en-USur-PK
  |  
16

روح کی موجودہ حالت

posted on
روح کی موجودہ حالت

Status of Spirit

Rev. Mawlawi Dr. Imad ud-din Lahiz 

(1830−1900)

روح کی موجودہ حالت

علامہ مولوی پادری ڈاکٹر عماد الدین لاہز

                  

            گذشتہ لیکچر میں اس بات کا ذکر ہوا ہے کہ انسانی روح کوئی معمولی مخلوق نہیں ہے بلکہ  اس میں عالم بالا کی خوبیاں ٹمٹاتی ہیں اور اس کی خواہشیں  صرف خدا میں پوری ہوتی ہیں اور یہ کہ وہ غیر فانی شئے ہے ۔

          آج روح کی ایک دوسری خطرناک حالت بیان کرینگے جو حالت مذکورہ بالا کی نسبت  زیادہ تر واضح ہے ۔

          اگر روح فانی ہوتی تو کچھ خوف نہ تھا مگر یہ حالت  جس کا ذکر کیا جاتا ہے فنا کی بہ نسبت  زیادہ خوفناک ہے ۔ اس کی اس خطرناک حالت کا بیان تو بہت بڑا ہے لیکن مختصر اً کچھ ذکر کرتاہوں۔

پہلی بات

انسان کی روح پر ایک قسم کی تاریکی چھائی ہوئی ہے

          یہ تاریکی تین طریقوں سے ثابت کی جاسکتی ہے :

(۱)روحانی باتوں سے سخت  بے خبری جو بعض آدمیوں میں صاف ظاہر ہے کہ ان کی روح اپنے خالق ومالک کی نسبت  کس قدر بے خبر ہے اوراس کی مرضی پر چلنے سے کیسی غافل ہے اور اپنی نسبت کہ میں کون ہوں اور کس حالت میں ہوں اور کس حالت میں مجھے ہونا چاہیے کچھ ہی نہیں  جانتی ہے یہ سب باتیں  ظاہرکرتی ہیں کہ روح پر سخت تاریکی چھائی ہوئی ہے اگر روح میں کچھ بھی روشنی ہوتی تو وہ  سب باتیں جانتی ہوتی ۔

(۲)برے کاموں میں منہمک رہنا اس تاریکی  کو ظاہر کرتا ہے یعنی جھوٹ، کینہ ، بغض، خود غرضی، حسد ، لالچ ، کفر ، غرور ، وغیرہ جو آدمیوں کے اندر سے  نکلتے ہیں یہ سب باتیں  ظاہر کرتے ہیں کہ روح تاریکی میں ہے۔

(۳)مکروہات اور خواہشات  نفسانی کا ہجوم جو روحوں پر غالب ہے یہ بھی ا س بات کا ثبوت ہے کہ روحوں پر ایک تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ روحوں کی اس تاریکی  سے تو ہم واقف ہیں مگر یہ نہیں بتلاسکتے ہیں کہ یہ تاریکی  کہاں سے آگئی ہے ۔ ہاں روح کی بے چینی  ظاہر کرتی ہے کہ یہ اس کی اصلی حالت نہیں ہے عارضی حالت  ہے لیکن یہ کہ یہ مرض  اسے کہاں سے لگ گیا کیا عقل کچھ نہیں بتلاسکتی ہے لیکن الہام بتلاتا  ہے کہ یہ توجہ الہیٰ کے نہ ہونے کا نتیجہ ہے یا بعد الہیٰ کا اندھیرا ہے یا خداسے نسبت  خاص میں یہ گناہ کے سبب فرق آجانے کا اندھیرا ہے۔

          اور یہ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ تاریکی  نہ تو سورج کی روشنی سے اور نہ علوم دنیاوی کی روشنی سے اور نہ بدنی وروحانی ریاضت سے دور ہوسکتی ہے  کیونکہ  سب اہل علم اور اہل ریاضت میں بھی اور سب لوگوں کی طرح یہ اندھیرا پایا جاتا ہے کہ اگرچہ وہ بہت کوشش کرتے ہیں لیکن دفع نہیں ہوتا۔

          لیکن قربت  الہیٰ ضرور اس تاریکی کے دفع کا موجب ہوسکتی ہے کیونکہ  جس قدر روح خدا کے نزدیک  ہوتی جاتی ہے اسی قدر روشنی آتی جاتی ہے اور تاریکی  دفع ہوتی جاتی ہے۔

دوسری بات

ایک قسم کی غفلت اور غنودگی روحوں پر طاری ہے

          اور یہ غنودگی تین باتوں سے ثابت ہوتی ہے:

(۱) باوجود اس کے کہ روح جانتی ہے کہ میں مسافر اور سفر میں ہوں تب بھی اس اقرار سفر اور حالت سفری کی روحیں حالت قیامی کی دنیا کو اپنی قیامگاہ جان کر اس کی طرف مائل ہوتی ہیں جیسے چلتے ہوئے مسافر نیند کے سبب سے ٹھنڈی  ہوا میں درختوں کے نیچے سونے کی طرف  مائل ہوا کرتے ہیں۔

