en-USur-PK
  |  
13

بارہ برس سے بیمار عورت کو شفا بخشنا

posted on
بارہ برس سے بیمار عورت کو شفا بخشنا

THE MIRACLES OF CHRIST

معجزاتِ مسیح

7-Miracle   

Healing a woman with internal bleeding

 Matthew 9:20-22; Mark 5:25-34; Luke 8:43-48




بارہ برس سے بیمار عورت کو شفا بخشنا

۷ ۔معجزہ

انجیل شریف بہ مطابق حضرت متی ۹باب ۲۰ تا ۲۳ آیت ،حضرت مرقس ۵باب ۲۵تا ۳۴آیت ،حضرت لوقا ۸باب ۴۳تا ۴۸ آیت

مرحوم علامہ طالب الدین صاحب بی ۔ اے

؁ ۱۹۰۵ء

ہم نے پچھلے معجزہ کے مطالعہ میں دیکھا کہ اس عورت کا بیان ان تینوں بیانات میں جو پہلی تین انجیلوں میں پائے جاتے ہیں گندھا ہوا ہے ، حضرت مرقس او رحضرت لوقا کا بیان مفصل پایا جاتا ہے ۔ اور حضرت متی میں اختصار کے ساتھ۔ مگر تینوں بیانوں کے ملانے سے کل حال معلوم ہوجاتا ہے ۔ جب جناب مسیح جائیرس کے یہاں اس کی لڑکی کو زندہ کرنے جارہے تھے اس وقت راستے میں یہ معجزہ سرزد ہوا۔

ہم نے دیکھا کہ جب وہ جائیرس کے گھر کی طرف روانہ ہوئے تو لوگ یہ دیکھ کر کہ مسیح اس کی مردہ یا مرنے والی لڑکی کو شفا بخشنے چلے ہیں تو آپ کے پیچھے ہولئے اور آپ پر گرے پڑتے تھے اس وقت ایک عورت نے پیچھے سے آکر آپ کی پوشاک کا کنارہ چھوا۔ ( انجیل شرف بہ مطابق حضرت متی 9باب 20آیت )۔

حضر ت مرقس کہتے ہیں کہ پیچھے سے آکر (۱)شائد اس لئے کہ وہ آپ سے ڈرتی تھی۔( ۲) یا اس لئے کہ بیماری کے سبب اسے شرم کھاتی تھی۔ او ریہ خیال دامنگیر تھاکہ اگر ظاہر ہوگئی تو مجھے شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔ (۳)یا شائد یہ سوچتی تھی کہ میری بیماری اوروں کو ناپاک کردے گی اور لوگ مجھے دیکھ کر جھڑکیں گے اور غصے ہوں گے ۔ (توریت شریف احبار 15باب 25آیت )۔حضرت مرقس اس کا اس طرح بیان کرتے ہیں۔

انجیل شریف بہ مطابق حضرت مرقس ۵باب ۲۵تا ۲۶ آیت پھر ایک عورت جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا۔ اور اس نے حکیموں سے بڑی تکلیف اٹھائی تھی اوراپنا سب مال خرچ کرکے کچھ فائدہ نہ پایا تھا بلکہ زیادہ بیمار ہوگئی تھی ۔

بارہ برس تک اس عورت نے حکیموں کا علاج کیا۔مگر بجائے فائدہ کے اس کا مرض اور بڑھتا گیا۔ اور اس علاج معالجہ میں جو کچھ اس کے پاس تھا وہ سب صرف ہوگیا اور اب غریبی اور افلاس کی حالت میں مبتلا تھی۔ اس کا سب مال ضائع ہوگیا۔ مگر مرض کو کچھ فائدہ نہ ہوا۔ ایک مسیحی عالم کے خیال کے مطابق ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لعاذر کی بہن مارتھا تھی۔ایک اور روایت یہ کہتی ہے کہ وہ ویرونیکا تھی۔

حضرت متی ۹باب ۲۱آیت وہ اپنے جی میں کہتی تھی کہ اگر صرف اس (مسیح ) کی پوشاک چھولونگی تو اچھی ہوجاؤں گی ۔ 

