en-USur-PK
  |  
21

حجرِ اسود

posted on
حجرِ اسود

The Black Stone at Mecca

By

Rev. S.M.Zwemer

(1867-1952)

حجرِ اسود

اور زمانوں کی چٹان

اس مضمون  کے سرورق پر جس تصویر کو آپ دیکھ رہے ہیں وہ حجرِ اسود کی تصویر ۔ مسٹر بورکہاورت حجر اسود کے متعلق لکھتے ہیں کہ "حجراسود " کی شکل اہلیلچی (ہلیلہ کی شکل)ہے۔ لیکن اس کی اصل شکل کی حقیقت دریافت کرنا بے حد مشکل ہے کیونکہ ہرسال لاکھوں حاجی مسلمانوں کے چھونے اور بوسہ دینے سے اس کے نشان مٹ گئے ہیں۔ اس کا موجودہ رنگ گہرا سرخ مائل بہ سیاہی ہے۔ اسکی چاروں طرف چاندی کا گھیرا ہےجو چاندی کے لٹکنوں کے ساتھ پیوست ہے"۔

بردارانِ اسلام کے نزدیک حجرِ اسود کےچھونے اوربوسہ دینے کے فضائیل

مام غزالی فرماتے ہیں کہ " اس کے بعد حجر اسود کے پاس جا ؤ اپنے دہنے ہاتھ سے اس کو چھوؤ اور بوسہ لو اوریہ کہو کہ الہٰی میں نے اپنی امانت کوادا کیا اوراپنے عہد کو پورا کیا اور تومیری وفاداری کا گواہ رہ( احیاء علوم الدین جلد اول صفحہ ۱۷۸)۔

          نیز فرماتے ہیں کہ " جب کوئی شخص حجر اسود کے پاس پہنچ جائے تویہ کہےالہٰی اپنی رحمت سے میرے گناہوں کو بخشدے ۔ میں اس گھر کے مالک کے پاس قرض، فقیری، سینہ تنگی اور عذاب قبر سے پناہ لیتا ہوں"(احیاعلوم الدین جلد اول صفحہ ۱۷۹)۔

          حضرت عمر بن الخطاب" جب حجرِ اسود کے پاس آئے توآپ نےاس کو بوسہ دیا اورفرمایاکہ میں جانتاہوں کہ تومحض ایک پتھر ہے جونہ تو نقصان پہنچاسکتاہے اورنہ فائدہ دے سکتاہے اگرمیں آنحضرت صلعم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا(بخاری جلد دوم صفحہ ۱۴۹)۔

          امام فخر رازی رلکھتے ہیں کہ :

          " قال علیہ السلام الرکن والمقام یاقوتتان من یواقیت الجنتہ طمس اللہ نورھما ولالہ ذالک الاضاء امابین المشرق والمغرب وما مسھما ذوعاھتہ ولا سقیم الاشفی وفی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ قال علیہ السلا م نہ کان اشد بیا ضاًمن الثلج فسودتہ خطا یا اہل الشرک وعن ابن عباس قال علیہ السلام لیا تین ھذا الی جریوم القیامتہ لہ عینان یبصرون بہما ولسان ینطق بہ  ویشھد علی من استلمہ بحق"

ترجمہ : آنحضرت  صلعم  نے فرمایاکہ رکن اور مقام جنت کے یاقوتوں میں سے دویاقوت ہیں۔ اگرخدا ان کے نور کونہ مٹاتا تو مشرق سے لے کرمغرب تک کو روشن کرتے جو بیمار اور ناتندرست شخص ان کو چھوئیگا وہ شفا پائیگا۔ اور ابن عباس کی حدیث میں آیاہے کہ آنحضرت صلعم نے فرمایاکہ حجراسود برف سے بھی زیادہ سفید تھا۔لیکن مشرکوں کے گناہوں نے اس کو سیاہ کردیا۔ ابن عباس یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایاکہ قیامت کے دن اس پتھر کی دوآنکھیں ہونگی جن سے وہ دیکھ سکیگا اوراس کی زبان ہوگی جس سے وہ بول سکے گا پس وہ ہر اس شخص کی شہادت دیگا جس نے اس کو بوسہ دیا ہے اورچھوا ہے" (تفسیر رازی ، جلد اول صفحہ ۴۸۴)۔