(۲)عبرت اور دانائی اور تنبیہ کے تازیانے باربار  روحوں کو بیدار  کرتے ہیں لیکن وہ اور غفلت کی نیند  سوتی جاتی ہیں سر اٹھاتی ہیں اور پھر سو جاتی ہیں غرضیکہ  غضب کی غنودگی میں گرفتار ہیں۔

(۳)یقینی خطرہ میں بھی ایک عجیب بے پروائی اور بےفکری روحوں میں دیکھی جاتی ہے یہ بھی غفلت اور غنودگی کا کامل ثبوت ہے۔

          یہ غفلت  اور غنودگی ایسی ہے جیسے آدمی نشے کی حالت میں ہو یا جیسے سانپ کے ڈسے ہوئے پر زہر چڑھاہوا جو بجز سونے کے اورکسی چیز کا نام تک نہیں لیتا ہے ۔

          عقل نہیں بتلاسکتی کہ یہ غنودگی کہاں سے آگئی اگرچہ روح کے فضائل مذکور رہ کی تو یہ ضرور خلاف ہے تو بھی پیدائش ہی سے روحوں میں یہ پائی جاتی ہے۔

          الہام بتلاتا ہے کہ  یہ عیب انسان کی جڑ میں آگیا ہے  جو پہلوں میں ظاہر ہوتا ہے  جیسے  کوڑھ یا تپدق نسل میں جاری ہوجاتاہے اسی طرح  گناہ آدم کے سبب سے روحوں میں پایا جاتا ہے  جس کو ہم غفلت یا غنودگی  کہتےہیں۔

          اس کا علاج نہ کوئی طبیب  کرسکتا ہے نہ کوئی جادوگر نہ عامل نہ عالم نہ امیر  نہ فقیر  لیکن خدا میں  قدرت ہے کہ وہ اس کا معالجہ کردے ۔

تیسری بات

روح دو متضاد کششوں میں گرفتار ہے

          روحوں کو نیکی اپنی طرف کھینچتی ہے اور بدی اپنی طرف ۔ آزادگی  ایک طرف کھینچتی ہے اور قید ایک طرف تنگ راہ اپنی طرف  کھینچتاہے اور کشادہ راہ اپنی طرف یہ دونوں  کششیں  باوجود  سخت  گرفت کے روح پر جبری دست اندازی نہیں کرسکتی ہیں اور نہ اپنی طرف مائل کرسکتی ہیں تاوقتیکہ روح اس پر راضی نہ ہو اور یہ ایک سخت خطرناک حالت ہے کیونکہ جیسے ابدی خوشی میں داخل ہونے کی امید ہے ویسے ہی ابدی ہلاکت  میں پھنس جانے کا بھی خوف ہے ۔

چوتھی بات

روح ایک خدمتگار کی حالت میں خدمت کےلئے مستعد معلوم ہوتی ہے

          روح ایک خادم کی طرح ہے جسے وہ آقا اپنی اپنی خدمت کے لئے  بلاتے ہیں۔ خدا اس کو الہام کے وسیلہ سے اپنی  خدمت کے لئے بلاتا ہے ۔ شیطان یا دنیا اسے اپنی خدمت کےلئے بلاتی ہے۔ اور یہ تو نا ممکن ہے کہ ان دونوں میں سے وہ کسی کی بھی خدمت نہ کرے۔ وہ کبھی بیکار رہ نہیں سکتی  کیونکہ  خدمت کے لئے  پیدا کی گئی ہے اور ہر وقت  کچھ نہ کچھ کام میں لگی رہتی ہے خواہ شیطان کا ہو یا رحمنٰ کا اور چونکہ آقا  مخالف  ہیں اس لئے  اجر بھی مخالف ہونگے جب تک کامل تسلی نہ ہو کہ میں کسی کی طرف  ہوں اور کس کی خدمت کرتا ہوں  اس وقت تک بے حد تشویشناک بات ہے۔

پانچویں بات

روح نہ صرف انتقال کے ماتحت ہے کہ اسے اس دنیا سے نقل مکانی کرنا ہوگا بلکہ ابدی موت بھی اس پر سایہ ،فلن نظر آتی ہے ۔

          اور اس کا ثبوت ذرا غور طلب ہے جو دو طرح پر ہے :

(۱)روحوں میں الہیٰ طبعیت  سے جدائی پائی  جاتی ہے مگر سب کی روحوں میں نہیں بلکہ ان لوگوں کی روحوں میں جہاں نہ محبت ہے نہ پاکیزگی نہ خیر اندیشی ہے اور نہ رفاہ عام ۔ کیونکہ  جہان پر نظر کرنے سے خالق کی طبعیت میں یہ باتیں پائی جاتی ہیں ۔لیکن جس روح میں یہ باتیں نہیں ہیں ضرور وہ الہیٰ طبعیت سے جدا ہے اور یہ جدائی ہے موجب غضب الہیٰ کا ۔

