en-USur-PK
  |  
31

پانچ ہزا ر کو آسودہ کرنا

posted on
پانچ ہزا ر کو آسودہ کرنا

THE MIRACLES OF CHRIST

معجزاتِ مسیح

16-Miracle   

The Feeding Of The Five Thousand

Matthew 14:13-21

 

 

پانچ ہزا ر کو آسودہ کرنا

۱۶ ۔معجزہ

انجیل شریف بہ مطابق حضرت لوقامتی ۱۴باب ۱۳تا ۲۱

مرحوم علامہ طالب الدین صاحب بی ۔ اے

؁ ۱۹۰۵ء

 

شروع میں دو تین باتوں کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں۔ کہ کب اور کہاں یہ معجزہ واقع ہوا؟

حضرت متی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معجزہ حضرت یحییٰ یعنی یوحنا بپتسمہ والے کی موت سےمربوط ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یوحنا بپتسمہ دینے والے شہید کئے گئے تو مسیح نے اس جگہ سے جہاں وہ اس وقت تھے کوچ کیا۔ پس وہ بیابان کی طرف روانہ ہوئے۔اسی طرح حضرت مرقس اور حضرت لوقا کے بیان سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح کا معجزہ حضرت یوحنا کی شہادت کے بعد وقع میں آیا مگر ان کے بیان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ مسیح اس بیابان میں حضرت یوحنا کی شہادت کے سبب سے آئے۔ بلکہ حضرت مرقس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیابان میں آنے کا سبب یہ تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ رسولوں کو کہ جو ابھی اپنے مشن سے واپس آئے تھے تنہائی میں روح کی تازگی اور تقویت حاصل کرنے کا موقعہ ملے۔ (حضرت مرقس 6باب 31آیت )۔

مسیح کشتی میں سوار ہوکر روانہ ہوئے۔ لیکن خشکی کے راستے اور ان میں سے بہت پیدل روانہ ہوئے ۔اور ایسی تیزی اور سرعت سے انہوں نے راہ طے کی کہ آپ کے پہاڑ سے  لوٹنے سے پہلے وہاں جاپہنچے ۔ اب اگرچہ اس وقت ان لوگوں کو یہاں آنا اس کی تجویز اورمنشا کے خلاف تھا کیونکہ وہ اس وقت تنہائی چاہتا تھا تاہم وہ سر تاپا محبت خوشی کے ساتھ ان سے ملتے اور ان سے خدا کی بادشاہت کی باتیں کرتے ہیں اور جو شفا پانے کے محتاج  ہیں انہیں شفا ء بخشتے  ہیں ( حضرت لوقا 9باب 11آیت )۔

حضرت یوحنا بتاتے ہیں کہ یہودیوں کی عید فسح نزدیک تھی"اس نے یہ بات شائد اس واسطے ہمیں بتائی کہ معلوم ہوجائے کہ یہ بھیڑ کس طرح یہاں جمع ہوئی۔جو لوگ یروشلم کو جایا کرتے تھے ان میں سے بہت جھیل کے مشرق کی طرف سے گزرا کرتے تھے۔ لیکن (حضرت یوحنا 6باب 24آیت )اس قیاس کے بر خلاف ہے کیونکہ اس مقام کے ملاحظہ سے معلوم ہوتاہے کہ تھوڑی دیر بعد یہی لوگ مسیح کی تلاش میں کفرناحوم کو چلے جاتے ہیں اور اس سے ظاہر ہوتاہے کہ ان کا ارادہ یروشلم کو جانے کا نہ تھا ۔

لیکن کیا یہ خیال زیادہ زیبا نہیں کہ حضرت یوحنا عید فسح کا ذکر اس لئے کرتے ہیں کہ جو کلمات مسیح کی زبان سے اس معجزہ کے بعد نکلے ان کا تعلق اس عید سے ہے۔ مسیح کے وہ الفاظ حضرت یوحنا کی انجیل میں قلمبند ہیں۔ مسیح جانتے ہیں کہ یہ موقع عید فسح کا ہے اور لوگ فسح کے برے کی نسبت اپنے دلوں میں غور وفکر کررہے ہیں۔ پس وہ پہلے ان کو سیر کرتا اور پھر یہ دعوےٰ کرتا ہے کہ زندگی کی روٹی میں ہوں اور زان بعد اپنے گوشت اور خون کا ذکر کرتااور اس سے پتہ دیتاہے کہ میں ہی وہ حقیقی برہ ہوں جس کی علامت فسح کا برہ ہے۔

