en-USur-PK
  |  
31

نائن کی بیوہ کے لڑکے کو زندہ کرنا

posted on
نائن کی بیوہ کے لڑکے کو زندہ کرنا

THE MIRACLES OF CHRIST

معجزاتِ مسیح

15-Miracle   

Jesus Raises a Widow's Son in Nain

Luke 7:11-16    

 

نائن کی بیوہ کے لڑکے کو زندہ کرنا

۱۵ ۔معجزہ

انجیل شریف بہ مطابق حضرت لوقا ۷باب ۱۱تا ۱۶آیت

مرحوم علامہ طالب الدین صاحب بی ۔ اے

؁ ۱۹۰۵ء

 

آیت نمبر ۱۱۔تھوڑے عرصہ کے بعد ایسا ہوا کہ جنابِ مسیح شہر نائن کو گئے۔اور اس کے شاگرد اور بہت سے لوگ اس کےہمراہ تھے۔

شہر نائن کا ذکر اور کسی جگہ بائبل میں نہیں پایا جاتا ۔ اس کا نام صرف اس بیوہ کے لڑکے کے سبب سے زندہ ہے لہذا مفصل بیان اس شہر کا پیش نہیں کیا جاسکتا تاہم اس کی جائے وقوع پر کسی طرح کا شک نہیں ہے ۔ یہ شہر ہر مون خورد کے شمال مغربی کنارہ پر ناصرت سے چھ میل جنوب مشرق کے رخ واقع تھا۔ لفظ نائن کے معنی "صاف یا" خوب صورت "کے ہیں اور شائد یہ نام اس واسطے اس کو دیا گیا تھا کہ وہ کوہ ہرمون کے ڈھلوان پر جہاں پہاڑ میدان اسدر لان سے مل جاتا ہے آباد تھا۔ اس زمانہ میں یہ شہر غالباً ایک قصبہ کی مانند تھا۔ لیکن اب بہت ہی گھٹ گیا ہے۔

اور اس کے شاگرد اور بہت سے لوگ اس کے ہمراہ تھے۔ لفظ شاگرد اس جگہ وسیع معنوں میں منتعل ہوا ہے۔ البتہ بارہ رسول بھی ان میں شامل تھے۔تھوڑا عرصہ ہوا کہ وہ عمدہ رسالت پر مامور ہوئے تھے اور آج اس عجیب معجزے کا وقوع میں آنا ان کے ایمان کی تقویت کا باعث ہوا ہوگا۔

آیت نمبر ۱۲۔جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدیک پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک مردے کو باہر لئے جاتے ہیں۔وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا اور بیوہ تھی۔ اور شہر کے بہتیرے لوگ اس کے ساتھ تھے ۔

مرد ے کو باہر لئے جاتے تھے۔ کیونکہ قبرستان شہر کے باہر تھا۔ یہودی بھی اپنے مردوں کو اہل مشرق کی طرح شہر کے اندر نہیں گاڑا کرتے تھے۔

اس بیوہ کے اکلوتے بیٹے کا مرجانا ایک افسوس ناک اور دل گداز واقع تھا۔ اور اسی سبب سے بہت لوگ جنازہ کے ہمراہ جارہے تھے۔ حضرت لوقا رقت انگیز سادگی اور اختصار  کے ساتھ اس اندو ناک نظارے کی تصویر کھینچی ہے ۔ "ایک مردے کو باہر لئے جاتے تھے وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا۔اور وہ بیوہ تھی "اکلوتے بیٹے کے لئے جو غم  اور ماتم کیا جاتا تھا۔ وہ ضرب المثل تھا۔ مثلاً حضرت یرمیاہ کہتا ہے "اے میری قوم کی بیٹی کمر پر ٹاٹ باندھ اور راکھ میں لوٹ آپ کو اس میں اس طر ح آیا ہے "اور دے اس پر جسے انہوں نے چھیدا ہے نظر کریں گے اور دے اس کے لئے ماتم کریں گے جیسا کوئی اپنے اکلوتے کے لئے کرتا ہے ۔"(بائبل شریف صحیفہ حضرت ذکریا 12باب 10آیت)۔پھر حضرت عاموس کہتے  ہیں "اور میں تمہاری عیدوں کو ماتم سے اور تمہاری گیتوں کو نوحہ سے مبدل کروں گا ۔۔۔۔۔اور میں ایسا ماتم کرواؤں گا جیسا اکلوتے پر ہوتاہے ۔"(بائبل شریف صحیفہ  حضرت عاموس 18باب 10آیت )۔

