یہ بھی ہے کہ شاگرد یہ مانتے تھے کہ خدا نے پہلے ہی سے جان لیا تھا کہ یہ شخص دنیا میں جاکر فلاں گناہ کا مرتکب ہوگا۔ پس اس نے اس کو اس کے گناہ کی سزا پہلے ہی سے دیدی اور وہ جنم ہی سے اندھا پیدا ہوا۔ مگر اس خیال کی کوئی نظیر کلام الہٰی میں موجود نہیں اور کھبی کسی شخص نے دنیا کی خرابی اوردکھ کی یہ شرح نہیں کی اور نہ کوئی کرسکتا ہے ۔کیونکہ ہم سب مانتے ہیں کہ جیسا کوئی کرتا ہے ویسا بھرتا ہے ۔ مگر یہ بات بالکل انسان کی طبعیت  اور اصول کے خلاف ہے کہ کسی شخص کو جرم کے ارتکاب  سے پہلے سزا دی جائے ۔

بزرگ  کری ساسٹم صاحب فرماتے ہیں کہ جب مسیح نے بیت حسدا کے حوض پر 38برس کے  بیمار کو شفا بخشی ۔ اسوقت اس نے اس کو کہا کہ اگر تو پھر گناہ کرے گا تو اس سے زیادہ مصیبت میں گرفتار ہوگا۔ اور ان لفظوں سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ گویا اس کی بیماری کسی خاص گناہ کا نتیجہ ہے شاگرد اس وقت مسیح کے ساتھ تھے اور انہوں نے مسیح کے الفاظ کو سنا تھا۔ پس اب انہوں نے اس مریض کو دیکھا تو خیال کیا شائد اس نے بھی کوئی گناہ  کیا ہوگا جس کے سبب سے یہ اندھا پیدا ہوا۔ سو وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ اے مولا کیا اس نے کوئی گناہ کیا تھا جو یہ اندھا  پیدا ہوا۔ ہماری ناقص رائے میں یہ خیال درست معلوم ہوتا ہے وہ اس بات کو مانا کرتے تھے کہ انسان اپنی ماں کے پیٹ میں نیکی  اور بدی کا مرتکب ہوسکتا ہے ۔ پر یہ خیال ہم کو درست نہیں لگتا کہ شاگرد یہ سوال اس واسطے کرتے ہیں کہ یہودیوں  کے درمیان آواگون کا عقیدہ مروج تھا۔

تاہم یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ دکھ گناہ کانتیجہ ہے کہ گو یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ ہر تکلیف کسی خاص گناہ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اور نہ یہ فیصلہ درست ہے کہ جس قدر کوئی شخص اس دنیا میں مصیبت زدہ ہوتا ہے اسی قدر اس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ فیصلہ کچھ اسی قسم کا ہے جس قسم کا حضرت  ایوب کے دوستوں نے کیا تھا۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ ہر بشر اس گناہ آلودہ دنیا میں گناہ کے خمیر کے ساتھ آتاہے اور خدا جو ہر شے سے اپنا جلال ظاہر کرواتاہے موجودہ بدی کو بھی اپنے قبضہ میں رکھ کر (گو اس کا بانی نہیں ہے)اس کے وسیلے سے اپنی بزرگی ظاہر فرماتا ہے ۔

آیت نمبر ۳۔جناب ِ مسیح نے جواب دیاکہ نہ اس نے گناہ کیا تھا اور نہ اس کے ماں باپ نے بلکہ یہ اس لئے ہواکہ خدا کے کام اس کے ذریعے سے ظاہر ہوں۔

سیدنا مسیح کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندھا پیدا ہونے کی وجہ اس کا کوئی خاص گناہ ہے اور نہ اس کے ماں باپ کا بلکہ کچھ او رہی مطلب ہے۔ٹرنچ صاحب کہتے ہیں۔ کہ سیدنا مسیح نہ اس کے ماں باپ کے گناہ کا اور نہ اس کے گناہ کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ اس جگہ صرف اپنے شاگردوں کو اس ناقص عادت سے منع کرتے ہیں جس میں ہمدردی نہیں پائی جاتی اور جو دوسرے لوگوں کے پوشیدہ معاملات کی نسبت طرح طرح کے فرضی خیالات قائم کرتی رہتی ہے ۔ جو حضرت ایوب کے دوستوں کی طرح لوگوں کے دکھوں کی شرح کے لئے یہ تصور کرتی ہے کہ ضرور انہوں نے کوئی نہ  کوئی گناہ کیا ہے جس کی سزا اب بھگت رہے ہیں۔ پس مسیح کا مطلب یہ تھا کہ اس شخص کا اندھا پن اس کے یا اس کے ماں باپ کے کسی خاص گناہ کا پھل نہیں لہذا اندھا پن کی وجہ نہ اس شخص کے اور نہ اس شخص کے ماں باپ کے گناہ میں ڈھونڈنی چاہیے۔ پر یہ دیکھنا چاہیئے  کہ جو دکھ دنیا میں پایا جاتا ہے ا سکی وجہ اور خصوصاً اس اندھے کے اندھا پن کی کیا عمدہ شرح کی جاسکتی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ اس نابینا کی کورچشمی ایک اعلیٰ مقصد رکھتی ہے یعنی یہ کہ "خدا کے کام اس کے ذریعہ ظاہر ہوں"یایو ں کہیں کہ اس بیماری اور اس بیماری کی مدافعت کے وسیلے خدا کی رحمت اور جلال آشکارا ہوں تو بھی ہم مسیح کے ان الفاظ سے یہ نتیجہ نہ نکالیں کہ خدا کا یہ مطلب تھا کہ اس شخص کو صرف ایک وسیلہ بنائے اور اس کے دکھ کے رفع کرنے سے مسیح کی قدرت دوسروں پر ظاہر کرے۔ کیونکہ مسیح کے کاموں کا دائرہ بہت وسیع ہوتاہے اور اس میں اس شخص کی دائمی بہبودی بھی شامل تھی۔ اس میں شک نہیں کہ اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ جو کام اس اندھے پر کیا جائے وہ دنیا پر ظاہر ہومگر اسی طرح اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ مسیح کی قدرت کااظہار خود اس شخص پر بھی طالع ہو۔ پس خدا کی تجویز میں یہ بات بھی داخل تھی کہ اس شخص کو ہمیشہ کی زندگی کے نور میں لانے کے لئے تھوڑی دیر تک بظاہر  تاریکی میں رکھے تاکہ پھر اس کی  آنکھ کی تاریکی اور نیز اس کے دل کی تاریکی پر ایک دم اعلیٰ نور کی شعائیں جلوہ گر ہوں اور آفتاب  صداقت اپنے پروں میں شفا لئے ہوئے اس پر طالع ہو تاکہ اس کی تمام جسمانی اور روحانی بیماریاں دور ہوجائیں مگر یہ اس کی کامل تجویز کا صرف ایک حصہ تھا یا یوں کہیں کہ اس کے ازلی ارادے کے موافق یہ حصہ اس بڑی تجویز میں شامل تھاجس کے وسیلے خدا کے اکلوتے  کا جلال اور قدرت دنیا پر ظاہر ہونے والا تھا (انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا 11باب 4آیت اور خط اہل رومیوں 5باب 20آیت ،9باب 17آیت ،11باب25آیت )۔