(۲)جسمانی مزاج یعنی وہ مزاج جو جسمانیت کاغلبہ روحانیت پر ظاہر کرتا ہے اور جس کی علامت غصہ، خود غرضی ، اور شہوت پرستی ہے۔ یہ نشان ہے ابدی موت کے سایہ کا ۔

چھٹی بات

          ان سب خطرناک باتوں میں انسان ایسا مقید  نظر آتاہے کہ اگر وہ چاہے کہ نکلے تو اپنی طاقت سے نکل نہیں سکتا ہے گویا جال میں پھنسا ہوا ہے۔

          وہ نہ آپ نکل سکتا ہے اور نہ کوئی چیز سوائے خدا کے اسے نکال سکتی ہے وہ ایسا ہے جیسے جیلخانہ میں قیدی ہوتے ہیں یا جیسے چڑیا لوہے کہ پنجرے میں بند ہوتی ہے ۔

          ہزار پھڑ پھڑائے اور ریاضت کی چونچ مارے اور ذکر فکر مجاہدہ، مراقبہ شغل اشغال وغیرہ کی تدبیریں نکالے اس قید سے نکلنا محال ہے یہ اس وقت نکل سکتاہے جب کوئی باہر سے آئے اور قفس کادروازہ کھول دے ۔

          اگر روح کی اصلیت  اور فضائل پر سوچیں اور اس خطرناک حالت پر بھی غور کریں تب نجات کی احتیاج معلوم ہوتی ہے بلکہ نجات کے معنی  بھی یہی ہیں۔کہ کوئی ہمیں اس حالت سے نکالے اور اسی زندگی میں نکالے ۔ یہ بھی کوئی بات ہے کہ مرنے کے بعد تم معاف کئے جاؤگے اور بہشت میں داخل ہوگے اور اب ہمارا یہ مذہب قبول کرلو؟

          صحیح مذہب کے قبول کرنے کا مطلب یہی ہے کہ وہ ہمیں اس بری حالت سے ابھی نکالے اور الہیٰ طبعیت  میں داخل کرے تب تو ضرور ہماری نجات ہوگی۔

          اور اگر ہم اپنے گناہوں میں اور اس بری حالت میں پھنسے ہوئے  مرگئے توضرور ابدی ہلاکت  میں پھنس جائينگے اور یہ نا ممکن ہے کہ  وہاں بخشش ہو جہاں ایک زبردست عادل تخت  ِ عدالت پر بیٹھا ہو۔

          پس مناسب تو یہ ہے کہ  جو کوئی  نجات دہندہ  ہونے کا دعویٰ کرے یا اعمال حسنہ کو موجب نجات بتلائے اسی دنیا میں ہمیں اس سے مستفید کرے ۔

          صرف سیدنا مسیح اس حالت سے نجات دینے کا مدعی ہیں اور کوئی  نہیں بلکہ اور لوگوں نے تو اس بدحالت کو اچھی طرح  معلوم بھی نہیں کیاہے۔

          ہزار ہا روحیں جنہوں نے  مسیح کے طفیل سے خلاصی پائی ہے ۔پکار پکار کے کہتی ہیں کہ ہمیں مسیح نے اس بری حالت سے نکالاہے۔ اور ان کے اقوال وافعال اور زندگی ظاہر کرتی ہیں کہ  سچ مچ وہ بدحالت  سے نکل گئی ہیں پس اس نقد بخشش کے بالمقابل ہمیں اور کیا چاہیے؟

          پس جب ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم اس بری حالت  میں ہیں۔ اور س سے نکلنا بھی ممکن ہے ۔ اور اگر اس پر بھی ہم اس بری حالت سے نکلنے کی کوشش نہ کریں تو یقیناً  ہم خود کشی کے مرتکب ہونگے ۔

          اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم نیکی کے وسیلہ سے اس حالت سے نکلینگے  وہ غلطی پر ہیں کیونکہ نیکی موقوف ہے نجات پر ۔ نجات ہوجائے  تب نیکی  ہو نہ یہ کہ نجات موقوف ہے نیکی پر کیونکہ  یہ بدحالت  عقلاً ونقلاً  مانع نیکی ہے پس چاہیے کہ سب لوگ پہلے اس حالت سے نکلنے کا فکر کریں اور فکر اتنا ہی درکار ہے کہ باقی  وسائل کو چھوڑ کر اسے پکاریں جو محض رحم کرکے آدمیوں کو مخلصی دیتا ہے فقط۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا | Tags: | Comments (0) | View Count: (8877)

Post a Comment

English Blog