en-USur-PK
  |  
16

تثلیث کی توضیح

posted on
تثلیث کی توضیح

The definition of the Trinity

Rev. Mawlawi Dr. Imad ud-din Lahiz 

(1830−1900)

تثلیث کی توضیح

علامہ مولوی پادری ڈاکٹر عماد الدین لاہز

           

          ان لوگوں کا جو عقل پر زیادہ زور دیتے ہیں الہام کی نسبت  ان کی ساری تقریروں کا حاصل حسب ذیل ہے :

          وہ کہتےہیں کہ  تثلیث  کا اعتقاد باطل ہے اور خلاف عقل ہے جس کو کوئی عقلمند شخص قبول نہیں کرسکتا ہے کیونکہ توحید نفی تعدد پر دلالت کرتی ہے اور تثلیث  اثبات تعدد پر اور یہ دو نقیضین ہیں ان کا اجتماع شخص واحد میں آن واحد کے درمیان حقیقی طور پر محال ہے ۔

          اور اگر کوئی کہے کہ  یہ عقیدہ الہامی ہے تو یاد رکھنا چاہیے کہ الہام عقل کا محکوم ہے ۔ نہ عقل کا حاکم کیونکہ ثبوت الہام عقل پر موقوف ہے اور تکلیف  شرعی اہل عقل کو ہے پس جو بات عقل کے خلاف ہو وہ بات الہامی نہیں ہوسکتی ہے ۔

          ان لوگوں کا یہ اعتراض تین وجہ سے قابل پذیرائی نہیں ہوسکتا ہے ۔

          پہلی وجہ ہم پوچھتے ہیں کہ آیا کل بنی آدم کی عقل اس کو خلاف اور باطل بتلاتی ہے یا خاص ایک دو قوم کی عقل پس عقل خاص سے عقل عام پر فتویٰ دینا کونسی عقلمندی ہے ۔

          اگرچہ سینکڑوں کی عقل نے اس کو قبول نہیں کیا تو چنداں مضائقہ نہیں کیونکہ کروڑوں کی عقل نے اسے قبول کیا ہے ۔

          مثلاً  اگرچہ بعض کی عقل نے خدا کے وجود کا انکار کیاہے تو کروڑوں کی عقل نے خدا کو قبول بھی کیا ہے اب کوئی منکر خدا یہ نہیں کہہ سکتا کہ  مطلق  عقل خدا کو قبول نہیں کرسکتی ہے اگر ایسا  کہے تو یقیناً  بے وقوف ہے  ہاں وہ کہہ سکتا ہے کہ میری عقل  خدا کو قبول نہیں کرسکتی ہے ۔

          اور اگر ان کی مراد یہ ہے کہ  عقل سلیم اس عقیدہ کو نہیں مان سکتی ہے تو لازم ہے کہ ہمیں دکھلائیں  کہ عقل سلیم کہاں سے آیا عام طور پر دنیا کے لوگوں میں پائی جاتی ہے  یاکسی خاص قوم میں یا منکروں ہی کو وہ عنایت ہوئی ہے ۔

          برخلاف اس کے اور قوموں کے بالمقابل  اہل تثلیث  کے درمیان زيادہ تر عقلی  روشنی وخوبی  پائی جاتی ہے  ہم کیونکر  کہیں کہ عقل  سلیم صرف منکروں  میں ہے اور مسیحیوں  میں نہیں ہے ۔

          پس یہ کہنا چاہیے کہ میری عقل میں تثلیث  کا بھید نہیں آتا نہ یہ کہ  کوئی عقلمند  اس کو قبول نہیں کرسکتا ہے ۔

          دوسری وجہ منکروں نے جو دلیل پیش کی ہے وہ ناکامل دلیل ہے قبولیت  کے لائق نہیں ہے کیونکہ  اثبات  تعداد اور نفی تعدد کا اجتماع اگر چہ عقلاً  محال ہے تو یہ مادیت  کا قاعدہ ہے اگر ماہیت  الہیٰ پر بھی یہ قاعدہ جاری ہوجائے تو سب پر ا س قسم کے قاعدے جاری ہونگے اس صورت میں مخالفین  کو بے حد مشکلات کا سامنا ہوگا۔