واضح ہو کہ مسیح یہ نہیں کہتے کہ اس آدمی نے اور اس کے ماں باپ نے کبھی کوئی گناہ نہیں کیا اس کامطلب صرف یہ ہے کہ اس کااندھا پن نہ اس کے اورنہ اس کے ماں باپ کے کسی خاص گناہ کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ خدا کے کام وہی کام ہیں جو مسیح کے وسیلے کئے جاتے ہیں۔ جو کام اس سے باہر ہوتے ہیں وہ اس کے نہیں ہیں۔

آیت نمبر ۴،۵۔جس نے مجھے بھیجا ہے ہمیں اس کے کام دن ہی دن میں کرنے ضرور ہیں۔ وہ رات آنے والی ہے جس میں کوئی شخص کام نہیں کرسکتا ۔ جب تک میں دنیا میں ہوں دنیا کانور ہوں۔

چوتھی اور تیسری آیت کو لفظ"کام " باہم ملاتا ہے یعنی جنابِ مسیح کا یہ مطلب ہے کہ اندھوں کی بینائی دینا ان کےبڑے بڑے کاموں میں میں سے ہے جو خدا نے میرے لئے مقرر کئے ہیں۔ اورمجھے لازم ہے کہ میں اس کام کو "د ن ہی دن " یعنی اپنی زندگی کے زمانہ میں انجام دوں الفاظ"دن ہی دن "اور "رات آنے والی ہے "کا تعلق ہمارے مولا کی زمینی  زندگی کےسا تھ ہے۔ یعنی جب وہ دنیا میں تھے تو وہ اس کے لئے کام کا وقت تھا ہر کام دن کو کیا جاتا ہے لہذا وہ زمانہ دن سے مشابہ تھا۔ اور جب وہ یہاں سے چلا گیا تو اس کے ذاتی اور شخصی طور پر کام کرنے کا زمانہ بند ہوگیا۔ یہ خیال ہمارے دن اور ہماری رات سے ا ستعارہ کیا گیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں دن کام کا وقت ہے اور رات بہ سبب اپنے اندھیرے کے کام کے حق میں موزون نہیں ہوتی کیونکہ اس میں طرح طرح کی رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ اب کو اس اپنی حضوری سے دنیا کو منور کرنے کا موقعہ حاصل تھا۔ پس وہ خود اپنے ہاتھ سے کام کرسکتا تھا۔ اور جانتا تھا کہ وقت آنے والا تھا جس میں پھر یہ موقعے اس طرح کا کام نہ کرنے کو مجھ نہ ملیں گے ۔

اس تشریح میں بعض نے یہ مشکل  محسوس کی ہے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ مسیح یہ کہے کہ میرے بعد کوئی شخص کسی طرح کا کام نہ کرے گا۔ کیونکہ اس کے بعد اس کے شاگردوں نے بڑے بڑے کام کئے اور ان کو بہت سی روشنی حاصل ہوئی اس دقت کا جواب یہ ہے کہ مسیح کے ان الفاظ"رات آنے والی ہے جس میں کوئی شخص کام نہیں کرسکتا "یہ مطلب نہیں کہ اس کے بعد کوئی کام نہیں کرے گا۔ بلکہ یہ جس شخص نے دن کو کام نہیں کیا وہ رات کو بھی اسے کبھی نہیں کرسکے گا ۔ اور اس مثل کو اپنے ہی اوپر چسپاں  کرتا ہے۔

جس نے مجھے بھیجا ہے ہمیں اس کے کام ۔ غور کیجئے کہ مسیح پہلے جملہ میں واحد متکلم کا صیغہ استعمال کرتا ہے یعنی خدا کی طرف سے بھیجے جانے میں وہ شاگردوں کو اپنے ساتھ شامل نہیں کرتا ۔ کیونکہ شاگرد وں کا بھیجنے والا وہ خود ہے پر خدا کے کاموں کی انجام دہی میں شاگرد اس کے ساتھ شامل ہیں۔ وہ اسکے ہم خدمت ہیں۔

جب تک میں دنیامیں ہوں۔یہ الفاظ عام اور وسیع طور پر ہمارے مولا کے اس دنیا میں آنے کے مقصد کو ظاہر کرتے ہیں گویا وہ یہ فرماتے ہیں کہ میں اس دنیا میں آفتاب اور روحانی رہنما بن کر آیا ہوں تاکہ انسان کو اس کے ذاتی اندھیرے سے رہائی دوں لہذا لازم ہے کہ جب تک میں اس دنیا میں ہوں تب تک پورے پورے طور پر اس کا نور بنو ں یعنی اپنے تئیں بنی آدم کی روحوں کا نجات دہندہ اور ان کے جسموں کو شفا دینے والا ثابت کروں۔ پس مطابق اس خیال کے وہ اس اندھے کو دیکھ کر کہتا ہے کہ میں دنیا کا نور ہوں اور اس سے بڑھ کر اور کون سا کام میری خاصیت سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے کہ میں اس اندھے کو جس نے کبھی روشنی کی صورت نہیں دیکھی نور بصارت  سے مالا مال کروں اور یہ ظاہر کروں کہ یہ میرے اس اعلیٰ کام کی علامت ہے جس سے میں روحانی تاریکی کو دور کرکے لوگوں کو روحانی نور سے بہرور کرتا ہوں۔

آیت نمبر ۶،۷۔یہ کہہ کر سیدنا مسیح نے زمین پر تھوکا اور تھوک سے مٹی سانی اور وہ مٹی اندھے کی آنکھوں پر لگا کر اس سے کہا جا شیلوخ کے حوض میں دھولے (جس کا ترجمہ بھیجا ہوا ہے )پس اس نے جاکر دھویا اور بینا ہوکر واپس آیا۔

ہمارے مولا نے جو کچھ یہاں تھوک کے ساتھ کیا وہی ایک بہرے گونگے کو شفا بخشنے میں کیا (انجیل  شریف بہ مطابق حضرت مرقس 7باب 33آیت )اور وہی ایک اور اندھے کو شفا بخشتے وقت کیا۔ (حضرت مرقس 8باب 23آیت )لیکن مٹی کا ساننا اس معجزے کے ساتھ خاص ہے اب ہم یہ نہیں بتاسکتے کہ اس فعل سے مسیح کی کیا غرض تھی۔ بیشک نہ تھوک میں اور نہ اس مٹی میں جو تھوک سے سانی گئی تھی کوئی ادنی ٰ شفا بخش صفت پائی جاتی تھی کہ اس سے آنکھ روشن ہوجاتی ۔ تاہم یہ سوال برپا ہوتا ہے کہ مسیح نے کیوں اس وسیلے کو استعمال کیا؟اور کیوں اس نے فقط اپنے کلام سےاس کو شفا نہ بخشی ؟

