en-USur-PK
  |  
06

آزادی کی شریعت

posted on
آزادی کی شریعت

آزادی کی شریعت

 LAW OF FREEDOM

Dr. J. KRISTENSON

 

کہتے ہیں  کہ ایک دیوانہ عمر رسیدہ ہندو پھرتے پھراتے ریل کے سٹیشن  کے اندر داخل ہوا اور اِدھر اُدھر پلیٹ فارم پر پھرنے لگا ۔ غالباً  اسے اس بات کی امید تھی کہ اس کو مسافروں  سے کچھ نہ کچھ  خیرات ضرور مل جائیگی کہ یکایک  لڑکوں کا ایک گروہ اس کے گرد جمع ہوگیا۔ لڑکے اس کا مضحکہ اڑانے اور اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگے حتیٰ کہ کل حاضرین بھی اس بیچارے ہندو کی دیوانہ حرکات کو دیکھ کر مسرور ومحفوظ ہونے لگے ۔

          اچانک ایک نوجوان پٹھان بھیڑ کو کاٹتا ہوا اس بیچارے دیوانے کے قریب پہنچا۔ اور اس کا ہاتھ پکڑ کر نرمی اور ملائمت  سے اس کو باہر لے گیا۔ بھیڑ سے باہر نکل  کر اس نے اس مفلس  ونادار دیوانے کے ہاتھ پر کچھ پیسے  رکھے اور یہ الفاظ کہے " خدا تیرے ساتھ ہو " جن کو سن کر وہ دیوانہ وہاں سے خوشی خوشی رخصت ہوا۔

          کچھ دیر بعد وہ پٹھان واپس آیا اور پلیٹ فارم پر جو بینچ  رکھی تھی اس پر بیٹھ گیا۔ چند لمحوں  کے بعد ایک اور پٹھان جو عمر میں اس سے بہت زیادہ تھا اس کے قریب آکر بیٹھ گیا اور علیک سلیک کے بعد اس سے یو ں کہنے لگا " میں نے تمہیں اس دیوانہ ہندو کو ہاتھ پکڑ کر باہر لے جاتے دیکھا تھا۔ میں یہ دیکھ کر بڑا حیران ہوا لہذا تمہارے پیچھے  گیا اور میں نے تمہیں اسے خیرات  دیتے دیکھا اور تمہارے  یہ الفاظ  یعنی " خدا تیرے ساتھ ہو " بھی سنے ۔ اب میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتاہوں اور یہ وہ یہ کہ کیا تمہیں  اپنے اس فعل کے بدلے کسی قسم کے ثواب کی امید ہے ؟"

          اس موقع پر ریل گاڑی کی گھنٹی بجی جو اس امر کی علامت تھی کہ گاڑی آرہی ہے ۔ اس لئے نوجوان نے اس بزرگ کو یوں جواب دیا اور کہا "اگر آپ بھی اس گاڑی میں سفر کررہے ہیں  تو تشریف لائیے  اور میرے ڈبہ میں بیٹھ کر  میری عزت افرائی کیجئے ۔ آپ اس فارسی مثل سے بخوبی واقف ہونگے  یعنی " پیش از خانہ ہمسایہ وپیش  از سفر رفیق سفر " میں نہیں جانتا تھا کہ میرا ہمسفر  کون ہوگا لیکن الحمد الله  اس نے آپ جیسے بزرگ کو میرے ہمراہ کردیا۔"

          اس بزرگ کے کہنے پر کہ وہ بھی اسی گاڑی سے سفر کرنے کو ہے دونوں مسافر گاڑی میں سوار ہوگئے ۔ اس اثنا ء میں نوجوان نے دیکھ لیا تھاکہ بزرگ کی داڑھی اور مونچھیں  شرع وضع کی تھیں اور اس کے ہاتھ میں ایک تسبیح بھی تھی ۔ پس وہ سمجھ گیا کہ وہ کوئی  پکا متشرع مسلمان ہوگا۔

          گاڑی روانہ ہوئی تو وہ نوجوان بزرگ  سے مخاطب ہوا او رکہنے لگا آ پ نے مجھ سے پوچھا تھاکہ " آیا میں اس بیچارے ہندو دیوانہ کو ان لڑکوں کے ہاتھوں سےچھٹکارا دلانے کے بدلہ کسی جزا یا نیکی کا امیدوار ہوں۔ پہلے تو آپ فرمائیے  کہ آپ نے مجھ سے یہ سوال پوچھا کیوں ؟ "

بزرگ: " اس لئے کہ مجھے معلوم نہیں کہ آیا تم محمدی شریعت سے واقف ہو بھی یا نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ کسی مصیبت  زدہ کی مدد کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض  ہے لیکن اہل اسلام اور دیگر مذاہب کے پیروؤں میں فرق ہے اورکسی مسلمان پرفرض نہیں کہ وہ ایک کافر کی امداد کرے اور اگر وہ کرے تو پھر مسلمان اور نا مسلمان میں فرق ہی کیا ہوا؟"

نوجوان: " نہیں مجھے اس ہندو کی مدد کرنے کےبدلہ میں کسی قسم کے جزا یا نیک کی امید نہیں۔ دراصل  مجھے تو ثواب کا خیال تک بھی نہیں نہ گذرا تھا۔"

بزرگ : "تو پھر تم نے کیوں  ایسا کیا؟ کوئی نہ کوئی  وجہ تو ضرور ہوگی ۔"

نوجوان : " جی ہاں وجہ تو ضرور ہے اور وہ بھی معقول ۔ لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ آپ اس کو سمجھ نہ سکینگے  کیونکہ وہ شریعت کے بجائی ایک تمثیل پر مبنی ہے۔"

بزرگ : "پھر بھی کہو تو تمہارا مطلب کیا ہے ؟"

نوجوان : " ایک شخص نے جس کو اسلام میں بحیثیت  نبی ہونے کے بڑی  عزت وتعظیم حاصل ہے  ایک مرتبہ اپنے صحابیوں کو فرمایاکہ" اپنے ہمسایوں کو اپنی مانند پیار کرو۔" جس کے جواب میں ایک نہایت  دانشمند شخص نے آنحضور سے لفظ" ہمسایہ " کی تعریف پوچھی۔ یہ نبی حضرت عیسی    ٰ  تھے اور انہوں نے اس کے معنی کو ایک کہانی کے ذریعہ  سے واضح کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک شخص  یروشلم سے  ایک اور شہر کو سفر کررہا تھا ۔ راستہ میں اسے چور ملے۔ انہوں نے اس کے کپڑے اتارلئے اس کو مارا پیٹا اور اس کو زخمی ونیم جان چھوڑ کر  اس کا کل مال ومتاع  لے کر رفو چکر ہوگئے۔ کچھ دیر بعد ایک یہودی کاہن (ملا) اس طرف سے  گذرا  وہ اسے دیکھ کرکنی کترا کر چلا گیا۔بعد ازاں ایک دینی معلم  آیا اور وہ بھی اسے دیکھ کر چلا گیا۔ آخر کار ایک سامری آیا۔ سامریوں اور یہودیوں کے درمیان دیرینہ  مخاصمت  ہے اور وہ ایک دوسرے سے بے حد متنفر ہیں۔ لیکن اس سامری  نے اس زخمی  یہودی کے زخموں  پر پٹی باندھی ۔اس کی مدد کی اور اس کو اٹھا کر  اپنے گدھے  پر سوار کیا اور سرائے میں لے گیا اور وہاں پہنچ کر  اس نے سرائے دار کو اس کی خبر گیری اور علاج معالجہ کے لئے  نقدی اور رخصت ہوا۔

          "حضرت عیسیٰ نے فرمایا کہ ہم کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے  اسی لئے  میں نے اس دیوانہ ہندو کی مدد کی تھی۔"

بزرگ : " تو پھر تم عیسائی ہو نہ کہ مسلمان۔"

نوجوان:" جی ہاں۔ میں تقریباً  پانچ سال سے عیسائی ہوں۔"

بزرگ:" اس وقت مجھے اچھا موقع ملا ہے کہ لگے ہاتھوں میں تمہارے مذہب کےمتعلق  ایک بات دریافت کروں کہ جس نے  مجھے اکثر پریشان کیا ہے اور وہ یہ کہ جب کبھی  کوئی مسلمان عیسائی  ہوجاتا ہے  تو لوگ کہا کرتے ہیں وہ سخت  اور سنگین محمدی شریعت سے تنگ آگیا تھا۔ عیسائیت  میں کوئی شریعت  نہیں۔ہر ایک عیسائی  جو چاہتا ہے سوکرتا ہے ۔ اس کو اپنے اعمال کے متعلق  کامل آزادی حاصل ہے  بلکہ اگر وہ چاہے تو شراب بھی پی سکتا اور لحم خنزیر بھی استعمال کرسکتا ہے ۔ آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہے ؟"

نوجوان :" جناب اگر میں پہلے آپ سے یہ دریافت کروں کہ آیا آپ نے  کبھی ہمارے عہد نامہ جدید یعنی انجیل شریف کا مطالعہ کیا ہے تو آپ ناراض تو نہ ہونگے ؟"

بزرگ:" میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اس کا بغور مطالعہ کیا ہے  ہاں البتہ  اس کا بیشتر  حصہ پڑھا ہے بالخصوص  وہ حصہ جس میں حضرت  عیسیٰ کی زندگی کے حالات مرقوم ہیں۔"