جیسا ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ حضرت مرقس بتاتے ہیں کہ یہ عورت "مسیح کا حال سن کر بھیڑ میں آپ کے پیچھے سے آئی " اور آپ کی پوشاک کو چھوا اس عورت کا ایمان غور طلب ہے ۔ اس کا وہ ایمان جس کی وجہ سے اس نے مسیح کی پوشاک کا کنارہ چھوا سچا ایمان تھا۔ کیونکہ لکھا ہے کہ مسیح نے کہا کہ " تیرے ایمان نے تجھے اچھا کیا۔" (انجیل شریف بہ مطابق حضرت متی 9باب 22آیت ) تاہم اس کی قدرت کی شفا بخش تاثیر کی نسبت جو خیال اس کے دل میں تھا اس میں کسی قدر غلطی بھی مشتمل تھی وہ یہ جانتی تھی کہ مسیح تو اپنی پاک مرضی کی قدرت سے صحت اور شفا بخشتے ہیں۔ برعکس اس کے وہ یہ سوچتی تھی کہ شائد اس کے جسم میں اور نیز اس جگہ جہاں وہ کھڑے ہوتے ہیں کچھ ایسی جادو بھری تاثیر پائی جاتی ہے کہ اگر میں ان کا دامن چھولوں تو اچھی ہوجاؤں گی۔ دوسری بات غور طلب یہ ہے کہ ہم یہ خیال نہ کریں  کہ اس نے اس کا دامن اس لئے چھوا کہ اس کے بدن کو نہیں چھوسکتی تھی۔ بلکہ اس  لئے کہ وہ اس دامن کو خاص قدرت کا مصدر تصور کرتی تھی۔ یہودیوں کے دامن میں نیلی مغزی لگی ہوئی ہوتی تھی اور وہ خدا کے خاص حکم سے لگائی جاتی تھی۔ اور مقصد اس کا یہ تھا کہ یہودیوں کو یاد دلا ئے کہ وہ خدا کے بندے ہیں او راس کے احکام کا بجالانا ان پر فرض ہے (توریت شریف کتاب گنتی  15باب 37تا 40 آیت اور کتاب استشنا ء 22باب 12آیت )۔اب یہ بات بڑی عزت کا باعث سمجھی جاتی تھی اور جو لوگ چاہتے تھے کہ دیندار کہلائیں وہ اس دامن کو بڑا چوڑا بنایا کرتے تھے۔ (دیکھو فریسیوں کا حال انجیل شریف بہ مطابق حضرت متی 23باب 5آیت )۔ گو اس عورت کا ایمان ایک طرح ناکامل تھا تاہم سچا تھا۔ اور اسی لئے وہ اس کی مایوسی کا باعث نہ ہوا بلکہ اس کے لئے وہ برکت لایا جس برکت کی وہ متلاشی تھی۔

شفا بخش معجزوں کی یہ خاصیت تھی کہ شفا دینے اور شفا پانے والے میں کسی نہ کسی طرح کا تعلق یا اتصال یا ربط پایا جائے خواہ وہ کیسا ہی خفیف  کیو ں نہ ہو۔ مثلا حضرت پطرس کا سایہ (انجیل شریف اعمالرسل 5باب 15آیت )حضرت پولوس کا رومال (اعمالرسل 19باب12آیت ) ۔