واضح ہو کہ جیسا کہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ ان وسائل میں کوئی ایسی قدرت نہ تھی جس کے بغیر وہ یہ معجزہ نہ کرسکتا تھا ۔ وہ اس قسم کے وسیلوں کا محتاج نہ تھا چنانچہ ہم دیکھتے کہ ایک اور اندھے کو بصارت عطا کرتے وقت اس نے کوئی اس قسم کا وسیلہ استعمال نہ کیا۔ (دیکھو حضرت متی 20باب 30تا 34آیت )پس ان وسائل کو استعمال کرنے کا مطلب صرف اخلاقی ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ اس اندھے شخص کے دل میں ان ظاہری وسیلوں کے استعمال سے ایمان پید ا کیا جائے اور اس کے ایمان کی آزمائش  بھی کی جائے۔علاوہ بریں وہ ہم کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ وہ نیک کام کرنے میں ایک ہی طریقہ کا پابند  نہیں بلکہ لوگوں کی روحوں اور جسموں کا بھلا کرنے میں طرح طرح کے طریقے کام میں لاتا ہے۔ اور پھر یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ اس میں طاقت ہے کہ مادی اشیاء میں اگر چاہے تو اپنی مرضی سے ایسی طاقت بھردے جو فی ذاتہ  ان میں موجود نہیں۔پس مٹی نے اس اندھے کی آنکھوں کو بینا نہیں کیا بلکہ مسیح کے کلام اور قدرت نے ۔ تاہم مٹی استعمال کی گئی ۔ اسی طرح پیتل کے سانپ میں بذاتہ کوئی خاصیت زہر کو دورکرنے کی موجود نہ تھی ۔تاہم خدا نے اس وسیلے کو استعمال کیا اور بنی اسرائیل کو جنہیں سانپوں نے کاٹ لیا تھا شفا بخشی ۔ بعض اشخاص کا گمان ہے کہ مٹی میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ابتدا میں خدا نے آدم کومٹی سے بنایا۔ جس نے مٹی سے اس آدمی کی آنکھوں کو روشن کیا اسی نے شروع میں مٹی ہی سے آدمی کوبنایا اور اس کی ساری طاقتیں اور حواس خمسہ اس کو عطا کئے۔

کہا جا شیلوخ کے حوض میں دھو لے ( جس کا ترجمہ بھیجا ہوا ہے )اس حکم کو سن کر الیشع کا حکم یادآتا ہے جو اس نے نعمان کودیا "جااوریردن میں نہا"(بائبل مقدس 2سلاطین 5باب 10آیت)اس حوض کا پانی دیگر حوضوں کی پانی کی مانند تھا۔ لہذا اس میں کوئی شفا بخش  خصوصیت نہ تھی۔ لیکن حو حکم دیا گیا تھا وہ ایمان کی آزمائش پر دلالت کرتا تھا۔ اور اس حکم کی اطاعت میں اس اندھے نے وہ برکت پائی جس کا وہ محتاج تھا۔

یہ حوض یروشلم کے پاس ایک وادی میں واقع تھا۔ اور اپنے پانی کے سبب جو ایک برساتی نالہ سے میں گرتا تھا نہائت مشہور تھا۔ اب تک اس حوض کی جگہ بتائی جاتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ وہی ہے جہاں مسیح کے زمانہ میں یہ حوض موجود تھا۔ اس حوض کاذکر نحمیاہ 3باب 15آیت اور یسعیاہ 8باب 6آیت میں آتا ہے۔ لائٹ فٹ صاحب فرماتے ہیں کہ بیت حسدا اور شیلوخ کے حوضوں میں ایک ہی نالے سے پانی آتا تھا۔

جس کا ترجمہ بھیجا ہوا ہے۔اس جملے کے متعلق ایک سخت مشکل پائی جاتی ہے اور وہ اس سوال کے وسیلے ظاہر ہوتی ہے کہ یہ جملہ معترضہ اس جگہ کیوں داخل کیا گیا ہے ؟کیوں حضرت یوحنا ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ شیلوخ کے معنی "بھیجا ہوا ہے " ضرور اس کا ترجمہ دینے میں اس کا کچھ نہ کچھ مطلب ہوگا ورنہ شیلوخ بغیر ترجمہ کے رقم کرنا کافی ہوتا۔ سب جوابوں سے عمدہ حل یا جواب اس سوال یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس حوض کے نام کے وسیلے اس اندھے کے دل کی توجہ اس کی طرف راجع کی گئی جو مسیحا یعنی خدا کا بھیجا ہوا تھا۔ سب خدا پرست ان الفاظ سے جو بار بار انجیل میں آتے ہیں "وہ جس کو خدا نے بھیجا ہے "مسیح مراد لیتے تھے۔ پس جب اس نے شیلوخ کا نام استعمال کیا تو اس بات کی طرف اشارہ کیاکہ جوشخص شیلوخ میں جانے کا حکم دیتا ہے وہ خدا کا بھیجا ہوا ہے جو ہر طرح کی بیماریوں کو دور کرنے والا ہے۔ پس حضرت یوحنا کا مطلب اس حوض کے معنی بیان کرنے سے یہ تھا۔ کہ گویا مسیح کے لئے اس حوض کا نام لینا نہائت موزون تھا۔ کیونکہ یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ "وہ جو خدا کا بھیجا ہوا "تھا ایسے حوض میں اپنا معجزہ دکھائے جو "بھیجا ہوا "کہلاتا تھا ۔

جس طر ح مسیح اپنے بندوں او راپنی کلیسیا کے لئے اس انجیل کے پانچویں باب میں بیت حسدا (رحمت کاگھر )ہے اسی طرح وہ اس باب میں ظاہر کرتا ہے کہ میں ہی شیلوخ وہ بھیجا ہوا ہوں جو تمام برکتوں کا سرچشمہ ہوں۔

پس اس نے جاکر دھویا اور بینا ہوکر واپس آیا۔ اس شخص نے مسیح کا کہنا مانا۔ جیسا اس کو کہا گیا تھا ویسا اس نے کیا ۔ اور اس فرمانبرداری کا یہ پھل اس کو ملاکہ اس کی آنکھیں روشن ہوگئیں۔

واپس آیا۔ بیان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسیح کے پاس واپس نہیں آیا بلکہ اپنے گھر یا اسی جگہ جہاں اکثر رہا کرتا تھا گیا۔ اور اس کےدوست او رہمسایہ اس نئے وقوعہ سے پہلے پہل واقف ہوئے۔

آیت نمبر ۸،۹۔ پس پڑوسیوں اور جن جن لوگوں نے اس کو بھیک مانگتے دیکھا تھا۔ کہا کیا یہ وہ نہیں جو بیٹھا بھیک مانگا کرتا تھا۔ بعض نے کہایہ وہی ہے اوروں نے کہا نہیں کوئی اس کے ہمشکل ہے ۔ مگر اس نے کہا میں وہی ہوں۔

یہ لوگ جو اس کو دیکھتے ہیں حیران ہوکر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ وہی نہیں جو بیٹھا بھیک مانگ کرتا تھا۔ اس کی آنکھوں کے کھل جانے سے اس کی صورت میں بڑا فرق آگیا تھا۔ اسی واسطے بعض کہتے تھے کہ یہ وہی ہے اور بعض کہتے تھے کہ اس کا ہم شکل ہے جو لوگ یہ کہتے تھے کے یہ وہی ہے وہ غالباً اس کے ہمسایہ تھے جو اس کو بخوبی جانتے تھے مگر جو اس کو اس طرح گہرے طور پر نہیں جانتے تھے وہ  کہتے تھے کہ اس کے ہمشکل ہے ۔ مگر یہ شخص خود ان کو یقین دلاتا ہے کہ میں وہی ہوں۔

