en-USur-PK
  |  
15

الہام اور خدا شناسی

posted on
الہام اور خدا شناسی

Revelation And God Acquaintance

Rev. Mawlawi Dr. Imad ud-din Lahiz 

(1830−1900)

الہام اور خدا شناسی

علامہ مولوی پادری ڈاکٹر عماد الدین لاہز

 

            گذشتہ لیچکر میں اس بات کا بیان ہوا تھا کہ عرفان الہیٰ کے اقتضا ء کی تکمیل جو ہر ایک کی روح میں موجود ہے صرف عقل سے نہیں ہوسکتی بلکہ اس کی تکمیل خالق سے ہوتی ہے اور اس لئے ہم الہام کے محتاج ہیں تاکہ  عقل انسانی الہیٰ نور سے منور ہوکر اپنے خالق کو اچھے اور سچے طور پر جان سکے اس پر اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جو باتیں عقل سے دریافت نہیں ہوسکتی ہیں وہ الہام سے بھی دریافت نہیں ہوسکتی ہیں۔

          درحقیقت یہ اعتراض بے توجہی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔شاید معترض نے یہ سمجھا کہ الہام ایک ایسی چیز ہے جس سے  لا انتہا معرفت حاصل ہوسکتی ہے اور ہر ایک شئے کی حقیقت اور دنیاومافیہا کے رموز اس کے وسیلے سے اس طرح ہوتے ہیں جس طرح بعض باتیں عقل سے حل ہوتی ہیں۔

          اس لئے مناسب معلوم ہو ا کہ یہ تیسرا لیکچر الہام کے متعلق دیا جائے  کہ الہام کے لئے بھی ایک حد ہے جہاں تک اس کاحد کا تعلق ہے وہاں تک وہ لاریب ہماری رہبری کرتا ہے۔ اور جو باتیں  اس کی حد میں داخل نہیں وہ ان سے تعرض نہیں کرتا۔ الہام کی حد ازروئے عقل از قرار ذیل ہے:

          عقل کے اس ناطق  حکم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے  کہ اس بے مثل اور لاشریک خدا کی نہ علم میں نہ قدرت میں ، او رنہ کسی اور بات میں کوئی مخلوق ہرگز برابری نہیں کرسکتا ہے کیونکہ یہ بات ناممکن اور محال ہے ۔

          معرفت کا لب لباب یہ ہے کہ خدا کی نسبت  ہمارے ذہن میں صحیح  خیالات پیدا ہوں اور ہماری  حالت او رکیفیت  ہم پر آئینہ  ہو جس سے ہماری روحوں میں تازگی اور تسلی پیدا ہوجائے اب ظاہر ہے کہ وہ سب خیالات  خواہ عقل کی وساطت سے پیدا ہوجائیں  یا خارجی دلائل  ہمیں ان کی تسلیم پرمجبور کریں ہر حالت میں الہام انسان کو عقل کی نسبت  کچھ زیادہ روشنی او رکچھ زیادہ علم اور کچھ زیادہ عزت  بخشتا ہے ۔ وہاں خدا کی مانند ہمیں عالم حقائق نہیں بناسکتا نہ غیر ممکنات کو ہمارے لئے ممکنات  کہہ سکتا ہے ۔

جن چیزوں کو عقل صفائی کے ساتھ دریافت نہیں کرسکتی ہے

الہام انہیں صفائی  کے ساتھ بتلاتا ہے

          مثلاً خدا کی قدرت اور حکمت اور اس کے اکرام اور جن کوہم اس دنیا میں عقل کی  آنکھ سے دیکھتے ہیں اس قدر صاف اور واضح معلوم نہیں ہوتے ہیں جس قدر الہام الہیٰ  کےذ ریعہ  سے وہ روشن تر اورشفاف  تر معلوم ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ  ان لوگوں کا دل جو محض عقل کے پیرو ہوتے ہیں خدا کی حکمت  اور قدرت سے زیادہ متاثر نہیں ہوتا ہے جس قدر کہ الہام کے پیروں کا دل متاثر  اور متشکر ہوتا ہے ۔