آیت نمبر ۱۳۔اسے دیکھ کر خداوند(یعنی جناب ِ مسیح) کو ترس آیا اور اس سے کہا رو نہیں ۔

خداوند۔ یہ لفظ حضرت لوقا کی انجیل میں بہت دفعہ نجات دہندہ کے لئے آیا ہے۔(10باب 10آیت ،11باب 39آیت ،12باب 42آیت ،13باب 15آیت ،22باب 61آیت )۔اور اس سے مسیح کی وہ الہٰی اور شاہانہ بزرگی اور جلال ظاہر ہوتاہے جو اس کے کلام اور کام میں نظر آتا ہے ۔

رو نہیں۔ جس طرح جنابِ مسیح نے یائیرس کے خوف کو پہلے دور کیا اسی طرح اس عورت کے غم کو معجزہ دکھانے سےپہلے دور کرتا ہے۔ یہ ترس ہمدرد سردار کاہن (امام اعظم )کا ترس ہے جس کا ذکر مفصل طور پر عبرانیوں کے خط میں آتا ہے (انجیل شریف خطِ عبرانیوں 3باب 16آیت ،4باب 14آیت )۔

رو نہیں۔ یہ الفاظ جب آپ کی زبان مبارک سے نکلتے ہیں تو کیسا مطلب رکھتے ہیں۔ لوگ اکثر اپنے دوستوں کو رونے دیکھ کر کہا کرتے ہیں۔ رو نہیں مگر وہ ان کے لئے کچھ نہیں کرسکتے اور نہ یہ بتاسکتے ہیں کہ ہم کس اختیار سے رونا سے بند کرتےہیں۔ لیکن وہ جو خدا کے اس کلام کو کہ " خدان کی آنکھوں سے ہرایک آنسو پونچھیگا اور پھر موت نہ ہوگی اور غم اور نہ نالہ اور نہ پھر دکھ ہوگا کیونکہ اگلی چیزیں گذر گئیں"پورا کرنے کو آيا ۔ اس وقت اس مجروح بیوہ کے آنسو پونچھ کر اس بات کا ثبوت دیتاہے کہ میں ہی اکیلا دکھوں اور غموں کو دور کرسکتا ہوں ۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ مسیح کا سب سے بڑا مقصد یہ نہ تھا کہ فقط اس بیوہ کا غم دور ہوجائے۔ البتہ اس کے معجزہ کا ایک قرینی نتیجہ یہ بھی تھا۔ مگر اس کا اعلیٰ مقصد یہ تھا کہ اس مردہ شخص کے اندر ایک اعلیٰ زندگی پیدا ہو اور وہ اس کی ماں کی حقیقی اور سچی خوشی کا باعث ٹھیرے۔مگر یہ نتیجہ ابھی بخوبی واضح نہ ہوا تھا۔

آیت نمبر ۱۴۔پھر جنابِ مسیح نے پاس آکر جنازے کو چھوا اور اٹھانے والے کھڑے ہوگئے اور آپ نے فرمایا اے جوان میں تجھ سے کہتا ہوں اٹھ۔

پاس آکر۔ جنازے کو چھوا۔ غالباً اس سے جناب ِ مسیح کا یہ مطلب تھاکہ وہ ان لوگوں کو جو جنازہ لے جارہے تھے ٹھیرائے ۔ اور وہ فوراً ٹھیر گئے۔ نا ممکن نہیں کہ یہ لوگ مسیح سے واقف  تھے۔ اس کے بعد وہ اس مردہ جوان کو اٹھنے کا حکم دیتے ہیں۔ "میں تجھ سے کہتا ہوں "میں جو قیامت اور زندگی ہوں۔ جو نیستی سے ہست کرنے والا ہوں تجھ کو اٹھنے کا حکم دیتا ہوں ۔ یہ زندگی کے شہزادہ کا باقدرت کلام ہے۔ مقابلہ کرو حضرت لوقا 8باب 56آیت ،حضرت یوحنا 11باب 44آیت )۔