اس پر وہ اس سے دریافت کرتے ہیں کہ ۔

آیت نمبر ۱۰۔تیری آنکھیں کس طرح کھل گئیں۔

کس نے تجھے کو شفا بخشی ۔وہ اس کا یہ جواب دیتا ہے ۔

آیت نمبر ۱۱۔اسی شخص نے جس کا نام عیسیٰ مسیح ہے مٹی سانی اور میری آنکھوں پر لگا کر مجھ سے کہا کہ شیلوخ کے حوض پر جاکر دھولے ۔ پس میں گیا اور دھوکر بینا ہوگیا۔

معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص نے مسیح کا نام ان لوگوں میں سے کسی سے سناہوگا۔ جو اس وقت پاس کھڑے تھے جبکہ مسیح اس سے گفتگو کررہے تھے۔ یقین ہے کہ ہمارے مولا اس وقت تک یروشلم میں مشہور ہوگئے تھے اور بہت لوگ کم ازکم اس کے نام سے واقف تھے۔یہ شخص بھی اس کی نسبت صرف اتنا ہی جانتا تھاکہ جس نے میری آنکھیں کھولیں ہیں وہ وہ ہے "جس کا عیسیٰ مسیح ہے "جس نے یروشلم میں ایک قسم کی حرکت پیدا کر رکھی ہے۔ اس سے بڑھ کر وہ اس کی نسبت کچھ نہیں جانتا لیکن جو کچھ مسیح نے اس کی آنکھیں روشن کرنے میں کیا تھا وہ اس کو خوب اچھی طرح یاد ہے۔ چنانچہ اسے یاد ہے کہ اس نے پہلے "مٹی سانی اور میری آنکھوں پر لگائی اور کہا شیلوخ کے حوض میں جاکر دھولے"ایک ایک بات اس کو یاد ہے۔

پس میں گیا اور دھوکر بینا ہوگیا۔ یہ اس کی گواہی ہے جو وہ مسیح کے کام اور اپنی اطاعت کے پھل پر دیتا ہے ۔

آیت نمبر ۱۲۔انہوں نے اس سےکہا وہ کہاں ہے ۔ اس نے کہا میں نہیں جانتا۔

لوگ اس کو دیکھناچاہتے ہیں اور یہ خواہش انسانی طبعیت کے موافق تھی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان لوگوں کا یہ ارادہ نہ تھا کہ مسیح کوکسی طرح کی تکلیف دیں بلکہ وہ صرف اس کو دیکھنے کی آرزو رکھتے تھے پر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لوگ چونکہ فریسیوں کے قبضے میں اور ان کے اصولوں کے پابند تھے لہذا سبت کے روز اس معجزے کے وقع میں آنے کو بہت اچھا نہ سمجھتے تھے۔وہ غالباً اسے فریسیوں کے پاس لے جاناچاہتے تھے ۔ لیکن وہ ان کو جواب دیتاہے کہ میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے ۔ مسیح کو یہ آرزو نہ تھی کہ وہ اپنے کاموں کے سبب لوگوں کے درمیان مشہور ہو۔ پس وہ اس اندھے کو شیلوخ میں جاکر غسل کرنے کا حکم دے کر چلا گیا  تھا اور اس کو معلوم نہ تھا کہ وہ کدھر چلا گیا ہے۔

آیت نمبر ۱۳،۱۴۔لوگ اس شخص کو جوپہلے اندھا تھا فریسیوں کے پاس لے گئے۔ اور جس روز مسیح نے مٹی سان کر اس کی آنکھیں کھولی تھیں وہ سبت کا دن تھا۔

جو لوگ اس معاملے کو شروع کرتے ہیں وہ اس شخص کے ہمسائے ہیں۔ ٹرنچ صاحب کا خیال ہے کہ ان لوگوں کی نیت بد نہ تھی مگر چونکہ اتنا بڑا معجزہ سبت کے روز واقع ہوا تھالہذا انہوں نے مناسب سمجھا کہ اس کی خبرد ینی پیشواؤں کی دی جائے۔

لفظ"فریسیوں "سے اس جگہ مراد غالباً سہنڈرن سے ہے جس کے سامنے مسیح نے 5باب میں اپنی صفائی اور بریت کے لئے تقریر کی۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سنہیڈرن کے شرکاء صرف فریسی ہی نہ تھے بلکہ ان میں صدوقی بھی شامل تھے مثلاً قیافا صدوقی تھا (نیز دیکھواعماالرسل 23باب 6آیت)لیکن فریسی تعداد میں زیادہ تھے اور ان کا اختیار عام لوگوں پر بہت چلتا تھا لہذا صرف فریسیوں کا یہاں ذکر کیا گیاہے او ریہی لوگ ہمارے مالک کے سخت دشمن تھے۔

آیت نمبر ۱۵،۱۶۔پھر فریسیوں نے بھی اس سے پوچھا۔۔۔۔اس نے ۔۔۔کہا ۔۔۔ مٹی سانی ۔۔۔ پس بعض فریسی کہنے لگے کہ یہ آدمی خدا کی طرف سے نہیں کیونکہ سبت کے دن کو نہیں مانتا مگر بعض نے کہا کہ گنہگار آدمی کیونکر ایسے معجزے دکھا سکتا ہے ۔ پس ان میں اختلاف ہوا۔

اب معجزہ کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ فریسی اس سے پوچھتے ہیں "تو کس طرح بینا ہوا؟"یہ شخص ان کو سادگی کے ساتھ بتادیتا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھیں روشن ہوئیں۔لیکن وہ بڑی چالاکی کے ساتھ یہ ہتھ کہنڈا کھیلتے ہیں کہ اپنی فتنہ پردازی سے پہلے اس کے ایمان میں رخنہ اندازی کرنا چاہتے ہیں ۔لہذا وہ اس کی رائے لینے سے پہلے اپنی رائے اس کو دیتےہیں کہ تمہیں اس آدمی کو خدا کی طرف سے نہیں سمجھنا چاہئیے کیونکہ وہ سبت کو نہیں مانتا ۔اگر وہ خدا کی طرف سے ہوتا تو سبت کے دن کوئی کام نہ کرتا۔ گویا وہ اب اشارتاًاس پر وہی الزام لگاتے ہیں جو انہوں نے ایک اور موقعہ پر صاف صاف طور پر لگایا تھا۔ او رکہا تھا "تو بدروحوں کے سردار کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے (حضرت متی 9باب 34آیت)لیکن ایسے لوگ بھی سنہیڈرن میں مو جودتھے جو نقودیمس  اور یوسف ارمتیار کی مانند تھے وہ صداقت کی مخالفت کو دیکھ کہ کہتے ہیں کہ "گنہگار آدمی کیونکر  ایسے معجزے دکھا سکتا ہے ؟"(مقابلہ کرو حضرت یوحنا 7باب 51آیت)لیکن اس قسم کے لوگ بہت تھوڑے تھے اور ان میں سے بھی بہت سے لو آخر کار مسیح کے دشمنوں کے گرد اب مخالفت میں گرفتار ہوگئے۔ مگر ا س موقعہ پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ سچائی کی طرف ہوکر اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ مگر ان کا سوال ایسے الفاظ اور طرز پر پیش کیا گیا ہے کہ اس سے معلوم ہوتاہے کہ وہ کسی قدر بزدل اور ڈرنے والے تھے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سوائے  اس سوال کے اور کچھ نہ کیا۔ ان سے یہ نہ بن آیا کہ وہ باقی ممبروں کو سمجھائیں کہ کسی شخص بغیر  اس کی سنے فتوے ٰلگانا انصاف سے بعید ہے ۔ ان لوگوں کا خیال یہ تھا اور وہ بالکل صحیح تھا کہ جو شخص اس معجزے کا دکھانے والا ہے وہ ضرور خدا کی طرف سے ہوگا اس نے خدا ہی کی مدد سے یہ معجزہ  دکھایا ہے۔ کیونکہ اگر خدا کے ساتھ نہ ہوتا تو وہ کب ایسا معجزه وجود میں لاسکتا ۔

