en-USur-PK
  |  
23

فالج کےمارے ہوئے کو شفا بخشنا

posted on
فالج کےمارے ہوئے کو شفا بخشنا

THE MIRACLES OF CHRIST

معجزاتِ مسیح

9-Miracle   

Jesus Heals a Paralytic

 Matthew 9:1-8 Mark 2:1-12 Luke 5:17-26  


فالج کےمارے ہوئے کو شفا بخشنا

۹ ۔معجزہ

انجیل شریف بہ مطابق حضرت متی ۹باب ۱تا۸

مرحوم علامہ طالب الدین صاحب بی ۔ اے

؁ ۱۹۰۵ء

 یہ معجزہ اس وقت واقع ہوا جبکہ جناب ِ مسیح کفرناحوم میں تعلیم دے رہے تھے۔اس موقعہ پر حضرت لوقا ہمیں بتلاتے ہیں کہ فریسی اور شرع کےمعلم جو گلیل کے گاؤں اور یہودیہ اور یروشلیم سے آئے تھے بیٹھے آپ کا کلام سن رہے تھے۔ ان لوگوں کے سبب اور لوگ بھی کثرت سے جمع ہوگئےتھے۔یہاں تک کہ گھر کو جو راستے آتے تھے اور از دحام کے سبب بند ہوگئے تھے۔ چنانچہ حضرت مرقس کہتے ہیں کہ "اتنے آدمی جمع ہوگئے کہ دروازہ کے پاس بھی جگہ نہ رہی "پس مسیح تک پہنچنے کے لئے کوئی راستہ نہ تھا۔(حضرت متی 12باب 46تا 47آیت )حضرت متی اس واقعہ  کا صرف مختصر سا حال تحریر کرتے ہیں۔ لیکن حضرت مرقس اور حضرت لوقا مفصل بیان کرتے ہیں۔

آیت نمبر ۱۔اور دیکھو لوگ ایک مفلوج کو جو چار پائی پر پڑا تھا ان(سیدنا مسیح)کے پاس لائے۔

حضرت لوقا یہ بھی بتاتے ہیں کہ "پروردگار کی قدرت شفا بخشنے کو جنابِ مسیح کے ساتھ موجود تھی۔ حضرت مرقس کہتے ہیں کہ چار آدمی اسے اٹھا کر لائے۔مگر جب بھیڑ کے سبب سے نزدیک نہ آسکے تو انہوں نے اس چھت کو جہاں آپ تھے کھول دیا۔ اور اسے ادھیڑ کر اس چارپائی کو جس پر مفلوج لیٹا تھا لٹکادیا ۔"حضرت لوقا بیان کرتے ہیں کہ "جب انہوں نے بھیڑ کے سبب اندر لیجانے کی راه نہ پائی تو کوٹھے پر چڑ ھ کر کھپریل میں سے کھٹولا لٹکا کر اس کو بیچ میں سیدنا مسیح کے سامنے رکھ دیا"۔

