en-USur-PK
  |  
03

جناب مسیح کاسمندر کی لہروں پر چلنا

posted on
جناب مسیح کاسمندر کی لہروں پر چلنا

THE MIRACLES OF CHRIST

معجزاتِ مسیح

17-Miracle   

Jesus walks on the Water

Matthew 14:22-33

 

 

جناب مسیح کاسمندر کی لہروں پر چلنا

۱۷ ۔معجزہ

انجیل شریف بہ مطابق حضرت لوقامتی ۱۴باب ۲۲تا۳۳

مرحوم علامہ طالب الدین صاحب بی ۔ اے

؁ ۱۹۰۵ء

یہ معجزہ تین انجیلوں میں پایا جاتا ہے۔اور تینوں اناجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ ہزار کوکھانا کھلانے کےمعجزے کے بعد لیکن اسی روز وقوع میں آیا۔

حضرت متی ۱۴باب ۲۲آیت ۔اور جنابِ مسیح نے فوراً شاگردوں کو مجبور کیاکہ کشتی پر سوار ہوکر اس سے پہلے پار چلے جائیں جب تک وہ لوگوں کو رخصت کرے۔

سوال برپا ہوتا ہے کہ کہ اس نے کیوں ان کو مجبور کیا کہ "وہ چلے جائیں۔"اس کا جواب ہم کو انجیل یوحنا سے ملتا ہے۔ وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اس کا پہلا معجزہ دیکھ کر اس بات کے جوڑ توڑ میں لگ گئے تھے کہاسے اپنا بادشاہ بنائیں اور شاگرد جو اس بات کو دل وجان سے چاہتے تھے اگر وہاں رہ جاتے توضرور ان کےساتھ اتفاق کرتے کہ ان کا استاد سرفرازی کے زینہ پر قدم رکھے۔ مگر وہ نہیں چاہتا تھا کہ انہیں اس خطرے میں پڑنے دے لہذا اس نے اس بات پر زو ر دیاکہ وہ کشتی پر سوار ہوکر روانہ ہوجائیں۔ جیروم صاحب عام طور پر "مجبور کرنے " کی یہ وجہ بتاتے ہیں کہ شاگرد اس سے ایک دم کے لئے جدا ہونا گوارا نہیں کرتے تھے ۔ مسیح اور اس کے شاگرد اس جگہ تنہائی کے لئے آئے تھے اور چونکہ یہ مقصد ان کا پورا نہ ہوا اور چونکہ خطرہ تھا کہ یہاں زیادہ دیر تک ٹھیرنے سے مسیح کے مخالفوں کی دشمنی کا شعلہ زیادہ بڑ ھ جائے اور چونکہ وہ اس وقت اکیلا  تنہائی میں رہنا پسند کرتا تھا لہذا اس نے مناسب سمجھا کہ مجمع کو برخاست  کرے پس سب سے پہلے اپنے شاگردوں کو روانہ کیا۔ مرقس بتاتاہے کہ وہ لوگ بیت سیدا کی طرف روانہ ہوئے  چنانچہ حضرت مرقس 6باب 45آیت میں آیا ہے "اور فوراً"اس نے اپنے شاگردوں کو مجبور کیاکہ کشتی پرچڑ ھ کر اس سے پہلے اس پار بیت صیدا  کو چلے جائیں  جب تک وہ لوگوں کو رخصت نہ کرے "مگر حضرت یوحنا کہتے ہیں کہ "کشتی پر چڑھ کر جھیل کے پا ر کفر ناحوم کوچلے "(حضرت یوحنا 6باب 17آیت )اس اختلاف کا حل یہ ہے کہ اس نام کے دو شہر موجود تھے ایک وہ بیت صیدا جو جولیاس کہلاتا تھا اور دوسرا فیلبوس اور اندریاس اور پطر س کا شہر تھا۔ یہ دوسرا بیت صیدا کفر ناحوم کی راہ پر واقع تھا اور اس سے بہت نزدیک آباد تھا۔

معجزہ ماقبل کے ضمن میں بتادیاگیا ہے کہ یہودیوں کے درمیان یہ دستور تھاکہ وہ قریباً تین بجے سے لے کر غروب آفتاب تک ایک شام اور پھر اس کے بعد رات تک دوسری شام مانا کرتے تھے پس جب وہ کشتی پر سوار ہوئے اس وقت ان کے شمار وقت کے مطابق دوسری شام تھی ۔ (مقابلہ کرو حضرت لوقا 9باب 12آیت )جہاں دن ڈھلنے سےپہلی شام مراد ہے۔ ایسی مقدس جگہ اور ایسے اژدحام کے وقت اپنے خداوند کو چھوڑنا ان کے نزدیک دل پسند کا م نہ تھا۔ مگر جب خداوند ہم کو کسی کام کے لئے جو مشکل اور ہماری مرضی کے خلاف ہوبلائے تو اسے بجالانا ہمارا فرض ہے۔

آیت نمبر ۲۳۔اور لوگوں کو رخصت کرکے علیحدہ دعا مانگنے کے لئے پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب شام ہوئی تو وہاں اکیلا تھا۔