"ان میں اختلاف ہوا۔"تین فعہ یہی جملہ حضرت یوحنا کی انجیل میں مستعمل ہوا ہے۔(یہاں اور 7باب 43آیت اور 10باب 19آیت میں )۔

آیت نمبر ۱۷۔انہوں نے پھر اس اندھے سے کہا کہ اس نے جو تیری آنکھیں کھولیں تو اس کے حق میں کیا کہتا ہے اس نے کہا وہ نبی ہے۔

ٹرنچ صاحب بیان کرتے ہیں کہ بعض اشخاص اس سوال کو دوسوالوں میں تقسیم کرتے ہیں۔"تو اس کے حق میں کیا کہتا ہے ۔کہ " اس نے تیری آنکھیں کھولیں ہیں؟"لیکن وہی ترجمہ صحیح ہے جو ہماری انجیل میں پایا جاتا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دو سوال نہیں بلکہ ایک ہی سوال کیا گیا تھا تاکہ اس شخص کی رائے مسیح کی نسبت معلوم ہو۔ اور اس کے جواب سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے ۔چنانچہ وہ کہتاہے کہ "وہ نبی ہے "واضح ہوکہ یہ سوال اس خالص نیت سے نہیں کیا گیا تھاکہ اس اندھے کی رائے اس معاملے میں لی جائے بلکہ غالباً اس لئے کیا گیا تھاکہ وہ اس کو اس سوال کے وسیلے اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال لیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ان کا اشارہ پاکر ان کی مرضی کے مطابق جواب دے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ (کر ساسٹم ) کہ یہ سوال ان لوگوں نے کیا تھا جو زیادہ راست پسند تھے اور مسیح کے نبی ہونے کے قائل تھے۔ ان کا  خیال تھاکہ اس آدمی کی رائے لے کر اس کے مخالف کچھ نرم ہوجائیں گے لیکن یہ گمان درست نہیں معلوم ہوتا۔

اس اندھے کا جواب غور طلب ہے وہ اپنے جواب میں یہ نہیں کہتا کہ میں اسے "خدا کا بیٹا " سمجھتا ہوں او ر نہ وہ یہ کہتا ہے کہ میں اسے مسیح موعود جانتا ہوں۔ ابھی ان باتوں کا علم اس کو حاصل نہیں ہوا۔ ابھی وہ صرف اس قدر جانتا ہے کہ جس شخص نے مجھے شفا بخشی وہ عجیب قسم کی قدرت رکھتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کا نبی ہے۔ لہذا وہ کمال دلیری سے اس پر گواہی دیتا ہے چنانچہ وہ کہتاہے کہ میری رائے اس کی نسبت یہ ہے کہ وہ خدا کا نبی ہے ۔ اسی گواہی سے اس کا ایمان شروع ہوتا ہے۔ وہ لوگ اس سے معجزے کی حقیقت دریافت نہیں کرتے ۔ بلکہ معجزہ دکھانے والے کے بارے میں اس کی رائے لینا چاہتے ہیں وہ ان کو یہی جواب دیتا ہے کہ میں اسے ایلیاہ اور الیشع کی مانند بڑا نبی جانتا ہوں۔

آیت 18سے 23تک ۔ اس مقام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اب اس اندھے کے ماں باپ کو بلاتے ہیں۔ غالباً ان کی یہ غرض تھی کہ ان سے جھوٹ بلواکر یہ شہادت دلوائیں کہ وہ اندھا نہیں پیدا ہوا ۔ لیکن وہ ان سے بھی کچھ مدد نہیں پاتے۔ کیونکہ اس کے والدین کے جواب سے معلوم ہوتاہے کہ وہ ان کے فریب میں آنا نہیں چاہتے مگر اس کے ساتھ یہ بھی روشن ہے کہ وہ سچائی کے سبب کسی تکلیف میں بھی گرفتار نہیں ہونا چاہتے سو وہ خود تو مشکل سے نکل جاتے ہیں مگر اپنے بیٹے کو اس پھنسا رہنے دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے بیٹے کی بلوغت کو غنیمت سمجھتے ہیں اور اسی آڑ میں اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ وہ اس سوال پر بحث کرنے سے بالکل انکار کرتے ہیں کہ اس کی آنکھیں کس طرح روشن ہوئیں۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ وہ اندھا پیداہوا تھا مگر اس بات کی نسبت خاموش ہیں کس طرح اس کو نور بصارت نصیب ہوا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر ہم ساری حقیقت بیان کریں تو ہمیں کچھ نہ کچھ مسیح کی توصیف میں کہنا پڑے گا۔ لیکن اس سے ہمیں وہ سزا اٹھانی پڑی گی جو سنہیڈرن  نے مقرر کی ہے ۔"واضح ہو کہ سنہیڈرن نے یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ مسیح نعوذ باالله جھوٹے یا فریبی ہیں۔ ان کا فیصلہ یہ تھاکہ جب تک اس کے دعاوی کی سچائی یا جھوٹ معلوم نہ ہوجائے اور اس پر سنہیڈرن کا جو کہ دینی پیشواؤں کی جماعت تھی فتوےٰ نہ لگ جائے تب تک کوئی اس کی رسالت کا اقرار نہ کرے اور اگر کوئی کرے گا تو وہ عبادت خانہ یعنی کلیسیائی رفاقت سے خارج کیا جائے گا۔

۱۸آئت میں یہ لفظ آئے ہیں۔"جب انہوں نے اس کے ماں باپ کو جو بینا ہوگیا تھا بلا کر "وغیرہ عبارت سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اس کے ماں باپ سے دریافت  کرنے کے بعد انہوں نے معجزے کا یقین کرلیا پر ایسا نہیں ہوا بلکہ برعکس اس کے ہم  یہ دیکھتے ہیں کہ وہ اس کے ماں باپ سے پوچھنے کے بعد بھی اس پر ایمان نہیں لاتے۔اور نہ اندھے کی بات کو سچ مانتے ہیں ۔

