en-USur-PK
  |  
04

مسیحی مذہب مجھے کیوں پیارا ہے؟

posted on
مسیحی مذہب مجھے کیوں پیارا ہے؟

Why I love the Christian Religion.

By

Sultan Muhammad Paul

حاجی سلطان محمد پال افغا

مسیحی مذہب مجھے کیوں پیارا ہے؟

----------(۱)----------

مسیحی مذہب مجھے اس لئے پیارا ہےکہ:

یہ محبت کا مذہب ہے

            اتنی بات توسب جانتے ہیں کہ ۔خدا ئے انسان کو مدنی بالطبع پیدا کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دنیا میں صرف ایک ہی انسان ہوتا اوراس کے معاون اورمددگار نہ ہوتے ۔ تووہ تنہا رہ کر ہرگز اپنی ہستی کو قائم نہ رکھ سکتا۔ کیونکہ انسان کواپنی ہستی یا زندگی قائم رکھنے کے لئے بہت سی ایسی باتوں کی ضرورت ہے ۔ جن کو حاصل کئے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ مثلاً اپنی جسمانی طاقت کو قائم اور تازہ رکھنے کے لئے اس کو بدل مایتحلل یعنی خوراک کی ضرورت ہے ۔ آب وہوا کے اثر ات سے بچنے کے لئے اس کو پوشاک کی ضرورت ہے ۔ اس کو جان اورمال کی حفاظت کے لئے مکان کی ضرورت ہے ۔ یہ ایسی ضروریات اور حوائج ہیں۔ کہ اگر انسان کو عمرِ نوح بھی مل جائے ۔ تب بھی وہ تن تنہا رہ کراپنی ضروریات کو حاصل نہیں کرسکتا۔ اس لئے خدا نے انسان کو اس طرح پیدا کیا کہ وہ

تنہا نہیں بلکہ اپنے ابنائے جنس کے ساتھ مل کر ایک مددگار اور معاون کے طورپر ہے۔ اسی اجتماعی حالت کا نام تمدن ہے۔ اورچونکہ  انسان مدنی بالطبع پیدا ہواہے۔ اس لئے بجائے تنہا رہنے کے وہ دوسرے انسان کے پاس رہنے کو زیادہ پسند کرتاہے۔

          انسان گاؤں ، قصبوں اور شہروں میں اس لئے بسنے کی کوشش کرتاہے کہ وہ جانتاہے۔ کہ میں ایک حالت پر قائم نہیں رہ سکتاہوں۔ اگر آج میں سالم الاعضا ہوں۔ ممکن ہے کہ کل بے دست وپا ہوجاؤں اگر آج میں جوان اور زور آور ہوں۔ممکن ہے کہ چند دنوں کے بعد پیروفرتوت اورناتواں ہوجاؤں۔ اس لئے مجھ کو ایسے مددگار کی ضرورت ہے۔ جو اس قسم کے مصائب میں میری مدد کرے۔ اس فطری اصُول کو مدِ نظر رکھ کر ہمارے منجئی نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ" تواپنے پڑوسی کو اپنی مانند پیارکر"۔ پڑوسی سے یہ مراد نہیں کہ جس کی دیوار ہماری دیوار سے ملی ہوئ ہو۔بلکہ اس سے مراد وہ نسلی اورجنسی اشتراک ہے۔ جو تمام بنی نوع پرشامل ہے۔ جو تمام بنی نوع پر شامل ہے۔ یعنی جہاں کہیں کوئی انسان کسی مصیبت یا آفت میں مبتلا ہو۔ توہرایک مسیحی پر یہ فرض ہے کہ وہ اس مصیبت زدہ آفت رسیدہ شخص کی مصیبت وآفت کو بعینہ  اپنی مصیبت ، آفت اورتکلیف سمجھے ، اوریہ ظاہر ہے کہ اگرایک انسان دوسرے انسان کی تکالیف کواپنی تکالیف تصور کرے۔ تواُس کے ساتھ وہی سلوک کریگا جو وہ اپنے ساتھ کرنا چاہتا تھا۔ ایک جگہ اورہمارے منجئی  نے اس محبتانہ سلوک کو نہایت توضیح کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ کہ " جوتم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں۔ تم بھی اُن کے ساتھ وہی کرو"۔ اسی فقرہ کو سعدی علیہ الرحمتہ نے یو بیان کیا ہے۔ کہ آنچہ بہ خود نہ پسندی بدیگراں پسند"۔

مقدس پولوس اس محبتانہ سلوک کی نسبت فرماتے ہیں کہ :

"ساری شریعت پر ایک ہی بات سے پورا عمل ہوجاتاہے۔ یعنی اس سے کہ تواپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ"۔ (گلتیوں ۵: ۱۵)۔