ا ن کو رخصت کرنے کے بعد خود پہاڑ پر چلا گیا تاکہ وہاں دعا مانگے۔ غالباً یہ پہاڑ جہاں دعا مانگنے کے لئے گیا ایک اونچا پہاڑ ہوگا اور وہاں رات کو دیر تک دعا مانگتا رہا۔ (دیکھو حضرت متی 25آیت ۔رات کے چوتھے پہرتک )مسیح نہ صرف باقاعدہ طور پر اور بار بار دعا مانگا کرتا تھا۔ ۔(حضرت مرقس 1باب 35آیت ،حضرت لوقا 5باب 16آیت ،11باب 1آیت )۔بلکہ جب کوئی خاص موقع اس کی زندگی میں آتا تھا تو اس وقت خاص طور پر دعا کیا کرتا تھا۔ مثلاً جب اس نے بارہ شاگردوں کو رسالت کے عہدے پر مامور فرمایا (حضرت لوقا 2باب 12آیت )تو اس نے خاص طور پر دعا کی او رپھر اسی طرح گتسمنی میں جان کنی کےموقعہ پر دعامیں لگا رہا اور اس وقت اسکے خاص طور دعا مانگنے کا یہ سبب تھا کہ ایک طرف تو لوگ اس کو بادشاہ بنانے کے درپے تھے۔ اور دوسری طرف ہیرودیس اور فریسی حسد کے مارے جل رہے تھے۔ پس ان وجوہات کے سبب سے وہ اس وقت ایک نہائت نازک حالت میں تھا۔لہذا اسے باپ کی ہدائت اور محافظت کی اشد ضرورت تھی ۔اس مجذوب گروہ کے وسیلے شیطان پھر دنیا وی بادشاہت اس کو دینے کا وعدہ کرتا ہے اور اس شرط پر کہ وہ دینوی حکمت عملی اختیار کرے (دیکھو حضرت متی 4باب 8آیت )اور وہ باتیں جو وہ دن بھر اپنی بادشاہت کے متعلق سکھاتا رہا تاکہ لوگوں کے دل سے غلط فہمیاں دور ہوجائیں ۔(حضرت لوقا 9باب 11آیت )اپنے مطلب کو پورا کرنے میں قاصر نکلیں اور اس نے دیکھا کہ نہ لوگ میرے خیالات سے اتفاق رکھتے ہیں اور نہ یہی ممکن ہے کہ میں اپنے خیالات کو ترک کرکے انکے خیالات کو اختیار کروں گا اور اگر انکار کرتا ہوں تو یہ خطرے کی یہی لوگ جو مجھے بادشاہ بنانا چاہتے ہیں۔ تھوڑے دنوں کے بعد میرے بر خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ اور حکام کی مدد کریں گے وہ مجھے جان سے مارڈالیں پس ان باتوں کے سبب وہ اس وقت خاص قسم کی دعا کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔

آیت نمبر ۲۴۔مگر کشتی اس وقت جھیل کے بیچ میں تھی او رلہروں سے ڈگمگارہی تھی کیونکہ  ہو ا مخالف تھی۔

کشتی اس وقت جھیل کے بیچوں بیچ جا پہنچی تھی اور باد مخالف کے تھپیڑے کے کھارہی تھی۔ حضرت یوحنا سے معلوم ہوتاہے کہ جب مسیح ان کے پاس آیا اس وقت وہ کل تین یا چار میل کے قریب نکلی تھی ڈگمگارہی تھی۔ یہ وہی فعل ہے جو حضرت متی 8باب 6آیت میں "تکلیف میں ہے اور متی 8باب 29آیت میں "عذاب میں ڈالے "اور حضرت مرقس 6باب 48آیت میں "بہت تنگ ہیں"ترجمہ کیا گیا ہے حضرت یوحنا "ہوا مخالف تھی "کے عوض "بڑآندھی " کا ذکر کرتا ہے جس کے سبب سے موجیں اٹھنے لگیں او رملاح کہتے کہتے عاجز ہوگئے جب مسیح ان کے پاس آئے تو اس وقت صبح ہونے پر تھی تاہم انہوں نے بہت راستہ طے نہ کیا۔