نوجوان : " تو کیا میں آ پ سے دریافت کرسکتا ہوں کہ اس کے متعلق  آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا آپ سمجھتے  ہیں کہ  جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسیحیت  میں کوئی  شریعت  نہیں تو وہ واقعی سچ کہتے ہیں ؟ یا کیا انکا یہ کہنا کہ اس کے ہر ایک  پیرو کو پوری آزادی  ہے کہ جو چاہے  سو کرے صحیح ہے ؟"

بزرگ :" اگر میں تم سے سچ بیان کروں  تو کیا تمہیں ناگوار  تو نہیں گذریگا ؟

اگر نہیں  تو صاحب حضرت عیسیٰ  کی جو تعلیم انجیل شریف میں میں نے پڑھی ہے وہ نہایت  حیرت انگیز  ہے ۔ وہ کوئی خاص قانون دینے کےعوض یوں فرماتے ہیں کہ " اگر تیرا ہاتھ تجھ سے گناہ  کرائے تو اسے کاٹ  پھینک ۔ اور اگر تیری آنکھ سے تجھ سے گناہ کرائے تو اس کو نکال پھینک۔"

کیا تمہارا خیال ہے کہ ان کا مطلب درحقیقت  یہ تھاکہ کوئی اپنے ہاتھ کو کاٹ ڈالے یا اپنی آنکھ کو نکال پھینکے ؟

          " ایک اور مقام پر جب آپ کے مخالف  آپ کو ستاتے ہیں تو آپ تمام شریعت  کو اس مختصر  سی عبارت میں یوں بیان فرماتے ہیں کہ " خدا اور اپنے پڑوسی سے محبت رکھ "۔۔۔۔الخ ۔

          پھر ایک اور مقام پر جبکہ  ان کے ایک صحابی نے چاہا کہ حضرت عیسیٰ  ان کو ایک ایسا  قانون  بتائیں جس کے مطابق  وہ ایک دوسرے سے سلوک کیا کریں اور نہ صرف یہی بلکہ  آپ کے ایک صحابی نے یہ بھی پوچھا کہ وہ کتنی بار ایک دوسرے کے قصور معاف کریں تو آپ نے " ہاں" یا "نہ " میں جواب  نہ دیا بلکہ فرمایا کہ " سات مرتبہ نہیں بلکہ  ستر دفعہ سات " جس کا مطلب محض اس کےسوا  اورکچھ نہیں ہوسکتا کہ برابر معاف کئے جاؤ۔

          ایک اور جگہ پر جبکہ ایک عورت کوشش کرتی ہے کہ حضرت عیسی    ٰ  سے طریق  عبادت اور جای عبادت کے متعلق  کچھ خاص ہدایت حاصل کرے تو وہ فقط یوں فرماتے ہیں کہ " روح اور سچائی  سے خدا کی پرستش کرو۔"

          تمہاری انجیل میں اسی قسم کے بے شمار مقامات ہیں  جن سے مجھے یہ یقین ہوتا ہے کہ  حضرت عیسیٰ کوئی شریعت نہیں لائے ۔ لہذا اگر وہ کوئی شریعت  ہی نہیں لائے توبیشک  جب لوگ مسیحی  ہوجاتے ہیں  تو وہ ایک  ایسی آزادی حاصل کرلیتے ہیں جو یقیناً  ہر ایک کے لئے  مضرت رساں ہے تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے ؟"

نوجوان : " مجھے معلوم ہوگیا کہ آپ نے ہماری پاک کتاب میں سے بہت کچھ پڑھا ہے اور میں یہ دیکھ کر خوش ہوں کیونکہ  پھر اس معاملہ میں مجھ کو کوئی دقت نہیں ہوگی اس لئے میں چاہتا ہوں کہ  شریعت سے متعلق  یہ نکتہ آپ کو سمجھا دوں۔ لیکن قبل ازیں  میں دریافت  کرناچاہتا ہوں کہ آپ کسی مذهب یا دین سے کس بات کی توقع رکھتے ہیں ؟"

بزرگ : " میرا خیال ہے کہ ہر ایک  کامل مذہب  میں ایک کامل مجموعہ اخلاق  کا ہونا لازم بات ہے ۔ انسان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ خدا کیا چاہتا ہے کہ  وہ زندگی  کے تمام حالات  اور مواقع  میں خواہ  وہ کیسے  ہی معمولی کیوں نہ ہوں کیا کرے ۔ اسلام میں ایسی شریعت موجود ہے ۔ تمہیں معلوم ہے کہ انسان کا ہر فعل فرض ،واجب ،سنت ،مستعجب ،جائز  ،مکروہ ، مفصل اور حرام کے تحت ہے ۔ جونہی  انسان کچھ کرنے لگتا ہے  اس کوفوراً معلوم ہوجاتاہے کہ آیا یہ فرض ،فرض العین ، واجب ،سنت جائز ،واجب السزا ، قابل معافی یا گناہ ہے ۔

          اس طریق  سےہر انسان  خدا کی مرضی وارادہ کو معلوم کرسکتا اور اگر چاہے  تو اس کو بجا لاسکتا ہے ۔"

نوجوان :" کیا آپ کو افغانستان کی وہ بغاوت یاد ہے جو حال ہی میں ہوئی تھی جبکہ   شاہ امان الله خان کو تاج وتخت  سے دست بردار ہونا پڑا تھا؟ بہتیرے  سرکردہ ملا اس کےموید وحامی تھے اور بہتیرے  اس کے مخالف  پس اگر شریعت ہی پر ہر فعل انسانی کا دارو مدار  ہوتا تو پھر بغاوت ایسا معاملہ ناممکن ہوجاتا کیونکہ تمام لوگوں کو رضا الہیٰ معلوم ہوجاتی ہے ۔"

بزرگ : " یہ تو سیاسی معاملات  ہیں اور بے شمار دیگر امور کا اس واقعہ سے تعلق ہے ۔"

نوجوان:" لیکن کیا اسلام میں ایسی شریعت نہیں جو سلطنت  اور ہر فرد بشر کے لئے  ہے ؟"

بزرگ : " ہاں یہ سچ ہے ۔ شریعت  کو یقینا ً  اس قابل ہونا چاہئے تھاکہ یہ  بتاسکے کہ کون راستی پر ہے ۔ چونکہ  رعایا کا بیشتر حصہ امان الله خان کے خلاف تھا لہذا میرا خیال ہے کہ وہی غلطی پر ہوگا۔ خیر یہ تو تمام  لوگوں کو معلوم ہے کہ اس نے دو باتیں  کہیں جو ناواجب تھیں۔ ایک تو رسم پردہ کی تنسیخ  دوسری تعلیم نسواں  کا جبری اجرا۔"

نوجوان:" چونکہ میں مسلمان نہیں بلکہ مسیحی ہوں لہذا مجھے اس معاملہ میں کوئی شخصی دلچسپی  نہیں۔ سو اگر میں آپ کی رائے  کے برعکس  کچھ کہوں تو امید ہے کہ آپ خفا نہ ہونگے ۔ پردہ کے متعلق جو آپ نے فرمایا ہے سو جملہ کوہستانی اقوام ۔ بے شمار غریب دہقانوں  اور تمام خانہ بدوشوں کو دیکھئے کہ وہ اپنی عورتوں کو پردہ میں نہیں رکھتے  ۔ پھر پوندوں کو یہ یعنی  افغانوں  کے اس گروہ کو جن کا پیشہ  تجارت ہے دیکھئے وہ اپنے عیال و اطفال کو اپنے ساتھ لئے پھرتے ہیں۔ وہاں بھی پردہ ندارد لیکن کسی کو  خیال تک بھی نہیں گذرتا کہ ان کو کچھ کہے ۔ یہ فقط اعلیٰ طبقہ  یا اوسط درجہ کے لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کو پردہ میں رکھتے ہیں۔ پس اگر امان الله خان نے ادنی ٰ طبقہ کی مانند متمول اور اوسط درجہ کی عورتوں کو بھی وہی آزادی دینی چاہی تو بیچارہ نے کیا گناہ کیا؟ اگر پردے کی پابندی شریعت ہے تو وہ سب کے لئے یکسا ں ہے اور اگر نہیں تو پھر فرمائیے  کہ امان الله خان نے کیا غضب ڈھایا ؟ مزید براں  کیا ہندوستان میں ایسے مسلمان نہیں جو اپنی عورتوں کو مسجدوں میں آنے  اور اپنے ملاقاتیوں کے ساتھ علیک سلیک کی بھی اجازت دیتے ہیں۔ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شریعت ہرا یک کو ہر موقع پر خدا کی مرضی نہیں سکھاتی ؟"

          " اب رہا تعلیم نسواں کا سوال سو ہم دونوں کومعلوم ہے  کہ اس معاملہ میں نیک خدا ترس مسلمانوں کے درمیان اختلاف رائے ہے ۔"

بزرگ :" جو کچھ تم نے کہا بجا کہا ۔ اس قسم کےخیالات  مجھے کچھ عرصے سے بڑی تکلیف  پہنچارہے ہیں۔ میں تو اپنے آپ کو ہمیشہ  اس خیال سے تسلی دے لیتا ہوں کہ ہمارے مذہبی معاملات میں کچھ اختلاف نہیں۔ اس قسم کی کوئی مشکل وہاں رونما ہی نہیں ہوتی۔"