          مثلاً اس صانع کا وجود جو مادی نہ ہو عقلاً محال ہے یہ بات قیاس میں ہر گز نہیں آسکتی ہے کہ غیر  مادی خدا نے اس مادی جہان کو کیونکر  پیدا کردیا ۔ نجار کبھی میز نہیں بناسکتا جب تک لکڑی اور اوزار اس کے پاس نہ ہوں دیکھئے ہمارا یہ قاعدہ خدا پر ہر گز جاری نہیں ہوسکتا اسی طرح  وجود بغیر مکان کے کس طرح  خیال میں آسکتا ہے لیکن ہم خدا کو موجود اور مکان سے منزہ مانتے ہیں۔

          اسی طرح کسی موجود کو جو جہات ستہ سے مبرا ہو عقل قبول نہیں کرسکتی ہے  حالانکہ  خدا جہات ستہ سے پاک ہے اور نہ زمانہ کی قید سے  آزاد ہے۔ اسی طرح  خدا کی صفات  نہ عین ذات ہیں نہ غیر ذات اگر خدا کی صفتوں کو عین ذات مانو تو موجودات  بھی الوہیت  کےد رجہ میں ہونگے اور اس صورت میں مسئلہ  ہمہ اوست بھی درست ہوگا جو عقلاً  باطل ہے اور اگر  خدا کی صفات  غیر ذات ہیں تو ا ن کا انفکاک جائز ہوگا مثل سب دیدنی صفات  کے اس صورت میں  خدا ناقص ٹھہریگا  لہذا مجبوراً  یہ بات مانی جاتی ہے کہ اس کی صفات  نہ عین ذات ہیں نہ غیر ذات بلکہ بین بین کوئی اور درجہ ہے جو قیاس سے باہر ہے ۔

پس یا تو سب عقلی قاعدے اس پر جاری کرو اور خدا کوہاتھ سے کھو بیٹھو اور یا سب عقلی قاعدوں سے اسے بلند اور بالا جانو اور چون وچرا کو اس میں دخل نہ دو اور ماوریٰ العقل خدا کا اقرار کرو۔

          اب ہم نفیس دلیل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

          تعداد کا نفی یہ لوگ لفظ وحدت سے نکالتے ہیں اگرچہ یہ بات سچ ہے  مگر کس حیثیت  سے اس پر کچھ  غور نہیں کرتے ہیں۔

          اس کا مطلب یہ ہے کہ الوہیت  کی ماہیت  واحد ہے اس کی ماہیت  میں کوئی دوسری ماہیت شریک نہیں ہے وہ ایک ماہیت ہے جو سارے موجودات  پر خدائی کرتی ہے ۔

          اور اثبات تعدد لفظ تثلیث  سے نکالتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ  یہ تعدد کس حیثیت  سے ہے  تثلیث  کا تو یہ مطلب ہے کہ وہی ایک ماہیت  ہے جس میں تین شخص ہیں اگرچہ وہ تین شخص ہیں تو بھی انہیں تین خدا کہنا کفر ہے کیونکہ ماہیت  واحد ہے نہ کہ تین ماہیتیں ۔ اگر ہم یو ں کہتے  کہ خدا ایک ماہیت  ہے اور وہی خدا تین ماہیتیں  ہیں تو البتہ  تناقض ہو سکتا تھا۔ یہ تو تناقض ہی نہیں  یہاں تو من وجہٍ کی قید ہے یعنی خدا ایک ماہیت ہے وہی ایک ماہیت  تشخیص کے اعتبار سے تین اقنوم رکھتی ہے  پس اس تقریر کا مفہوم جہاں تک ادراک میں آسکتا ہے تناقض سے پاک ہے کیونکہ دو باتیں  ہیں جدا جدا جو عقیدہ  مذکورہ سے نکلتی ہیں۔

دوسری بات

          الہیٰ وحدت، اور الہیٰ تثلیث  ان دونوں باتوں کے مفہوم عقلاً  ذہن سے بالا ہیں۔

          وحدت الہیٰ کا مفہوم ہر گز ذہن میں نہیں آسکتا ہے کیونکہ خدا میں  نہ تو وحدت  الوجود ہے اور  نہ وحدت عرفی یا حقیقی ہے اور ان دو وحدتوں کے سوا کوئی  تیسری وحدت خیال میں نہیں آسکتی ہے ۔