پہلی تین اناجیل اور چوتھی انجیل میں جو بیان معجزہ زیر نظر متعلق پایا جاتاہے اس میں کچھ کچھ فرق ہے ۔ پس اس کی تطبیق ضروری معلوم ہوتی ہے وہ فرق یہ ہے ۔ کہ پہلی تین اناجیل سے تو معلوم ہوتاہے کہ گویا پہلے شاگردوں نے مسیح سے کہا کہ اس جماعت کو رخصت کر تاکہ وہ جاکر اپنے کھانے کا بندوبست کرے۔ لیکن حضرت یوحنا کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جناب مسیح نے فیلبوس کی معرفت اپنے شاگردوں سے کہا "ہم ان کے کھانے کے لئے کہاں سے روٹیاں مول لے لیں"(حضرت یوحنا 6باب 5آیت)لیکن یہ اختلاف بہت جلد رفع ہوسکتا ہے ۔ ممکن ہے کہ لوگوں کے جمع ہونے کے تھوڑی دیر بعد پہلے مسیح نے یہ بات فیلبوس سے کہی اور پھر خاموش ہورہا تاکہ وہ آپس میں گفتگو کرکے معجزے کے لئے تیار ہوجائیں۔وہ چاہتا تھاکہ اپنا معجزہ اس وقت دکھائے جب کہ سب کہ سب اس بات کو جان لیں کہ نیچرل امداد کی اس وقت کوئی صورت نہیں رہی اور سوائے الہٰی قدرت کے اور کوئی قدرت کا م نہیں کرسکتی ۔

مسیح نے یہ سوال فیلبوس سے اس لئے نہیں کیا تھا کہ وہ اسے کوئی صلاح دے یا کوئی ایسی تجویز بتائے جس سے یہ دقت رفع ہوجائے کیونکہ وہ جانتا کہ میں کیا کروں گا ۔ پس اس نے یہ سوال جیسا حضرت یوحنا خود بتاتے ہیں فیلبوس کو آزمانے کے لئے کیا تاکہ دیکھے کہ فیلبوس نے مجھے مسیح سمجھ کو قبول کیا ہے مجھ پر کتنا بھروسہ رکھتا ہے ۔ آپ کو یاد ہوگاکہ فیلبوس نے نتھنیل سے یہ کہا تھا (حضرت یوحنا 1باب 45آیت )"جس کا ذکر موسی ٰ نے توریت میں اور نبیوں نے کیا ہے و ہ مجھ کو مل گیا ہے " اب مسیح فیلبوس کو آزماتا ہے مگر گویا وہ اس سوال کے وسیلے یہ کہتا ہے اے فیلبوس تو یہ مانتا ہے کہ موسی ٰ اور نبیوں نے میرا ذکر کیا ہے۔پر تو یہ بھی جانتا ہے کہ موسیٰ نے بھوکے بنی اسرائیل کو من کھلایا اور نبیوں میں سے جو میری خبر دیتے ہیں الیشع نے بھی اسی قسم کا ایک معجزہ دکھایا(بائبل شریف 2سلاطین 4باب 43،44آیت )اب کیا تو مجھے مسیح موعود جانتا ہے اور موسیٰ اور انبیاء سے بزرگ تر سمجھتا ہے۔ یہ بھی مانتا ہے کہ مجھے ان لوگوں کو سیر کرنے کے لئے کھانا مول لینے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنی قدرت سے ان پانچ ہزار کو آسودہ کرسکتا ہوں۔ ٹرنچ صاحب اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ بزرگ  سرل صاحب بتاتے ہیں کہ فیلبوس کیوں اس سوال کے لئے انتخاب کیا گیا۔وہ حضرت یوحنا 14باب 8آیت کی طرف اشارہ کرکے فرماتے ہیں کہ فیلبوس روحانی باتوں کے سمجھنے  میں کم زور تھا لہذا  ضرورت تھی کہ اسے  اس معاملے میں سبق دیا جائے۔یہ خیال درست ہو یا نہ ہو یہ بات بالکل صحیح ہے کہ فیلبوس اس وقت امتحان میں پورا نہ نکلا۔ گو وہ بڑی مدت سے مسیح کے ساتھ رہتا تھا۔ پر ابھی تک اس نے باپ کو بیٹے میں نہیں دیکھا تھا (حضرت یوحنا 14باب9آیت)اس نے ابھی اس بات کو محسوس نہیں کیا تھا کہ اس کا خداوند وہی خداوند ہے جو اپنی مٹھی کھولتا ہے اور سب جانداروں کو ان کا قوت پہنچاتا ہے اور وہی سب مخلوقات کو ابتدا ئے عالم سے سنبھالتا آیا ہے۔پس وہ اس قابل ہے کہ ان چند ہزار اشخاص کو اپنی پروردگاری سے سیر وآسودہ کرے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ گویا وہ نیچرل وسائل کے سوائے اور کسی طاقت کا قائل  نہیں چنانچہ وہ کہتا ہے کہ وہ دو سو دینار کی روٹیاں  بھی ان کے لئے کافی نہ ہوں گی اور شائد اس کا یہ بھی مطلب ہو کہ اتنا روپیہ ہمارے پاس نہیں ہے۔اب خداوند اس کے منہ سے اس قدر اقرار  کروا کے بات کو چھوڑدیتا ہے  تاکہ وہ اور دیگر شاگرد اس پر غور کریں۔ لیکن کچھ مدت کے بعد اس کے شاگرد اس کے پاس آتے ہیں  اور یہ صلاح دیتے ہیں۔