نوجوان :" معاف کیجئے پر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ  آپ یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کیونکہ  اسلام کےارکان  خمسہ پر بھی تو تمام کے تمام مسلمان اتفاق  نہیں رکھتے ۔ مثلاً مسئلہ حج کو لیجئے شیعہ فریق حج کرنے کے لئے مکہ کے بجائے کربلا کو جاتا ہے ۔ اور نماز کو لیجئے  تو اس میں بھی گھٹنوں کے ٹیکنے  کے متعلق  متعدد فرقوں میں اختلاف پایا جاتا ہے اور مجھے تو شک ہے کہ مسلمانوں کے شاید دو ہی فرقے  احادیث  کے متعلق  باہم متفق ہوں ۔ باقیوں کو تو چھوڑئیے  بخاری کی احادیث  بھی جو کہ اہل سنت  کے نزدیک مسلمہ سمجھی جاتی ہیں اور جو تعداد میں ایک لاکھ ہوتی تھیں اب کاٹی جاکر فقط دس ہزار رہ گئی ہیں  کیونکہ یہ معلوم ہوگیا تھا کہ ہر دس احادیث میں سے نو ضعیف تھیں۔

          پھر نکاح اور طلاق کے باب میں بھی سنیوں اور شیعوں کے اختلافات آپ سے پوشیدہ نہیں۔"

بزرگ:" تم ابھی جوان ہو اور تم نے مجھ سے ابھی کہا کہ تم پانچ سال سےمسیحی ہو تو پھر تمہیں اسلام کی اس قدر واقفیت کیونکر ہوئی ؟"

نوجوان:" میرے کئی ایک دوست  مسلمان ہیں۔ اور میرے چند ایک رشتہ دار بھی مسلمان ہیں ۔ ہم اکثر انہیں مسائل پر بحث کیا کرتے ہیں۔ پھر میں کتابیں  بھی پڑھا کرتا ہوں۔"

بزرگ :" میں تو اب بوڑھا ہوگیاہو ں اور میری داڑھی بھی سفید ہوگئی ہے اور میں اپنی تمام عمر  اسلام کے متعلق  پڑھتا اور غور کرتا رہا ہوں۔"

          بعد ازاں  کچھ عرصہ تک خاموشی رہی ۔ معلوم ہوتا تھا کہ بزرگ کچھ کہنا چاہتاہے مگر رک جاتا ہے  آخر کار  وہ بول  اٹھا اور یوں کہنے لگا :

          " مجھے ان جدید محافظین  وحامیان اسلام سے سخت نفرت ہے ۔ اکثر اوقات ان کی بیشتر  دلائل  تو ایسی ہوتی ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ حقیقت  کو معلوم کئے بغیر  ان کو پیش کرتے ہیں۔ مجھے ایک مدت سے اپنے مذہب کی کمزور پوزیشن  کا احساس ہے ۔ ہم کہتے ہیں  کہ ایک حقیقی  اور سچے مذہب  کو کامل مجموعہ  اخلاقیات  پیش کرنا چاہئے۔ اسلام کے تمام مفکرین  کا یہ دعویٰ ہے اور اسی کو مد نظر رکھ کر وہ شروع سے لے کر اب تک اپنی اپنی عقل کے مطابق  غور اور رائے زنی کرتے رہے ہیں۔لیکن ہنوز روز اول ہے اور کوئی  کامل مجموعہ  اخلاق  ہمیں عطا نہیں ہوسکا۔ اور جب کبھی میں ان موجودہ طریقوں  کے متعلق  پڑھتا ہوں کہ جن کے ذریعہ سے تمام باتوں کا معیار قائم کیا جاتا ہے  تومجھے فوراً خیال گذرتا ہے کہ یہ ہمارے رسول ﷺ کے ایمان اور عقیدہ پراباطیل  کا طو مار لگاتے جاتے ہیں۔ میں تو حق کا طالب  ہوں۔"

          پھر کچھ دیر تک خاموشی رہی ۔  نوجوان نے یہ محسوس  کیاکہ وہ  بزرگ  کو اس امر کے متعلق  کچھ جواب نہیں دے سکتا لیکن اس کے کانوں  میں سیدنا عیسیٰ مسیح کے ذیل کے الفاظ گونج رہے تھے یعنی  یہ کہ " جو کوئی سچائی کا ہے میری آواز سنتا ہے ۔" اس کے ساتھ ہی وہ عجیب وغریب الفاظ  بھی یعنی "جو خدا سے ہوتا ہے وہ خدا کی باتیں سنتا ہے ۔"

          ان الفاظ کی وجہ سے  اس نے بڑی جرات کے ساتھ  یہ یقین کیاکہ یہ بزرگ  بھی ضرور سچائی  کا علم  حاصل کرلیگا  اور جناب ِ مسیح کی آواز سن لیگا۔

          بعد ازاں بزرگ مسکرایا اور بولا ۔

بزرگ : " ہم اپنے اصل مضمون سے دور چلے گئے ہیں۔ مسئلہ زیر بحث  اسلام نہیں تھا بلکہ مسیحیت  اب تمہیں  معلوم ہوگیا کہ میں مسیحیت  کی اس عجیب آزادی کے متعلق  جو شریعت وقوانین کی قیود میں مقید نہیں علم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔اگر اسلام نسل ِ انسانی کو ایک کامل شریعت  دینے میں ناکام رہا ہے تو لاریب مسیحیت  تو اس سے بھی زيادہ ناکام رہی کیونکہ اس میں تو شریعت  بالکل ندارد ہے ۔"

نوجوان :" بزرگوار ۔ آپ نے کئی مرتبہ اس لفظ " آزادی " کو طنزاً  استعمال فرمایا ہے لیکن کچھ مضائقہ نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کی وجہ ہٹ دھرمی یا تعصب نہیں بلکہ یہ میرے مسلم  احباب نے اس مسئلہ کو صحیح  طور پر سمجھا ہی نہیں۔ تو بھی مجھے آپ کو اس کے سمجھانے میں بہت دقت نہ ہوئی  چاہئے  کیونکہ  آپ نے انجیل شریف میں حضرت عیسیٰ کے متعلق  پڑھا ہے اور آپ ان کی بابت جانتےہیں۔

          میں یہ کہہ کر شروع کرتا ہوں کہ عہد نامہ عتیق(یعنی بائبل مقدس )  میں ایک آیت ہے  جس کا مضمون یہ ہے کہ  خدا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی شریعت  ہمارے دلوں میں ڈالیگا  اور اس کو ہمارے  لوح ذہن پر نقش کریگا۔ انجیل شریف  میں بھی اس کا ذکر آتا ہے۔ آپ کی رائے  میں اس کے کیامعنی ہیں؟"

بزرگ : " اگر خدا نے یہ فرمایا ہے کہ تومیرے  نزدیک  اس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ بنی نوع انسان  کی ظاہری  شریعت  دینے کے عوض وہ ہر  ایک فرد بشر کے دل میں جداگانہ  شریعت  ڈالیگا۔"

نوجوان: " میرا بھی یہی خیال ہے کہ ان الفاظ کے یہی معانی ہیں۔ لیکن یہ تو فرمائيے  کہ آپ کے خیال  میں یہ شریعت  کس طریق  پر کام کریگی ؟"

بزرگ : " اگر تمہارا مطلب یہ ہے کہ  مسیحیت  میں اس قسم کی شریعت  ہے تو تم اپنے سوال کا جواب خود ہی دو۔ یہ تصور اہل اسلام کے نزدیک  اس قدر بیگانہ  ہے کہ میں نے کبھی اس پر غور نہیں کیا۔"

نوجوان:" لیکن اگر ایسا کرنا ممکن ہو تو کیا آپ پھر بھی نہ مانینگے کہ ایک ایسے کامل مجموعہ اخلاقیات  کا سوال حل ہوگیا کہ جو زندگی کےہر شعبہ اور صیغہ کے افراد  اور ہر زمانہ کے لئے عمدہ ہے ۔ کیونکہ اس وقت ہر شخص کا ضمیر ہی اس کو خود بخود نیکی اور بدی میں امتیاز کرنا سکھائیگا۔"

بزرگ : " ہاں ۔ میں تمہارے اس خیال میں ایک یہ فضیلت  ضرور دیکھتا ہوں کہ ایسی  حالت میں ان احادیث  پر جو بعد میں ضعیف  سمجھ کر منسوخ  کی جاتی ہیں کسی شریعت  کی اساس  نہ رکھی جائیگی۔ اس وقت  نماز کے موضوع طریق ومقام کے متعلق  کوئی جھگڑا نہ اٹھیگا اور سیاسی  امور میں بھی ہر شخص  کو اس کا ضمیر ہی ہدایت کریگا کہ اسے کیا کرنا چاہئے  اور کیا نہ کرنا چاہئے؟