اس بیان میں کئی باتیں غور طلب ہیں اول یہ کہ چارپائی ایسی نہ تھی جیسی ہندوستان میں استعمال کی جاتی ہے۔ پس جسے کھٹولا کہا ہے وہ چیز ایک قسم کا گدا یا چٹائی تھی جو سونے کے لئے استعمال کی جاتی تھی اور زمین پر بچھائی جاتی تھی۔ یا ممکن ہے کہ انہوں نے اس وقت کو ئی لکڑی کا تختہ استعمال کیا ہو اور اس پر اسےرکھ کر لائے ہوں۔ غرضیکہ یہ چیز جسے انہوں نے نیچے لٹکایا ہندوستانی تخت یا چار پائی کی طرح نہ تھی ۔ دوسری بات وجہ طلب یہ ہے کہ انہوں نے کس طرح چھت کو پھاڑا ۔ اور اس مفلوج کو لٹکایا۔ اول یہ یاد رہے کہ کوٹھے کی چھت پر جانا مشکل نہ تھا کیونکہ ان مکانوں میں عموما ً سیڑھیاں باہر کی طرف لگی ہوئی ہوتی تھیں۔ دوم چھت  اینٹوں کی بنی ہوئی تھی اور اسے اگھیڑنا مشکل نہ تھا۔ حضرت مرقس کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں دوکام ان کو پڑے ۔ اینٹیں اکھیڑ نی پڑیں ۔کچھ مٹی اٹھانی پڑی اور اس قسم کا کام فلسطین میں غیر معمولی نہ تھا۔ ایک مسیحی عالم ٹامسن صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس قسم کی باتیں یعنی چھت میں چھید کرنا وغیرہ معمولی باتیں ہیں جو ملک فلسطین  میں واقع ہوتی رہتی ہیں۔اور اگر کوئی پوچھے کہ اگر یہ معمولی بات تھی تو یہاں اس کا ذکر کیوں کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ  یہا ں اس کا ذکر اس واسطے نہیں کیا گیا کہ وہ ایک عجیب کام تھا۔ بلکہ اس واسطے کہ ان لوگوں کی پھرتی اور تیزی ظاہر ہو جو ان کے ایمان سے پیدا ہوئی تھی۔ بہت مفسروں کی رائے یہ ہے کہ یہ مکان غالباً بالا خانہ تھا جو عموماً تمام مکان کے رقبہ کی وسعت  کے برابر ہوتا تھا۔ (ٹرنچ کیمبرج کامنٹری مرقس ولوقا )پس یہاں لوگ بآسانی  سیدنا مسیح کے سننے کو جمع ہوسکتے تھے ۔ کئی اور تشریحیں  پیش کی گئی ہیں جن کا ذکر ٹرنچ صاحب اپنی کتاب میں کرتے ہیں۔ مثلا ً یہ کہ جس جگہ سے وہ لٹکایا گیا وہ ایک جھروکا تھا جسے انہوں نے توڑ پھوڑ کر زیادہ  فراخ کر لیا تھا (بائبل مقدس کتاب 2سلاطین 1باب 2آیت) کہ وہ صحن میں بیٹھا ہوا تھا جس کے ار گرد  مشرقی طرز  کے مطابق گھر بنے ہوئے ہوتے تھے۔ اور جھولے کے مارے ہوئے کو چھت  پر سے اس صحن میں لٹکایا اور جومکان توڑا گیا وہ صرف "آڑ کی دیوار تھی " جو (توریت شریف کتاب ِ استشنا 22باب 8آیت )کے مطابق یہودیوں کے گھروں کی چھتوں پر بنی ہوئی ہوتی تھی۔ اور بعض کا خیال ہے کہ سائبان لگا ہوا تھا اسے توڑ دیا۔ لیکن حضرت مرقس کی عبارت ایسی صاف ہے کہ اس قسم کے قیاسوں  کی جگہ نہیں رہتی ۔ وہاں صاف چھت کھولنے کا ذکر پایا جاتا ہے۔ پس پہلی شرح زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔

آیت نمبر ۲۔جنابِ مسیح نے ان کا ایمان دیکھ کر مفلوج سے کہا ۔ اے بیٹے خاطر جمع رکھ تیرے گناہ معاف ہوئے ۔

ان کا ایمان۔ اس میں البتہ مفلوج کا ایمان بھی شامل ہے ۔ کیونکہ گناہوں کی معافی کے واسطے ایمان کا ہونا لابدی امر ہے ۔اور اگر اس میں ایمان نہ ہوتا تو وہ گناہوں کی مغفرت حاصل نہ کرتا ۔ ان کا وہ ایمان جس نے مسیح کی توجہ اپنی طرف کھینچی اس بات سے ظاہر ہوا کہ وہ رکاوٹوں پر غالب آیا اورمشکلات سے پست ہمت نہ ہوا۔ اور سیدنا مسیح جو انسان کی ہر ضرورت کی طرف دھیان کرتے ہیں ان کی غیر معمولی مداخلت سے جو اس کے کام میں خلل انداز ہوئی خفا نہیں ہوئے۔ بلکہ اس مریض سے بڑی التفات اور تلطف سے متکلم ہوا۔

اے بیٹے خاطر جمع رکھ۔ان الفا ظ سے مریض کی ہمت بڑھائی گئی ۔ اور جناب ِ مسیح کی محبت اور ہمدردی ظاہر ہوئی۔ وہ بھی خون بہنے والی عورت کی طرح جسے مسیح نے بیٹی کہہ کر پکارا تھا لیپالک ہونے کے رشتہ میں داخل ہوتا ہے۔