۲۲آیت مسیح نے پھر کر ۔۔۔۔ پس وہ اسی گھڑی اچھی ہوگئی ۔

حضرت مرقس بتاتے ہیں کہ اس کا خون فوراّ بند ہوگیا اور اس نے اپنے بدن میں معلوم کیا کہ میں نے ا س آفت سے شفا پائی جس برکت کی وہ جویاں تھی وہ (1)اس کو مل گئی(2) فوراّ مل گئی (3)کامل طور پر مل گئی ( 4) اس نے جان لیا کہ مجھ کو مل گئی ۔حضرت مرقس اس موقعہ پر یہ خبر دیتے ہیں کہ "مسیح نے فوراّ اپنے میں معلوم کرکے مجھ میں سے قوت نکلی ۔ اس بھیڑ میں پھر کر کہاکس نے میری پوشاک چھوئی (انجیل شریف بہ مطابق حضرت مرقس  5باب 30آیت )۔ بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال یہ عورت اس ک شفا بخش قدرت کی نسبت رکھتی تھی وہ صحیح تھا۔ یعنی یہ کہ بغیر ارادہ اس میں سے قدرت نکلتی تھی۔ لیکن ہم یہ نہیں مان سکتے کہ اس کی قدرت کا یہ خروج اس کی مرضی کی اجازت کے بغیر واقع ہوا تھا۔ کیونکہ جیسا اور موقع پر ہوا ویسا ہی اس موقعہ پر بھی ہوا۔ دوسرے موقع کے بارہ میں لکھا ہے کہ لوگ ان کو چھونے کی کوشش کرتے تھے کیونکہ قدرت آپ میں سے نکلتی اور سب کو شفا بخشتی تھی ۔ (انجیل شریف بہ مطابق حضرت لوقا 6باب 19آیت)۔مگر اس موقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ وہ جانتا تھا کہ قدرت مجھ سے نکلتی ہے اگر ہم یہ مان لیں کہ قدرت خود بخود اس سے نکلتی تھی اور بیمار وں  کو شفا بخشتی تھی حالانکہ وہ ان کی روحانی حالت سے واقف نہ تھے تو ہم ان اخلاقی مطالب کو کھود یں گے جو سب باتوں سے زیادہ ضروری ہے ۔

کس نے میری پوشاک چھوئی ۔ لوگ اس سوال کو دلیل کے طور پر پیش کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ گویا یہ شفا بے اس کے جانے وجود میں آئی ۔ اور نیز یہ مطلب نکالتے ہیں کہ وہ اس شخص کو جس نے اس کا دامن چھوا نہیں جانتا تھا۔ کیونکہ اگر جانتا تھا توکیوں ایسا سوال کرتا اور اگر جان بوجھ کر اس نے یہ سوال کیا تو یہ صداقت کے خلاف تھا؟اس کا جواب یہ ہے ۔

1۔کہ وہ جو نتھانی ایل کو اپنی عالم الغیبی سے دیکھ سکتا تھا اور اس بات کا محتاج نہ تھا کہ کوئی اس کو آدمی کا حل بتائے کیونکہ خود جانتا تھاکہ انسان میں کیا ہے ۔ ممکن نہیں کہ اس عورت اور اس کے احوال سے ناواقف ہو۔

2۔او ریہ سوال کہ " اگر وہ جانتا تھا کہ مجھے کس نے چھوا تو اس نے کیوں یہ سوال کیا " لاجواب نہیں ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اس نے ا س لئے یہ سوال کیا اسے ایک عمدہ مطلب مدنظر تھا۔  اور وہ اس عورت کے سارے قصے سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے۔ اگر اس کا شفا پانا مخفی رہتا اور وہ برملا اقرار نہ کرتی کہ اس نے مسیح کے طفیل سے صحت پائی ہے تو یہ شفا اس کے لئے اور اس کی روحانی زندگی کے لئے ایسی مفید نہ ہوتی جیسی اب ہوئی۔ جبکہ اس نے برملا اس کے سامنے کانپتے اور ڈرتے ہوئے آکر اور اس کے پاؤں پر گرکر اقرار کیا۔ اگر وہ چپ رہتی تو یہ باطل خیال لوگوں کے درمیان مروج ہوتاکہ بغیر اس کے جانے اور ارادہ کرنے کے خود بخود اس کے جسم سے شفا دینے والی طاقت برآمد ہوتی ہے۔ پس اس نے اس لئے یہ سوال کیا کہ اس سے اقرار کرائے تاکہ اس کا باطل خیال دور اور اس کا ایمان مضبوط کیا جائے اور شکر گزاری کی روح بڑھائی جائے۔