حضرت متی ۱۴باب ۱۵آیت ۔جب شام ہوئی تو شاگرد آپ کےپاس آکر بولے کہ جگہ ویران ہے اور اب وقت گزر گیا ہے۔ لوگوں کو رخصت کردے تاکہ گاؤں میں جاکر اپنے واسطے کھانا مول لیں۔

لفظ شام توجہ طلب ہے ۔ یہودی ایک دن میں دو شام مانا کرتے تھے۔ پہلی شام 3بجے سے شروع ہوتی تھی اور غروب ِ آفتاب کے وقت ختم ہوتی تھی اور دوسری شام سورج کے غروب ہونے پر شروع ہوتی تھی اور رات تک جاتی تھی۔ آیت زیر نظر میں پہلی شام کی طرف  اشارہ ہے۔ اور 23آیت میں دوسری شام کی طرف۔ الفاظ "وقت گز رگیا ہے " سے یہ مراد نہیں کہ کھانے کا وقت ٹل گیا ہے۔شائد یہ مراد ہے کہ دیر بہت ہوتی جاتی ہے۔ لوگوں کو رخصت کردے تاکہ گاؤں میں اپنے واسطے کھانا مول لیں۔ حضرت مرقس اور حضرت لوقا بستیوں کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ اور حضرت لوقا سے معلوم ہوتاہے کہ شاگرد نہ صرف ان کے کھانے کی نسبت مسیح سے گفتگو کرتے ہیں بلکہ ان کے رہنے کی نسبت بھی ۔ تاکہ وہ جاکر جگہ تلاش کریں۔

لیکن جناب ِ مسیح فرماتے ہیں۔

آیت نمبر ۱۶۔اِن کا جانا ضرور نہیں تم انہیں کھانے کو دو۔

لفظ تم پر زور ہے کیونکہ انہوں نے ان کے بھیج دینے کی رائے دی تھی۔ اب وہ یہ جواب دیتے ہیں"کیا ہم جاکر اور دوسو دینار کی روٹیاں مول لے کر انہیں کھلائیں؟(حضرت مرقس 6باب 37آیت )معلوم ہوتاہے کہ فیلبوس نے ان کے پاس اس گفتگو کا جو اس کے اور جنابِ مسیح کے درمیان ہوئی ذکر کیا اور بتایاکہ میں نے ان سے کہا ہے کہ وہ دو سودینار سے کم انکے کھانے کے لئے کافی نہ ہوں۔ گے۔ دیگر شاگرد اس خیال میں اس کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں اور آکر خداوند سے کہتے ہیں کہ بے شک دو سودینار سے کم کی ضرورت نہیں اور ہمارے پاس اتنا روپیہ موجود نہیں ۔ اس جواب سے انکے ایمان کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے ۔حالانکہ مسیح کے الفاظ سے دلالت کے طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان کی مدد کے لئے تیار ہے بلکہ جنابِ مسیح نے یہ حکم بھی دیا کہ جوکچھ تمہارے پاس ہے وہ لے آؤ۔اب اسی عرصہ میں وہ یا تو پانچ روٹیاں  اور دو مچھلیاں خرید لائے اور یا خریدنے کا انتظام کر آئے ۔ پہلے تین انجیل نویسوں سے معلوم ہوتا ہے کہ گو یا روٹیاں اور مچھلیاں شاگردوں کی تھیں پر حضرت یوحنا سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک لڑکے کی تھیں۔ اس فرق کا حل یہ ہے کہ حضرت یوحنا اپنے بیان میں روٹیوں اورمچھلیوں کے پہلے مالک کا ذکر کرتا ہے اور پہلے تین انجیل نویس اس وقت کومد نظر رکھتے ہیں۔ جب یہ روٹیاں اور مچھلیاں خریدی جا چکی تھیں۔