حضرت مرقس ہمیں بتاتا ہے کہ (حضرت مرقس 6باب 48آیت )اس نے ان کو اس مصیبت کی حالت میں دیکھا۔ انکو اس جھیل میں اکیلا بھیجنے کا ایک مطلب یہ بھی تھا کہ وہ ان کے ایمان کی تربیت کرے۔ ایک مرتبہ پہلے وہ لوگ طوفان کے خطرات میں مبتلا ہوئے۔ مگر اس وقت مسیح ان کے ساتھ تھا۔ اور وہ خیال کرتے تھے کہ اگر خطرہ بہت بڑھ جائے گا تو ہم اس کو جگالیں گے ۔ لیکن اس وقت وہ ان کے ساتھ نہ تھا اور چاہتا تھا کہ وہ اس بات کو سیکھیں کہ وہ ان کی مدد نہ فقط اس وقت کرسکتا ہے جب کہ ان کے ساتھ ہو بلکہ اس وقت بھی ان کی مدد کرنے پر قادر ہے جب کہ بظاہر ان سے غیر حاضر ہوکیونکہ جس وقت جسمانی طور پر ان کے ساتھ نہیں اس وقت بھی ان کی حالت سے بخوبی آگاہ ہے۔جب وہ دور ہوتا ہے تب بھی اپنے بندوں کے نزدیک ہوتا ہے۔ جب وہ ان کو آخرتک آزما چکو "رات کے چوتھے پہر جھیل پر چلتا ہوا ان کے پاس آیا "اور اس سے ان کو سکھایا کہ آنے والی آزمائشوں کے چوتھے پہر جھیل پر چلتا ہوا ا ن کے پاس آیا "اور اس سے ان کو سکھا یا کہ آنے والی آزمائشوں کے طوفان اور آندھیوں میں مجھے ہمیشہ اپنے پاس سمجھو۔ اگر تمہاری آنکھیں مجھے نہ دیکھیں اگرمدد کی تمام صورتیں مفقود ہوجائیں تو کچھ مضائقہ نہیں تم یہ مانتے رہو کہ میں دکھ اور مصیبت کے وقت تمہاری مدد کرنے کے لئے ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔

آیت نمبر ۲۵۔جنابِ مسیح چوتھے پہر جھیل پر چلتے ہوئے ان کےپاس آئے۔

یہودی رات کو عموماً تین حصوں میں تقسیم کیا کرتے تھے او رہر حصہ میں چار گھنٹے شامل تھے۔ یہی طریقہ یونانیوں میں مروج تھا مگر پمپے کی فتح کے بعد جو 63قبل از مسیح وقوع میں آئی رومی طریقہ مروج ہوگیا۔ اور وہ یہ تھاکہ رومی لوگ رات کو چار حصوں میں تقسیم کرتے تھے اور ہر حصہ میں چار گھنٹے شامل تھے۔ پس رات کا چوتھا پہر صبح کے تین بجے سے چھ بجے تک ہوتا تھا۔ اس چوتھے حصہ میں کسی وقت مسیح کا ان کوجھیل پرچلتا ہوا دکھائی دیا۔

آیت نمبر ۲۶۔شاگرد اسے جھیل پر چلتے ہوئے دیکھ کر گھبراگئے اور کہنے لگے کہ یہ کوئی بھوت ہے۔ اور ڈرکے مارے چلا اٹھے۔

اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ بھوت پریت کو مانا کرتے تھے ۔مگر جو بات قابل غور ہے وہ اس بیان کی سچائی اور سادگی ہے۔وہ مسیح کو آتے دیکھ کر اسے بھوت خیال کرتے ہیں اور ڈر جاتے ہیں کیونکہ ان کو اندیشہ تھا کہ اب ہماری مصیبت اور بھی زیادہ ہوجائے گی ۔ لیکن اناجیل کے مصنف اس بات کو چھپاتے نہیں بلکہ بڑی وفاداری سے بیان کردیتے ہیں۔ ٹرنچ صاحب اس جگہ بڑے معنی خیز ریمارک پیش کرتے ہیں۔ ان کے ریمارکوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح لوگ عموماً مسیح کی حضوری کی شناخت کے متعلق غلطی میں گرفتار ہوجاتے ہیں ۔اسی طرح اس وقت ہوا۔ وہ اکثر اپنے لوگوں کے پاس کسی غير معمولی صورت یاکسی غیر مانوس طریقے سے آتا ہےوہ کسی تکلیف یا کسی صلیب کے ذریعہ ان کے پاس آتا اور برکت اپنے ساتھ لاتا ہے۔ مگر وہ اسے نہیں پہچانتے بلکہ اسے ایک دہشت  ناک بھوت تصور کرتے ہیں۔ اور جب تک اس کی زبان سے "خاطر جمع رکھو میں ہوں ڈرو نہیں"نہیں سن لیتے تب تک نہیں آرام نہیں پاتے۔

