en-USur-PK
  |  
17

برحق خدا

posted on
برحق خدا

The Righteous God

Rev. Mawlawi Dr. Imad ud-din Lahiz 

(1830−1900)

برحق خدا

علامہ مولوی پادری ڈاکٹر عماد الدین لاہز        

 

          (۱) ہر ایک کتاب جو مدعی ہدایت ہے اپنی سب ہدائیتوں کے ساتھ  ایک خدا کو بھی پیش کرتی ہے ۔

اگر وہ کتاب خدا کی طرف سے ہے تو اس میں خدا نے اپنے آپ کو  ضرور ظاہر کیاہوگا۔

اور اگر وہ کتاب انسان کی عقل سے ہے تو وہ خدا بھی جو اس میں مذکور ہے عقل کا ایجاد ہوگا۔

          (۲)اگرچہ فی الحقیقت  سب کا خالق  ایک ہی خدا ہے مگر سب کے ذہن میں ایک ہی خدا نہیں بستا ہے ۔

          اہل ہمہ اوست کے ذہن میں وحدت الوجود کا خدا بستاہے۔

          اہل اسلام کے ذهن میں وہ خدا ہے جو لم یلد ولم یولد بغیر تثلیث  اور مقدمہ خیر وشر ہے ۔ بعض ہنود کے ذہن میں نرگن خدا ہے۔ اور بعض کے خیال میں ستوگن خدا ہے۔ عیسائيوں  کے خیال میں  تثلیث  فی التوحید  کا خدا ہے جس کا ازلی  حقیقی  بیٹا سیدنا عیسیٰ مسیح ہے اور صرف خیر کا خدا ہے مقدر شرنہیں ہے۔

          اسی طرح کے فرق لوگوں کے ذہن میں ان خداؤں کی نسبت پائے جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ  ہر ایک کا خدا جدا ہے۔

          (۳)جیسے کہ پیش شدہ کتاب کی سب ہدایت پر اور پیش کنندہ کی حالت پر محقق کو فکر کرنا واجب ہے ایسے ہی بلکہ اس سے زیادہ  پیش شدہ خدا کی نسبت  فکر کرنا واجب ہے ۔

          (۴) آج کے روز بائبل والے خدا کی نسبت  فکر کیا جاتاہے کہ وہ کیسا ہے ابھی  اتنی فرصت نہیں ہے کہ ہر پیش شدہ خدا پر فکر کرکے  دکھلاؤں کہ وہ کیسے ہیں۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ  ان خداؤں میں بائبل  والے خدا کی صفتیں  ہرگز نہیں اس لئے وہ سب خیالی خدا ہیں جو عقل کے ایجاد ہیں ۔

          (۵)بائبل والا خدا ہم اس خدا کو کہتے ہیں جس کا ذکر بائبل میں ہے اور جو بائبل میں آدمیوں کو ہدایت کرتاہے ۔ اسی خدا کی نسبت  فخر کے ساتھ ہمارا  دعویٰ ہے کہ یہی سب خداؤں میں سچا اور برحق  اور پرستش کے لائق خدا ہے اس کو قبول نہ کرناسچے خدا سے بالکل الگ ہونا ہے۔

          (۶)اس بات کو عقل نے بھی تسلیم کرلیاہے کہ خدا میں بیحد خوبیاں ہیں۔ لیکن عقل میں ہر گز  یہ طاقت نہیں ہے کہ ان بیحد خوبیوں کا ذکر جیسا کہ مناسب ہے بیان کرسکے اس لئے وہ کتاب جو آدمی کے خیال سے نکلی ہے اس خوبی سے ضرور خالی ہوگی اور وہ کتاب جو خدا کی طرف سے  ہے اس خوبی سے بھر پور ہوگی۔

          (۷) ہم کو اس بات سے ہرگز فریب نہ کھانا چاہیے کہ  کوئی معلم ہمیں  اپنی عقل کی حد تک  خدا کی خوبیاں سنا کے کہے کہ  ہماری کتاب میں خدا کو کریم  ،رحیم ، غفور، حلیم، حکیم، قدوس، قادر وغیرہ  کہا گیا ہے اس لئے یہ کتاب خدا کی طرف سے ہے ۔ کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی آدمی خدا کی بعض خوبیاں کہیں سے سنکر سنائے۔

          مگر اس بارہ میں تسلی کا موجب دو باتیں ہونگی۔

(۱)وہ کتاب خوبیوں کا مخزن ہو ایسا کہ ہر عقلمند  اور حق جو آدمی کو اس کے دیکھنے  سے کامل اطمینان  حاصل ہو اور اس کی ضمیر  اس کےمن جانب  الله ہونے پر گواہی دے ۔