اب ہمارے آقا ومولا سیدنا مسیح ان روٹیوں اور مچھلیوں  کو لے کر بے شمار لوگوں کو آسودہ کرنےکا بیڑ ا اٹھاتے ہیں اور ان کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان کو اس کے پاس لائیں اور ترتیب وار بٹھائیں۔ اس کے حکم کے مطابق وہ لوگ پچا س پچاس اور سو سو قطار میں ہر گھاس پر بیٹھ گئے۔اس انتظام سے ترتیب کا خیال  مترشح ہے۔ہر قسم کی ابتری اور گڑ بڑی کا انتظام قرار داد  واقعی شروع ہی میں کیا جاتا ہے۔ یتیم لڑکے اور کمزور اور بیوہ عورتیں اس خطرہ سے آزاد ہیں کہ زور آور مرد ان کو پیچھے ہٹا دیں اور خود آگے بڑھ کر روٹی چھین لیں۔ہر قسم کی بد انتظامی اور بد ترتیبی  کا انسداد  شروع ہی سے کیا جاتا ہے۔

دوسری بات غور طلب یہ ہے کہ جناب ِ مسیح لذیز اور نفیس کھانوں کا دستر خوان ان کے لئے  آراستہ نہیں کرتے بلکہ معمولی کھانے سے ان کو سیر کرتے ہیں۔ جو بات ان کو مد نظر ہے وہ سیری اور آسودگی ہے نہ یہ کہ لذیز کھانے ان کو کھلائے جائیں۔ اسی واسطے حضرت یوحنا 6باب 9تا 13آیت )میں بتاتا ہے کہ روٹیاں جو کی تھیں۔

پہاڑ کے سر سبز ڈھلوان پر پانچ ہزار مرد قطار بیٹھے تھے اور شام کے وقت ان کے رنگین کپڑوں پر جب سورج کی کرنیں گرتی تھیں توایک عجیب سماں پیدا ہوتا ہوگا۔ ایک کنارہ  پر مسیح اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھائے کھڑا ہے کیونکہ وہ ان روٹیوں اور مچھلیوں سے جو اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اس جم غفیر کو آسودہ کرنے پر ہے۔ منجملہ اور فوائد کے اس ترتیب کا ایک یہ فائدہ بھی تھا کہ اس سے یہ معجزہ سب پر ظاہر ہوگیا کیونکہ سب مسیح کی طرف دیکھتے تھے اور جاننے تھے کہ وہی ہمارا کھلانے والا ہے اور نیز اس سے لوگوں کا شمار کرنا بھی آسان ہوگیا اور شاگرد بآسانی قطاروں کے درمیان پھر کر کھانا تقسیم کرسکتے تھے۔

آیت نمبر ۱۹۔آسمان کی طرف دیکھ کر برکت چاہی ۔

سب اناجیل اس بات کا ذکر کرتی ہیں۔ یہودیوں میں یہ ایک نہائت عمدہ دستور تھا کہ کھانے کے پہلے شکر کرنا لازمی سمجھتے تھے۔ تالمود (یہودیوں کی احادیث کی کتاب )میں ایک جگہ اس کے متعلق یوں کہا ہے ۔ جو شخص بغیر شکریہ ادا کرنے کے کسی چیز کو استعمال میں لاتا ہے وہ گویا خدا کو لوٹتا ہے ۔"جو الفاظ مسیح کی زبان سے اس وقت نکلے وہ قلمبند نہیں کئے گئے ۔لیکن اغلب ہے کہ وہ وہی ہوں گے جو بنی اسرائیل کے درمیان مروج تھے۔ یا شائد اس نے جیسا حضرت لوقا سے ظاہر ہوتا ہے (حضرت لوقا 9باب16آیت )روٹیوں اور مچھلیوں کو برکت دی (حضرت یوحنا 11آیت )شکر گزاری کا ذکر کرتا ہے ۔غالباً اس دعا میں دونوں باتیں شامل تھیں۔ اس کے بعد اس نے "انہیں (روٹیوں کو )توڑ کر شاگردوں کو دیا اور شاگرد وں نے لوگوں کو "بعض لوگوں کاخیال ہے کہ تین جگہ ان روٹیوں کی مقدار بڑھی اول مسیح کے ہاتھ میں۔ دوم شاگردوں کے ہاتھ میں سوم کھانے والوں کے ہاتھ میں۔ ممکن ہے ایسا ہوا ہو اور ممکن ہے کہ جنابِ مسیح ہی کے ہاتھ میں یہ عجیب ترقی پیدا ہوئی ہو۔بہر کیف سب کھانے والے سیر ہوگئے چنانچہ  لکھا ہے "سب کھانے والے سیر ہوگئے۔"(حضرت یوحنا 6باب 11آیت )ظاہر ہوتاہے کہ جو جس قدر چاہتا تھا اتنا روٹیوں اور مچھلیوں سے اس کو ملتی تھی۔