          وحدت الوجود ہمہ اوست کا بیان ہے جو باطل ہے وحدت عرفی کو جہات اور مکان لازم ہے جس سے خدا کو عقلاً  بری او رپاک جانتے ہیں  ۔ پس وہ کونسی وحدت ہے جو خدا میں ہے اس لئے یوں کہا جاتا ہے کہ و حدت  غیر مدرک اس میں ہے یعنی ایسی وحدت ہے جو قیاس سے باہر ہے ۔

          اسی طرح تثلیث  کا مفہوم ذہن سے خارج ہے اگرچہ  منوجہ ظاہر ہے لیکن بالکنہ  اس کا سمجھنا مشکل ہے ۔

          پس دو مدرک مفہوم میں سے ابطال یا اثبات کا نتیجہ تم کس علم کے قاعدے سے نکالتے ہو تمہارے  پاس تو ایک بھی معلوم نہیں ہے جس کے وسیلہ سے مفہوم کو دریافت  کرسکو اس لئے تمہارا خیال باطل ہے ۔

          اگر یہ کہو کہ اگرچہ  ادراک بالکنہ  تو نہیں ہے مگر ادراک منوجہٍ تو ہے تو ہمارا جواب یہ ہے کہ ادراک من وجہٍ ہی سے اوپر دکھلایا گیا ہے کہ ان میں تناقض نہیں ہے وہ مضمون ہی جدا ہیں  وحدت  ماہیت  کودکھلاتی ہے تثلیث  اسی ماہیت  واحد میں تین شخص بتلاتی ہے پھر تناقض کہاں ہے ۔

          ہاں لفظ  وحدت  اور لفظ تثلیث  میں بظاہر تناقض ہے مگر ان کی  مفہوم میں جوجداگانہ  ہیں تناقض نہیں ہے  پس ایسی دلیل ہی پیش کرنا  عقلی ہدایت  کے خلاف ہے اس لئے تمہاری دلیل باطل ہے ۔

انکی دوسری دلیل

          یہ ہے کہ الہام عقل کو محکوم ہے کیونکہ اس کا ثبوت عقل پر موقوف ہے چنانچہ  یہ بھی باطل ہے ۔

          لیکچر دوم میں دکھلایا گیا ہے کہ عقل بہت باتوں میں لا چار ہے اور اس لئے ہم الہام کے محتاج ہیں اور یہ کہ عقل سے الہام ثابت ہوتا ہے اس کا نتیجہ یہ نہیں ہے کہ عقل الہام کا حاکم ہوجائے ہم نے خدا کو عقل سے جانا ہے تو بھی خدا عقل کا محکوم نہیں۔ جو چیزیں عقل سے پہچانی جاتی ہیں وہ عقل کی محکوم نہیں ہوا کرتیں بلکہ عقل ان کی خادم ہوتی ہے ۔ دیکھو آنکھ کے وسیلہ سے سورج کو اور اس کی روشنی کو ہم نے دیکھا ہے تو بھی سورج ہماری آنکھ کا محکوم نہیں ہے مگر آنکھ اس سے فائدہ اٹھاتی ہے گویا وہ آنکھ کا حاکم ہے ۔

دوسری فکر

          ان لوگوںکی  ہے جو الہام کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر الہامی کتابوں میں تثلیث  کاذکر ہے  تو یہودی اس کے کیوں منکر ہیں لہذا یہ صرف انجیل کا عقیدہ ہے نہ کتب سابقہ کا ۔

          یہ فکر بھی باطل ہے جس کا جواب یہ ہے کہ :

          ہمارا بھروسہ نہ صرف آدمیوں کے خیالوں پر ہے بلکہ خدا کی کتابوں پر ہے ہاں یہ ممکن ہے کہ اپنی مسلمہ  کتاب کے خلاف کبھی دھوکے کے سبب آدمیوں کا خیال کچھ اور ہوجائے ۔