لیکن حضرت مرقس اس جگہ یہ بھی بتاتا ہے کہ "وہ ان کے پاس آیا اور ان سے آگے نکل جانا چاہا۔"سوال برپا ہوتاہے کہ اگر وہ ان کی مصیبت کودیکھ کر ان کی مدد کے لئے آیا تھا تو پھر ان سے آگے نکلنا کیوں چاہتا تھا ؟(دیکھو حضرت مرقس 6باب 48آیت )بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک وہ چلاتے نہیں تب تک وہ ان کی کشتی میں قدم نہیں رکھتا۔اس کا کیا سبب ہے ؟اس بات کو سوائے ان کے جو کہ ایمان کی حقیقت سے واقف ہیں اور کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔ واضح ہو کہ اس آگے نکل جانے اور ایک طرح کی بے پرواہی دکھانے کا اصل مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے شاگردوں کو سکھائے کہ وہ مدد کے لئے مددمانگیں اور کہیں کہ اے مالک آپ ہمیں نہ چھوڑیں۔ یہی طریقہ وہ ہمیشہ کام میں لاتا ہے ۔جب وہ ان دو شاگردوں کو ملاجو عماؤس کو جارہے تھے تب بھی وہ آگے نکلنا چاہتا تھا۔(حضرت لوقا 24باب 13آیت )او رجب ان شاگردوں نے اس سے منت کی کہ تو ہمارے ساتھ رہ تب ان کے ساتھ اندر گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے انصاف قاضی اور سوے ہوئے دوست کی تمثیلوں (حضرت لوقا 18باب 2آیت ،11باب 5آیت )کو دیکھو کہ وہاں بھی اسی قسم کی دیر اور تاخیر خدا سے منسوب کی جاتی ہےجب تک بار بار دعا کے نالے اس کی درگاہ میں نہیں پہنچتے تب تک وہ مدد کا ہاتھ دراز نہیں کرتا۔ او رپھر ایک اور موقعہ کو دیکھو بیت عینا لعزر کی نہیں اس کی حضوری کی ضرورت بشدت محسوس کرتی ہیں مگر وہ نہیں آتا ۔ بہت دیر لگاتا ہے اور کیا خدا پرست لوگوں کے ایسے نالے۔ "آے خداوند تو کیوں اپنا چہرہ چھپاتا ہے "اسی بات کا ثبوت نہیں کہ خدا چاہتا ہے کہ دیر کےوسیلے اپنے لوگوں کے ایمان کو حرکت میں لائے اور نہیں آمادہ کرے کہ دست دعا دراز کریں اور اس سے بار بار  التجا کریں کہ اے خداوند تو آ اور ہمیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑ۔

پر اب وہ ان کے نالے اور چلانے کی آواز سن کر ان کو تسلی دیتا ہے چنانچہ لکھا ہے ۔

آیت نمبر ۲۷۔مسیح نے فوراً ان سے کہا کہ خاطر جمع رکھوں میں ہوں ڈرو نہیں۔

رائل صاحب اپنی تفسیر حضر ت یوحنا میں لکھتے ہیں۔"کہ بہت سی باتیں جواب مسیحیوں کو ڈراتی اور انہیں فکر وتشویش سے بھردیتی ہیں ایسا کرنا چھوڑدیں۔ اگر وہ ہر ایک بات میں مسیح کو دیکھا کریں۔ کہ وہی ہر واقعہ کو وجود میں لاتا اور وہی ہر بات پر قابو رکھتا ہے اور کہ اس کے حکم کے بغیر ایک پتامک نہیں گرتا۔ مبارک وہ جو اس کے ان الفاظ کو "میں ہوں ڈرو نہیں۔"گہرے بادلوں اور کثیر تاریکی اور پرشور آندھی اور سخت طوفان میں گونجتے سنتے ہیں "صاحب موصوف یہ بھی فرماتے ہیں کہ جس سے یہودی بخوبی واقف تھے لیکن رائل صاحب کے خیال میں عبارت کے تعلق اور قرینے سے اس خیال کی تصدیق نہیں ہوتی کیونکہ شاگرد کسی شخص کو پانی پر چلتے ہوئے دیکھ کر ڈرگئے تھے اور انہیں جانتے تھے کہ وہ کون ہے اب مسیح یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ شخص میں ہی ہوں اور اس کے لئے وہ وہی یونانی الفاظ استعمال کرتا ہے جن کا ترجمہ "میں ہوں "کیا گیا ہے۔ اور جو اس کے مطلب کو بخوبی ادا کرسکتے تھے۔

آیت نمبر ۲۸۔حضرت پطرس نے اس سے جواب میں کہا اے خداوند اگرتو ہے تومجھے حکم دے کہ پانی پر چل کر تیرے پاس آؤں۔

یہ بیان صرف حضرت متی کی انجیل میں پایا جاتا ہے۔ پر اس سے معلوم ہوتاہے کہ جوکچھ پطرس اس وقت کہتا ہے وہ کی جلد بازی اور تیزی طبع سے پورے پورے طور پر موافقت رکھتا ہے۔ اور جو انکار وہ بعد میں کرتا ہے اس کی صورت کچھ کچھ اس واردات میں بھی نظر آتی ہے۔ ماسوائے اس کے اس میں ایمان کی خاصیت او رکیفیت کا بھی پتہ ملتا ہے اور وہ یہ کہ ایمان کیا کچھ کرسکتا ہے نیز ہمیں اس میں انسان کی اعلیٰ روحانی حالت کی وہ فضیلت نظر آتی ہے جو وہ نیچر کے ادنے ٰقوانین پر رکھتا ہے  اور جسے ہمارا خداوند بار بار ظاہر فرماتا ہے ۔(دیکھو حضرت متی 17باب 20آیت ،21باب 21آیت )۔

