en-USur-PK
  |  
15

روح کیا ہے ؟

posted on
روح کیا ہے ؟

What is the soul?

Rev. Mawlawi Dr. Imad ud-din Lahiz 

(1830−1900)

روح کیا ہے ؟

علامہ مولوی پادری ڈاکٹر عماد الدین لاہز

           

            انسانی روح کے متعلق بھی لوگوں نے بہت ہی غور وفکر کیا ہے اور اب تک کررہے ہیں  لیکن عقل کے لئے یہ بہت ہی مشکل ہے کہ تنہا اس کی حقیقت  کو دریافت  کرسکے تاہم ا سکی نسبت  صحیح خیال پیدا کرنا واجب  ہے کیونکہ انسان کی تمام ترکوشش اسی کے لئے ہے ۔ اگر روح  ایک اعلیٰ حقیقت رکھتی ہے اور ناقابل فنا ہے تو اس سے زیادہ  بہتر کون سی چیز  ہے جس کے ہم طالب ہوں اور اگر یہ کوئی  بے حقیقت  چیز ہے اور فانی ہے تو ناحق  ہم اس کے لئے  اس قدر تکلیف  اٹھارہے ہیں  اور ہماری  ساری جانفشانی  برباد ہے پس اس کے متعلق  ہم بھی اپنا خیال پیش کرتے ہیں ۔

          روح کے متعلق  تین قسم کے خیالات  پائے جاتے ہیں ۔ اول یہ کہ وہ خدا کا امر ہے اس سے زیادہ  ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے ۔ یہ قول قرآن شریف  سے ماخوذ ہے ۔ دوم یہ کہ وہ خالق  کی جنس میں سے ہے جیسے یونان کے کسی شاعر  نے کہا کہ ہم خدا کی نسل  ہیں اگر کہا جائے  کہ یہ خیال  پرانے  تصوف کا ہے تو بجا ہے ۔ سوم یہ کہ وہ ایک قسم کے ابخرے  ہیں  جو جسم کی ترکیب سے متولد ہوتے ہیں یہ خیال جسمانی حکیموں کا ہے ۔

          دیکھو انسانی عقل کی لاچاری اپنے قریب کے چیز کے دریافت کرنے میں اس قدر عاجز ہے تا بدورچہ رسد۔

          کیا وہ خدا جس نے ہمیں غور وخوض کرنے کا مادہ عنایت کیا اور طاقت  فکر ی بخشی  اور انسانی ذہن کو کسی قدر رسائی  عطا کی ہے اور اسباب حصول علوم روحانی اور جسمانی ہمیں دیئے  وہ ہماری ذات ہی کے علم سے ہمیں محروم رکھیگا ہر گز نہیں۔

          الہام الہیٰ ہمیں بتلاتا ہے کہ روح انسانی ایک ہوا ہے مگر نہ دنیاوی ہوا بلکہ  کسی دوسرے جہان کی ہوا ہے اس کا نام زندگی کا دم ہے  جو خاص  خالق موجودات  سے نکلا ہے اور براہ راست  خدا سے نکل کر آدمی میں آیا ہے ۔ سب حیوانات  کی جانیں  اس نے عالم اجسام میں سے بوسیلہ  حکیم کے پیدا کرائیں  ہیں مگر انسان میں اس نے آپ زندگی کا دم پھونکا ہے اسی کا نام روح ہے۔

          یہ ایک علیحدہ  خیال ہے جسے چوتھا خیال کہنا چاہیے۔ یہ خیال تیسرے خیال کا بالکل مخالف ہے اور اسے ردکرتا ہے اور اس تردید کی دلیل  بھی اپنے اندر رکھتا ہے کیونکہ بتلاتا ہے  کہ وہ ایک خاص ہوا ہے جو خالق سے نکلی ہے وہ نادیدنی چیز ہے اس لئے حکیموں کو نظر نہیں آئی اس لئے انہوں نے کہا کہ وہ فانی ابخرہ ہے۔

          یہ خیا ل پہلے خیال کی تردید نہیں کرتا مگر یہ بتلاتا ہے کہ پہلا خیال موٹا خیال ہے اور عام بات ہے  جس سے کچھ روشنی ذہن میں نہیں آسکتی ۔