تیرے گناہ معاف ہوئے۔ فعل ماضی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو گناہوں کی معافی کی امید یا خوش  خبری نہیں دی گئی بلکہ اس کے گناہ معاف کئے گئے ۔ بعض نے اس کو فعل حال مانا ہے جس کے مطابق ترجمہ یہ ہوگا تیرے گناہ معاف ہورہے ہیں ۔ یونانی عبارت کے قرینے سے تاکید لفظ معاف ہونے پر ہے ۔ اغلب ہے کہ اس مفلوج کی بیماری کسی بد عادت سے پیدا ہوئی ہوگی۔ عیاشی اور گناہ آلودہ زندگی سے اکثر کئی قسم کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس آدمی کے ساتھ اس شخص کی حالت کو مقابلہ کرنا چاہئیے جس کاذکر حضرت یوحنا 5باب میں آتا ہے جسے بیت حسدا کے حوض پر مسیح نے شفا بخشی ۔ اسے جنابِ مسیح نے کہا " دیکھ تو تندرست ہوگیا ہے پھر گناہ نہ کرنا ایسا نہ ہو کہ تجھ پھر اس سے بھی زیادہ آفت آئے ۔" نا ممکن نہیں کہ اس مفلوج کا دل اس گناہ کی یاد میں جس کا نتیجہ اور سزا وہ اپنی بیماری کو سمجھتا تھا نا امید اور شکستہ ہورہا تھا۔سو مسیح کے الفاظ جو اوروں کے لئے حیرت کا سبب تھے اس کے لئے نہایت موزون اور تسلی کا باعث تھے۔ او ریہ بھی ممکن ہے کہ یہ بیماری اس کے کسی خاص گناہ کا نتیجہ نہ ہو۔ مگر اس کی مردہ ضمیر کو زندہ یا بیدار کرنے کا باعث ہوئی ہو تنبیہ ۔ گو بعض گناہوں کے ارتکاب سے مہلک بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں ۔ تاہم ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمام بیماریاں اور نقصان گناہوں کی سزا ہوتے ہیں مسیح نے ہمیں اس راز سے آگاہ کردیا۔(حضرت یوحنا 9باب 3آیت ،حضرت لوقا 13باب 20آیت )۔

ٹرنچ صاحب کا خیال ہے کہ وہ اس وقت اپنے گناہ کو سوچ رہا تھا۔ اور ضرور اس کے بشرے سے اس کی شکستہ  دلی کے آثار ہویدا ہونگے ۔ یا کوئی دو دفغاں سے بھر ہوا گرم گرم نالہ اس کے تائب دل سے برآمد ہوا ہوگا۔ جس کے سبب سے یہ الفاظ مسیح کی زبان حقائق ترجمان سے نکلے۔ وہ اس امر کی طرف بھی ہمیں متوجہ کرتے ہیں کہ دیگر مریضوں کی حالتوں میں معافی کا اظہار شفا کے بعد ہوا ہے ۔ جیسا کہ بیت حسدا کے بیمار کو شفا بخشنے کی حالت  میں دیکھا جاتا ہے۔ مگر یہاں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ گناہ کی بخشش کا یقین پہلے دلایا جاتا اور اس کے بعد اس کو بیماری سے صحت عطا کی جاتی ہے اور اس کا سبب وہ یہ بتاتے ہیں  کہ اس کی بیماری اور گناہ میں ایسا گہرا تعلق تھا کہ اگر پہلے مغفرت کی تسلی بخش آواز اس کے کان میں نہ آتی تو وہ جسمانی صحت کی برکت کو قبول نہ کرسکتا ۔

آیت نمبر ۳۔اور دیکھو بعض فقہیوں (یہودی علما)نے اپنے دل میں کہا یہ کفر بکتا ہے۔

فقہیہ وہ لوگ تھے جنہیں حضرت لوقا شرع کے معلم کہتے ہیں جیسا کہ ہم اوپر دیکھ آئے ہیں۔ وہ جگہ جگہ سے یہاں حاضر ہوئے تھے۔ پس یہاں نکتہ چینوں کی ایک جماعت موجود تھی ۔ اور ان میں سے ان شرع کے معلموں نے جنابِ مسیح کے یہ الفاظ سن کر اپنے دل میں فتوئے کفر لگانا شروع کئے ۔ حضرت لوقا اور حضرت مرقس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سوچتے تھے کہ "سوائے خدا کے اور کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا "۔