          مناسک الحج کے حاشیہ میں لکھاہےکہ:

          وقال النبی صلعم الحجرالا سودیمین اللہ فی الارض یصا فح بہا عبادہ کما یصافح احد کمہ اخاہ ومن لمہ یدرک بعتہ رسول اللہ صلعم واسلم الحجر فقد بابیع اللہ

          ترجمہ : آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ زمین پر حجر اسود خدا کا دہنا ہاتھ ہے جس کے ساتھ اپنے بندوں کے ساتھ مصافحہ کرتاہے جس طرح تم اپنے بھائی کے مصافحہ کرتے ہو اور جس شخص نے آنحضرت کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی لیکن حجر اسود کو چھوا اور بوسہ دیا ہے اُس نے خدا کے ہاتھ پر بیعت کی"(مناسک الحج صفحہ ۲۹تا ۳۰)۔

          حجراسود کے متعلق جوکچھ مسلمان بھائیوں کی کتابوں میں مذکور ہے یہ ان کا خلاصہ ہے اس کی تاریخ کے متعلق وہ یہ کہتےہیں کہ جس دن خدا نے آدم کو خلق کیا اسی دن حجر اسود آسمان سے اُترا (تفسیر رازی جلد اول صفحہ ۴۸۴)۔

          اسی طرح تمام مذاہب میں کچھ نہ کچھ قابل تعظیم پتھر ہیں جن میں سے بعض کو بطور بُت پرستش ہوتی ہے جس طرح بت پرست کرتے ہیں۔ اور بعض کو بطور یادگاری اس کی اصلی حالت پر رہنے دیتے ہیں۔ لیکن بعد کے لوگ خدا کے طورپر اس کی پرستش کرتے اوراُ ن کو اپنے خدا مانتے ہیں۔خدا ہمیں اس سے بچائے۔

          لیکن بائبل مقدس میں خدا نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو اس قسم کی تمام پرستش سے منع کیا اورحکم دیا ہے کہ جوشخص خداکے سواکسی اورچیز کی پرستش کرے وہ سنگسار کیا جائے ۔ چنانچہ لکھا ہے کہ :

          تواپنے لئے کوئی مورت یاکسی چیز کی صورت جواوپرآسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے ہے مت بنا توان کے آگے اپنے تئیں مت جھکا اورنہ ان کی عبادت کرکیونکہ میں خدائے برتر تیرا خدا ہوں"(خروج ۴  : ۵)۔

          باوجود ان سب کے بائبل مقدس میں خدا نے اپنے آپ کو اوراپنے کلمہ یعنی حضرت عیسیٰ صلعم کو تمثالاً کونے کا پتھر اور زمانوں کی چٹان کہا ہے جس کے تین سبب ہیں(۱) اس کا تغیر پذیر نہ ہونا (۲) ا سکا ایمان کی بنیاد ہونا (متی ۷ : ۲۴)(۳) ایمان داروں کے لئے اس کا ملجاء ماوا ہونا۔ ان تینوں باتوں کو آپ ذیل کی آیات میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔

زمانوں کی چٹان

          " کہ وہ چٹان ہے اس کا کام کامل ہے کہ اس کی سب راہیں راست ہیں۔ خدا سچا ہے اور بدلا سے مُبراہے وہ صادق اوربرحق ہے" (استشنا ۳۲:۴)۔

          " کیونکہ ان کی چٹان ایسی نہیں جیسی ہماری چٹان ہے اوریہ بات ہمارے دشمن بھی جانتے ہیں(استشنا ۳۲: ۳۱)۔

          " اورکہیگا کہ ان کے وہ معبود اور چٹان کہ جن کا انہیں بھروساتھا کیا ہوئے"(استشنا ۳۲ : ۳۷)۔

          " خداوند میری چٹان اور میرا چھڑانے والا ہے"(۲ سیموئیل ۲۲  :  ۲)۔

          " خداوند کے سوا خدا کون ہے ؟ اورہمارے خدا کو چھوڑ کے چٹان کون ہے"(زبور ۱۸: ۳۱)۔

          " وہی اکیلا میری چٹان اورمیری نجات ہے وہی میرا مضبوط قلعہ ہے مجھ کو شدت سے جنبش نہ ہوگی"(زبور ۶۲ ؛۲)۔