          لیکن دوسرے خیال میں اور اس میں ایک بڑا نازک فرق ہے جو نہایت  خطرناک بھی ہے کیونکہ زندگی کا دم جو خدا سے نکلا وہ خدا کی جنس  اور الوہیت  کا ایک جزو نہیں ہے تو بھی خدا کے ساتھ ایک خاص نسبت رکھتا ہے جو دیگر مخلوقات کی نسبت  سے زيادہ خاص ہے ۔

          خدا کی زندگی کا دم جو انسان میں پھونکا گیا وہ کیاچیز ہے کوئی انسان اسے بتلا نہیں سکتا جیسے خدا کے سمع وبصر وغیرہ کچھ اور ہی چیز ہے ایسے ہی اس کا دم بھی کچھ اور ہی چیز ہے ۔

          اس الہامی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ روح انسانی مخلوقات سے بالاتر چیز ہے اور جسم انسانی دنیاوی چیز ہے اوران کے میل سے انسان بنا ہے ۔ حکیموں نے کہا ہے کہ جسم گھٹتا وبڑھتا ہے اورروح بھی اس کے ساتھ گھٹتی اور بڑھتی ہے اس لئے ہم کہتےہیں کہ  وہ فانی جسم سے متولدہے ۔       

          لیکن یہ تسلی بخش قیاس نہیں ہے کیونکہ جس عالم اجسام کے انتظام کے موافق  ضرور گھٹے گا اور بڑھے گا لیکن آسمانی مخلوق جو روح ہے وہ اپنے  مظہر یا مسکن یعنی جسم کی گنجائش یا طاقت  اور ظرف کے موافق  اس میں جلوہ گر ہوگی کیونکہ اس کا ظہور انتظام  جہان کے موافق  جسم میں ہوا ہے  لیکن وہ ایک  مستقل مخلوق ہے بموجب ان فضائل  ستہ کے جوذیل میں آتے ہیں۔ اور جو روح کا گھٹتا بڑھنا جسم کے گھٹنے  بڑھنے کے ساتھ دیکھ کر کہتے ہیں کہ روح  کوئی مستقل جوہر نہیں ہے انہیں اس بات کے امکان پر بھی خیال کرنا چاہیے کہ مظہر روح یعنی جسم عالم اجسام کے انتظام کا ضرور مقید ہے اور ظہور روح ضرور مظہر پر موقوف ہے لیکن وہ شخص جو روح کا ظہور جسم کی ہر حالت  میں کامل طور پر مانتا ہے گویا وہ یہ چاہتا ہے کہ روح اس عالم انتظام میں انتظام شکن ہوکے ظاہر ہو تب میں اسے مستقل جوہر جانوں گا لیکن یہ بات محال عادی ہے ۔

          اس بات کو دیاد رکھنا چاہیے کہ روح ترقی اور تنزل جوبدن کی قوت اور ضعف کے لحاظ سے ہوتا رہتاہے دیکھ کر ہم اسے عناصر کی ترکیب سے پیدا شدہ ہر گز نہیں کہہ سکتے ہیں کیونکہ  روح میں کچھ فضائل نظر آئے ہیں جن کا جسم اور وہم سے پیدا ہونا ممکن نہیں۔

پہلی فضیلت

          روح انسانی کا مسکن یعنی تمام مادی اشیاء سے نہایت  افضل اور عظیم الشان مسکن مکین کی شان کو ظاہر کرتاہے او ریہ بھی ایک دلیل ہے بات کی کہ انسان کے بدن میں ایک ایسی عزت دار چیز رہتی ہے جو تمام دیدنی  موجودات میں بے نظیر ہے گویا یہ حاکم کامحل ہے اور باقی رعیت  اور نوکروں کے جھونپڑے ہیں۔

دوسری فضیلت

          روح میں تمام مراتب  علیا کے حاصل کرنے کی ایک ایسی استعداد ہے جو تمام دیدنی موجودات  پر ایک عجیب فوقیت  اور غلبہ اس میں معلوم ہوتی ہے ۔

تیسری فضیلت

          تمام حیوانی ارواح میں سفلی صفات بشدت نظر آتی ہیں یعنی شہوت ،عداوت ، غضب ، خود غرضی ، بے حیائی ، بے رحمی وغیرہ۔ مگر روح انسان میں فضائل  علویہ کی کرنیں  بکثرت چمکتی ہیں مثلاً  محبت ، خوشی ، صلح ، خیر خواہی ، فروتنی ، پر ہیزگاری ،وغیرہ کی خواہشیں ۔ اب اس بات پر غور کرنے سے صاف صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جسم کی خواہشیں  اور ہیں اور روح کی خواہشیں اور ہیں اور ان میں تباین ہے اور یہ اس لئے ہے کہ جسم اس جہان کا ہے لیکن روح عالم بالا کا مخلوق ہے ۔