یونانی میں جو لفظ کفر کے لئے آیا ہے اس کے معنی کسی سے بے ادبی سے بولنے یا ضرر رسانی کی نیت سے کسی کی بابت  کچھ کہنے یا کسی کی بدنامی کرنے کے ہیں۔ (خطِ اہل رومیوں 3باب 28آیت ،خط اول حضرت پطرس 4باب 4آیت ،خط طیطس 3باب 2آیت میں آیا ہے ۔مگر بعد میں جو کچھ خدا کی شان کے خلاف کہا جاتا تھا وہ کفر کہلاتا تھا ۔ یہاں فقیہہ اس واسطے آپ پر کفر کا الزام لگاتے ہیں کہ آپ اس قدرت اور اختیار کا دعویٰ کرتے ہیں جو خدا کے ساتھ خاص ہے۔ گناہ کو معاف کرنا خدا کا حق ہے۔ انسان گناہ معاف نہیں کرتا کیونکہ انسان کا گناہ نہیں کیا جاتا۔گناہ خدا کا کیا جاتا ہے ۔ ٹرنچ صاحب کا یہ خیال نہایت درست ہے کہ جس اصول پر انہوں نے یہ فتویٰ لگایا وہ بالکل صحیح ہے ۔ کیونکہ انسان گناہوں کی معافی کا بغیر کفر میں مبتلا ہوئے دعوےٰنہیں کرسکتا مگر ان کی غلطی اس بات  میں تھی کہ وہ اس اصول کو اس پر چسپاں کرتے ہیں جو اس فتویٰ کے لائق  نہ تھا۔ اگر چہ وہ اس وقت اپنے تیئں ابن آدم کہتا ہے ۔مگر یہ ابن آدم وہی ہے جو اپنے تیئں خدا کا بیٹا بھی کہتا ہے۔ اگر مسیح انسان سے بڑ ھ کر نہ تھے اگر ان میں الوہیت نہ تھی تو وہ کسی طرح اس فتوےٰ سے بچ نہیں سکتے۔جواب اکثر یہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس اختیار کا دعویٰ کرتے ہیں جو انہیں دیا گیاتھا۔ لہذا وہ اسی اختیار کے موافق گناہوں کو معاف کرتے تھے ۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ  یہ اختیار ایسا ہے جو خدا کے ساتھ خاص ہے اور انسان کو نہیں دیا جاسکتا۔ انسان سے زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اے شخص مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ تجھے خبردوں کی تیرے گناہ خدا نے معاف کردئیے ہیں۔ مگر یہ نہیں  کہہ سکتا کہ تیرے گناہ معاف کرنے کا مجھے اختیار ہے ۔ایک مسفر  کہتا ہے کہ وہ جس نے یہ کلمات  استعمال کئے اگر پروردگار کا محبوب  نہ تھا یعنی خدائیت  کے تمام حقوق میں اس کا شریک نہ تھا تو اس نے ضرور کفر بکا جیسا کہ ان لوگوں نے اس کے کلام کی نسبت خیال کیا۔

آیت نمبر ۴۔مسیح نے انکے خیال معلوم کرکے کہا تم کیوں اپنے دلوں  میں برے خیال لاتے ہو۔

لفظی ترجمہ سے انکے خیال دیکھ کر کہا۔ مفلوج اور اس کے مدد گار وں کا ایمان ان کے کاموں سے دیکھا گیا ۔مگر جن خیالات نے ابھی لفظی لباس پہن کر اپنے تئیں ظاہر نہ کیا تھا ان کے جاننے کے لئے انسانی علم سے زیادہ علم کی ضرورت تھی (حضرت لوقا 6باب 8تا 9آیت حضر ت مرقس 12باب 15آیت ،حضرت یوحنا 2باب 24آیت  4باب 29آیت)۔حضرت مرقس بتاتے ہیں کہ "فوراً مسیح نے اپنی روح سے معلوم کرکے وہ اپنے دلوں میں ایسا سوچتے ہیں۔ ان سے کہا تم کیوں اپنے دلوں میں ایسا سوچتے ہو۔" اپنی روح  سے معلوم کرکے یہ الفاظ ضرورت کے بغیر داخل نہیں کئے گئے۔ا سکا علم یہاں روح سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس نے ان کے خیالات ان پر ظاہر کئے اور ایسا کرکے پہلے ان کو یہ جتایاکہ جو کچھ تم مجھے سمجھتے ہو میں اس سے بڑھ کر ہوں۔ کیونکہ دل کے خیالات میرے سامنے کھلے اور روشن ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہی بھی یاد دلا کہ فقط خدا ہی دلوں کو جانچتا ہے (بائبل مقدس 1سموئیل 16باب 7آیت ،1تورايخ 28باب 9آیت ،2تورايخ 6باب 13آیت ،یرمیاہ 17باب 10آیت )پس وہ جس کی نسبت یہہ کہا جاسکتا ہے وہ دل کے خیالوں اور ارادوں کو جانتا ہے (خط ِ عبرانیوں 4باب 12آیت) کیونکہ وہ الہٰی کلمہ ہے۔ جناب مسیح انہیں کہتے ہیں۔"تم کیوں اپنے دلوں میں برے خیال لاتے ہو۔"ان لفظوں سے بخوبی ظاہر ہے کہ اس پر کفر کا الزام لگانا بجا خود کفر بکنا ہے ۔ نیز ان الفاظ سے ایک قسم کی شکائت ٹپکتی ہے ۔ یایوں  کہیں کہ وہ شکائت کرتا ہے تم جومجھ پر خدائی دعوے کے سبب کفر گوئی کا الزام لگاتے ہو برا کرتے ہو۔