نوجوان:" اس کا مطلب  یہ نہیں کہ  اس میں کچھ مشکلات  نہ ہونگی۔ کیونکہ  بطور مثال  تمام لوگ  سیاسی امور  میں ہم خیال نہیں لیکن اس کا ایک  فائدہ یہ ضرور ہوگاکہ  کوئی  اخلاقی  قباحت  رونما نہ ہوسیکیگی۔ اسی طرح خدا کی عبادت  سے متعلق  ظاہرہ  رسوم یکساں نہ ہونگی  کیونکہ طبائع  انسانی ایک  دوسرے سے مختلف  واقع ہوئی ہیں۔ ایک شخص  اپنے خیالات  کے مطابق  ایک طرح خداکی عبادت  بہترین طور پر  کرسکتاہے  اور دوسرا کسی اور طرح ۔"

بزرگ :" ہاں ۔ میں بھی ٹھیک  یہی کہنا چاہتا تھا لیکن میں اپنے مطلب کو اس طور سے ادا کرتا کہ ہر فرد  کے دل میں ایک جداگانہ شریعت  ہونے سے  فتنہ وفساد  اورا ختلاف  کے برپا ہونے کا اندیشہ ہوگا۔ ذرا سوچو  تو کہ ہمارے  آزاد  قبائل کے درمیان  کس قدر تشتت  اور افتراق  ہے اور وہ بلحاظ  تہذیب  اور اقوام  سے کس قدر پیچھے  ہیں اور سبب سے اس کا فقط یہ ہے کہ ہر شخص کی شریعت  جدا ہے ۔ کسی قوم کی خواہ اس میں اور ہزار خامیاں ہوں ترقی محض  اس وقت ممکن ہوسکتی ہے  جبکہ اس کی حکومت  منظم اور باقاعدہ  ہو۔ مذہبی  حکومت  کا بھی یہی حال ہے ۔"

نوجوان:" میں آپ کے ساتھ متفق ہوں لیکن آپ بھولتے ہیں کہ مذہبی حکومت میں خدا یعنی واحد  ہی ہر فرد بشر کے دل پر اپنی شریعت نقش کرتا ہے اور یہ باور کرنا مشکل ہے کہ خدا آپ کے دل پر توایک شریعت لکھے اور میرے دل پر دوسری کہ جس سے ہم دونوں  ایک دوسر ے سے  عداوت  کرنے لگیں  اور ہمیشہ  ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے درپے  رہیں۔ لہذا اس شریعت  کو جوخدا ئے واحد  ہر ایک کے دل پر نقش کرتا ہے یکساں  ہوناچاہیے بجز اس امر میں کہ جس قدر اس کا خاص تعلق  فرد متعلقہ  کے ساتھ ہو ۔ فرمائيے  آپ کا کیا خیال ہے ؟"

بزرگ :" ہاں اس کاتو مجھے  اعتراف ہے ۔ لیکن اگر ہمارے دل ہی ہم کو فریب دیں تو پھر کیا ہوگا؟ تمہارا دل تم کو کہتاہے کہ  تم مسیحی ہو جاؤ اور بدی  کامقابلہ نہ کرو اور ایک ہندو کی مدد کرو۔ میرا دل مجھے کہتاہے کہ میں مسلمان ہی رہوں۔ اپنی حفاظت کروں اور ایک ہندو کو چھونے سے  باز رہوں۔ ہندو کادل  اس کی  ہدایت کرتا ہے ک وہ لکڑی کےٹکڑے یا گائے کو خدا تسلیم کرے۔ اس حالت  میں ہم اپنے  دلوں کو  کیونکر اعتبار کرسکتے ہیں؟ کیا خدا اپنی منشا  ء یا ارادہ  کو ظاہری یا مادی صورت پر ظاہر نہیں کرتا تاکہ تمام بنی آدم اپنے سے باہر کسی شئے پر تکیہ کرسکیں؟"

نوجوان:" جی ہاں۔ بلاشک ایک ایسا کشف ہے جو قلب انسانی سے خارج بھی ہے اور اس سے بے نیاز بھی ۔"

بزرگ :" میں لاہور جارہاہوں ۔ابھی سفر بھی بہت باقی ہے اور وقت  بھی سومہربانی سے ذرا مجھے شروع سے تو سمجھاؤ اور بتاؤ  کہ مسیحی کیونکر کہتے ہیں  کہ خدا اپنی منشاء اور ارادہ  کو انسانی دل کے باہر  بھی ظاہر کرتا ہے  اور ساتھ  ہی اپنی شریعت  کو اپنے لوگوں کے دلوں پر بھی نقش کرتاہے۔یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی ۔"

نوجوان :" آپ فرماتے ہیں کہ شروع سے بتاؤ ۔ یہ نہایت مشکل ہے کیونکہ  ان تمام کا شروع یا آغاز تو خدا ہے  اور ہمارا تصور خدا آپ کے تصور خدا سےاس قدر مختلف  ہے کہ آپ کے بعض ملا کہتے ہیں کہ ہم شرک کے گناہ کے مرتکب ہیں۔"

بزرگ:" درحقیقت  قرآن مسیحیوں  کو اہل کتاب کہتاہے اور اگر چہ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ مسیحیت  سے متعلق  بعض باتیں جو میں نے سنی ہیں ان کی وجہ سے مجھے بھی خیال گذرتا ہے کہ آپ لوگ خدا کو لاشریک  نہیں مانتے لیکن چونکہ  قرآن آپ کو اہل کتاب کہتاہے  لہذا آپ اس ناقابل معافی گناہ کےمرتکب نہیں ہوسکتے ۔تمہارے کلام کرتے وقت میں اس خیال کو اپنے ذہن میں رکھونگا۔"

نوجوان:" شکریہ ۔ اس سے میرے لئے بہت آسانی ہوجائیگی کیونکہ خدا سے متعلق  ہمارا ایسا عقیدہ ہے جس کا انکشاف  اگر شروع  میں ہی نہ ہوجائے اور تجربہ سے اس کی صداقت ثابت نہ کی جائے  تو ہر گز کوئی شخص  جو خدا کو واحد  تسلیم کرتا ہے اس کا یقین نہیں کرسکتا۔ آپ کو معلوم ہے کہ انجیل شریف  میں  مرقوم ہے کہ سیدنا عیسیٰ مسیح نے اپنے صحابیوں کو حکم دیا کہ وہ دنیا کی حدوں تک جاکر  اس کا پیغام سنائیں  اور جو کوئی اس پر ایمان لائے اس کو باپ بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ  دیں۔ اب ہم مسیحی  ان الفاظ کو کلمہ کا نام نہیں دیتے۔ یعنی یہ نہیں کہتے کہ کوئی شخص فقط یہ الفاظ کہنے سے  کہ  " میں خدا باپ بیٹے اور روح القدس پر ایمان لاتا ہوں۔" مسیحی بن سکتا ہے ۔ ان الفاظ کے معانی  ہمارے لئے  ایک حقیقی  اہمیت  رکھتےہیں اور وہ یوں کہ ہمارا اعتقاد  ہے کہ خدا ایک مشفق  باپ کی مانند ہماری خبری گیری کرتا ہے  اور ہم اس کی پدرانہ شفقت  پر اعتماد کرتے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ مسیح  اپنی زندگی  اور اپنے کلام سے خدا کے اوصاف  اور صفات  کا اظہار  کرتے ہیں۔ اس طرح  جب ہم اپنی زندگی کو  جناب مسیح کی زندگی کی مانند  بناتے ہیں  تو ہم جانتے ہیں کہ  ہم اس کو خدا کی مانند بناتے ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ وہ روح جو ہمارے  باطن میں سکونت  کرکے ہماری مدد اور ہدایت  کرتا ہے  فی الواقع  خدا کا روح ہے لہذا اس کی ہدایت  قابل اعتبار ہے۔ پس جب ہم باپ بیٹے اور روح القدس  پر ایمان رکھتے ہیں  تو یہ محض ان الفاظ کا دہرانا  نہیں بلکہ  یہ ایک نئی کیفیت  ہے کہ جس سے ہماری زندگیوں  کی کل روش ہی سراسر بدل جاتی ہے ۔"

بزرگ :" میں تمہارا مطلب سمجھ گیا۔ اسلام میں ہر شخص  فقط کلمہ  پڑھنے سے  مسلمان ہوسکتا ہے۔برعکس اس کے مسیحیوں  کا دعویٰ ہے کہ زندگی کے تبدیل ہوجانے سے  انسان میں فرق آسکتا ہے  نہ کہ محض کلمہ پڑھنے سے۔ مجھے یاد ہے کہ  میں نے انجیل  میں پڑھا تھا کہ حضرت عیسیٰ  نے ایک مرتبہ  ایک شخص  سے کہا تھا کہ اس کو ازسر نو پیدا ہونے کی ضرورت ہے اور وہ شخص  اس بات کو مطلق نہ سمجھا تھا۔"

نوجوان:" جی ہاں۔ جس وقت  زندگی میں تبدیلی واقع ہوتی ہے  تو اس وقت ہر شخص  کے لئے  خدا سے متعلق  وہی عقیدہ رکھنا جو ہمارا ہے بالکل  آسان ہوجاتا ہے۔"

بزرگ :" غالباً  تمہارا مطلب  یہ ہے کہ مسیحیوں  کی زندگی ہی انہیں  مجبور کرتی ہے کہ وہ انجیل کےکلام کے مطابق  باپ بیٹے اور روح القدس  پر ایمان لائیں۔"