(۲) یہ خوبیاں  نہ صرف چند الفاظ میں منحصر ہو ں بلکہ  اس خدا کی اوامرونواہی  اور واقعات  واخبارات  گواہی دیں کہ یہ کتاب خدا کی طرف سے ہے ۔

دفعات بالا پر نظر کرکے

          ہم کہتے ہیں کہ  صرف بائبل  ہی میں خدا ئے برحق ظاہر ہوا ہے اور دنیا کی کسی کتاب میں نہیں ہوا کیونکہ ۔

          اگر کوئی  آدمی عمر بھر خدا کے اوصاف  بائبل میں سے نکالے تو عمریں تمام  ہوجائینگی  مگر خدا کے اوصاف  بائبل میں سے ختم نہ ہونگے ۔

          اور اس بات پر علاوہ اس گواہی کے جو ہماری تمیز دیتی ہے۔ کلیسیا  کا الہیٰ  کتب خانہ جو 18 سو برس میں تیار ہوا ہے دوسراگواہ ہے ۔

          اس وقت بائبل  میں سے خدا کے صرف وہی  اوصاف  بیان کئے جائينگے  جو نہایت  بدیہی  اور واضح ہیں باقی  اوصاف  ناظرین  کی تجسس پر چھوڑدیئے  جاتے ہیں۔

بائبل کے خدا کی پہلی خوبی

          بائبل کے اوامرونواہی ایسے عمدہ اور پر مغز ہیں کہ دنیا کی کوئی کتاب ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے ۔ جہاں کہیں یہ کتاب پہنچتی ہے وہاں خیر اور برکت اس کے ہم عنان جاتی ہیں۔

۲۔ خوبی

          بائبل کا خدا نہ تو دوزخ کا دہشتناک منظر دکھاکر اور نہ ہی جنت  کے حور وغلمان کالالچ دلاکر لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتا ہے۔

۳۔خوبی

          بائبل کا خدا انسان کو جہاں تک اس کا حق ہے جائز آزادی  دیتا ہے اور جہاں تک  انسان کی بہتری ہے وہاں تک اس کو مفید رکھتا ہے وہ کہتا ہے کہ  ایمان اور امید کےساتھ جو چاہو سو کرو مگر خدا کا جلال ہر حال میں مد نظر رہے ۔

۴۔خوبی

          بائبل کا خدا چاہتاہے کہ  لوگ اس کی اطاعت خوشی سے کریں  وہ بھاری  بوجھ جبراً  کسی کے سر پر نہیں رکھتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ  اگر یہ کرو تو تمہاری بہتری ہے اگر نہ کرو تو ہلاکت ہے۔ اب تمہیں اختیار ہے جس کو چاہو پسند کرو۔

۵۔خوبی

          بائبل کا خدا انسان کو ہر طرح سے قائل کرکے ایسی ہدایت  کرتاہے کہ اگر آدمی  اس کی ہدایت  سے نہ سدھرے توپھر نا ممکن ہے کہ کوئی  اور ہدایت  دنیا میں اس کی اصلاح کرسکے۔

۶۔خوبی

          بائبل کا خدا باقی خود ساختہ خداؤں سے زیادہ تر ہماری روحوں کا قدر دان ہے ۔اس کے نزدیک  سارے جہان کی قیمت سے زیادہ  ایک روح کی قیمت ہے اس لئے وہ نہیں چاہتا ہے کہ کسی کی روح ہلاک ہو۔

۷۔ خوبی

          بائبل کا خدا چاہتاہے کہ  ہم لوگ گناہ سے اور گناہ کے عذاب سے بالکل چھوٹ جائیں یہاں تک کہ گناہ اوراس کا نتیجہ جس میں ہم  اب مبتلا ہیں بالکل مفقود ہوجائے اور اس مقصد کے لئے اس نے ذیل  کے انتظام بتلائے ہیں:

(۱)وہ اپنے کلام کی روشنی میں گناہ کی قباحتیں  دکھلاکے گناہ سے نفرت دلاتا ہے ۔

(۲)وہ روح کی ایک قوت غیبی عطا کرکے  ہماری روحوں کو گناہ کی قید سے چھڑاتا ہے۔

(۳)اس کے بعد وہ ایک نئے بدن کا وعدہ کرتاہے تاکہ خدا کی صورت میں ہوکر گناہ اور اس کے نتیجہ  سے بالکل علیحدہ رہے ۔