3۔پھر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مسیح کا ایسا ظاہر کرنا کہ میں نہیں جانتا کہ مجھے کس نے چھوا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ کس نے چھوا ہے صداقت کے خلاف ہے ۔ ہماری رائے میں یہ اعتراض بھی وقعت کے لائق نہیں۔ اگر باپ اپنے بچوں میں سے کسی کو قصور کرتے دیکھ کر چپ رہے اور بچے سے پوچھے کہ یہ کام کس نے کیا ہے اور اس کی غرض اس سے یہ ہوکہ اس کے منہ سے قصور کا اقرار کرائے تو کون اس باپ کو یہ کہے گا کہ اس نے صداقت کے خلاف کام کیا ہے ؟کیا خدا نے صداقت کے خلاف کام کیا جب اس نے آدم سے پوچھا "توکہاں ہے ؟"یا حضرت الیشع  جھوٹ بولے جب انہوں نے ججازی سے سوال کیا " اے ججازی تو کہاں سے آیا ہے ؟"(بائبل مقدس 2سلاطین 5باب 25آیت)۔حالانکہ اس کا دل تمام راستے میں اس کے ساتھ رہا " اب ان دونوں حالتوں میں ایک اخلاقی غرض پائی جاتی تھی۔ جس کے سبب سے یہ سوال کئے گئے تھے او روہ یہ کہ قصور آدم اور ججازی کرچکتے تھے مگر اس کا اقرار کیا جاتا اور وہ پچھتاتے تو ان کا قصور معاف کیا جاتا ۔ مگر انہوں نے اس موقع کوکھودیا لیکن اس عورت نے جس کا قصور بہت ہی  خفیف تھا موقع کو نہ کھویا اس کو فضل عطا کیاگیا کہ وہ اس موقعہ کو کام میں لائے ۔

(وہ تمام تفسیریں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس عورت کا چھپنا اس کے ایمان کی خوبی پر دلالت  کرتا ہے او رکہ اس نے یہ کام اس واسطے چھپ کرکیاکہ وہ اپنی تعریف  کروانا نہیں چاہتی تھی بے بنیاد ہیں ) ۔

لیکن اس سوال سے کئی پر مطلب اور پر معنی خیالات پیدا ہوتے ہیں ۔ مثلا ً ایک یہ کہ صرف اسی نے ایمان کے ہاتھ سے چھوا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت لوگ مسیح پر گرے پڑتے تھے اور اس کے ساتھ مس بھی پیدا کرتے تھے مگر ان کو کچھ فائدہ نہ ہوا۔ جس کا مس وہ شئے  نہیں جس کی ضرورت ہم کو ہے ۔ بلکہ ہمارا ایمان وہ شئے  ہے جو ہمیں حقیقی طور پر مسیح سے ملاتا ہے ۔ اسی سے مسیح کی قدرت اور ہماری ضرورت میں ربط پیدا ہوتا ہے۔ کلیسیا  میں بھی بہت لوگ مسیح پر گرے پڑتے ہیں نام اور رسوم کے وسیلے اس کے نذدیک  آتے ہیں۔لیکن یہ  اتصال خارجی ہے وہ ایمان سے نہیں آتے اور اس لئے زندگی اور حقیقی شفا بھی نہیں پاتے ہیں۔

یاد رہے کہ قدرت کا نکلنا برقی روکی مانند نہیں تھا۔ کہ خواہ وہ چاہتے یا نہ چاہتے ۔ یہ قدرت ضرور ان سے برآمد ہوتی ۔کوئی قدرت ان سے نہیں نکلتی جب تک وہ نہیں چاہتے کہ نکلے۔ مگر وہ ہمیشہ مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ او رجہاں کہیں ان کو ایما ن اور بھروسہ دکھائی  دیتا ہے وہاں مدد کرنے کوتیار ہیں اور یہ بات کہ مسیح خداوند سے قدرت نکلتی  ہے حیران کرنے والی بات نہیں ہے ۔ جس طرح روح پاک باپ ( پروردگار ) سے نکلتی ہے اسی طرح یہ قدرت مسیح سے برآمد ہوتی ہے ( انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا  15باب آیت 26)۔

انجیل شریف بہ مطابق حضرت مرقس 5باب 31آیت ۔ان (مسیح ) کے شاگردوں نے آپ سے کہا آپ دیکھتے ہیں کہ بھیڑ آپ پر گری پڑتی ہے پر آپ کہتےہیں کہ مجھے کس نے چھوا؟