آیت نمبر ۵۔آسان کیا ہے کہ یہ کہنا کہ تیرے گناہ معاف ہوئے یا یہ کہنا کہ اٹھ اور چل پھر ۔

ہر کوئی بآسانی کہہ سکتا ہے ۔"تیرے گناہ معاف ہوئے"مگر اس بات کا ثبوت نہیں دے سکتا کہ میں ایسا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہوں۔کیونکہ کوئی شخص اپنے کلام کی قدرت سے کسی مفلوج کو اٹھنے او رپھرنے کی طاقت نہیں دے سکتا ۔ گناہوں کا معاف کرنا بڑا مشکل کام ہے ۔ مگر چونکہ اس کا ثبوت اس دنیا میں نہیں بلکہ آسمان میں ملے گا۔ اس لئے جو چاہے سو گناہوں کےمعاف کرنے کا دعویٰ کرسکتا ہے۔مگر فالج کو دور کرنا ایسا کام ہے جس کا ثبوت اسی دنیا میں طلب کیا جاتا ہے۔ اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا "اٹھ اور چل پھر " جب تک کہ چلنے او رپھرنے کی طاقت دینے پر قادر نہ ہو۔ پس جناب ِ مسیح کا مطلب یہ ہے کہ جوکچھ میں ا س مفلوج کے اٹھنے اورچلنے پھرنے کے بارے میں کہتا ہوں تم اس کی سچائی دیکھ کر یہ نتیجہ نکالو کہ جو مفلوج کو شفا بخشنے کی قدرت رکھتا ہے وہ اپنے دعوے کے مطابق گناہوں کےمعاف کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے مقابلہ گناہ معاف کرنے اورمفلوج کو شفا بخشنے میں نہیں ہے۔ مقابلہ دعوے میں ہے ۔ یعنی معاف کرنے کا دعویٰ آسان ہے یا مفلوج کو شفا بخشنے کا دعوےٰ کرنا (ٹرنچ اور کیمبرج سیریز تفسیر مرقس ) آج کل لوگ اکثر کہا کرتے ہیں کہ مسیح لوگوں کو قائل کرنے کے لئے معجزوں پر تکیہ نہیں کیا کرتے تھے ۔لیکن یہاں وہ بڑی وضاحت سے  اپنے معجزوں کی طرف اشارہ کرتے اور اس سے ظاہر کرتے ہیں کہ معجزات آپ کی تعلیم کی صداقت کو قائم کرنے کے وسائل ہیں۔

آیت نمبر ۶۔لیکن تاکہ تم جان لو کہ ابن آدم کو زمین پر گناہ معاف کرنے کا اختیار  ہے (سیدنا مسیح نے اس مفلوج سے کہا ) اٹھ  کر اپنی چارپائی اٹھا اور اپنے گھر چلا جا۔