نوجوان:"بالکل درست ۔ اب آپ کو بخوبی  معلوم ہوجائیگا کہ وہ لوگ  جو مسیحی  زندگی بسر نہیں کرتے لیکن  خدا کی وحدانیت  کے قائل ہیں ہمارے  عقیدہ کے سمجھنے  سے کیوں قاصر رہ جاتے ہیں  اور اکثر  ہمیں کافر کہتے اور ہم پر شرک کے گناہ کی تہمت  لگاتے ہیں۔"

بزرگ:" تمہاری یہ بات تو بالکل فضول سی معلوم ہوتی ہے ۔ اول تو کوئی شخص  جب تک باپ بیٹے اور روح القدس  پر ایمان نہ لے آئے  مسیحی ہو ہی نہیں سکتا۔ پھر تم کہتے ہو کہ فقط وہی لوگ  جو مسیحی ہیں اس عقیدہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ یعنی پھر کوئی  باہر والا شخص  تو مسیحی ہونےسے رہا۔"

نوجوان:" نہیں۔ آپ میرا پورا مطلب نہیں سمجھے۔ دیکھئے میں خود مسیحی  ہوں۔ شاید اگر  میں اپنا مطلب اس طور پر ادا کروں تو آپ کی سمجھ میں آجائے  کہ کوئی  غیر مذہب شخص  مسیحی نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ  خدا خود  اس کو سیدنا مسیح کی جانب نہ کھینچ لے۔ اور یہ مختلف  طریق  پر ہوتا ہے ۔یعنی کتب مقدسہ کے ذریعہ سے کسی کے ساتھ گفتگو کرنے سے کسی کی  زندگی کے اثر سے یا کسی رویا یا خواب کے ذریعہ  سے ۔ خدا متعدد  طریقوں  سے اپنے بندوں  کے دلوں کو اپنے قبضہ میں لاتا اور ان کو حق  کا طالب  بناتا ہے  اور اس اثنا میں جبکہ  وہ خدا کی تلاش کرتے ہیں  خدا ان کو سیدنا مسیح کے ذریعہ  سے اپنے قريب  لے آتا ہے ۔ آخر کار  وہ از سر نو پیدا ہو جاتے ہیں  اور ان کی روحانی  آنکھیں  کھل جاتی ہیں۔  اس وقت  وہ بخوبی  معلوم کرلیتے ہیں  کہ خدا درحقیقت  ان کا باپ ہے ۔ سیدنا مسیح اندیکھے خدا کی صورت  ہے اور کہ  روح القدس  جو ان کے دلوں میں ان کے علم کے بغیر سکونت  پذیر ہے  اس طور پر ان کی ہدایت  کرتا  رہا ہے ۔ پس وہ ایمان لے آتے اور بپتسمہ  پاتے ہیں  اور ان کی زندگیوں  کی کل روش  ہی بدل جاتی ہے ۔ اے میرے معزز دوست میں آپ کو صرف کتابوں میں لکھی ہوئی باتیں  نہیں بتا رہا  بلکہ یہ میری اپنی زندگی کا تجربہ ہے ۔

          اب ریل کسی بڑے سٹیشن  پر پہنچ گئی اور لوگوں کی آمدو رفت کا اس قدر شور وغل ہواکہ مزید  گفتگو کرنا نا ممکن تھا۔ لیکن بزرگ  خاموش بیٹھا اپنے اور اس نوجوان کے تجربات  زندگی کامقابلہ کررہا تھا۔

          کچھ دیر بعد گاڑی پھر روانہ ہوئی اور جب وہ سٹیشن  سے کچھ دور نکل گئی اور مسافر  بہ اطمینان بیٹھ گئے  تو بزرگ  نے پھر گفتگو کا سلسلہ یوں کہہ کر شروع کیا:

بزرگ:" تم نے پہلے کہا تھا کہ اگر ہم اس امر کو سمجھنا چاہیں کہ مسیحیت  میں کوئی خارجی شریعت نہیں تو چاہئے  کہ ہم خدا کی وحدانیت  کے مسیحی  مفہوم سے شروع کریں۔ پھر بتایا کہ تم نے  اپنے تجربہ  سے معلوم کیا ہے  کہ خدا باپ ہے اور حضرت عیسی    ٰ  خدا کا عکس یا پرتو ہیں۔ اور روح القدس  خدا کا روح ہے لیکن میری عقل میں یہ بات نہیں آتی کہ کس طرح  یہ تجربہ مسیحیت  کی شریعت  سے متعلق ہے ۔

نوجوان:" جی ہاں۔ ان دونوں کا باہم دیگر بڑا زبردست  تعلق ہے  لیکن اس کے سمجھنے  کے لئے  خدا کے متعلق  غور وفکر  کرناضرور ہے ۔ اہل اسلام کے ہاں  ایک عربی مقولہ ہے جس کے معنی  یہ ہیں کہ " کہ خدا وہ ہے جو انسان کے تصور میں نہ آسکے ۔" انسان اب تک خدا کا صحیح مفہوم  معلوم کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ اہل یہود  کے انبیائے عظام بھی خدا کی حقیقت  دریافت کرنے میں قاصر رہے تھے۔ حالانکہ  وہ آپ مسلمانوں  کی مانند خدا کی وحدانیت  سے قائل تھے تو بھی خدا سے متعلق  ان کے اکثر خیالات  غیر تسلی بخش  اور ناقص تھے۔

          اب سنئے کہ اولین اثر جو سیدنا مسیح کا کسی حقیقی  طالب حق پر ہوتا ہے یہ ہے کہ وہ اس شخص  کے مفہوم خدا کو بدل ڈالتاہے  اور وہ شخص سیدنا مسیح کے ذریعہ  سے خدا کا دیدار حاصل کرکے معلوم کرلیتا ہے  کہ خدا کے اس تصور میں جو پہلے اس کے ذہن میں تھا اور اس مسیحانہ  تصور میں کس قدر فرق ہے ۔ یہ تبدیلی  مسیح کے سب سے پہلے صحابیوں  سے شروع ہوئی تھی۔ اور اس سے پیشتر کہ مسیح ان کو براہ راست  اس کی تعلیم دے انہوں نے  خود بخود  اپنے ایمان کا اقرار کیا تھا کہ وہ منجانب  الله ہے ۔ اب بات یہ ہے کہ  یہ ان کا اعتقاد تھا کہ سیدنا مسیح اپنی زندگی  او رکلام سے خدا کو ان پر ظاہر کررہے تھے  اس لئے  کہ وہ محسوس  کرتے تھے کہ مسیح  کی شخصیت  ان خیالات  کی نسبت  جو وہ خدا کے متعلق  رکھتے تھے بہتر تھی۔"

بزرگ :" یہ بات نہایت عجیب معلوم ہوتی ہے لیکن یہ ممکن کیسے ہو سکتی ہے ؟"

نوجوان:" لیجئے  میں اسے ایک مثال سے واضح کئے دیتا ہوں ۔ اگر کوئی  شخص  جو خدا ئے قادر مطلق  بزرگ  وبرتر  اور ازلی  کو ایسا حاکم سمجھتا ہو  جو ایک عالی وقار  بادشاہ کی مانند اپنی رعایا کی مطلق  پروا نہیں کرتا  مسیح  سے ملے جو اپنی زندگی  اور اپنی تعلیم کے ذریعہ  سے اس پر یہ ظاہر کردےکہ یہ خدا قادر مطلق  ازلی  اور برتر ایک بڑے خاندان کے مشفق  باپ کی مانند ہے تو کیااس سے اس شخص  کا مفہوم خدانہ بدل جائیگا؟" کیا وہ اس دوسرے تصور کو پہلے مفہوم خدا سے زیادہ پسند نہ کریگا ؟"

بزرگ :" ہاں میرا خیال ہے کہ وہ ضرور ایسا کریگا ۔چلو آگے۔"

نوجوان:" اب اگر کوئی شخص اس نتیجہ پر پہنچے کہ سیدنا مسیح اپنی شخصیت  کے ذریعہ سے خدا کو منکشف کرتاہے تو پھر قدرتی طور پر  وہ یہ یقین کریگاکہ  جناب مسیح  کامل انسان ہیں کیونکہ  وہ تمام دیگر انسانوں کی نسبت  خدا سے زیادہ مشابہ ہوگا۔ اور جو کچھ انجیل شریف  میں مسیح  کے متعلق  مندرج ہے  اس کے مطالعہ  سے ہمارا  بھی یہ اعتقاد  ہوجاتا ہے ۔  آپ میری  باتوں کو سمجھ رہے ہیں نہ ؟"

بزرگ :" خوب ۔ لیکن میں اب تک  یہ نہیں سمجھا کہ اس میں  اور مسیحیت  میں کوئی  شریعت  نہ ہونے  میں کیا تعلق ہے ۔ شاید  تم آگے  چل کر اس کا ذکر بھی کرو گے ۔"

نوجوان:" جی ہاں۔ بزرگ من ابھی لیجئے ۔ اس انسان کامل نے جس نے اپنی شخصیت  سے خدا کو منکشف  کیا حالانکہ  اپنی زبان سے  تو کہا کہ وہ شریعت  کو منسوخ کرنے نہیں آیا تو بھی اس نے اس  میں تبدیلی  واقع کردی ۔ یعنی وہ زبردست  تبدیلی  کہ جس کی وجہ سے  مسیحیت  شریعت  سے آزاد  ہے اور جو آپ مسلمانوں کی سمجھ میں نہیں آتی ۔"