          دیکھو عصمت  انبیاء کی نسبت  بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں حالانکہ  کتب الہامیہ  اور قرآن بھی اس کے خلاف گواہی دیتے ہیں پس آدمیوں کے خیال ہی قابل تمسک نہیں ہیں یہودی تو اس مسیح کو بھی نہیں مانتے تو کیا ان کے نہ ماننے سے ہمارے سارے قومی دلائل  جو اس مسیح کے ثبوت میں ہیں رد ہوسکتے ہیں؟

          یہودی تو کلام کے روحانی معنی بھی نہیں سمجھتے تو کیا ان کے جسمانی بے ہودہ  معنی کچھ چیز ٹھہرینگے یاد رکھنا چاہیے کہ بائبل  نے معرفت الہیٰ کے بارہ میں بتدریج  ترقی بخشی ہے نہ دفعتاً  ، جیسے  سورج درجہ بدرجہ چڑھتا ہے یا طفل ترتیب کے ساتھ تعلیم پاتے ہیں یا درخت بتدریج بڑھتے ہیں۔

          ابراہیم واسحاق ویعقوب پر خدا نے آپ کو قادر مطلق  کے نام سے  ظاہر کیا اور موسیٰ پر یہوواہ کے نام سے ظاہر ہوا (توریت شریف کتاب خروج رکوع 6 آیت 3)۔ " میں نے ابراہیم واسحاق ویعقوب پر خدا ئے قادر مطلق کے نام سے  اپنے تیئں ظاہر کیا۔" اور یہوواہ کے نام سے ان پر ظاہر نہ ہوا۔ شیطان کا ذکر عہد عتیق میں نہایت  مجمل سا ملتاہے  لیکن عہد جدید  میں اس کا  صاف صاف  بیان ہے  تو کیا اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابراہیم واسحاق  ویعقوب  نے خدا کا نام یہوواہ نہیں بتلایا اب موسیٰ کا بتلایا ہوا ہم کیونکر مانیں یا پورانے  عہد نامہ نے شیطان کا مفصل حال نہیں سنایا اب ہم انجیل کا زیادہ  بیان کیوں قبول کریں۔

          دیکھو تو عہد عتیق  تو آپ ہمیں کسی اعلیٰ ہدایت کا امید وار بناتا ہے اور آپ کو تکمیل طلب  ظاہر کرتا ہے چنانچہ یہ بات بہت سے مقاموں سے ثابت ہے اس وقت عہد عتیق  کے اول وآخر ووسط میں خدا کی تین مہریں اس بات پر ملاحظہ ہوں۔

          (توریت شریف کتاب استشناء رکوع 18 آیت 15)۔ تم اس طرف کان دھریو۔ اگر اس کی نہ سننو گے تو مطالبہ ہے۔

          (بائبل مقدس صحیفہ حضرت یسعیاہ رکوع 2 آیت 3)۔ خداوند کا کلام یروشلم سے نکلیگا۔

          (صحیفہ حضرت ملاکی رکوع 4 آیت 2)۔ لیکن تم پر جو میرے نام سے ڈرتے ہو آفتاب صداقت  طالع ہوگا۔

          اور یہ بات یقیناً  صحیح اور درست ہے کہ عہد جدید ، ہی عہد عتیق کا تکملہ ہے بغیر عہد جدید کے عہد عتیق ایک بدن ہے جس میں روح نہ ہو۔ عہد عتیق  کی سب باتیں  عہد جدید میں حل ہوتی ہیں ایسا کہ جس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ عہد عتیق  یقیناً  عہد جدید  کا سایہ تھالیکن یہ بات ان پر ظاہر ہے جو ان کتابوں سے واقف ہیں۔

          ممکن ہے کہ  تصویر میں کوئی  دقیقہ  قابل تشریح باقی رہ جائے مگر  جب اس تصویر  کا عین ظاہر ہوئے تو وہ دقیقہ  خود بخود  سمجھ میں آجائیگا  اور جبکہ  تصویر شمسی  ہے جس میں غلطی  ہی نہیں ہوسکتی ہے تو عین کے تمام دقائق اس میں برابر ملینگے ۔ اب کہ انجیل نے تثلیث  کو خوب دکھلایا تو چاہیے کہ انجیل  کے سایہ  یا تصویر میں تلاش کریں کہ تثلیث  کے نشان ہیں یا نہیں وہاں تو کثرت سے یہ اسرار  بیان ہوئے ہیں۔