ابن آدم اس لفظ کا اطلاق عام طور پر ہر انسان پر ہوسکتا ہے ۔ (بائبل مقدس صحیفہ حضرت ایوب 25باب 6آیت)۔اور ایک خاص معنی میں پرانے عہد میں 90 مرتبہ حزقی ایل کے حق میں کہا گیا ہے ۔ لیکن اس نے خود کبھی اس کو اپنے حق میں استعمال نہیں کیا۔ نئے عہد نامہ میں لفظ کو 80مرتبہ سے زیادہ مسیح نے استعمال کیا ہے ۔ اور ہر مرتبہ اس نام کو اپنے اوپر چسپاں کیا ہے ۔ سوائے ان مقامات کے کہ جن میں آپ کی سرفرازی کا ذکر آتا ہے (اعماالرسل 7باب 56آیت،کتاب ِ مکاشفہ 1باب 13تا14آیت )مسیح کا یہ خاص لقب دانی ایل 7باب 13آیت سے لیا گیا ہے ۔وہاں "یہ لفظ انسان کی پستی پر دلالت کرتا ہے  ۔ "اور نتیجہ اس سے یہ نکلتا ہے کہ جناب ِ مسیح ان لفظوں کو اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ اس سے یہ صداقت ظاہر ہو کہ چونکہ اس نے ہمارا جسم اختیار کیا ہے اس لئے خدا نے اس کو بہت سرفراز کیا (خط ِ فلپیوں 2باب 5تا11آیت)۔جب تک جنابِ مسیح دنیا میں رہے آپ نے اور کوئی لقب اس کثرت اور خوشی سے استعمال نہ کیا جیسا یہ لقب۔وہ محدود معنی میں کسی آدمی کے بیٹے نہ تھے بلکہ عام اور وسیع معنی میں ابن آدم تھے۔ اوراس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جو ازل سے خدا کا بیٹا تھا اس دنیا میں ابن آدم بن  کر آیا۔ دوسرا آدم۔ ہماری نوع کادوسرا سر اور ہماری انسانیت کا سرتاج (کیمبرج سیریز تفسیر ِ مرقس)۔

زمین پر گناہ معاف کرنے کا اختیار ہے ۔ اگر ان کو زمین پرگناہ معاف کرنے کا اختیار ہے تو لازمی نتیجہ اس دعوے کا یہ ہے کہ آسمان پر بھی گناہ معاف کرنے کااختیار رکھتے ہیں۔ وہی اختیار اپنے ساتھ زمین پر لائے۔ کیونکہ اگر آسمان پر گناہ معاف کرنے کی طاقت نہیں رکھتے  تو زمین پر معاف کرنے کی طاقت رکھنا عبث ہے۔

اس جگہ ایک بات تنقیح طلب ہے ۔ او روہ یہ کہ مسیح اس جگہ وہ طاقت اپنی طرف منسوب کرتے ہیں جو خدا کے ساتھ خاص ہے ۔ یعنی گناہوں کو معاف کرنے کی طاقت مگر اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ خطاب ایسا استعمال کرتے ہیں جو انسانیت پر دلالت کرتا ہے ۔ یعنی اپنے تیئں ابن آدم کہتے ہیں۔ اس سبب سے بعضوں کو یہ دقت پیش آئی ہے کہ یہاں انکی الوہیت کی کوئی دلیل نہیں ملتی ۔ مگر یہ مشکل اسی وقت سمجھی جائے گی جب یہ ثابت کیا جائے گاکہ وہ ابن آدم اور ابن الله دو نو نام رکھتے ہیں۔ یہ اختیار نہیں رکھتے ہیں کہ جس نام کو چاہے اسے استعمال کریں۔ اور نہ شائد یہ ہی دکھا یا جاسکتا کہ وہ ہمیشہ  ان ناموں کے استعمال کرنے میں یہ بات مد نظر رکھتےتھے کہ جب الوہیت کا کوئی کام کیا کرتے تھے  تو اس وقت اپنے تیئں ابن الله کہا کرتے تھے۔ اور جب انسانیت کے کام کرتے تھے اس وقت ابن آدم کہا کرتے تھے۔ہماری رائے میں پرانے بزرگوں کا یہ حل واجب التسلیم ہے کہ وہ جس میں دونوں ذاتیں پائی جاتی ہیں یہ اختیار رکھتے ہیں کہ اگر چاہے  تو نام ایک ذات کو ظاہر کرنے والا استعمال کرے اور کام دوسری ذات سے علاقہ رکھنے والا کرے۔ حضرت یوحنا 5باب 22آیت میں جناب ِ مسیح ارشاد فرماتے ہیں کہ "کیونکہ پروردگار کسی کی عدالت بھی نہیں کرتے۔ بلکہ انہوں نے عدالت کا سارا کام بیٹے (سیدنا مسیح) کے سپرد کردیا ہے ۔"اگر ان الفاظ کو آیت 25سے مقابلہ کریں تو معلوم ہوگاکہ جناب ِ مسیح اپنے تیئں خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ پس اس لئے وہ خدا کا بیٹا ہیں جلانے اور عدالت کرنے کاکام انکے  اختیار میں ہے۔مگر عدالت کرنے کا کام جو صرف خدا کے بیٹے کا کام ہے آیت 27میں انسان کے بیٹے کے ساتھ منسوب کیاگیا ہے ۔"بلکہ اسے عدالت کرنےکا بھی  اختیار  بخشا اس لئے کہ وہ آدم زاد (ابن آدم ) ہے ۔" جس طرح ابن الله کو عدالت کرنے کا اختیار دیا گیاہے وہ ابن آدم ہے ۔ اسی طرح ابن الله کو زمین پر اختیار  ہے کہ گناہ معاف کرے کیونکہ وہ ابن آدم ہے۔