بزرگ:" ہاں۔ میں نے پڑھا ہے کہ حضرت عیسیٰ     نے فرمایا تھاکہ وہ شریعت کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ اس کو پورا کرنے آئے ہیں۔ مجھ کو بھی یہ کچھ معما سا معلوم ہوتا ہے  کیونکہ ظاہر اطور پر تو انہوں نے  شریعت  کو منسوخ ہی کیا ہے ۔"

نوجوان :" آپ کے خیال کے مطابق سیدنا مسیح شریعت کو کس طریق  سے پورا کرسکتے یا تکمیل تک پہنچا سکتے تھے "؟

بزرگ:" میں نے اس کے متعلق  کبھی غور نہیں کیا۔ لیکن میرے  خیال میں وہ کسی  عجیب ونادر طریقہ  سےایسی  شریعت دے سکتے تھے جو دنیا کے اختتام تک انقلابات  زمانہ کو اپنے اندر شامل  کرلیتی ۔ مثلاً ہمارے رسول ﷺ کے زمانہ میں تمباکو  نہ تھا۔ لہذا شریعت محمدی  میں اس کے متعلق  کچھ ذکر نہیں نتیجہ  اس کا یہ ہوا کہ بعض فریق  مثلا ً اہل حدیث  اس کا استعمال ممنوع قرار دیتے ہیں  اور بعض جائز۔ اسی طرح  جب ہماری شریعت  مرتب کی گئی اس وقت غیر مسلم  حکام کے زیر حکومت  کوئی مسلمان نہ تھے۔ لہذا ہم کو معلوم نہیں کہ ایسے  حالات  میں ہم کو کیا کرنا چاہئے اور ہندوستان کے ملا اس امر کے متعلق متفق  الری نہیں۔ پھر اسی طرح  سیدنا رسول ﷺ کے وقت غلامی کا سلسلہ عام طور پر  رائج تھا۔ قرآن شریف  اس کی اجازت دیتا ہے لیکن دور حاضرہ میں اس کی ممانعت  ہے حتیٰ کہ افغانستان  بھی اس کونا جائز قرار دیتا ہے ۔

          اب اگر حضرت عیسیٰ     یہودی شریعت کو پایہ تکمیل  تک پہنچانے آئے تھے تو چاہئے  تھے کہ وہ انقلابات  زمانہ کا بھی لحاظ رکھتے ہوئے  ایسا کرتے ۔ لیکن اس کے بجائے  انہوں نے شریعت  ہی کو منسوخ کردیا۔"

نوجوان:" میرا خیال ہے کہ اگر آپ سیدنا مسیح کو پورے طور پر سمجھ لیں تو آپ معلوم کرلینگے  کہ انہوں نے  اسی طرح پر شریعت کی تکمیل کی جس طرح آپ فرماتے ہیں ۔ مثلاً  ان امور کولیجئے  جن کا ذکر  آپ نے شروع میں کیا تھا۔ یعنی مسیح نے فرمایا کہ " اگر تیرا ہاتھ تجھے ٹھوکر  کھلائے تو اسے کاٹ ڈال۔اور اگر تیری آنکھ تجھ سے گناہ کرائے تو اسے نکال پھینک ۔" پھرشریعت  کا لب لباب یہ ہے کہ خدا اور اپنے پڑوسی سے محبت رکھ ۔ یا اپنے بھائی کو معاف  کرتے وقت  اس امر کا خیال نہ کر کہ  تو نے کتنی بار معاف کیا بلکہ متواتر  معاف کئے جا۔ اب مسیح نے شریعت  کی کڑی حدو ہ کو دور کردیا اور اس کے بجائے  بنی نوع انسان کو صراط مستقیم  پر چلنے کی ترغیب دی ۔ کنوئیں پر سامری عورت سے گفتگو کرتے ہوئے بھی آپ نے ایسا ہی کیا یعنی مقام اورطریق  عبادت کے بجائے روح اور سچائی  سے عبادت  کرنے کی تلقین  فرمائی۔ ظاہر ا صورت بعد میں بدل جائے تو کچھ مضائقہ نہیں کیونکہ  تب عبادت  ہمیشہ  دل اور روح سے ہوگی۔ سمجھے آپ میرا مطلب ؟"

بزرگ : " غالباً  میرا خیال تو ہے لیکن شاید میں ایک مثال دے کر یقینی طور پر سمجھ  جاؤنگا ۔ فرض کرو  ایک باپ کے پاس ایک بیٹا ہے ۔ جب تک  بیٹا کم عمر ہوتا ہے  باپ ایک قانون  بناتا ہے  کہ وہ دو تین سال تک اپنے اسباق کا مطالعہ کرے ۔ لیکن جب بیٹا نوجوان ہوجاتا ہے  تو باپ اس قاعدہ کو تبدیل کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ  اب تمہارے مطالعہ کے لئے  مقررہ وقت  کی ضرورت نہیں بلکہ  اب تم کو اپنے دل وجان سے کوشش کرنا چاہئے  تاکہ تم ایک متبحر عالم بن جاؤ۔نیز وہ اپنے بیٹے کو  چند ایک کار آمد  ہدایات  بھی دیتا ہے اوراس کو یہ کہکر  خبردار کرتا ہے کہ جسمانی طور پر کمزور مگر عالم ہونا اس سے بہتر  ہے کہ تم مضبوط الحثہ  مگر دماغی  طور پر کمزور ہو۔"

نوجوان:" ٹھیک ۔ آپ نے بجا فرمایا لیکن میں اس میں فقط دو اور باتوں کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اس لفظی تصویر میں باپ کو خدا سمجھئے جو لڑکے سے یہ کہتاہے کہ  تمہارا بڑا بھائی  اسی راہ سے  گذرا جس سے اب تم کو گذرنا ہے  اور وہ بتدریج ایک متبحر  عالم بن گیا  ہے ۔ اس کو ہمیشہ  اپنا نصب العین بنا رکھو۔ اور میں تم کو ایک استاد  دیتا ہوں  جو شب وروز تمہارے ساتھ رہیگا۔ وہ ہر وقت تمام مشکلات  میں تمہاری مدد کریگا  اور وہ تمہارے بڑے بھائی  کا نمونہ ہمیشہ تمہارے پیش نظر رکھیگا اور تمہاری  رہنمائی  کریگا  تم اس کے نقش قدم پر چلو۔"

بزرگ :" مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس تمثیل میں تم بڑا بھائی اور استاد کسے کہتے ہو؟"

نوجوان:" بڑا بھائی  انسان کامل سیدنا عیسیٰ مسیح ہیں اور استاد  روح القدس ہے ۔"

پیر مرد دیر تک خاموش رہا اور اس اثنا میں نوجوان دعا کرتا رہا کہ خدا اس کے الفاظ کے ذریعہ  اس بزرگ کو اپنے قریب لے آئے۔

پھر بزرگ یوں گویا ہوا:

"میرے خیال میں اب یہ معاملہ میری سمجھ میں آگیا ہے  ۔ کہ آپ لوگ نامکمل اورناقص قوانین  کی ایک طول طویل فہرست رکھنے کے بجائے  حضرت عیسی    ٰ  کو ایک کامل انسان مانتے ہیں  جو خدا کی مرضی کو آپ پر ظاہر کرتا ہے لہذا وہ آپ کا نمونہ ہے اور اس کا ہمشکل  ہونا آپ کا انتہائی  مقصد ہے ۔ اور اس میں کامیاب ہونے کے لئے  آپ کے دل میں خدا کا روح القدس سکونت کرتا ہے۔ کیوں میں درست سمجھا کہ نہیں؟"

نوجوان:"جی ہاں ۔ روح القدس نہ صرف اس مقصد تک پہنچنے  میں ہماری مدد ہی کرتا ہے بلکہ وہ ہر وقت مسیح کو ہمارے پیش نظر رکھتا ہے حتیٰ کہ کوئی فرد بشر اپنی روحانی بالیدگی کے کسی درجہ  پر ہی کیوں نہ ہو وہ سیدنا مسیح کو ایسے پہلو سے پیش کرتاہے  کہ وہ بشر اس کے ذریعہ  سے ہمت  حاصل کرکے  دوسرا قدم اٹھانے کو تیار ہوجاتا ہے ۔ یہ عمل ہر ملک ہر زمانہ اورہر حالت  میں اسی  طرح وقوع میں آتا ہے ۔ کیا آپ کے خیال میں ایک واحد ممکن اور کامل مجموعہ اخلاق نہیں؟"

بزرگ:" ہاں معلوم تو ایسا ہی ہوتا ہے لیکن تمہارے اس استدلال میں  ایک نکتہ  ہے جو مجھے کسی  قدر تکلیف  دے رہا ہے اور وہ تمہارا  رو ح القدس  کو بھی شامل کرلینا ہے ۔ اسلام میں روح القدس جبرائیل  فرشتہ کانام ہے لہذا جب میں نے یہ سنا کہ آپ مسیحی روح القدس کو خدا تسلیم کرتے ہیں تو میں نے اس کو کفر سمجھا۔  لیکن اب تمہارے  بیان کے مطابق  تو یہ معاملہ  اور بھی پیچیدہ ہوگیا ہے ۔"

نوجوان:" کیوں جناب کیسے ؟"