          اس کے سوا خدا کی بہت سی ایسی عجیب وغریب  قدرتیں  اور حکمتیں اور بخششیں ہی جو صرف الہام ہی کے ذریعہ  سے ظاہر ہوتی ہیں اور عقل کی وہاں تک کبھی رسائی نہیں ہوتی ہے۔مثلاً نجات کی حکمت اور خدا کی صحبت  اور گناہوں کی مغفرت اور روحانی انعام اور دلوں کی تبدیل  اور برکات کے فیضان وغیرہ ذالک ایسے امور ہیں جہا ں تک عقل کی رسائی  ممکن نہیں لیکن الہام سے کچھ بھی بعید نہیں ہے ۔

          دوم۔ یہ کہ اس الہیٰ شریعت کو دلوں پر منقش ہے اور جس کو عقل نے دھندلاسا دیکھا تھا اور اس کے مطلب  کے سمجھنے  میں غلطیاں  کرکے آدمیوں  کو گمراہ کیا تھا نہایت  صاف اور غیر مبہم طور پر بتلاتا ہے  کہ دلی شریعت کا کیا مطلب ہے انصاف ،رحم ، پاکیزگی ، فضل، خوش، اخلاقی اور فروتنی  وغیرہ کے کیامعنی ہیں۔

          سوم۔ یہ کہ الہام نے ہماری حالت کو ہم پر یہاں تک ظاہر کیا ہے کہ اب ہم خوب جانتے ہیں کہ ہم کیسی خواہشات  نفسانی اور مہلکات روحانی میں پھنسے ہوئے ہیں  یہ کام نہ تو عقل سے ہوسکتا تھا اور نہ  اس نے کیا۔ الہام کے وسیلہ سے ہم اپنی تمام اندرونی اور بیرونی  بیماری  اور خطروں کو صفائی کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں اور ان کے معالجہ  اور دفعیہ کے لئے اس کے کلام سے امداد لے سکتے ہیں۔ گویا  کہ الہام ایک شیشہ کا حوض ہے جس پرہم وضو کرتے ہیں جہاں ہم اپنے چہرے کے داغ کو خوب دیکھ دیکھ کر دھوتے ہیں۔ یا ایک خوردبین ہے جو ہماری عقل کے ہاتھ آگئی ہے جس کے ذریعہ  سے باریک  سے باریک  چیز کو دیکھ سکتی ہے۔

الہام ان باتوں کو بتلا سکتا ہے جن کو عقل نہیں بتلا سکتی ہے

 یا جن کے متعلق  تذ بذب رہتی ہے

          اور یہ اس لئے ہے کہ پہلے الہام نے دوباتیں  ہمیں دکھلاکے ہماری عقلوں کو اپنا گرویدہ بنالیا ہے جن کا انکار ہماری عقلیں  ہرگز نہیں کرسکتیں۔

          اول یہ کہ الہام نے ان امور عقلیہ کو جن کا ذکر اوپر ہوگیا ہے زیادہ صاف دکھلاکے ہمیں اپنا بے حد معتقد بنالیا ہے دوم یہ کہ قدرت اور حکمت الہیٰ کے ساتھ ظاہر ہوکر ہمیں یقین دلاتا ہے  کہ وہ اس خدا کی طرف سے ہے جس کو عقل قادر مطلق اور حکیم علی الاطلاق کہتی ہے ۔

          اس لئے ان دو خارجی دلیلوں کے سبب سے جو کچھ الہام بتلاتا ہے عقل مجبوراً  اس کو قبول کرلیتی ہے ۔ پس جو کچھ الہام کہتا ہے  وہ ضرور سچ ہے کیونکہ اس کی سچائی  کے برخلاف ہمارے پاس کوئی مستحکم دلیل نہیں ہے لہذا جوکچھ وہ کہتا ہے اس کا ماننا ہم پر  فرض ہے یا تخصیص ان امور کے متعلق  جن کا تعلق  ذات وصفات الہیٰ کے ساتھ  ہے کیونکہ  ان امور کے متعلق  عقل بالکل گنگی ہے پس ایسے مقامات میں الہام ہماری عقلوں سےکے لئے مثل دوربین کے ہوگا۔ یعنی الہام عقل کی حد میں عقل کے لئے مثل خوردبین کے ہے اور عقل کی حد کے باہر اس کے لئے مثل دوربین کے ہوگا اور پہلے  مقام میں عقل یوں گواہی دیگی کہ جو کچھ میں دھندلا سا دیکھتی تھی اب اس خوردبین کے وسیلہ سے صاف دیکھتی ہوں اور دوسرے مقام میں یوں بولے گی کہ اب میں آئینہ  میں دھندلا ساد یکھتی ہوں۔