۱۹آئت۔ کر ی ساسٹم صاحب خیال کرتے ہیں کہ یہودیوں کے الفاظ "تمہار ا بیٹا " جسے تم کہتے ہو کہ اندھا پیدا ہوا "سے ظاہر ہوتا ہے کہ گویا یہودی اس کے ماں باپ کو فریبی  سمجھتے تھے کیونکہ وہ پوچھتے ہوئے کہتے ہیں "جسے تم کہتے ہو کہ اندھا پیدا ہوا ۔"حالانکہ یہ ٹھیک نہیں۔پس تم مسیح کے ساتھ سازش کرکے ہر جگہ مشہور کرتے پھرتے ہو کہ وہ جنم کا اندھا تھا۔ اور مسیح نے اس کی آنکھیں کھولی ہیں۔

آیت ۲۲۔"یہودیوں سے ڈر سے "یہ الفاظ چار مرتبہ حضرت یوحنا کی انجیل میں آئے ہیں۔ایک مرتبہ اسی جگہ پھر 7باب 12آیت 12باب 42آیت ،19باب 38آیت میں )۔

"یہودی ایکا کرچکے تھے کہ اگر کوئی اس کے مسیح ہونے کا اقرار کرے تو عبادت خانے سے خارج کیا جائے گا۔ ان الفاظ سے بے ایمانی کا کمینہ پن ظاہر ہوتا ہے۔یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح کی مخالفت میں لوگ کس درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ نیز یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ گواہی اور شہادت سے ایمان پیدانہیں ہوتا۔ اگر انسان صداقت کے ترک کرنے پر کمر بستہ ہو تو گواہی اور دلیل کار گر نہیں ہوتی۔

آیت نمبر ۲۳۔اس واسطے اس کے ماں باپ نے کہا وہ بالغ ہے اسی سے پوچھو۔

مذہبی حقوق سے خارج کئے جانے کے ڈر سے وہ کسی طرح کی ذمہ داری اپنے اوپر لینا پسند نہیں کرتے ۔ وہ کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نہیں نکالتے جس سے مسیح کی تعریف ہو کیونکہ وہ یہودیوں سے ڈرتے ہیں۔ پس وہ ساری تحقیقات کا بار اپنے بیٹے پر ڈال کر اپنا پیچھا چھڑاتے ہیں۔

آیت نمبر ۲۴،۲۵۔پس انہو ں نے اس شخص کو جو اندھا تھا دوبارہ بلا کرکہا کہ خدا کی تمجید کر۔ ہم تو جانتے ہیں کہ یہ آدمی گنہگار ہے ۔ اس نے جواب دیا میں نہیں جانتا کہ وہ گنہگار ہے یا نہیں۔ ایک بات جانتا ہوں کہ میں اندھا تھا اب بینا ہوں۔

دوبارہ بلاکر۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب ماں باپ کے اظہار لئے جاتے وقت اس وقت یہ شخص جو شفایاب ہوا تھا باہر تھا۔ اب وہ اسے پھر اند ر بلاتے ہیں اور ایسے طور پر اس سے مخاطب ہوتے ہیں کہ گویا انہوں نے کل حل دریافت کرلیا ہے اور اب انہیں اس کی فریب دہی میں کسی طرح شک وشبہ نہیں رہا۔ لہذا اب اس کے لئے اپنے قصور کو چھپانا عقل مندی کا کام نہیں ۔ وہ اس سے اصل حال دریافت کرنے کی خواہش نہیں رکھتے بلکہ اس پر ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ اوروں نے اپنی تقصیر کا اقرار کرلیا ہے۔اب تیرا فرض ہے کہ تو بھی اپنا قصور مان لے۔ورنہ نتیجہ اچھا نہ ہوگا۔ پس بہترہے کہ تو اقرار کرکے خدا کی تمجید کر ۔ اس فقرے سے بعضوں نے یہ مطلب لیا ہے کہ وہ اس بات کوتو مانتے تھے وہ جنم سے اندھا ہے اور اس بات کو بھی کہ اس کی آنکھیں کھل گئی ہیں۔ مگر اس بات کو نہیں مانتے تھے کہ مسیح نے اس کی آنکھوں کو معجزانہ طور پر کھولا ہے۔پس وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی بصارت از سر نو پانے کے متعلق خدا کی تعریف کرے اور اسے مسیح کی قدرت سے منسوب نہ کرے۔لیکن بعضوں کی یہ رائے ہے کہ وہ سرے سے اس بات کے انکاری تھے کہ اس کی آنکھیں کھولی گئی ہیں کہ وہ یہ نہیں مانتے تھے کہ وہ ندھا پیدا ہوا ہے او رکہ مسیح نے اس کی آنکھوں کو روشن کیا ہے۔ بلکہ وہ خیال کرتے تھے کہ یہ ان کی سازش تھی۔پس وہ اس کو ایک طور پر حلف دے کرکہتے ہیں کہ تو سچ بول اور خدا کی تمجید کر اور اس میں شک نہیں کہ یہ الفاظ حلف دے کر اقرار کروانے کے موقع پر استعمال کئے جاتے تھے (بائبل مقدس کتاب ِ یشوع 7باب 19آیت ۔1سموئیل 6باب 5آیت ،عزرا  10باب 11آیت ،خط دوم اہل کرنتھیوں 11باب 31آیت )۔

ہم تو جانتے ہیں کہ یہ آدمی گناہ گار ہے۔ اب وہ اپنے خیالات کی تصدیق میں یہ فتویٰ مسیح پر لگاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ تو سبت کا توڑنے والا ہے لہذا گناہگار آدمی ہے۔ اور خدا گنہگاروں کو ایسے ایسے عجیب معجزے دکھا نے کی طاقت نہیں دیتا۔

لیکن وہ شفا یافتہ شخص جونہائت دقیقہ سنج اور حاضر جواب آدمی تھا جناب مسیح کی سیرت کی نسبت ابھی کچھ نہیں کہتا۔ بلکہ بڑی حکمت سے یہ جواب دیتا ہے کہ اس کے گنہگار ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی رائے نہیں دیتا مگر میں اس وقوعہ کی حقیقت کا جوسرزد ہوچکا ہے انکار نہیں کرسکتا۔میرے حواس مجھ کو یہ بتاتے ہیں کہ میں آگے دیکھ نہیں سکتا تھا پر اب دیکھتا ہوں ۔ میں اپنے حواس کی گواہی کو کس طرح نادرست جانوں ؟پس میں ایک بات جانتا ہوں کہ میں اندھا تھا۔ اب بینا ہوں۔"اب اس سے تم جو نتائج نکالنا چاہو نکال لو۔ یاد رہے کہ اس کے اس کلام سے یہ ظاہر نہیں ہوتاکہ وہ مسیح کی بے گناہی کی نسبت شک میں تھا۔