چوتھی فضیلت

          روح میں عجیب دو مقصد نظر آتے ہیں ابدیت کی خواہش، اور حقیقی  خوشی کی امنگ ، او ریہ باتیں  علویت کی علامتیں ہیں۔ چونکہ  روح میں یہ علامتیں  موجود ہیں لہذا روح کو عالم بالا  سے ایک خاص نسبت ہے ۔

پانچویں فضیلت

          جو خواہشیں  روح میں موجود ہیں اس جہان کی چیزوں سے کبھی پوری نہیں ہوسکتیں  مگر خالق  ہی سے پوری ہوسکتی ہیں اگر سارے جہان کی چیزيں  اور حشمت اور خوشی روح کود ی جائے تو بھی روح سیر نہیں ہوسکتی ۔ لیکن جب خدا سے ایک لفظ بھی سن لیتی ہے  تو بڑی سیری اس میں آجاتی ہے۔ اس سے خوب ظاہرہے کہ  روح اس سفلی کرہ کی نہیں ہے اس کا کرہ علوی ہے کیونکہ ہر چیز اپنے کرہ کی طرف مائل ہے۔

چھٹی فضیلت

          وہ روحیں جنہیں اس جہان کی آلودگیوں نے کم تردبادیا ہے اپنی نقل مکانی کے لئے کچھ جمع کرتی ہیں جو عالم اجسام میں نظر نہیں آتی ہے اور بہت سی روحیں ایسی ہیں جو تھر تھراتی ہیں اور انتقال کے وقت کچھ قوی آسر تلاش کرتی ہیں۔پس ان سب باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ  انسانی روح اس جہان کی چیز ہی نہیں ہے ضرور وہ  عالم بالا سے ایک خاص نسبت رکھتی ہے ۔        

          اس لئے ہمیں یقین ہوتاہے کہ  الہامی بیان جواس کی نسبت  ہے ۔ صحیح ہے اور ہم الہام کے زیادہ متشکر ہیں کہ اس نے روح کی بابت  عقل کی نسبت  زیادہ کچھ بتلایا کہ روح ایک آسمانی جوہر ہے او رنہ ہم حقیر اور نا چیز ہیں اور نہ مثل اور حیوانوں کے ذلیل ہیں بلکہ خدا کے فضل سے کچھ عمدہ چیز ہیں لیکن افسوس کہ ہم اپنی روح کی قدر نہیں جانتے ۔

          اب باقی رہی یہ بات کہ روح کس حالت میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آیا وہ فانی  ہے یاغیر فانی ۔کوئی کہتاہے کہ  وہ فانی ہے جسم کے ساتھ فنا ہوجائیگی  مگر یہ بات  قابل پذیرائی نہیں ہے کیونکہ بدن کے اعتبار سے جو روح کا مسکن ہے یہ حکم لگایا گیا ہے نہ کہ نفس روح کے اعتبار سے ہم تو یہ کہتے ہیں کہ  جسم اس جہان کا ہے او رروح اس جہان کی ہے اور دونوں کی خواہشوں میں تباین ہے البتہ کچھ عرصہ  کے لئے بدن میں جو اس کامسکن ہے رہتی ہے ۔ لیکن مسکن کی بربادی سے روح کی بربادی کا حکم نہیں لگایا جاسکتا ہے۔

          اس کے سوا عقل کے رو سے نہ تو ہم انسان کی ابتدا معلوم کرسکتے ہیں اور نہ انتہا او رنہ روح کی ماہیت  دریافت  کرسکتے ہیں پس ان مجہولوں سے ایک معلوم کا نکالنا کہ وہ فانی ہے کس طرح ممکن ہے ہاں جسم کے علاقہ  سے ممکن ہے لیکن اس کے ساتھ تو جسم کا حقیقی  علاقہ ثابت نہیں ہوتا ہے ۔ پس فنا کا نتیجہ نکالنا ایسی حالت  میں صحیح معلوم نہیں ہوتا ہے۔

          ہم اوپر اس امر کا بیان کرچکےہیں کہ روح کو ایک خاص نسبت  ہے اس سے جو غیر فانی  ہے لہذا روح بھی غیر فانی ہے ۔