اب اس بات کی کھوج کرنا روٹیاں اور مچھلیاں کس طرح بڑھیں بے فائدہ کوشش ہے کیونکہ یہ معاملہ بالکل فوق العادت ہے جوکچھ خیالات لوگوں نے اس امر پر ظاہر کئے ہیں وہ آگے چل کر بیان کئے جائیں گے ۔ فی الحال یہ بات غور کے لائق معلوم ہوتی ہے کہ جنابِ مسیح کیسی سرعت سے فوق العادت کو چھوڑ کر پھر نیچرل عالم میں داخل ہوتا ہے چنانچہ وہ ان کو حکم دیتا ہے کہ بچے ہوئے ٹکڑوں کو جمع کر و تاکہ کچھ ضائع نہ ہوں (حضرت یوحنا 6باب 12آیت )اور حضرت متی اور دیگر انجیل نویس بتاتے ہیں کہ "بچے ہوئے ٹکڑوں سے بھری ہوئی بارہ ٹوکریاں اٹھائیں (حضرت متی 14باب 19آیت )میں ہم دیکھ آئے ہیں کہ اس نے روٹیوں کو توڑ اور اپنے شاگردوں کو دیا۔ اب حضرت متی آیت 20میں جو اسم "ٹکڑوں "استعمال کیاگیا ہے وہ اسی فعل سے مشتق ہے جس کا ترجمہ "توڑ کر "آیت 19میں کیا گیا ہے۔ پس ان ٹکڑوں سے جو انہوں نے اٹھائے وہ ٹکڑے مراد نہیں جو کھاتے وقت ہاتھوں سے گر گئے تھے بلکہ وہ جو مسیح نے توڑ توڑ کردئے تھے۔ ایک شخص بیان کرتا ہے کہ اس زمانہ میں جو یہودی اٹلی میں رہا کرتے تھے ان کا دستور تھا کہ سفر میں اپنے ہاتھ ایسا کھانا ٹوکریوں میں رکھ کر لے جاتے تھے جو چھونے سے ناپاک نہیں ہوتا تھا ۔ تعجب نہیں کہ فلسطین  میں بھی کچھ اسی قسم کا رواج جاری ہوا اور گواں موقعہ پرلوگوں کے پاس کھانا موجود نہ تھا مگر ٹوکریاں موجود تھیں۔ شائد بارہ شاگردوں میں سے ہر ایک نے ایک ایک ٹوکری اپنے لئے لی ہو۔ اوریہی بارہ ٹوکریاں بھری ہوئی اٹھائی  گئی ہوں۔

الہٰی فیاضی کے ساتھ عجیب قسم کی کفایت شعاری لگی ہوئی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح نےپانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں کو اس قدر ترقی دی کہ پانچ ہزار اشخاص آسودہ ہوئے اب اس بات کے لئے فکر مند ہے کہ جو ٹکڑے بچ رہے ہیں ان میں سے کچھ ضائع نہ ہو۔  اور جب وہ جو خالق اور پروردگار ہے جو کی روٹیوں کے لئے اس قدر فکر مند ہے تو ہم کو لازم ہے کہ کوئی چیز خواہ ہم کیسے ہی متمول  اور صاحب مال ومنال کیوں نہ ہوں ضائع نہ کریں اور دوسرا خیال جو غور کے لائق ہے یہ ہے کہ ان ٹوکریوں کا بھرا ہوا اٹھانا علامت ہے اس الہٰی محبت کی جو محبت کرنے سے ختم نہیں ہوتی بلکہ محبت کے کاموں کے سبب آگے کی نسبت اور زیادہ وسیع اور بھر پور نظر آتی ہے ۔ دینے اور خرچ کرنے میں ہمیشہ بڑھتی  اور ترقی ہوتی ہے۔ امثال کے مصنف کی یہ قول درست ہے کہ کوئی تو ایسا ہے جو کھنڈاتا ہے تو بھی مال بڑھتا ہے ۔ پھر کوئی ہے جو نیکی سے ہاتھ زیادہ کھینچتا ہے پر فقط کنگال پن کی طرف ہوتا "(بائبل شریف کتاب ِامثال 11باب 24آیت)۔

آیت نمبر ۲۱۔او رکھانے والے سوا عورتوں اور بچوں کے پانچ ہزار مرد کے قریب تھے ۔

معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں اور بچوں کا شمار بہت کم ہوگا ورنہ حضرت مرقس اور حضرت لوقا اور حضرت یوحنا اس کونظر انداز نہ کرتے ۔