آیت نمبر ۲۶تا ۳۴تک۔ ا ن آیات سے معلوم ہوتاہے کہ اب پھر نئی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہوتا ہے۔ پہلی دفعہ کی تحقیقات اس امر کی نسبت کی گئی تھی کہ آیا معجزہ واقع ہوا ہے یا نہیں اب اس بات کی تفتیش کی جاتی ہے کہ کس طرح وہ معجزہ وقوع میں آیا ؟اور جوجواب وہ شخص ان لوگوں کو دیتا ہے وہ بھی ان آیات میں قلممبند ہے۔

آیت نمبر ۲۶۔پھر انہوں نے اس سے کہا کہ اس نے تیرے ساتھ کیا کیا؟کس طرح تیری آنکھیں کھولیں؟

ان کا پہلا سوال یہ تھاکہ کس نے معجزہ کیا ؟اب دوسرا سوال یہ ہے کہ کس طرح کیا؟سوال کرنے والوں کو اب تک یہی یقین ہے کہ شائد کبھی کوئی نہ کوئی بات ایسی اس کے منہ سے نکلے گی جس کی بنا پر ہم مسیح کو گرفتار کرسکیں گے۔

آیت نمبر ۲۷،۲۸،۲۹۔ اس نے انہیں جواب دیا میں تم سےکہہ چکا اور تم نے نہ سنا دوبارہ کیوں سننا چاہتے ہو۔ کیا تم بھی اس کا شاگرد ہونا چاہتے ہو؟انہوں نے اسے برا بھلا کہہ کر ۔۔۔ہم جانتے ہیں۔۔۔وغیرہ۔

معلوم ہوتاہے کہ یہ شخص ان کے سوالات کی فضول اور غیر ضروری تکرار سے تنگ آگیا تھا۔ وہ دیکھتا ہے کہ یہ لوگ مجھے مجبور کررہے ہیں کہ میں اپنے حواس کی گواہی کو رد کروں۔پس وہ کہتا ہے کہ میں نے ایک مرتبہ تم کو اپنی شفایابی کا تمام قصہ سنا دیا پر تم نے کچھ توجہ نہ کی۔ اب سر نو اس بات کو پھر دھرانا کچھ فائدہ نہیں رکھتا۔ یاکیا اب اس لئے اسی قصے کو سننے کی درخواست کرتے ہو کہ " تم بھی اس کا شاگرد ہونا چاہتے ہو"اس آخری جملہ کی نسبت بعض کی یہ رائے ہے کہ اس شفا یافتہ شخص نے سنجیدہ طور پر یہ سوال نہیں کیا یعنی وہ دل سے اس بات کا قائل نہ تھا کہ اس سوال کا حقیقی منشا یہ ہے کہ سوال کرنے والا بھی اس پر ایمان لا نا چاہتے ہیں بلکہ وہ جانتا تھا کہ وہ کبھی ایمان نہ لائیں گے ۔پس اس نے یہ سوال صرف ظرافت  او تمسخر کی راہ سے کیا تھا تاکہ وہ انہیں چھیڑے لیکن بعض مفسروں کی  یہ رائے ہے کہ یہ سوال سنجیدہ طور پر کیا گیا تھا اور یہ شخص اس سوال کے وسیلے دریافت کرنا چاہتا تھا کہ کیا وہ بھی اس کا شاگرد ہونا چاہتے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ خیال اس جواب سے سنہیڈرن کے شرکاء نے دیا مناسبت رکھتا ہے۔ مثلاً شرکاءسنہڈرن جواب دیتے ہیں "تو ہی ا س کا شاگرد ہے ۔ ہم تو موسیٰ کے شاگرد ہیں"اس جواب سے ظاہر ہوتاہے گویا سنہڈرن کے ممبروں نے یہی سمجھا کہ یہ شخص سنجیدگی کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہے۔ لہذا وہ عیش میں آکر اس کو یہ جواب دیتے ہیں تو ہیں ہم کو کیوں اس کے شاگرد بنیں۔ ہم تو موسی ٰ کے شاگرد ہیں جس کی نسبت ہم کو پختہ یقین ہے کہ وہ خدا کا فرستادہ تھا۔ پر ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کہاں سے ہے ہم جانتے  ہیں کہ خدا موسیٰ سے ہم کلام ہو اور اسے اپنے احکام پہنچائے۔ وہ صاحب اختیار اور صاحب قدرت نبی تھا۔ پر اس مسیح کی نسبت کوئی بات یقینی طور پر ثابت نہیں اور نہ کوئی ثبوت ہے کہ خدا نے اسے بھیجا ہے۔

آیت نمبر ۳۰،۳۳۔اس آدمی نے جواب میں ان سے کہا وغیرہ۔

۳۰آیت کا مطلب اس طرح بیان کیاجاسکتا ہے ۔"تمہارا انکار مجھے عجیب معلوم ہوتا ہے۔کوئی شخص اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ ایک عجیب معجزہ وقوع میں آیا ہے مگر باوجود اس کے آپ لوگ یہی رٹے جاتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ کہاں کا ہے اور اسکی قدرت کہاں سے آئی ہے ۔آیت 33میں "تم " پر زور ہے۔ تم جو عالم اور فاضل ہوا اور دین کے بھیدوں سے واقفیت رکھتے ہو اور جن کو اوروں کی نسبت اس بات کی زیادہ خبر ہونی چاہئے تھی کہ یہ معجزه دکھانے والا کہاں سے ہے ۔اس کے اختیار اور دعوے کا قطعی انکار کرتے ہو۔ یہ سخت تعجب کی بات ہے۔

۳۱آیت میں وہ ان کو انہیں کے اصول سے قائل کرتاہے۔ وہ کہتاہے کہ تم ابھی ابھی یہ فتوےٰ دے چکے ہو کہ یہ شخص گنہگار ہے۔ اور یہ مسلمہ امر ہے کہ خدا شریروں کی دعا نہیں سنتا ورنہ انہیں معجزات دکھانے کی طاقت دیتا ہے فقط وہی جو اس سے ڈرتے اور اس کی مرضی بجالاتے ہیں اجابت دعا کا تجربہ حاصل کرتے اور بڑے بڑے کاموں کو بجالانے کی قدرت اس سے پاتے ہیں۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ اس نے میری آنکھیں کھولنے  کی طاقت کہاں سے پائی ؟تم جانو یا نہ جانو مگر میں جانتا ہوں کہ وہ کہاں سے ہے ۔ وہ خدا کی طرف سے ہے کیونکہ اگر  نہ ہوتا تو کبھی وہ کام نہ کرسکتا جو اس نے کیا۔

۳۲اور ۳۳آیات میں وہ نتیجے قلمبند ہیں جو یہ شخص مسیح کی نسبت نکالتا ہے۔ گو یا وہ یہ کہتا ہےکہ "جنم کے اندھے کی آنکھوں کو بینا کرناایک ایسا فعل ہے جو انسان کی طاقت سے بعید ہے اور کبھی کسی نے اپنی قدرت سے ایسا کام دنیا کی ابتدا سے نہیں کیا۔ صرف خدا کی قدرت ایسا کرسکتی ہے ۔لیکن اس آدمی نے یہ عجیب کام کیا ہے۔ پس ثابت ہے کہ وہ خدا کا بھیجا ہوا ہے۔ اگر وہ اس کا بھیجا ہوا نہ ہوتا تو وہ کوئی معجزہ نہ دکھا سکتا۔ بہر کیف میری آنکھیں کبھی نہ کھول سکتا ۔"اس شفایافتہ شخص کی یہ برہان نقودیمس  کی دلیل سے بہت مشابہ ہے کوئی یہ معجزے نہیں دکھا سکتا جب تک اس کے ساتھ نہ ہو (حضرت یوحنا 3باب 2آیت)۔