۸۔ خوبی

          جو کوئی  اس خدا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اس کا معلم اور مودب اور بادشاہ اور قوت بن کر اس کے دل میں سکونت کرنے لگتاہے تاکہ اس آدمی کو بچائے اور اسے ابدی مکانوں کے لائق  بنائے اور  اس کے وسیلہ سے اپنا جلال ظاہر کرائے اور پھر اس آدمی کی باطنی ترقی ہونی شروع ہوجاتی ہے اور دنیا کہتی ہے کہ یہ شخص کیا سے کیا ہوگا۔

۹۔ خوبی

          بائبل کا خدا آپ کو اپنے بندوں کا باپ بتلا تا ہے ۔ اور تین قسم کی پیدائش عنایت کرتا ہے۔

          پہلے اس جہان میں نیست سے ہست کرنے کی پیدائیش ۔ جو عام ہے ۔ دوسرے الہیٰ مزاج میں داخل ہونے کی پیدائش ۔ جو ایمان سے ہے ۔ تیسرے قیامت  کے فرزند ہونے پیدائش۔ جو گھر میں جانے کا وقت ہے اور جب اس کا مزاج درجہ بدرجہ  ہم میں پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے تب وہ ہمیں فرزند کہتا ہے۔

          اور شیطانی مزاج والے لوگوں کو ابلیس کے فرزند یاد نیا کے لڑکے یا سانپ کے بچے کہتا ہے۔

          کیونکہ جس کا تخم انسان میں ہے وہ اس کا فرزند ہے جب ہم الہیٰ مزاج میں داخل ہوتے ہیں۔ تب محبت وخیر خواہی۔ پاکیزگی ، حلم، دیانت اور الہیٰ زندگی او رالہیٰ راستبازی ہم میں آجاتی ہے اوریوں اس ک صفتیں ہمارے درمیان جلوہ گر ہو کر ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ضرور ہمارا باپ ہے اور شیطانی  ونفسانی صفتیں آدمی میں آ کر ظاہر کرتی ہیں کہ وہ شیطان کا فرزند ہے ۔

۱۰۔ خوبی

          اس کے شئون ثلاثہ جن کا ذکر نویں ودسویں لیکچر میں ہوا صاف صاف بائبل میں اور واقعات  میں ہمیں نظر آتے ہیں کہ ضرور باپ نے جو پہلا اقنوم ہے ہمیں پیدا کیا ہے۔

          اور ضرور بیٹے نے جو دوسرا اقنوم ہے خدا کے ساتھ ہمیں ملایا ہے اور ضرور روح القدس جو تیسرا اقنوم ہے ہمیں خدا سے ملنے کے لئے تیاری کررہی ہے ۔

۱۱۔ خوبی

          بائبل کا خدا ہمیں اس قدر پیار کرتا ہے کہ اس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا تاکہ ہم گنہگاروں کی خاطر طرح طرح کی تکلیفیں سہے اور بالآخر اپنی جان دے کر ہمیں گناہوں کی قید سے رستکاری بخشے  یہ ایک ایسی محبت  ہے جس کی مثل دنیا پیش نہیں کرسکتی ہے ۔

۱۲۔خوبی

          بائبل کا خدا نہ صرف زندہ خدا ہے بلکہ وہ عالم الغیب خدا ہے جس نے اپنے مقدس بندوں کی تسکین کی خاطر تمام آئندہ واقعات کو صاف صاف بیان کیا ہے تاکہ کسی واقعہ کے واقع ہوتے ہیں اس کے بندوں کو پریشانی نہ ہو۔ کیا یہ خوبی کسی اور خدا میں بھی ہے ؟ پس بائبل کے خدا کو نہ ماننا خود کشی کا مرادف ہے ۔

۱۳۔ خوبی

          بائبل کا خدا اپنے بندوں کی لاچاری کی حالت میں مدد کرتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بائبل کا خدا واحد خدا ہے جو صادق القول اور وفادار ہے اس کی وفاداری ان واقعات  سے ظاہر ہے جو کلیسیا میں گذرتے ہیں۔

          وہ ظاہری صورت پر نظر نہیں کرتا بلکہ غریب کمینوں اور حقیروں کو جو اس سے ڈرتے ہیں سر بلندی بخشتا ہے اور شریروں کو پٹک دیتا ہے۔

۱۴۔خوبی

          بائبل کے خدا نے بہت سے وعدے کئے ہیں بعض اس جہان میں آئندہ پشتوں کے لئے اور بعض آئندہ جہان کے لئے وہ جو اس جہان کے وعدے تھے ان میں سے اس قدر پورے ہوئے ہیں کہ باقی  وعدوں کے پورا ہونے کا کامل یقین ہے کسی خیالی خدا کی جرات ہی نہیں جو ایسے  وعدے کرے جو بائبل کے خدا نے کرکے پورے کر دکھلائے اور یہ بھی ایک کامل دلیل ہے کہ یہ خدا ئے برحق ہے ۔