الہام اس دکھلانے اور بتلانے میں کچھ بخشتا بھی ہے

          جو عقل اپنے دکھلانے اور بتلانے میں ہرگز نہیں بخش سکتی تھی اس لئے انسانی روح عقل کی یاورہی کے باوجود بھوکی اور پیاسی رہتی تھی۔

          الہام کیا بخشتا ہے ؟ وہ ایسے اعلیٰ تاثیرات روح میں پیدا کرتاہے جو غلط اور صرف عقلی خیالات  سے کبھی پیدا نہیں ہوسکتے ہیں مثلاً:

          باطنی پاکیزگی  ،خدا کی حضوری ، حقیقی تسلی، زندہ ایمان اور امید حقیقی خوشی کا بیعانہ جو صحیح عرفان کا پہلا پھل ہے۔ دلاوری جو چرخ کج رفتار کے دکھ سکھ کی موجوں میں ابدی سفرکی بندرگاہ میں  ہماری مدد کرے۔ پس الہام یہاں تک ہماری مدد کرسکتا ہے اور یہ مدد ہماری حالت موجود ہ کے لئے کافی اور وافی ہے اس سے زیادہ توقع رکھنا طمع بیجا ہے ۔ ہاں اس زندگی کے بعد ہم بہت کچھ دیکھینگے لیکن وہاں بھی خدا کی مانند عالم حقائق ہرگز نہ ہونگے خواہ کتنا ہی  تقرب کیوں نہ حاصل ہو کیونکہ  مخلوق خالق کے برابر  ہرگز نہیں ہوسکتا ۔

          جب الہام کی مدد کی حد معلوم ہوگئی تو اب یاد کیجئے کہ وہ پانچ باتیں  جو پہلے لیکچر میں شناخت  الہیٰ کی ضرورت دکھلاتی ہیں  الہام ہی کے وسیلہ سے تکمیل پاسکتی ہیں۔

          مثلاً (۱) خدا کی شناخت  اس قدر عرفان کے وسیلہ سے ہماری  روحوں میں کافی ہے (۲) خدا کی درست اطاعت  اس قدر شناخت  سے ہوسکتی ہے (۳) خطرناک حالت میں  اس قدر شناخت ہمارے  لئے عروة الوثقی ٰ ہے (۴) دل کی روشنی کے لئے یہ شناخت  ایک کافی چراغ ہے (۵) زمانہ کی رنگا رنگی میں ثبات حاصل کرنے کو یہ شناخت  جو الہام سے پیدا ہوتی ہے بس ہے ۔

          اگر ہم الہام کو قبول نہ کریں اور صرف عقل کی پیروی  کو کافی  سمجھیں  تو یقیناً  ہم ایسے امور سے دوچار ہونگے جن کا انجام بجز  توہمات  اور تخیلات اور یاس وحرماں کے اور کچھ نہ ہوگا بقول شاعر کہ :

یہاں فکر معیشت ہے وہاں وغدغہ حشر

آسودگی حرفی ست یہاں ہے  نہ وہاں ہے

          لیکن جنہوں نے عقل والہام سے معرفت حاصل کی ہے وہ لوگ یہاں معرفت  الہیٰ سے آسودہ ہیں اور وہاں صحبت  الہیٰ سے کامل آسودگی میں داخل ہونگے سیدنا مسیح کے وسیلہ سے آمین ۔ فقط۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا | Tags: | Comments (0) | View Count: (8642)

Post a Comment

English Blog