حضرت لوقا بتاتے ہیں کہ جب لوگ انکار کرنے لگے تب حضرت پطرس اور آپ کے دیگر ساتھیوں نے یہ بات کہی او روہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ مسیح نے یہ سن کر پھر کہاکہ کسی نے مجھے چھوا ہے ؟کیونکہ قوت مجھ سے نکلی ہے ۔ حضرت پطرس کا یہ جواب عین اس عادت اور طبعیت کے موافق تھا۔ وہ ابھی تک یہ خیال کرتا ہے کہ شائد کسی نے اتفاقیہ طور پر اس کو چھولیا ہے۔ وہ ابھی ایمان کے مس کو اتفاقی اور ظاہری مس سے اختیار نہیں کرسکتا ۔ دیکھو ممکن ہے کہ کئی ایسے شاگرد جوہر وقت مسیح کے ساتھ رہتے ہیں وہ ظاہری اور باطنی ۔رسمی او رایمانی مس میں امتیاز نہ کریں۔

مسیح نے چاروں طرف نگاہ کی تاکہ جس نے یہ کام کیا تھا اسے دیکھے (انجیل شریف بہ مطابق حضرت مرقس 5باب 32)حضرت متی ان تمام باتوں کی نسبت خاموش ہے۔ وہ صرف اتنا بتاتے ہیں کہ مسیح نے اس عورت سے جبکہ وہ ظاہر ہوگئی کیا کہا ۔

وہ عورت یہ جان کر کہ مجھ پر کیا اثر ہو ا ڈرتی کانپتی آئی اور مسیح کے آگے گر پڑی اور سارا سچا حال ان سے کہہ دیا (انجیل شریف بہ مطابق حضرت مرقس 5باب 33آیت )۔

حضرت لوقا بتاتے ہیں کہ جب اس عورت نے دیکھا کہ میں چھپ نہیں سکتی تو اس نے اقرار کیا ۔ اس نے دیکھا کہ اس کا انکار جس میں وہ اوروں کے ساتھ شریک تھی اس کو چھپا نہیں سکتا ۔ اس نے محسوس کیاکہ میں اس کی نگاہ کی برداشت نہیں کرسکتی اور نہ اس سے بچ سکتی ہوں ۔ کیونکہ حضرت مرقس بتاتے ہیں کہ اس نے چاروں طرف نگاہ کی "تاکہ جس نے اسے چھوا اسے ۔غالباً اس کی آنکھ اس پر جا ٹکی اور اس نے معلوم کیاکہ مسیح نے مجھے پہچان لیا ہے اور اب اس سے چھپنا نا ممکن ہے ۔ لہذا اس نے ساری سرگزشت  کا علانیہ  اقرار کیا ۔

دیکھو وہ کس طر ح آتی ہے ۔ ڈرتی اور کانپتی ہوئی اور اس کے پاؤں پر گر پڑتی ہے اور مسیح کو بتاتی ہے کہ کس طرح آئی اور کس طرح اس کو چھوا اور کیونکر شفا پائی ۔ ایک دیندار بزرگ اس سے عمدہ مطلب نکالتے ہیں ۔وہ اس عجیب طریق کا جس سے جناب مسیح دنیاوی برکتوں سے روحانی برکتوں تک پہنچاتے ہیں ذکر کرتے ہیں۔ اگر وہ چھوڑدی جاتی کہ خفیہ طور پر چلی جائے تو نیم برکت لے کر جاتی ۔ وہ شرم کے مارے اقرار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مگر جناب مسیح اس کو خاموش رہنے کی اجازت نہیں دیتے ۔گو اپنی مہربانی اور ہمدردی سے جہاں تک ممکن ہے اس کی شرمندگی کی کاوش سے بھی بچاتا ہے ۔ چنانچہ وہ اس کا حال شفا کے پہلے نہیں بلکہ اس کے بعد ظاہر ہونے دیتا ہے اور اقرار کے تنگ راستہ میں اس کی مدد کرتا اور بڑی نرمی سے اس سے اقرار کرواتے ہیں کہ پر اس اقرار سے اسے بھی بری نہیں کرتے کیونکہ اس پر اس کی نئی زندگی میں پیدا ہونا منحصر تھا۔