اگر تو ہے۔ ٹرنچ صاحب فرماتے ہیں کہ لفظ اگر سے یہ مطلب نہیں لینا چاہئیے کہ پطرس مسیح کی موجودگی پر شک لاتا تھا۔ اگر توما ہوتا تو ہم کہتے کہ وہ ضرور یہ چاہتا تھا کہ پہلے یہ بات ثابت ہوجائے کہ بولنے والا حقیقت میں مسیح ہے اور پھر اسے کشتی میں جگہ دی جائے ۔لیکن حضرت پطرس اس کمزوری میں مبتلا نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ جو بول رہا ہے وہ خداوند مسیح ہی ہے ۔لہذا اس "اگر "کو "چونکہ"کا مترادف سمجھنا چاہیے۔"اےخداوند  چونکہ تو ہے اس لئے مجھے حکم دے کہ پانی پر چل کر تیرے پاس آؤں۔"

پطرس کس لئے مسیح کے پاس جانا چاہتا تھا؟شائد اس کے دل میں یہ آرزوہوگی کہ میں اپنے خداوند کے ساتھ رہوں۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت دلیر بن کر اس کم اعتقادی کی تلافی کرنا چاہتے تھا جو شاگردوں کے اظہار خوف سے ظاہر ہوئی اور جس میں وہ خود بھی شامل تھا۔ پر ان تمام باتوں کے ساتھ کچھ ایسی باتیں بھی ملی ہوئی تھیں جن سے اس کی خودی کی بوآتی تھی۔ وہ اور شاگردوں پر سبقت لے جانا چاہتا تھا۔ پس اس کا قصور اس درخواست میں نہاں تھا۔"مجھے حکم دے "وہ اپنے ایمان کی ایک زور آور گواہی پیش کرکے اوروں سے ممتاز ہونا چاہتا تھا۔ گویا وہ ایک طرح سے اس وقت بھی وہی دعوے کرتا ہے  جو اس نے مسیح کا انکار کرنے سے پہلےکیا۔"اور اٹھو کر کھائیں پر میں نہ کھاؤں گا۔

آیت نمبر ۲۹۔جنابِ مسیح نے فرمایاآ۔حضرت پطرس کشتی سے اتر کر جناب مسیح کے پاس جانے کے لئے پانی پر چلنے لگے۔

اس نے کہا ۔یہ حکم ان شاہانہ احکام میں سے ہے جن سے ثابت ہوتاہے کہ ہمارے آقا ومولا اپنی الہٰی قدرت کو جانتا تھا کہ وہ کیا ہے اور کیسی ہے۔پر یہاں اس "آ" سے بیشتر اجازت دینا مراد ہے۔ وہ فرماتاہے کہ اگر آنا چاہتے ہو تو آؤ۔لیکن جانتے ہیں کہ پطرس کا حوصلہ ٹوٹ جائے گا۔پس اس "آ"سے ہم یہ نہ سمجھیں کہ گویا مسیح یہ وعدہ کرتے ہیں کہ توکامیاب نکلے گا اور کبھی نہیں گرےگا بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت پطرس کہتے ہیں "آپ مجھے حکم دیں "پر اس کے جواب میں مسیح نہیں کہتے کہ "میں حکم دیتا ہوں "پطرس کہتا ہے کہ "پانی پر چل کر تیرے پاس آؤں"مسیح یہ نہیں کہتا کہ "ہاں پانی پر چل کر میرے پاس آ۔"پطرس آنا چاہتا ہے اور مسیح اسے روکتا نہیں کیونکہ وہ اس کی دلیری اور ہمت کو جو زمینی آلائشوں سے پاک ہوکر اس کی خدمت میں کام آسکتی تھی انکار سے دبا نا یا چور چور کرنا نہیں چاہتا لہذا اس کے سوال کے جوا ب میں صرف "آ"کہتاہے جس کا یہ مطلب ہے کہ اگر تم آنا چاہتے ہو تو آؤاور آزماؤ تاہم اس "آ"میں یہ وعدہ شامل ہے کہ پطرس پانی میں ڈوبنے نہیں پائے گا۔ گو یہ وعدہ داخل نہیں کہ وہ اس تک پہنچنے میں کامیاب نکلے گا۔ یہ بات اس کے اعتقاد کی مضبوطی پر منحصر تھی۔ اگر اس کا اعتقاد آخر تک مضبوط رہتا تو وہ کامیاب نکلتا۔لیکن مسیح جانتے تھے کہ اس کی دلیری ایمان کی دلیری نہیں اور کہ وہ آزمائش کی شدت میں پھنس کر خوف اور کم اعتقادی میں تبدیل ہوجائے گی۔ اور ایسا ہی ہوا چنانچہ اس نے ۔۔۔

آیت نمبر ۳۰۔جب ہوا دیکھی تو ڈر گیا اور جب ڈوبنے لگا تو چلا کر کہا اے مالک مجھے بچائیے ۔