اب اس معجزے کا اثر جو کچھ لوگوں پرہوا اس کا ذکر صرف حضرت یوحنا کرتے ہیں۔ اور  وہ بڑا گہرا اثر تھا۔وہ کہتے ہیں کہ "جو نبی دنیا میں آنے والا تھا فی الحقیقت یہی ہے (حضرت یوحنا 6باب 14آیت )شائد اس نبی سے مراد وہ نبی ہے جس کی نبوت موسیٰ نے کی ہے (توریت شریف کتاب ِ استشنا  18باب 15تا 18آیت ،انجیل شریف بہ مطابق 7باب 21تا 25آیت ،اعماالرسل 3باب 22آیت ،7باب 37آیت )پر سب یہودی اس نبی کو جس کا ذکر موسی ٰ نےکیا مسیح نہیں مانا کرتے تھے ۔مگر جن لوگوں کا ذکر یہاں پایا جاتا ہے وہ "اس نبی سے "مسیح مراد لیتے ہیں کیونکہ وہ اسے پکڑ کر بادشاہ بنانا چاہتے ہیں "(حضرت یوحنا 6باب 15آیت )شائد ان کا یہ مطلب تھا کہ وہ مسیح کو جبراً یروشلم لے جائیں اور وہاں وہ خواہ رضا مند ہو یا نہ ہو عید فسح کے موقعہ پر بادشاہ بنائیں۔

پرانے زمانے کے مسیحیوں نے اس معجزہ کی جزویات کو علامتی معنی دیئے ہیں۔ مثلاً مقدس جیروم بیان کرتے ہیں کہ لڑکے سے مراد حضرت موسیٰ اور پانچ روٹیوں سے اس کی پانچ کتابیں  مراد ہیں اور کہ سو سو کی قطار سے یگانگت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ سو کامل نمبر ہے اور پچاس سے گناہوں کی معافی کیونکہ پچاس سےاشارہ شال یو بال اور پینتکوست کی طرف ہے ۔ یہ باتیں محض واہمہ کا کھیل ہیں اور حقیقت سے بالکل خالی ہیں۔

قبل ازیں کہ ہم ا س معجزے کو چھوڑ کر آگے بڑھیں دو تین باتوں کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔

اول۔انجیلوں میں دو مرتبہ اس قسم کے معجزے کا ذکر پایا جاتا ہےاور وہ دونوں موقعے مختلف تھے لیکن معترضوں نے یہ حملہ کیا ہے کہ یہ دونوں بیان ایک ہی واقعہ کے ہیں اور لکھنے والوں نے غلطی سے ان کو علیحدہ علیحدہ کردیا ہے۔ لیکن وقت اور دیگر حالات کے اختلاف پرغور کرنے سے فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ قیاص صحیح نہیں ہے ۔ مثلا ًکھانا اورکھانے والوں کا شمار اور بچے ہوئے ٹکڑوں کی مقدار وغیرہ سب باتیں دونوں موقعوں پر جداجدا تھیں ۔ علاوہ بریں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک میں یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے ہی دن مسیح نے بھیڑ کو آسودہ کیا اور دوسرے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب لوگ تین دن تک مسیح کے ساتھ رہ چکے تب اس نے ان کو کھلایا ۔ پھر یہ بھی ثابت ہے کہ جو واقعات ان معجزوں میں سے ہر ایک کے پہلے اور پیچھے وقوع میں آئے ان میں بھی بڑا فرق ہے۔ مثلاً ایک سے ظاہر ہوتاہے کہ مسیح نے معجزے سےپہلے مغربی ساحل سے عبور کرتا ہے اور اس کے بعد دریا پر چلنے کا معجزہ سرزد ہوتا ہے پر دوسرے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ وہ معجزہ دکھانے سے پہلے  صوبہ فینکی اور یردن کےمنبع کےار د گرد کے علاقوں کا دورہ کرکے مشرقی ساحل پر آتا ہے اورمعجزے کے بعد گلیل کے فریسیوں اور صدوقیوں کی آخری جنگ اس کے ساتھ ہوتی ہے بلکہ معجزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جولوگ جمع ہوئے وہ ان شہروں سے آئے جوجھیل کے مغربی کنارے پر آباد تھے۔ لیکن دوسرے معجزے سےمعلوم ہوتا ہے کہ وہ ان پہاڑوں سے جمع ہوئے جو مشرقی اطراف میں واقع تھے۔ اور اسی طرح وقت بھی فرق تھا۔  ایک معجزہ موسم بہار کے شروع میں واقع ہوا اور دوسرا بہت مدت بعد یعنی ایسٹر کے بعد اور سخت گرمیوں کےدنوں میں۔