آیت نمبر ۷۔وہ اٹھ کر چلا گیا۔

 جب اس نے ملائمت اور محبت کے ساتھ اس کو یہ حکم دیا ہوگا کہ اپنا کھٹولا اٹھا کر چلا جا اس وقت لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے خیالات پیدا ہوئے ہوں گے ۔ کئی امید رکھتے ہوں گے اور کئی ناامید ہوں گے ۔ لیکن جب وہ اپنا بستر اٹھا کر چل پڑا ہوگا اس وقت کیسا خیال ان کے دل میں پیدا ہوا ہوگا۔ فقیہ شرمندہ ہوئے ہونگے مگر مفلوج خدا کا جلال ظاہر کرتا  اور تعریف کے گیت گاتا ہوا چلا گیا(حضرت لوقا 5باب 25آیت)تینوں اناجیل  اس کے کھٹولا اٹھانے کاذکر کرتی ہیں۔ اور واسطے کہ اس کی پہلی ناتوانی اور نئی طاقت کا فرق نظر آئے۔ جس چیز نے پہلے اسے اٹھا رکھا تھا اب وہ اسے اٹھا ئے ہوئے ہے پہلے جو شئے اس کی بیماری کا نشان اور ثبوت  تھی وہی اب اس کی صحت اور طاقت کی ثبوت ہے۔

آیت نمبر ۸۔لوگ یہ دیکھ کر ڈرگئے ۔ اور خدا کی بڑائی کرنے لگے جس نے آدمیوں کو ایسا اختیار بخشا۔

حضرت مرقس اور حضرت لوقا بیا ن کرتے ہیں کہ "وہ حیران ہوگئے "حضرت مرقس بتاتے ہیں کہ انہو ں نے کہا کہ  " ہم نے ایسا کبھی نہیں دیکھا " اور حضر ت لوقا" آج ہم نے عجیب عجیب باتیں دیکھیں۔"

یہ حیرت جو ان پر چھاگئی وہ وہی بے آرامی تھی جو گناہ گاروں کے دل میں جاگ اٹھتی ہے جب کہ کوئی بات یا اور کوئی واقعہ ان کو خدا کی حضوری کے قریب کھینچ لاتا ہے ۔ لیکن یہ خوف جلد تعریف میں تبدیل ہوگیا اور وہ خدا کی بڑائی کرنے لگے جس نے آدمیوں کو ایسا اختیار بخشا۔ چونکہ وہ مسیح کو آدمی سمجھتے تھے اس لئے یہ ان کے لئے درست تھا کہ وہ خدا کی بڑائی کرتے اور غالباً انہوں نے اس اختیار اور قدرت کو مسیح کا نہیں سمجھا بلکہ یہ ہی خیال کیاکہ خدا ایسی طاقت آدمیوں کو بخشتا ہے فریسیوں پر جو اثر ہوا اس کا بیان نہیں پایا جاتا ۔ غالباً اس لئے کہ ان پر نیک اثر نہیں ہوا۔ مگر عام لوگوں پر جو سچائی کے قبول کرنے میں ایسے سخت دل نہ تھے نیک اثر ہوا۔ چنانچہ انہوں نے خدا کا جلال اور بڑائی ظاہر کی۔

نصیحیتں اور مفید اشارے

1۔پانچ باتیں غور طلب ہیں ۔ نمبر 1۔بیمار کی حالت ،نمبر 2،لوگوں کا ایمان،نمبر 3مسیح کے ہاتھ سے شفا پانا نمبر 4،فقہیوں کا تعصب ،نمبر 5۔بھیڑ کی تعریف ۔