بعض نسخوں میں لفظ تیز ہوا کی صفت میں واقع ہوا ہے۔ جب تک پطرس اپنے مولا کی طرف دیکھتا رہا یعنی جب تک اس کا اعتقاد قائم رہا وہ چلتا رہا لیکن جب اس نےتیز ہوا کی طرف دیکھنا شروع کیا تو وہ ڈرگیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہی جو اپنی دلیری کو دیگر شاگردوں پر ظاہر کرنا چاہتا تھا اب ان کے سامنے اپنی دہشت زدگی کا اقرار کرتا ہے۔ وہ اپنی گھبراہٹ کے عالم میں تیرنے کا فن بھی بھول گیا۔(حضرت یوحنا 21باب 7آیت)۔ایمان کے معاملے میں نیچر اور فضل کو مرکب نہیں کرسکتے ۔ ہاں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ شخص جو فضل کے عالم میں قدم رکھتا ہے جس وقت چاہے ان میں داخل ہو اور جس وقت چاہے اس میں سے نکل جائے اور پھر نیچر کے وسائل کا پیروہو۔نہیں جو فضل کی دنیا میں داخل ہوتاہے اس نے ان کو چھوڑدیاہے اس نے اب نئی زندگی اور نئے وسائل اختیار کئے ہیں۔ اور چاہیئے کہ جوزندگی اس نےشروع کی ہے اس میں لگار ہے ورنہ ناکامی سے دوچار ہوگا۔

لیکن جنابِ مسیح نے پطرس کو ہلاک نہیں ہونے دیا۔ اس کا تجربہ زبور نویس کے تجربہ کے موافق نکلا جو ان الفاظ سے مترشح ہے۔"جس وقت میں نے کہا میرا پاؤں پھسل چلا سوائے  خداوند تیری رحمت نے مجھ کو تھام لیا ۔"(زبور شریف ۹۴آیت ۱۸)چنانچہ جس وقت اس نے کہا "اے خداوند مجھے بچا"اسی وقت جنابِ مسیح نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسے بچالیا ۔ لکھا ہے۔۔۔

آیت نمبر ۳۱۔جنابِ مسیح نے فوراً ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑلیا اور اس سے کہا اے کم اعتقاد تونے کیوں شک کیا؟

دیکھوپہلے اس کو بچایا او رپھر محبت سے اس کی کم اعتقادی کے سبب اس کوملامت کی۔ غور کرو مسیح اس کو "کم اعتقاد "کہتاہے۔بے اعتقاد نہیں کہتا ۔پھر یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ وہ اسے یہ نہیں کہتا کہ "توکیوں آیا"پر یہ کہتا ہے کہ "تو نے کیوں شک کیا" وہ اس پر یہ نہیں ظاہر کرتا کہ تیرا قصور اس میں ہے کہ تونے اتنے بڑے کام کا بیڑا اٹھایا بلکہ اسے دکھاتا ہے کہ اس کا قصور اس بات میں ہے کہ وہ اس قدر ت پر جو اسے کامیابی تک پہنچاسکتی تھی شک لایا۔اور جب تک وہ اس خائف شاگرد میں بھروسہ کی روح پھر تازہ نہیں کردیتا تب تک اس کو ملامت نہیں کرتا"توکیوں شک لایا"یہ صیغہ فعل ماضی کا ہے اور ظاہر کرتاہے کہ اب وہ شک کا فور ہوگیا تھا۔ گویا مسیح یہ کہہ رہا ہے شک کرنے سے پہلے تو سمندر کی موجوں پر چل رہا تھا"اب جبکہ تیرا سینہ شک سے صاف ہے تو تو پھر اس پر چل رہا ہے۔ پس اب تونے دیکھ لیا کہ ایمان دار کے لئے سب کچھ ممکن ہے۔ لفظ"شک لانا "جس یونانی فعل کا ترجمہ ہے اس کے معنے "بے ارادہ دوراہوں کی طرف جانے "کے ہیں۔ پس پطرس کی حالت دودلی کی حالت تھی۔یہی لفظ حضرت متی 28باب 17آیت میں مستعمل ہے۔

یاد رہے کہ پطرس کا یہ قصہ علامت کا کام بھی دیتا ہے ۔ یعنی جو حالت اس کی اس موقعہ پر تھی وہی عموماً ہر ایما ن دار کی کمزوری اور خوف کے وقت ہوا کرتی ہے۔ جب تک ایمان دار ایمان میں قائم ہے تب تک وہ دنیا کی آندھیوں اور طوفانوں کو اپنے تلے روندتے ہیں۔ یعنی جب تک وہ مسیح کو دیکھتے رہتےہیں تب تک وہ مضبوط رہتے ہیں لیکن جب اس کی طرف سے نگاہ ہٹا کر تیز ہواؤں کو دیکھنے لگ جاتے ہیں تب ڈوبنے لگتے ہیں اور اگر مسیح ہاتھ بڑھا کر ایسے موقعوں پر ان کو نہ بچائے تو وہ بالکل ڈوب جائیں۔