          (توریت شریف کتاب پیدائش رکوع 1 آیت 1و2)۔ میں خداوند  خدا کی روح اور کلمہ پر اشارہ ہے۔ (رکوع 1آیت 28)۔ لفظ ہم بنائیں ۔ ہرگز تعظیم کے لئے نہیں ہے جو ہندوستان وغیرہ کا محاورہ ہے مگر کثرت فی الوحدت کو دکھلاتا ہے جو تثلیث  ہے اور نہ فرشتے مخاطب ہیں۔

          (رکوع 3 آیت 22)۔ آدم ہم میں سے ایک کی مانند ہوگیا صاف ظاہر کرتا ہے کہ الوہیت  میں اقانیم ہیں جو برابر  کا رتبہ رکھتے ہیں۔ (رکوع 11 آیت 7)۔ ہم اتریں ان کی بولی میں اختلاف ڈالیں (صحیفہ حضرت ہوسیع  رکوع 1 آیت 7)۔ یہوداکے گھرانے پر رحم کرونگا اور انہیں   یہوواہ خدا کے وسیلہ سے نجات دونگا۔

          دیکھو ایک اقنوم دوسرے اقنوم کے وسیلہ سے نجات کا وعدہ کرتا ہے ۔ (پیدائش رکوع 19 آیت 24)۔ یہوواہ نے دوسرے یہوواہ کی طرف سے دوم وغمورہ پر آگ برسائی یعنی بیٹے  نے باپ کی طرف سے (زبور شریف رکوع 11 آیت 1)۔ خدانے میرے خدا سے کہا کہ میرے دہنے ہاتھ بیٹھ۔ باپ نے بیٹے کو دہنے بٹھلایا ۔

          (صحیفہ حضرت زکریا رکوع 13 آیت 7)۔ ایک شخص کا ذکر ہے جو خدا کا ہمتا ہے وہ سیدنا مسیح ہے جس نے خود اس خبر کو اپنی نسبت انجیل میں بتلایا۔

          ان کے سوا بہت سے دقیق اور گہرے مقام ہیں جو بہت غور سے ظاہر ہوتے ہیں۔

          اور خدا کی روح کا ذکر تو جگہ جگہ عہد عتیق میں ہے ۔ پس یہودیوں کا نہ ماننا کچھ حقیقت  نہیں رکھتا ہے ہم تو ثابت کرچکےہیں کہ یہودی لو گ بہت سے بھیدوں کو یقیناً نہیں جانتے ۔ تو بھی جتنے ان میں سے غور کرتے ہیں مان جاتے ہیں اور دین عیسائی کاشروع انہیں یہودیوں سے ہوا ہے پس نہ سب یہودی نہیں مانتے مگروہ نہیں مانتے جو سب کچھ نہیں مانتے اور یقیناً  وہ گمراہ ہیں۔

تیسری فکر

           ان کی ہے جو تثلیث کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کو اپنے ایمان کی بنیاد سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ عقل بیشک عمدہ چیز ہے مگر اپنی حد کے اندر کون اس قاعدہ کو رد کرسکتا ہے ؟

          جہاں عقل کا ہاتھ نہیں پہنچتا وہاں عقل ہی کی صلاح سے ہم الہام کی پیروی کرتے ہیں۔

          کیونکہ الہام نے ان انسان کی اصلاح کے بارہ میں عقل سے زیادہ ہمیں تعلیم دے کے اور پیش گویوں کے وسیلہ سے اپنی بصارت بے حد دکھلا کے اور معرفت الہیٰ کے اسرار بکثرت ظاہر کرکے ہمیں اپنا گرویدہ بنالیا ہے۔

          پس معرفت ذات الہیٰ کےبارہ میں جو کچھ وہ بتلاتا ہے ہم بے چون وچرا مانتے ہیں اور عقل ہی ہمیں  یوں سکھلاتی ہے کہ الہام سے انحراف کرناہلاکت میں جانا ہے ۔ فقط ۔

 

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا | Tags: | Comments (0) | View Count: (9304)

Post a Comment

English Blog