دوم۔دوسری غور طلب بات یہ ہے کہ لوگوں نے طرح طرح کی تشریحیں اس بات کو حل کرنے کے لئے ہیں کہ یہ معجزہ کس طرح وقوع میں آیا۔وہ رکیک  اور ناقص تاویل جو ریشنلسٹ پیش کرتے ہیں کئی صورتیں اختیار کرتی ہے۔ مثلا ً پالس جوجرمنی کا رہنے والا تھا یہ کہتا ہے کہ جس طرح مسیح نے اپنی روٹیاں اورمچھلیاں نکالیں اسی طرح اس کے نمونہ پر باقی لوگوں نے بھی کیا اور اپنی اپنی روٹیاں اورمچھلیاں نکالیں اور پھر سب کے سب بیٹھ گئے اور اپنا اپنا کھانا نکال کرکھانے لگ گئے۔ مسیح کے شاگردوں نے اس کو معجزہ بنالیا۔ دوسری اسی قسم کی تاویل یہ ہے کہ چونکہ پرانے عہد نامہ میں (توریت شریف کتابِ خروج 16باب ،بائبل شریف 1سلاطین 17باب 8تا 16آیت ،2سلاطین 4باب 1و42آیت ) کچھ کچھ اس قسم کے معجزات کا ذکر پایا جاتا ہے لہذا اسی کی نقل پر یہ معجزہ تجویز کیا گیا تاکہ مسیح کی نسبت جو خیالات عام طور پر مروج تھے وہ پورے ہوں۔ مگر ان باتوں کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ تاویلیں اس تواريخی  سادگی کا جو اس بیان سے صادر ہے خون کرتی ہیں۔سوائے اس کے وہ باتیں جو اس معجزے کے بعد وجود میں آئیں ایسی ہیں کہ اگر یہ معجزہ وقوع میں نہ آتا توو ہ بھی واقع نہ ہوتیں ۔ مثلاً اگر مسیح نے یہ معجزہ  حقیقت میں نہ دکھایا ہو تاتو کب یہ لوگ اس کو بادشاہ  بنانے کی کوشش کرتے اور پھر ہم دیکھتے کہ کئی اس کے شاگرد وں میں سے بھی اس کو چھوڑ کرچلے جاتے ہیں۔ اس عجیب تبدیلی کی کوئی اور وجہ نہیں ہوسکتی سوائے  اس معجزہ کے جس کے سبب سے مسیح کو یہ دعوےٰ کرنے کا موقع ملا کہ میں زندگی کی روٹی ہوں اور میرا خون اور گوشت حقیقی حیات اور طاقت کا چشمہ ہے ۔ اگر یہ معجزہ ایک متھ(بناوٹی قصہ )ہے توپھر کوئی بات تواریخی  اور حقیقی واقعہ نہیں ہو سکتی ۔ جیسا ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ ہم  کو یہی خیال صحیح معلوم ہوتا ہے کہ فوق العادت اور سو پر نیچرل معاملات  کی کہنہ دریافت کرنے میں انسان کی عقل  ناقص ہے ۔ پس ہم یہ مانتے ہیں کہ وہ جس نے عالموں کو خلق کیا اس قابل تھا کہ روٹیوں کو بڑھائے تاہم جہاں تک نیچرل وسائل کام میں آسکتے ہیں وہاں تک وہ ان کو کام میں لاتا ہے ۔ جو روٹی موجود ہے اسے ترک نہیں کرتا اور جو نیچرل وسائل سے نہیں ہوسکتا اسے اپنی خانقانہ قدرت سے وجود میں لاتا ہے  ہم اس بات کے انکاری نہیں کہ  اور معجزات کی طرح اس معجزے سے بھی مشکلات وابستہ ہیں۔ مگر ہم اس بیان کی سادگی اور سچائی  کے سبب اور نتائج کی وجہ سے جومسیح کےکام میں اس معجزے سے پیدا ہوئے  اور ان اخلاقی اورر وحانی فوائد کے باعث جواس سے برآمد ہوئے وہ اب تک جاری ہیں اور اس کی الہٰی قدرت کے سبب جواس معجزہ کودکھانے والا تھا اسے ایک سچا تاريخی واقعہ قبول  کرتے ہیں۔