          " اور میں اس پتھر پر اپنی کلیسیا بناؤنگا اورعالم رواح کے دروازے اس پر غالب نہ آئینگے"(متی ۱۶؛ ۱۸)۔

          " یہ وہی پتھر ہے جسے تم معماروں نے حقیر جانا اور وہ کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا"(اعمال ۴ باب ۱۱آیت)۔

          دیکھو میں صیون میں کونے کے سرے کا چنا ہوا اور قیمتی پتھر رکھتا ہوں جو اس پر ایمان لائے گا ہرگز شرمندہ نہ ہوگاپس تم ایمان لانے والوں کے لئے تو وہ قیمتی ہے مگر ایمان نہ لانے والوں کے لئے جس پتھر کو معماروں نے ردکیاوہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیااور ٹھیس لگنے کا پتھر اور ٹھوکر کھانے کی چٹان ہواکیونکہ وہ نا فرمان ہوکر کلام سے ٹھوکر کھاتے ہیں اور اسی کے لئے مقرر بھی ہوئے تھے"(۱پطرس ۲ باب ۶تا ۸آیت)۔

          " اگر تم نے پروردگار کے مہربان ہونے کا مزہ چکھا ہے اُس کے یعنی آدمیوں کے رِد کئے ہوئے پر پروردگار کے چنے ہوئے اور قیمتی  زندہ پتھر کے پاس آکر ۔ تم بھی زندہ پتھروں کی طرح  روحانی گھربنتے جاتے ہو تاکہ کاہنوں کی پاک جماعت بن کر  ایسی روحانی قربانیاں پیش کرو جو سیدنا عیسیٰ مسیح کے وسیلہ سے پروردگار کے نزدیک مقبول ہوتی ہیں"(۱پطرس ۲ باب ۳تا ۵)۔

          آیت ذیل میں حضرت موسیٰ کے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب انہوں نے معجزانہ طورپر چٹان سے پانی نکالا تاکہ بنی اسرائیل بیابان میں اس سے سیراب ہوں"اورسب نے ایک ہی روحانی پانی پیا کیونکہ وہ اس روحانی چٹان میں سے پانی پیتے تھے جواُن کے ساتھ چلتی تھی اور وہ چٹان مسیح تھا"(۱کرنتھیوں ۱۰ باب ۴آیت)۔

ایک ایماندار کی مناجات زمانوں کی چٹان کے آگے

ایھا القادی الغفور

ملجاء ی صخرالدھور

امح اثمی یارحیم

انت عون لاثیم

طھرنی بدماک

یا مجبیاً من دعاک

انت غفار الذنوب

انت ستارالعیوب

انت یا رب الھدیٰ

کن نفسی مرشدا

کی اعیش الدھر لک

طاھراً مثل ملک

ومتی جل الاجل

وانتھی کل عمل

فانلنی فی حماک

منزلا قرب سناک

ایھا الفادی الغفور

ملجاء صخراالدھور

 

ترجمہ :  اے میرے فدیہ دینے والے اور بخشنے والے اورمیری جائے پناہ اورزمانوں کی چٹان۔

          اے رحیم میرے گناہ مٹادے کیونکہ توگنہگاروں کا مددگارہے۔

          اپنے خون سے مجھ کو پاک صاف کرکیونکہ جوتجھ کو پکارتاہے تواُس کی دعا سن لیتاہے۔

          توگناہوں کا مٹانے والا ہے اور عیبوں کا چھپانے والا ہے۔

          اے ہدایت کے خدا۔ تومیری رہنمائی کر۔

          تاکہ میں اپنی زندگی فرشتوں کی طرح گزاروں۔

          جب موت آجائے اورکاروبار موقوف ہوجائے توتومجھ کو اپنی حمایت میں لے جوتیرے جلال کے قریب ہو۔

          اے میرے فدیہ دینے والے اور بخشنے والے توہی میری جائے پنا اور چٹان ہے۔

                                                آپ کا دوست

                                                سیموئیل زویمر

Posted in: اسلام, مُحمد, غلط فہمیاں, تفسیر القران | Tags: | Comments (0) | View Count: (13389)

Post a Comment

English Blog