آیت نمبر ۳۴۔انہوں نے جواب میں اس سے کہا وغیرہ۔

فریسی اس شفایافتہ شخص کی برہان کے زور کومحسوس کرتے ہیں۔ بلکہ جان جاتے ہیں کہ وہ لاجواب ہے۔ لہذا اب غصے اور وشنام سے کام لیتے ہیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ "توایک بدبخت اور گنہگار سا آدمی ہے۔ اور گند میں پیدا ہوا ہے کیا تو یہ دعوےٰ کرتا ہے کہ تو ہم سے زيادہ جانتا ہے اور ہم کوسکھاسکتا ہے۔

تو تو بالکل گناہوں میں پیدا ہوا ہے۔ یہ جملہ اس کی پرانی بیماری یعنی اندھا پن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ گویا وہ اس کو یہ طعنہ دیتے ہیں۔ "تیرا اندھا پن ظاہر کررہا ہے کہ توشریر آدمی ہے۔ تیرا نا بینا پن تیری شرارت پر ایک قسم کی مہر ہے۔ تیری روح اور جسم دونوں گناہ کے سبب خرابی میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے اسے باہر نکال دیا۔ اس کا صرف یہی مطلب نہیں کہ جس جگہ وہ بیٹھے تھے اس جگہ سے اس کو باہر نکال دیا۔ بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ مذہبی اور قومی شراکت سے خارج کردیا یا جیسے مسیحی کہا کرتے ہیں کلیسیا سے خارج کردیا۔

آیت نمبر ۳۵تا ۴۱۔ مسیح نے سنا کہ انہوں نے اسے باہر نکال دیا۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ

ٹرنچ صاحب فرماتے ہیں کہ اس شخص میں ایک خاص طور پر مسیح کے الفاظ پورے ہونے کو تھے "جب ابن آدم کے سبب لوگ تم سے عداوت رکھیں اور تمہیں خارج کردیں اور لعن طعن کریں اور تمہارا نام برا جان کر کاٹ دیں تومبارک ہو۔"(حضرت لوقا 6باب 22آیت)وہ ایک ادنے ٰ درجہ کی شراکت سے خارج کیا جاتا مگر اعلیٰ رفاقت میں داخل ہوتاہے۔اس بادشاہت سےجو گزشتنی تھی نکل کر دائمی بادشاہت میں آجاتا ہے عبادت خانہ سے نکل کرکلیسیا میں شامل ہوتا ہے۔یہودیوں نے اسے خارج کیا مسیح نے اسے قبول کیا۔ وہ مسیح سے نہ شرمایا اور اب مسیح اس سے نہیں شرماتا بلکہ ایسے طور پر اس پر ظاہر ہوتا ہے کہ آگے ویسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ اب وہ اس کے لئے صرف ایک نبی ہی نہیں رہا بلکہ خدا کا بیٹا ثابت ہوگیا۔

جب سید نا مسیح نے سناکہ  یہودیوں نے اس کو خارج کردیا ہے تو وہ اس کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ "اور جب وہ اسے ملے "غالباً ہیکل میں (مقابلہ کریں حضرت یوحنا 5باب 14آیت)"تو کہا کیا تو خدا کے بیٹے پر ایمان لاتا ہے ۔"وہ اس خطاب یا لقب کا مطلب تو بخوبی سمجھتا تھا۔ یعنی جانتا تھا کہ اس سے مراد مسیح موعود ہے۔ مگر ابھی تک وہ یہ نہیں جانتا کہ ایک شخص بھی ہے جو مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے پر اس کا بھروسہ اس شفا بخشنے والے دوست پر ایسا پختہ اور کامل ہے کہ وہ اس سے پوچھتا ہے "اے مالک وہ کون ہے کہ میں اس پر ایمان لاؤ۔"یہ سن کر " سیدنا مسیح نے اس سے فرمایا تو نے اسے دیکھا ہے اور جو تجھ سے باتیں کرتا ہے وہی ہے ۔ "جب خدواند یہ فرماتے ہیں کہ تونے اسے دیکھا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس وقت سے پہلے تونے اسے دیکھا ہے کیونکہ اس کی ملاقات مسیح سے فقط اس وقت ہوئی جب وہ نابینا تھا۔ مگر آنکھیں کھلنے کے بعد اس کو نہیں ملا تھا۔ پس مراد جناب مسیح کے یہ ہے کے جسے تو اب دیکھ رہا ہے اور جو تجھ سے اس وقت باتیں کررہا ہے ۔ وہی خداکا بیٹا ہے ۔

اب یہ سارا واقع عجیب تھا جن لوگوں کو نابینا ثابت ہونا چاہئیے تھا ان کی روحانی نابینائی ظاہر ہوئی اور وہ جو اندھا تھا جسمانی اور روحانی طور پر بینا کیا گیا۔ چنانچہ سیدنا مسیح فرماتے ہیں "میں دنیا میں عدالت کے لئے آیا ہوں۔"وغیرہ مراد یہ ہے کہ میں انسان کے اندرونی حالات اور باطنی خیالات کو ظاہر کرنے آیا ہوں۔میں خدا کا مظہر ہوں۔

نصیحتیں اور مفید اشارے

1۔پروردگار کے کام سیدنا مسیح کے وسیلے ۔وہ نبی اور استاد تھے پس خدا کا کام انہیں کرنا تھا۔

2۔جو سیدنا مسیح کی خاطر رد کئے جاتے ہیں مسیح ان کو چھوڑتے نہیں۔ اور انہیں اپنی کلیسیا میں جگہ دیتے ہیں۔

3۔یادر ہے کہ یہ شخص مسیح کی گزرگا ہ میں موجو دنہ ہوتا تو نور بصارت سے بہرور نہ ہوتا۔

4۔چوتھی آیت میں مسیح ہمارے لئے ایک نمونہ پیش کرتے ہیں۔ دنیا کی نفرت ،دشمنوں کی مخالفت خون کے پیاسوں کی تجویزیں اور دوستوں کی کمزوریاں اور غلط فہمیاں  اور ٹیڑھے سوال اس کو ناامید نہیں بناتے ۔ بلکہ کمال بھروسہ کے ساتھ وہ اپنے موقعوں کو کام میں لاتے ہیں۔

5۔دیکھو مسیح حقیقی شیلوخ یعنی خدا کا بھیجا ہوا ہے۔ وہی تمام برکتوں کا سرچشمہ ہے ۔

6۔اندھے کا نمونہ قابل تقلید ہے ۔ مسیح نے اسے شیلوخ میں آنکھ دھونے کا حکم کیا۔ اس نے کسی طرح کی چون چران نہیں کی۔ بلکہ اس کا حکم مانا اور اس تابعداری میں آنکھوں کی روشنی حاصل کی ۔ 

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا, معجزات المسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (8021)

Post a Comment

English Blog