نصیحتیں اورمفید اشارے

1۔حضرت متی سے معلو م ہوتاہے کہ ہمارے آقا ومولا نے اس ضیافت کے بعد جس کے سبب سے حضرت یوحنا شہید کردئیے گئے اس بیابان کی راہ لی۔ پر یہاں وہ خود ایک ضیافت تیارکرتا ہے ۔دیکھو دونو ں ضیافتوں میں کیسا فرق ہے ہیرددیس کی ضیافت بڑے جشن کے ساتھ شروع ہوئی۔ جرم بیچ میں آیا اور فکر اور غم اس ضیافت کے آخر میں دامن گیر ہوئے۔ لیکن مسیح کی ضیافت جسم کی ضرورت رفع کرنے کی نیت سے شروع ہوئی لیکن پھر روح کی سیری بھی عطا کی گئی اور آخر میں آسمانی خوشی کئی ایک کو نصیب ہوئی۔

2۔جناب ِ مسیح کا نمونہ ۔(1)دانائی کے ساتھ خطرے کی جگہ سے ہٹ جانے میں (2) اپنے اور اپنے شاگردوں کے لئے دماغی آرام ڈھونڈنے میں (3)دوسروں کی بھلائی کے لئے اپنے آرام کو ترک کرنے میں۔

3۔بھیڑ کوکھلانا ہم کوکئی سبق دیتا ہے (1)ترس کھانے میں (2)فرماں برداری کرنے میں (3)ترتیب رکھنے میں (4)کفائت شعاری کے ساتھ چلنے میں۔

4۔تنہا مکانوں میں جاکر دعا مانگنا بڑی برکت کا باعث ہوتا ہے ۔

5۔جنابِ مسیح کا رحم کیسی نئی نئی صورتیں اختیار کرتا ہے ۔ (1)شفا دیتا ہے (2) تعلیم دیتا ہے ۔(3)آسودگی عطا کرتا ہے اور ان برکتوں کے لئے ایک پیسہ بھی نہیں لیتا ہے ۔

6۔آسمانی بادشاہت کی برکتوں کی کثرت میں ہمیشہ خبرداری اور کفائت شعاری داخل ہوتی ہے ۔ پانچ ہزار سیر کئے جاتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایک ٹکڑا تک ضائع نہیں ہونے پاتا۔ اسی طرح خدا اپنی ساری برکتوں کی نگہبانی کرتا ہے (1) فطرت میں (2) روحانی عالم میں (3)جلالی دنیا میں۔

7۔ہمیشہ عقل پر تکیہ کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ خدا کے فضل اورقدرت بالغہ کو عقل پر ترجیح دینی پڑتی ہے۔ شاگرد عقل کے پابند ہوکردیناروں کا فکر کرتے ہیں اورمسیح کی قدرت اور فضل کو جیسی جگہ دینی چاہئیے نہیں دیتے ۔ پر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم مناسب وسائل کو ترک کردیں کیونکہ خدا ان کی قدرکرتا ہے۔

8۔ہم اپنے سرمائہ کی کمی پراتنا زغور نہ کریں جتنا خدا کی برکت پر ۔

9۔غریبوں کی مد د کرنا ہم کو کبھی غریب نہیں بتاتا۔

10۔ہر خاندان کے سر گروہ کو مسیح کا نمونہ اختیار کرنا چاہئیے (1)کھانے سےپہلے خدا کی برکت مانگنی چاہئیے۔ (2)اس کی برکتوں کو خبرداری سے استعمال کرنا چاہیے۔(3)ان کی حفاظت کرنی چاہئیے ۔(4)انتظام سے کام لینا چاہئیے۔(5)ترتیب کے معاملے میں اسکے نقش قدم پر چلنا چاہئیے۔

11۔مسیح اس معجزے کے وسیلے ظاہر کرتا ہے کہ میں ساری دنیا کی سیری کے لئے ضروری روٹی ہوں۔ وہ سب کی بھوک مٹاتا وہ لوگوں کےکھانے سے ختم نہیں ہوتا ۔ کیونکہ ساری زندگی کا سرچشمہ اور سوتا وہی ہے اسی میں اس قدر خوراک موجود ہے کہ ہمارے سیر ہونے کے بعد بھی سب دنیا کے لئے کافی بچ جاتا ہے۔

12۔جب لوگ اندازہ لگاتے ہیں تو اسباب کی کمی وبال جان ہوتی ہے۔ پر جب مسیح اندازہ لگاتے ہیں تو بڑھتی ہوتی ہے۔

13۔سب سے بڑی نصیحت یہ ہے کہ مسیح اپنے شاگردوں سے کہتے ہیں کہ تم انہیں کھانے کو دو ۔دنیا کے بھوکوں کی ذمہ داری مسیحی ناظر آپ پر ہے ۔ جتنا آپ کے پاس ہے اسے استعمال کرو ۔ خداوند اسے بڑھائے گا اوراسی کےوسیلے بہتوں کو سیر کرے گا ۔ تم انہیں کھانے کو دو۔

 

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا, معجزات المسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (7640)

Post a Comment

English Blog