بزرگ:" راسخ الاعتقاد  مسلمانوں کے خیال کے مطابق  خدا  اس قدر بلند  وبالا ہے کہ اس کے اور بنی نوع انسان  کے درمیان ایک خلیج حائل ہے ۔ کوئی  مسلمان ایسا نہیں  جو یہ کہنے کی جرات کرے کہ اس نے اپنی  زندگی میں خدا کے ساتھ ایسے تعلق کا تجربہ کیا ہے جو استاد اور شاگرد کا باہم ہوتا ہے  اور جیسے  تم نے ابھی مثال پیش کی ہے ۔ مسلم  صوفی اور ہندو ویدانتی  اکثر خدا  کی قربت  کا بیان کرتے ہیں  بلکہ وہ تو یہاں تک  کہتے ہیں کہ وہ  خدا کا ایک جزو ہیں لیکن  چونکہ خدا ان  کے لئے  شخصی  خدا نہیں  اس لئے مجھ کو ایسا  معلوم ہوا ہے کہ  وہ گویا  ہوا کی مانند ہے جو ہمارے  نزدیک بھی ہے اور ہمارے اند ر بھی۔ لیکن تمہارا  مطلب  تو ہر گز یہ نہیں۔"

نوجوان:" میرے خیال میں جو جبرائیل  کو رو ح القدس  کہا جاتا ہے اس کا سبب محض یہ ہے کہ عربوں  نے مسیحیوں  کورو ح القدس کے متعلق اسی طرح بولتے سنا تھا۔ یعنی یہ کہ خدا اپنے  بندوں  کے ساتھ حقیقی  طور پر وابستہ وواصل ہے اور چونکہ  یہ مسئلہ  ان کی سمجھ سے بالاتر تھا لہذا انہوں نے  خیال کیا یہ ضرور  کوئی فرشتہ ہی ہوگا۔"

بزرگ:" واقعی یہ مسئلہ  ایک ٹیڑھی کھیر ہے ۔ خدا کی ہستی کے تو ہم سب قائل ہیں ہی۔ پھر یہ بھی  جانتے  اور مانتے ہیں کہ حضرت عیسی    ٰ  بھی اس تیرہ خاکدان پر جلوہ فرماہوئے۔ لیکن روح القدس  کی الوہیت  کا کیا ثبوت ہے ؟ کوئی بشر روح کو دیکھ نہیں سکتا۔ کیا تم نے بھی کبھی اس امر پر غور کیا ہے؟ستاد کسے کہتے ہو؟"

ہاری  رہنمائی  کریگا  تم اس کے نقش قدم پر چلو۔"

مدد "

نوجوان:" ہاں مجھے معلوم ہے کہ کسی غیر مسیحی  کے لئے  اس راز کا سمجھنا نہایت مشکل ہے ۔اور کسی واحد خدا کے ماننے والے مذہب میں ا س قسم کی کوئی تعلیم موجود نہیں۔ حالانکہ  متعدد  انبیا ء یہود  نے یہ پیشن گوئی کی تھی کہ  خدا روح القدس  اپنے بندوں میں سکونت پذیر ہوگا۔ لیکن زمین پر سیدنا مسیح  کی خدمت  کے پائہ تکمیل  تک پہنچنے سے قبل بنی نوع انسان  عموماً  اس کا تجربہ حاصل نہیں کرسکتے تھےلیکن اس سے پہلے کہ میں رو ح القدس  کے متعلق  مزید بیان کروں میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں  کہ میں روح القدس کی  الوہیت  کا ثبوت  نہیں پیش کرتا کیونکہ  خدا کے متعلق  کون ثبوت دے سکتا ہے ؟  خود آپ کے نبی نے دشت  حیل ۔ دریا ومیدان اور دنیا کے باشندوں  کی جانب لوگوں کی توجہ کو مرکوز کیا اور ان سے سوال کیاکہ گویا وہ نا بینا ہیں  جو نہیں دیکھ سکتے  لیکن خدا کی ماہیت  کے متعلق  بحث کرنے کی ممانعت کی ۔ پس روح القدس  کے متعلق  بیان کرتے ہوئے  میں فقط یہ عرض کرونگا  کہ ہم مسیحیوں  کا کیا اعتقاد ہے اور کیوں ۔ بعد ازاں  میں الله تعالیٰ سے دعا کرونگا کہ میرے کلام کے ذریعہ  سے وہ آپ کو اس معاملہ کے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

بزرگ:" تم بالکل سچ کہتے ہو۔ میں نے متعدد اشخاص سے امر پر گفتگو کی ہے اور ہمیشہ  خدا کی ہستی  ثابت کرنے  سے احترا ز کیا ہے۔ اگر انسان دیدہ دانستہ اندھا بن جائے تو پھر کوئی دلیل  وبرہان اسے قائل نہیں کرسکتی ۔ "

نوجوان:" جب  سیدنا مسیح نے  دنیا میں آکر  اپنے صحابہ کرام کو یہ تعلیم دینی شروع کی کہ خدا ایک روحانی  اور قادر مطلق  طور پر آدمیوں کے درمیان سکونت کریگا  تو اس نے مختلف  امو کو پورے طور پر  واضح  کردیا۔ اول یہ کہ روح القدس  برابر مسیح کے پندو نصائح   کو قبول کرکے اس کے ایمانداروں  کو ان کی تعلیم  دیگا اور یہ نکتہ  بذات  خود دووجوہ کےباعث  اہم اور قابل غور ہے ۔ اور یہی  سبب ہے کہ  روح القدس  کے متعلق  ہمیں بہت  کم معلوم ہے ۔ سیدنا مسیح  نے خود فرمایا تھاکہ روح القدس اپنے متعلق کچھ نہ کہیگا  بلکہ میرے متعلق بتائیگا۔ دوسری بات جو پہلی کی نسبت  اہم تر ہے  یہ ہے کہ  تاوقتیکہ  کوئی مسیح پر ایمان نہ لے آئے یا کم از کم  کسی ذریعہ  سے اس کا مسیح کے ساتھ کچھ تعلق  پیدا نہ ہوجائے۔ روح القدس  اس شخص  کے دل میں موعودہ  عمل نہیں  دکھاسکتا ۔"

بزرگ:" اگر یہ بات ہے تو پھر  وہ آیت  جو تمہاری انجیل میں مرقوم ہے کہ یعنی یہ کہ "وہ دنیا کو گناہ کے متعلق قائل کریگا کیا معنی رکھتی ہے ؟"

نوجوان :"  بالکل اسی طرح  سے بجز  اس شخص کے جس نے پہلے مسیح کا علم حاصل نہ کرلیا ہو ایسا کونسا  فرد بشر  ہے جس کے دل میں گناہ  کا جو اس کو خدا سے جدا کردیتاہے  ایک عمیق  احساس  پایا جائے"؟

بزرگ:"  کیا اب تم اپنا تجربہ بیان کررہے ہو؟"

نوجوان :جی جناب۔ اس سے پیشتر  کہ میں مسیحی ہوا یا میں نے مسیحی کی صداقت  کے متعلق  کچھ سنا۔ مجھے اس امر کا احساس  تھاکہ میں گنہگار ہوں۔ لیکن میں اس کے متعلق  فکر مند نہ تھا کیونکہ  مجھے یقین تھاکہ  خدا ضرور  میرے گناہ معاف کردیگا۔  لیکن جس وقت میں نے  سیدنا مسیح کے متعلق  پڑھا او ریہ کہ کس طرح  اس دنیا میں گناہ کی اس سے جنگ ہوئی اس وقت  روح القدس  نے گناہ  کی حقیقت  کو مجھ پر ظاہر کردیا۔"

بزرگ:" اچھا۔ اب دوسرا نقطہ بیان کرو۔"

نوجوان:" سیدنا مسیح نے فرمایا کہ  روح القدس ہمارے دل میں سکونت کریگا یعنی وہ کوئی خارجی اثر نہ ہوگا  بلکہ خود خدا جو ہمارے دلوں میں بسیگا ۔ مسیح نے یہ بھی فرمایا تھاکہ وہ  جو ایمان نہ لائینگے  اس کو اپنے دلوں میں قبول  نہ کرسکینگے  کیونکہ وہ ان کے فہم  وادراک   سے بالا تر ہوگا۔  لیکن ان کے شاگرد اس کو پہچان لینگے کیونکہ وہ  ان کے اندر جاگزین ہوگا۔"

بزرگ:" تو کیا تمہارا مطلب یہ ہے کہ  روح القدس  تمہارے دل میں بستا ہے ؟"

نوجوان: " ہاں واقعی  یہ میرا ذاتی تجربہ ہے ۔ بعینہ  جس طرح مسیح نے فرمایا تھا روح القدس  مجھے مسیح کےمتعلق  تعلیم دیتا ہے  اور جب کبھی میں کوئی ایسا فعل کرتا ہوں  جو مسیح سے کبھی بھی سرزد نہ ہوتا تو رو ح القدس مجھ کو میرے گناہ پر ملامت  کرتا ہے ۔  وہ میری مدد کرتا ہے تاکہ میں مسیح کے نقش  قدم پر چلوں  اور آپ دیکھینگے  کہ تمام حقیقی مسیحیوں  کا یہی تجربہ ہے۔"