آیت نمبر ۳۲۔اور جب وہ کشتی پر چڑھ آئے تو ہوا تھم گئی۔

حضرت یوحنا کہتے ہیں"پس وہ اسے کشتی پر چڑھالینے کو خوش ہوئے۔"بعض لوگ ان بیانوں میں بھی اختلاف دیکھتے ہیں اورکہتے ہیں کہ حضرت متی اور مرقس تو کہتےہیں کہ وہ کشتی پر چڑھ گیا۔ لیکن حضرت یوحناسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چڑھا نہیں بلکہ اسکے شاگرد اسے کشتی میں چڑھانے کو خوش تھے۔لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو ان بیانوں میں کچھ فرق نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ ایک بیان سے یہ پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے اسے کشتی میں لے لیا۔ اور دوسرے بیان سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اس فعل کے وقوع سے پہلے ان کی یہ آرزو تھی کہ وہ ان کےپاس کشتی میں آجائے۔پس وہ جو کچھ چاہتے تھے سو انہوں نے کرلیا یعنی اس کو کشتی پر لے لیا۔ ایک شخص ان کی خواہش کا اور دوسرا ان کی خواہش کی تکمیل کا ذکر کرتا ہے ۔ حضرت متی اور مرقس صرف ہوا کے تھم جانے کا ذکر کرتے ہیں مگر حضرت یوحنا یہ بھی بتاتے ہیں کہ فوراً وہ کشتی وہاں پہنچی جہاں وہ جاتے تھے۔"

آیت نمبر 33۔اور جو کشی پر تھے انہوں نے اسے سجدہ کرکے کہا آپ بے شک خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔

حضرت مرقس یہ بتاتے ہیں کہ اس ساری واردات کو دیکھ کر شاگرد اپنے دل میں نہائت حیران ہوئے ۔اور حضرت متی کے بیان سے معلوم ہوتاہے کہ یہ حیرت نہ صرف آپ کے شاگردوں پر طاری ہوئی بلکہ ان پر بھی جو آپ کے ساتھ کشتی پر سوار تھے۔ یہ لوگ غالباً ملاح اور دیگر مسافر تھے جو کشتی پر سوار تھے انہوں نے بھی آپ کے جلال کی ایک جھلک دیکھ لی۔ اور آکر سجدہ کیا اور کہا "آپ بے شک خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔"انہوں نے محسوس کیا کہ جسے ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں وہ ایک عجیب شخص ہے۔ حضرت متی کی انجیل میں یہ پہلا موقع ہے جہاں انسان مسیح کو خدا کا بیٹا مانتا ہے۔ اس کے 3باب 17آیت میں خدا اس کو اپنا بیٹا بتاتاہے ۔4باب 3آیت ،میں شیطان اس کی آزمائش کے وقت اسے خدا کا بیٹا کہہ کر اسے مخاطب ہوتاہے اور 8باب 29آیت میں بدروحیں اسے خدا کا بیٹا کہتی ہیں۔ اور یہاں انسان اسے یہ لقب دیتا ہے۔ اس لفظ سے عام معنی کے مطابق مسیح مراد نہیں بلکہ اس سے اس کی الہٰی سیرت اور خاصیت جیسی کے انجیل شریف میں ظاہر ہوئی ہے مراد ہے اس میں شک نہیں کہ لفظ بیٹا کے سامنے حرف تعریف  اس جگہ نہیں آیا لہذا معنی عام اور کشادہ ہیں۔ مگر ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ مسیح جس  طرح خاص معنوں میں ابن آدم ہے اسی طرح خاص معنوں میں خدا کا بیٹا بھی ہے۔اور یہ لوگ جو انہیں خدا کا بیٹا کہتے ہیں یہودی ہیں لہذا وہ ایسے سنجیدہ موقعہ پر اس لفظ کو بت پرستوں کے دستور اور معنوں کے مطابق خدا کا بیٹا نہیں کہتے بلکہ ان کا یہ مطلب ہے کہ جو شخص اس معجزہ  کا موجد ہے  وہ واقعی الہٰی قدرت سے ملبس ہے۔ مقدس جیروم کہتےہیں کہ یہ ملاح اس کا صرف ایک معجزہ نہیں طوفان کو تھمانے کو معجزہ دیکھ کر پکار اٹھتے ہیں کہ "تو خدا کا بیٹا ہے ۔"مگر ایریس یہ منادی کرتا ہے کہ وہ محض ایک مخلوق ہے (لینگی)۔

اب ہم دو تین باتیں اس معجزے کی حقیقت پر تحریر کرکے دوسرے معجزے کی طرف رجوع  کریں گے۔

معجزات کے مخالف یہ دعوےٰ کرتے ہیں کہ مسیح نے حقیقت میں یہ معجزہ نہیں دکھایا۔ وہ صرف کنارے پر ٹہل رہے تھے مگر اس وقت اس کے شاگرد وں پر ایسی ہیبت چھائی ہوئی تھی کہ اپنی زوراعتقادی سے انہوں نے یہ خیال کیاکہ وہ پانی پر چل رہا ہے ۔ ایسی ایسی تاویلیں انہی لوگوں کو  سجتی ہیں جو معجزات کے امکان کے منکر ہیں۔ لیکن ہمارے رائے میں یہ تاویل ا س تاریخی بیان سے کچھ موافقت اور مطابقت نہیں رکھتی جو دوچشم دید گواہوں (حضرت متی اور یوحنا )کی شہادت پر مبنی ہے اور نیز ایک اور شخص کی گواہی سے تقویت پاتاہے ۔(حضرت مرقس )جو اسی پطرس کا رفیق ہے جو اس معجزے میں پانی پر چلا۔