بیٹی تیرے ایمان نے تجھے اچھا کیا ہے سلامت جا اور اس آفت سے بچی رہ ۔(انجیل شریف بہ مطابق حضرت مرقس 5باب 34آیت ) اور اب وہ اسے اپنی فضل آمیز آواز کے ساتھ رخصت کرتا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ تیرے ایمان نے تجھے اچھا کیا۔ سلامت جا اس جگہ ہم پر ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان اور برکت مطلوبہ میں کیا تعلق ہے ۔ مسیح فرماتے  ہیں تیرے ایمان نے تجھے اچھا کیا۔ مگر یاد رہے کہ ایمان اچھا کرنے والا نہ تھا۔ اچھا کرنے والا مسیح تھا ۔ جیسا ہم کہتے ہیں کہ ایمان سے راست باز ٹھیرتے ہیں۔ حالانکہ راست باز ٹھہرانے والا مسیح اور اس کا کام ہے۔ پس ایمان وسیلہ ہے۔ وہ روح کا دہنا ہاتھ ہے جو خدا کی برکتوں  کولیتا ہے۔

سلامت جا۔ اور اس آفت سے بچی رہ یونانی میں ہے "سلامتی میں جا " او راپنی آفت سے بچی رہ ۔ ا س کا صرف یہی مطلب نہیں کہ خدا کی برکتوں سے ساتھ جا۔ بلکہ یہ کہ آگے کو اپنی زندگی سلامتی میں بسر کر ۔ سلامتی میں رہا کر۔

اس معجزے سے علامتی معنی بھی نکالے گئے ہیں۔ مثلاً عورت کی بیماری سے گناہ کے خون کا بہتا مراد لی گئ ہے۔او رحکیموں سے مراد فیلوسف اور دنیا کےدانا لئے گئے ہیں۔ کہ ان کی ادویات یعنی ان کے طریقے اور فلسفہ اس خون کو جو انسان کے دل سے جاری ہے بند نہ کرسکے ۔ اور کہ مسیح کے دامن کو چھونا اس کے مجسم ہونے پر ایمان لانا ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے تجسم کے وسیلہ انسان سے مس پید کرتا ہے ۔ اور اس سے وہ شفا فورا ً پید ا ہوتی ہے جسے اور تمام ادویات پیدا نہیں کرسکتی ہیں۔ اور اگر ہم اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ کس طرح اس کی ناپاکی اس کو مسیح سے دور رکھتی تھی ۔تو ہم یہ جان لیں گے کہ اسی طرح گناہگار  اپنی گناہ گار ی کی غلاظت کے سبب ڈرتا ہوا فضل کے تخت کے نذدیک آتا ہے کیونکہ نہیں جانتا کہ وہاں کیا سلوک اس کے ساتھ کیا جائے گا۔ مگر جب وہاں آتا ہے تو قبول کیا جاتا ہے اور اس کے شکوک رفع ہوتے اور تسلی بخش کلام کے ساتھ اس کی ہمت بڑھائی جاتی ہے ۔

 

نصیحیتیں اور مفید اشارے

1۔مسیح زیادہ تر ایمان کی کثرت اور زور کی طرف چنداں نگاہ نہیں کرتے ۔ وہ بیش تر اس کی سچائی کو دیکھتے ہیں۔

2۔مسیح ہماری چھپی ہوئی بیماریوں کے حکیم ہے ۔

3۔بہت لوگ مسیح کے ارد گرد موجود ہیں اور اس پر گرے پڑتے ہیں پر جوایمان سے چھوتے ہیں بہت تھوڑے ہیں۔

4۔چھپا ہوا ایمان ظاہر ہونا چاہیے ۔ پروردگار کے جلال کے لئے ۔ اپنے ثبوت کے لئے ،اوروں کی ہمت اور تسلی کے لئے ۔

5۔جناب مسیح کے مزاج کی مضبوطی اور متانت قابل غور ہے ۔ لوگ گرے پڑتے ہیں اور وہ صبر کرتے ہیں۔ ان کے مزاج میں کدورت نہیں آتی ۔ شاگرد اس کی بات کاٹتے ہیں۔ تاہم ان کے مزاج میں فتور نہیں آتا ۔ عورت گھبراتی ہے مگر وہ اس کی گھبراہٹ سے خود نہیں گھبراتے ۔

6۔جناب مسیح دلوں کا جانچنے والا ہے اور ہم کوئی ایسا کام نہیں کرسکتے جو اس سے چھپا رہے ۔ 
Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, معجزات المسیح | Tags: | Comments (0) | View Count: (7832)

Post a Comment

English Blog