آیت نمبر ۱۵۔وہ مردہ اٹھ بیٹھا اور بولنے لگا اور آپ نے اسے اس کی ماں کو سونپا۔

مردوں کے اٹھ بیٹھنے اور کلام کرنے سے صاف روشن ہے کہ نہ صرف ان میں زندگی واپس آتی تھی بلکہ زندگی کے ساتھ طاقت اور صحت بھی بخشی جاتی تھی۔ زندہ کرنے کے بعد ہی  ہمارے مولا وآقا اس جوان کو اس کی ماں کے سپرد کردیتے ہیں اور اس محبت کے فعل سے اپنی قدرت کے معجزے کو کامل کرتے ہیں۔

یہ بات غور طلب ہے کہ مسیح مردوں کو زندہ کرنے کے بعد ان کی طرف خاص طور پر توجہ کرتے ہیں۔ یائیرس کی بیٹی کے زندہ ہونے کے بعد اس کے رشتہ داروں کو حکم دیتے ہیں کہ اسے کھانے کو کچھ دیں۔ لعزر کے کفن کو کھولنے کا حکم کرتے ہیں یہاں وہ اسے زندہ کرکے ا سکی ماں کے سپرد کرتے ہیں۔

اسی طرح وہ ایک دن "اٹھ " کہہ کر زندہ کرے گا جو اب اس میں سورہے ہیں۔ اور انہیں ان کے عزیزوں اور رشتہ داروں کے سپرد کردے گا ۔ تاکہ وہ انہیں پہچانیں اور سدا خوشی کے ساتھ باہم اکھٹے رہیں ۔ اس کا وعدہ اور ثبوت ہم کو تین مردوں کے زندہ ہونے میں ملتا ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر خود مسیح کے مردوں میں سے جی اٹھتے ہیں۔

آیت نمبر ۱۶۔اس سے سب پردہشت چھاگئی اور وہ خدا کی بڑائی کرکے کہنے لگے کہ ایک بڑانبی ہم میں آیا ہے اور یہ کہ خدانے اپنی امت پر توجہ کی ہے۔

دیکھنے والوں پر اس معجزہ کا اچھا اثر پیدا ہوا۔ چنانچہ ان پر اس خیال اور احساس سے کہ ہم ایک پاک شخص کے حضور میں کھڑے ہیں دہشت پیدا ہوئی۔ البتہ سب پر یکسا نہیں ہوئی ہوگی۔ اور اغلب ہے کہ ان کے خیال میں کچھ نہ کچھ غلطی بھی شامل ہوگی۔ تاہم سب نے شکر گزاری کے ساتھ  خدا اور مسیح کے نام کی تعریف کی ۔ اور یہ نتیجہ نکالا کہ یہ نبی کوئی عام قسم کا نبی نہیں بلکہ ایک بڑا نبی ہے ۔

نصیحتیں اور مفید اشارے

1۔مسیح اس جگہ دو صورتوں میں نظر آتے ہیں۔ اول نبی جو اپنے کلام کو معجزوں سےثابت کرتا ہے۔ دوم سردار کاہن جو آنسو پونچھتا ہے۔ سوم زندگی کا شاہزادہ جو موت پر غالب آتا ہے ۔

2۔اس معجزہ میں موت کس کس صورت میں نظر آتی ہے ۔ اول جوان کو بھی گرادیتی ہے۔ دوم ۔بڑے گہرے اور قریبی رشتہ داروں کو توڑ ڈالتی ہے۔سوم۔ آٹھ آٹھ آنسو رلاتی ہے ۔چہارم پر آخر کا ر مسیح سے مغلوب ہوجاتی ہے ۔

3۔نائن کا دروازہ وہ اسکو ل ہے جہاں ہم دکھ اور تسلی کا سبق سیکھتے ہیں۔

4۔سچے مسیحی اپنے آقا ومولا سیدنا عیسی ٰ مسیح کی پیروی ہر جگہ کرتے ہیں خواہ وہ قانا (شادی) کے مکان میں جائے خواہ نائن کو جائے جہاں ماتم اور آنسو ہیں۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا, معجزات المسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (8041)

Post a Comment

English Blog