ہم پوچھتے ہیں (1)کہ اگر شاگرد جھیل کے وسط میں کنارے سےدو تین میل کے فاصلے پر تھے تو کب اسے جھیل کے کنارے پر چلتا ہو ا دیکھ سکتے تھے؟

2۔اور اگر "اندھیرا "ہوگیا تھا تو بالکل نا ممکن تھاکہ کسی شخص کو کنارے پر دیکھتے خواہ فاصلہ دومیل سے بھی کم ہوتا ہے۔

3۔اور اگر آندھی زور سے چل رہی تھی اور موجیں اٹھ رہی تھیں تو کنارے پر کے لوگوں کے ساتھ  بات چیت کرنا سراسر ناممکن بلکہ محال تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس قسم کی تاویلوں کو ماننے کے لئے زیادہ زود اعتقادی کی ضرورت ہے ۔کیونکہ جوییان یہاں پایا جاتاہے  اس کا ماننا ان بناوٹی  تاویلوں کے ماننے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔ اب اگر ہم یہ مانیں کہ متی اور مرقس اور یوحنا یہاں بالکل نادرست واقعات قلمبند کرتے ہیں تو یہ تاویل بھی نادرست معلوم نہ ہوگی۔مگر اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ انجیل نویسوں کی کوئی بات بھی ماننے کو لائق  نہ رہے گی۔ اورمعجزات کے مخالف شائد اسی طرف ہماری رہنمائی کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ معجزات کے انکار کے بعد رفتہ رفتہ جس منزل پر انسان پہنچتا ہے وہ یہی ہے کہ اس کے نزدیک نہ بائبل کچھ چیز رہتی ہے اورمسیحی مذہب ۔

اور تشریحیں بھی اس معجزات کی کی گئی ہیں۔ مثلا ً یہ کہ مسیح کا بدن قوانین نیچر کی قیود سے آزاد تھا لہذا اس کا پانی پر چلنا نا ممکن نہ تھا۔ یہ ڈوسیٹک (Docetic)خیال ہے ۔ اورپھر یہ پانی اس کے پاؤں کے نیچے سخت ہوگیا ۔ یہ سب خیال بے بنیاد ہیں۔ اصل حل یہ ہے کہ جس نے پانی کو خلق کیا وہ اس قابل تھاکہ ان کی سطح پر اپنی قدرت کاملہ سے  چلے۔ اس کی مرضی کے وسیلے ایک اعلیٰ قانون اور ادنے ٰ قوانین پر حاوی ہوا اور بڑے بڑے نتائج کو پیدا کرنے کے لئے اپنا کر شمہ دکھاگیا۔

نصیتحیں اور مفید اشارے

1۔اگر جنابِ مسیح ہمیں کسی جگہ بھیجیں جہاں خطرہ دکھائی دیتاہے تو ہم ایمان سےاس پر بھروسہ کرکے وہاں جائیں وہ ہمیں وہاں اکیلا نہ چھوڑے گا ۔

2۔مسیح کی حضوری خطروں میں محبت ظاہر کرتی ہے ۔ اس کے لوگوں کو خوشی بخشتی ہے ۔متلا شیوں پر کبھی نہ کبھی اپنے تیئں ظاہر کرتی ہے ۔

3۔ا سکی آنکھ اپنے بندوں کو ہروقت دیکھتی ہے۔ اس وقت پہاڑ پر سے دیکھتی تھی اب آسمان پر سے دیکھتی ہے "اس نے ان کو اس مصیبت کی حالت میں دیکھا ۔"

4۔میں ہوں ۔اے کاش کہ یہ آواز جناب مسیح کی ہمارے کان میں آتی رہے ۔

5۔اگر ہم مسیح میں سے اپنی مصیبتوں کو دیکھیں تو ہماری مصیبتیں کافور ہوجائیں پر ہم حضرت پطرس کی طرح مسیح کو دیکھتے دیکھتے تیز ہوا کو دیکھنے لگ جاتے ہیں۔

6۔ہم مسیح کی حضوری کی قدر کرنا اس وقت سیکھتے ہیں جس وقت ہم اس کی غیر حاضری سے بیدل ہوتے ہیں۔

7۔حضرت موسیٰ نے خدا کے حکم سے سمندر کو دو ٹکڑے کیا۔ مگر جنابِ مسیح نے جو سب چیزوں کا مالک ہے آپ ہی سمندر پر چلتا ہے ۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا, معجزات المسیح, نجات | Tags: | Comments (1) | View Count: (7222)

Comments

  • I request to you please you give me jobs for translater thanks
    16/04/2014 7:31:06 AM Reply

Post a Comment

English Blog