2۔مفلوج اور اس کےدوست ،بیمار کی حالت ، بیماری نے اس کو کام اور زندگی کے لطف  سے محروم کردیا تھا۔ لوگ جو اس کو لائے ۔مسیح کی قدرت اور رضامندی کے قائل تھے۔ مشکلات پر غالب آنے والے تھے۔انہوں نے وہ ہمدردی اور محبت ظاہر کی جو ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔ مسیح پر سچا ایمان لا نا ہمیشہ ارد گرد کے تباہ ہوتے ہوئے گنہگاروں سے ہمدردی پید ا کرتا ہے ۔

3۔مسیح کے پا س آنا۔ ایک نئے رشتہ میں شامل ہونا ہے۔ "بیٹا "ہمت بخش الفاظ سننا ہے ۔"خاطر جمع رکھ"گناہوں کی معافی پانا ہے "تیرے گناہ معاف ہوئے ۔

4۔مسیح کی الوہیت دوباتوں سے ثابت ہے۔نمبر 1۔فقہیوں کے دلوں کے حال جاننے سے ،نمبر 2۔ گناہ معاف کرنے سے ۔

5۔تعصب بری شئے ہے ۔ وہ قوت فیصلہ کو خراب کرتا اور جذبات کو بگاڑتا ہے ۔یہ ہی تعصب یہودی قوم کی آخری بربادی کا باعث تھا۔

6۔مسیح نے یہا ں ایک طرح گناہ اور دکھ کا تعلق ظاہر کیا ہے۔ مگر وہ ہمیشہ ایسا نہیں کرتا۔دیکھو (حضرت لوقا 13باب 5آیت ،حضرت یوحنا 9باب 3آیت )یہاں وہ بات جو ظاہر پر نظر کرنے والوں کو نامعلوم تھی اسے معلوم ہوگئی جودلوں کو جانچنے والا ہے ۔ یہودی دکھ اور گناہ کو مترادف سمجھتے تھے۔ اگر چہ ہر دکھ کو گناہ کی سزا سمجھنا صحیح نہیں۔ تاہم یہ غلطی اتنی بری نہیں جتنی وہ بے پرائی جو محض کا م کے عیسايئوں میں پائی جاتی ہے جو کبھی اپنے گناہ آلودہ کاموں میں خدا کی سزا کا ہاتھ نہیں دیکھتے۔

7۔یہ مفلوج شمعون کی نبوت کا ثبوت ہے (حضرت لوقا 2باب 34آیت )ایک قسم کے لوگوں کے لئے مسیح امید کی چٹان ہے۔اور دوسری قسم کے لوگوں کے لئے ٹھوکر کھلانے والا پتھر ۔

8۔مسیح کے پاس آنے کا راستہ کبھی بند نہیں ہوتا۔

9۔دوستی کا اور کوئی کام ا سے بڑھ کر نہیں کہ ہم اپنے دوستوں کو جوبیمار ہیں مسیح کے پاس لائیں۔

10۔جناب ِ مسیح دلوں کے جانچنے والے ،بیماروں کے حکیم،ہمیشہ کی زندگی کے مالک ہیں۔

11۔گناہ کی معافی ،ا سکی تین منزلیں ہیں۔ اول۔جب انسان اس کی تلاش کرتا ہے۔ دوم جب یہ مانتا یا ایمان لاتا ہے کہ مسیح یہ برکت دینے والے ہیں۔ سوم جبکہ وہ اسے پاتا ہے۔

12۔بیماری اکثر برکت کا باعث ہوتی ہے ۔کیونکہ وہ ہم پر ہماری حالت ظاہر کرتی ہے۔ اس کے وسیلے روحوں کے حکیم کا علم حاصل ہوتا ہے۔مسیحی برکت کو استعمال کرنے کا علم حاصل ہوتا ہے ۔ جناب ِ مسیح کی تعریف کرنےکا علم حاصل ہوتا ہے۔

13۔ایمان نئی برکتوں کا موجد ہے ۔ایمان نئی ہمت کا سرچشمہ ہے ۔ دیکھو اس کےدوست کس طرح اور کس جرات کے ساتھ آئے۔

14۔سیدنا مسیح کی علم الغیبی ،تسلی کا چشمہ ہے ۔ پر اسی طرح ہیبت کا چشمہ بھی ہے۔

15۔گناہ کی معافی کی سب سے بڑی برکت یہ ہے کہ انسان اپنی جسمانی تکلیف کی نسبت اپنے گناہوں کے لئے زیادہ فکر مند ہوجاتا ہے۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا, معجزات المسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (9266)

Post a Comment

English Blog