          پھر دیکھو کہ عالم کا انتظام یعنی اس جہان کا بندوبست اگرچہ بظاہر انسان کے ہاتھ میں ہے لیکن حقیقت میں مدبر اعلیٰ کے ہاتھ میں ہے اور یہ انتظام موقوف ہے اس بات پر کہ روح غیر فانی ہے اور اسی عالم الغیب کے سامنے  جوابدہ ہوگی۔ اگر یہ اعتقاد کہ روح فانی ہے عالمگیر ہوجائے تو جہان کا انتظام بالکل برباد ہوجائے اور سب ہلاک ہوجائینگے یا کتوں اور گدھوں کی طرح  زندگی بسر کرینگے  پس ہمارے  خالق کی طرف سے ہمارے انتظام کی صورت ظاہر کرتی ہے کہ ہم غیر فانی ہیں اور نا ممکن ہے کہ وہ فریب دے ۔

          اگر روح فانی ہے تو پھر نیکی کا اجر اور بدی کی سزا کی توقع رکھنا عبث ہے اور منتظم بلکہ خدا کے وجود کا اقرار کرنا اس سے عبث تر ہوگا۔

          سیدنا مسیح نے سب سے زیادہ روح کے غیر فانی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ مثلاً  جب منکر ان قیامت  اور روح کے فنا کے قائل لوگ ان کے پاس آئے تو آپ  نے انہیں جواب دیا کہ  " کیا تم نے موسیٰ کی کتاب میں جھاڑی کے مقام پر نہیں پڑھا کہ خدا نے اسے کیونکر کہا کہ میں ابراہیم کا خدا اور اضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں مردوں کا خدا نہیں بلکہ زندوں کا خدا ہوں۔

          آپ نے خدا کی ہستی کو ثابت کرکے یہ تعلیم دی کہ روحیں  غیر فانی ہیں کیونکہ  جب خدا ہے اور اس کی ہستی میں کچھ شک نہیں ہے تو ضرور روح غیر فانی ہے کیونکہ  جب روحوں کا خالق  زندہ ابد تک موجود ہے توپھر روحیں بھی موجود ہوسکتی ہیں  اور جب اس میں وہ قدرت ہے جس پر  جہان قائم ہے تو اور بھی زیادہ ثبوت ہے کہ خدا قائم رکھ سکتا ہے کیونکہ  اس میں قدرت ہے اور موجب عدم فنا ہوسکتی ہے ۔ اور مسیح نے یہ بھی  بتلایا کہ ابراہیم اسحاق یعقوب اگر چہ مرگئے تو بھی موجود ہیں وہ خدا کی طرف  مضاف ہیں زندہ خدا معدوم شئے کو اپنی طرف مضاف نہیں کرتا ہے پس یہ لوگ اگرچہ مرگئے تو بھی کہیں موجود ہیں۔ اور جھاڑی کے اشارہ میں یہ بھی بتلایا کہ اگر چہ موت کی آگ میں پھنس جاتے ہیں تو بھی نہیں مرتے ہیں جیسے وہ بوٹا آگ میں نہ جلتا تھا کیونکہ قادر مطلق  ان کی حفاظت  کرتاہے ۔

          اس کے سوا لعزر کو جلاکے اور یائر سردار کی لڑکی کو زندہ کرکے اور شہر نائین کے بیوہ کے بچے  کو جاتے ہوئے جنازہ سے کھڑا کرکے مسیح نے عملاً ثابت کیا  کہ روحیں موت کے بعد فنا نہیں ہوجاتی ہیں بلکہ وہ زندہ رہتی ہیں۔

          اور پھر آخر کو اس نے اپنی موت اور زندگی سے اس امر کا ایسا ثبوت دیا کہ جس میں کسی طرح کا شک ہی باقی نہ رہا اور جیسا دین مسیحی بہت سی باتوں میں ممتاز ہے اسی طرح  مردوں کی قیامت  کے ثبوت میں بھی سب سے زیادہ  ممتاز ہے ۔ یہو دیوں اور مسلمانوں میں اس کا ذکر ہے کہ قیامت  ہوگی اور روحیں  غیر فانی ہیں مگر اس کا یقینی صرف مسیحی مذہب میں ہے ۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا | Tags: | Comments (0) | View Count: (8493)

Post a Comment

English Blog