۱۵۔ خوبی

          اس خدا نے اپنی قدرت ان معجزوں اور پیش گوئیوں کے وسیلہ سے دکھلائی ہے جس کا ہم سے انکار نہیں ہوسکتا اور ہمیں یقین ہوتا ہے کہ بائبل کا خدا قادر مطلق خدا ہے ۔

۱۶۔خوبی

          بائبل والے خدا نے اپنی پاکیزگی اور عزت اور بزرگی یہاں تک دکھلائی ہے کہ انسان کے خیال سے بھی باہر ہے ۔ پس یہ خدا انسان کے خیال سے نکلا ہوا نہیں ہے ۔

          نہ تو اس کی ذات میں بدی ہے اور نہ ا س کا خالق ہے اور نہ اپنے لوگوں میں بدی دیکھ سکتا ہے ۔

۱۷۔ خوبی

          بائبل کے خدا کی راہیں پاک صاف اور سیدھی ہیں لیکن انسانی راہیں گناہ آلودہ اور ٹیڑھی ہیں جس پر انسان بسہویست چل کر منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا ہے ۔

۱۸۔ خوبی

          اس خدا نے اپنا معاملہ نہ جوش وغضب سے نہ خود غرضی سے نہ تحریص سے بلکہ حلم وبردباری وخیر خواہی سے بے رورعایت ہر ایک شخص پر اپنی مرضی کو ظاہر کیا ہے اور یہ دلیل ہے کہ وہ برحق خدا ہے ۔

۱۹۔خوبی

          یہ بائبل کا خدا نہ صرف محبت ہی ظاہر کرتا ہے بلکہ وہ ان لوگوں کو جو اس کے حکموں پر نہیں چلتے ہیں خوف بھی دلاتاہے۔

۲۰۔خوبی

          اس نے نجات کا حصول صرف مسیح کے کفار پر منحصر رکھا ہے۔ اب کہو کہ یہ تثلیث  فی التوحید والا خدا جو بائبل کاخدا ہے سچا خدا ہے یا کوئی اور خدا جو اس خدا سے زیادہ خوبی رکھتاہے اگر کوئی ایسا خدا ہے تو اسے پیش کرنا چاہیے۔

حضرت داؤد نے خوب کہا

          (بائبل مقدس ۱ سموئیل رکوع ۱۷ آیت ۴۶)تاکہ سارا جہان جانے کہ اسرائیل میں ایک ہی خدا ہے ۔

ملکہ سبا نے خوب کہا

          (بائبل مقدس ۱سلاطین رکوع ۱۰ آیت ۹)۔ خداوند تیر ا خدا مبارک ہو اور یہ کہ خداوند نے اسرائیلیوں کو سدا پیار کیا ۔

نبوکدنضر نے خوب کہا

          کہ "حقیقت میں تیرا خدا الہوٰں کا الہہٰ اور بادشاہوں کا خداوند  ہے جو بھیدوں کا فاش کرنے والا ہے ۔ (دانیال رکوع ۳ آیت ۲۹)۔ میں حکم کرتاہوں کہ جو قوم یا گروہ یا اہل نعت سدرک اور میسک اور عبد نجو کے خدا کے حق میں کوئی نالائق سخن کہے تو ا ن کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائینگے اور ان کے گھر  گھورے بن جائینگے کیونکہ کوئی  دوسرا خدا نہیں جو اس طرح چھڑا سکے (دانیال رکوع ۲ آیت ۴۷)۔

حضرت الیاس نے کیا ہی خوب کہا کہ

          "اے خداوند ابراہیم واسحاق واسرائیل کے خدا آج کے دن معلوم ہوجائے کہ تو اسرائیل کا خدا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ " (۱ سلاطین رکوع ۱۸ آیت ۳۶)۔

نعمان آرامی نے بھی خوب کہا

          "دیکھ اب میں جانا کہ ساری زمین پر کوئی خدا نہیں مگر اسرائیل میں" (۲سلاطین رکوع ۵ آیت ۱۵)۔

          حاصل کلام یہی بائبل والا خدا جس کی ذات میں تین اقنوم ہیں یہی  برحق خدا ہے اور ایسی خوبیاں صرف اسی میں ہیں اس کا قبول کرنے والا خدا کا جاننے اور ماننے والا ہے اور جس نے اسے نہیں مانا وہ اب تک خدا کو جانتا بھی نہیں ماننا تو دور رہا ۔فقط۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا | Tags: | Comments (0) | View Count: (8367)

Post a Comment

English Blog