بزرگ:" اگر میں تمہارا مطلب صحیح طور پر سمجھا ہوں تو تمہارے قول کے مطابق  مسیح کی آمد  سے قبل  ایک زمانہ  وہ بھی تھا کہ جب روح القدس  اس صورت میں موجود نہ تھا اور پھر ایسا وقت آیا کہ  جب وہ منصہ  شہود  پرجلوہ گر ہوا۔ براہ مہربانی اپنے معنی  کو ذرا اور واضح کردیجئے ۔"

نوجوان:"  انجیل شریف  میں ایک  آیت ہے  جو کہتی ہے کہ تاوقتیکہ  مسیح اپنے جلال میں داخل نہ ہوا تھا  روح القدس  نہ بخشا گیا تھا۔اب اس کی تشریح یو ں کی جاتی ہے کہ جب تک  کہ مسیح  مصلوب نہ ہوا اس کو بنی نوع انسان کے درمیان جلال حاصل نہ ہوا تھا۔  یعنی یہ کہ  ایمانداروں کو یہ یقین نہ ہوا تھا بلکہ نہ ہوسکتا تھاکہ درحقیقت  یہی مسیح تھاکہ جس نے اپنے جسم کے ذریعہ  سے خدا کو دنیا پر ظاہر کیا تھا اور جو خود ایک کامل  انسان تھا لیکن جب خدا نے  اس کو مردوں میں سے زندہ کیا تو خدا  نے اس کے شاگردوں  پر ثابت کردیاکہ سیدنا مسیح فی الواقع  ابن الله  اور کامل انسان تھا۔ اس وقت  اور فقط  اس وقت روح القدس  مسیح کی تعلیم  کو لے کر ایمانداروں  کی زندگیوں  پر ان کا اطلاق  کرسکتا ہے  ۔ کل اختیار  اور اقتدار  مسیح ہی کا تھا۔ اسی وجہ سے مسیح نے فرمایا تھاکہ ضرور ہے کہ وہ جائے تاکہ روح القدس  ان کے پاس  آئے۔ اب تو یقینا ً تمام معاملہ  آپ کی سمجھ میں آگیا ہوگا۔"

بزرگ:" ہاں۔لیکن  یہ تو کہو کہ روح القدس  نازل کس طرح ہوا۔"

نوجوان:"  سیدنا مسیح  نے آسمان پر صعود فرماتے وقت اپنے شاگردوں کو حکم دیا تھا کہ وہ یر وشلم  کو جائیں  اور وہاں ٹھہرے رہیں تاوقتیکہ  روح القدس نہ آئے۔ انہوں نے  اس کے حکم کی تعمیل  کی اور روح القدس  ان پر نازل ہوا۔ وہ اس سے معمور ہوگئے  اور ان کی زندگیاں  بالکل تبدیل ہوگئیں۔ وہ جو قبل ازیں  بزدل تھے۔  اب بہادر اور دلیر بن گئے  اور مسیح کی خاطر  ہر قسم کی تکلیف  اور مصیبت  برداشت  کرنے کو تیار ہوگئے ۔ ان کی زندگیاں  روحانی طاقت  وقدرت سے  لبریز ہوگئیں  اور یہ طاقت  وقدرت ان کے پاکباز  انہ اعمال سے ظاہر ہوتی تھی  اور اس خوشی وفرحت  سے جو ہر جگہ  ان کی آمد پر رونما  ہوتی تھی۔ مسیحیوں  میں اس نئی  طاقت  کی موجودگی کے آثار اس قدر صاف نمایاں تھے کہ عوام اس کو دیکھ کر ہزار  ہا کی تعداد میں مسیحی ہو گئے۔ آپ انجیل شریف کی کتاب اعمالراسل  میں اس کا تمام حال پڑھ سکتے ہیں۔اس زمانہ سے لے کر اس وقت تک روح القدس  برابر مسیحی کلیسیا  کے ساتھ رہا ہے اور مسیحیوں  کا عام تجربہ ہے ۔"

          یہ سن کر بزرگ پھر کچھ عرصہ تک خاموش رہا بعد ازاں   یو ں کہنے لگا :

بزرگ:"  میرے خیال میں اب میں سمجھ گیا کہ تم لوگ روح القدس کو خدا کیوں مانتے ہو۔ تم حضرت عیسی    ٰ   کو ابن الله  مانتے ہو کیونکہ وہ اپنی شخصیت  کے ذریعہ  سے مسیحیوں  پر خدا کا نکشاف کرتا ہے بعینہ  تم روح القدس کو خدا کہتے ہو کیونکہ وہ ایک روحانی صورت میں تمہارے دل میں مسکن گزین ہوتا ہے اس لئے کہ وہ تمہاری ہدایت کرے تاکہ  تم روز بروز مسیح کی مانند بنتے جاؤ اور حضرت عیسیٰ نے  فرمایا کہ خدا شخصی  معاملات  میں تم پر اپنے آپ کو روح القدس  کی صورت میں ظاہر کرتا ہے لہذا تم اس کو روح القدس  کہتے ہو۔ کہو میں  درست سمجھا کہ نہیں؟"

نوجوان:" جناب آپ نے بالکل صحیح سمجھا اور اب یہ فرمائيے  کہ آیا آپ  اس "آزادی " کا صحیح  مفہوم سمجھ گئے  جو مسیحیت  میں ہے اور جو ہمارے برادران  اسلام کی سمجھ  میں نہیں آتا؟"

بزرگ:"  خیال تو ایسا ہی ہے ۔ سنو ۔ خدا نے حضرت عیسیٰ کو اس دنیا میں اپنے مظہر  کے طور پر بھیجا  کیونکہ  جب یہودیوں نے اسے صلیب دے کر مار ڈالا تو خدا نے اسے زندہ کردیا۔  لہذا تم لوگ  اس کو کامل  انسان اور اس کے اختیار واقتدار  کو بھی قطعی  اور ناطق  تسلیم کرتے ہو۔  حضرت عیسی    ٰ  نے تمام دیرینہ اوامراو نواہی جو تم یہ کرواور تم پر نہ کرو کے الفاظ  سے شروع ہوتے تھے  منسوخ کرکے اپنے  آپ کو انسان کی کل توجہ کا مرکز ٹھہرایا۔  اور پھر  اس نےوعدہ فرمایا کہ جو کوئی  اس پر ایمان لاکر اس کو خدا  کا مظہر  کامل تسلیم کرکے اس کے کامل  اختیار  واقتدار  کا قائل ہوجائیگا  وہ اپنے دل میں  خدا رو ح القدس  کو حاصل کرلیگا اور کہ روح القدس  ہر وقت  اور ہر حالت  میں اس کی مدد کریگا  کہ وہ سیدنا مسیح کی مانند بن جائے۔ چونکہ  ہر وقت مسیحیوں  کی یہ کوشش  ورخواہش  ہے کہ وہ اس کامل  انسان کے ہمشکل  بن جائیں  جو خدا کی نظر میں  پسندیدہ ہے لہذا انہیں کسی قسم کی شریعت  کی ضرورت نہیں۔"

نوجوان:" شکر ہو الله تعالیٰ کاکہ یہ حقیقت  آپ کی سمجھ میں آگئی۔ اب میری دعا یہ ہے کہ  آپ اس کو تجربہ سے بھی معلوم کرلیں۔ اور میں اس وقت  سعید  کے لئے  بھی جو آپ کی صحبت میں گذرا  آپ کا تہ دل سےشکریہ ادا کرتا ہوں اس لئے کہ مجھے اگلے اسٹیشن پر گاڑی سے اترنا ہوگا۔"

بزرگ :"  برخوردار ؛ میں بھی تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں میں بھی دعا کرونگا کہ خدا راہ راست  کی جانب میری ہدایت  ورہنمائی کرے تمہیں  معلوم ہے کہ ہم مسلمان روزانہ پانچ مرتبہ اسی بات کےلئے دعا کرتے ہیں۔"

نوجوان:"  جی ہاں۔ مجھے معلوم ہے لیکن میں چاہتا ہوں  کہ جب کبھی آپ یہ دعا کریں تو آ پ ہماری اس گفتگو کو بھی یاد کریں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی دعائیں  ضرور خدا کے حضور مستجاب ہونگی۔"
          اب گاڑی  سٹیشن  پر پہنچ کر ٹھہر گئی اور نوجوان گاڑی سےاترنے کو تیار ہوا۔ لیکن اس نے اپنے رخصت  ہونے سے پیشتر اپنی جیب میں سے انجیل شریف کا ایک نسخہ نکالا اور بزرگ  کو یہ کہتے ہوئے دیا۔"

          "آج کی گفتگو کی یادگار میں میں یہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں  یہ میری  اپنی انجیل ہے اور میں یہ اس لئے آپ کی نذر کرتا ہوں کہ  آپ نے مجھ پر نوازش فرمائی ہے ۔"

          بعد ازاں  انہوں نے مصافحہ  کیا اور ذیل کے الوداعی الفاظ ایک دوسرے سے کہے :

"فی امان الله  ۔ خدا حافظ  ۔آمین  " یہ کہہ کر وہ ایک دوسرے سے  الوداع ہوئے  اور دونوں  نے اپنی اپنی  راہ لی۔ لیکن ان کی رخصتی دعا  مقبول ہوئی  کیونکہ  روح القدس جوہر جگہ حاضروناظر ہے ہر دوکے ہمراہ گیا۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, اسلام, مُحمد, غلط فہمیاں | Tags: | Comments (0) | View Count: (12681)

Post a Comment

English Blog