مواخات

            ہمارے منجئی نے نہ صرف ہمیں یہ تعلیم دی ہے ۔ کہ ہم دوسروں کے ساتھ محبتانہ سلوک کریں۔ بلکہ ہمیں یہ بھی بتلادیاہے۔ کہ تم دوسرے انسانوں کے ساتھ ہرگز محبتانہ سلوک نہ کرسکوگے۔ جب تک تم یقین نہ کرو بلکہ ایک دوسرے کا بھائی ہے۔ چنانچہ آپ نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ تم خدا کو یوں خطاب کرو۔ کہ" اے ہمارے باپ جب انسان یقین کرتاہے ۔ کہ خدا ہمارا باپ ہے تولازماً یہ یقین کریگا۔ کہ ہم سب خدا کے فرزند ہیں۔ اورجب ہم خدا کے فرزند ہوئے تویقیناً ایک دوسرے کے بھائی ٹھہرے ۔ جب ہم ایک دوسرے کے بھائی ٹھہرے توایک خاندان کے مختلف افراد ہوئے۔ اور ایسے افراد جنہیں اُخوت یعنی برادری کی نسبت اور تعلق ہے۔ جب ایک انسان دوسرے انسان کو اپنا بھائی سمجھنے لگتا ہے۔ تو اُس کے ساتھ وہی سلوک کرتاہے ۔ جوایک نیک بخت بھائی اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ کرنا چاہتاہے۔

          یہی وجہ ہے کہ ہمارے منجئی نے ہمیں یہ تاکید فرمائی ہے۔ کہ چونکہ تُم خدا کے فرزند اورایک خاندان کے افراد ہو۔ اس لئے ہرقسم کے بغض وعداوت اورکینہ توزی سے پرہیز کرو۔

          "اگر کوئی تُم پر لعنت کرے توتم اُس کے لئے برکت چاہو۔ اگرکوئی تمہارے ایک گال پرطمانچہ مارے توتم دوسرا اُس کی طرف پھیردو"۔

          یعنی اگر کوئ تمہیں ایذا پہنچائے اور ستائے توتم خوشی کے ساتھ اُس کی برداشت کرو۔ اورہرگز انتقام لینے کی یانقصان پہنچانے کی کوشش مت کرو۔

          چنانچہ خود ہمارے منجئی نے عملاً ہمیں یہ بتلایا۔ کہ کس طرح ایک مسیحی کودوسروں کے ساتھ محبتانہ برتاؤ کرنامناسب ہے۔ جب آپ کو آپ کے خون کے پیاسے یہودیوں نے رومی گورنر کے ہاتھ گرفتار کروایا۔اورآپ کو ایسی ایسی تکلیفیں اور ایذا ئیں دی گئیں کہ جن کے بیان کرنے سے زبان اور قلم یکسر قاصر ہیں اور بلاآخر آپ کو بے انتہا تکلیف کے ساتھ صلیب پر چڑھایا۔ تواُس وقت عین ایسی تکالیف میں جن کوکوئی انسان برداشت نہیں کرسکتا۔آپ نے یہ فرمایا کہ:

          "اے باپ اُن کومعاف کر۔ کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں(لوقا ۲۳:۳۴)۔

          الغرض چونکہ مسیحی مذہب کی یہ تعلیم ہے۔ کہ ہم سب خدا کے فرزند ہیں۔ اس لئے مسیحیت میں کوئی اعلیٰ وادانےٰ آزاد اور غلام نہیں۔ ۔ بلکہ یہ حیثیت انسان ہونے کے اوراس کے تمام لوازمات کے ہم سب یکساں اورایک دوسرے کے برابر اور بردار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحیت کسی انسان کو دوسرے انسان پر فوقیت اور برتری کے دعویٰ کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ چنانچہ مقدس پولوس لکھتے ہیں کہ:

          "خدا نے دنیا کے کمزوروں کو چُن لیا۔ کہ زور آوروں کو شرمندہ کرے ۔ اور خدا نے دنیا کے کینوں اور حقیروں کوبلکہ بے وجودوں کو چُن لیا کہ موجودوں کو نیست کرےتاکہ کوئی بشر خدا کے سامنے فخر نہ کرے"(۱کرنتھیوں ۱: ۳۷تا ۳۸)۔

-------(۲)-------

مسیحی مذہب مجھے اس لئے پیارا ہے

          کہ یہ انسان کو خدا کے ساتھ ملاتاہے اورہمیں یہ تعلیم دیتاہے۔ کہ انسان کی پیدائش کا مقصد ہی یہی ہے۔ کہ وہ ایک لمحہ کے لئے اپنے خالق اورمالک کی حضوری اور پرتوسے دُور نہ رہے۔

نجات

          انسان کی فطرت میں یہ ایک عجیب بات ہے۔ کہ جب وہ کسی اچھی چیز کو دیکھ لیتاہے۔ تواُس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوجاتی ہے۔کہ وہ اس چیز کے بنانے والے یاکاریگر کوبھی دیکھ لے۔مثلاً اگر آپ کسی اچھی تصویر کودیکھ لیں۔توفی الفور آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوگی کہ کاش میں اس تصویر کے بنانے والے کوبھی دیکھ لیتا اوراس کے ہاتھ چُوم لیتا ۔ جس نے ایسی اچھی تصویر بنائی ۔ اسی طرح جب ہم خدا کی مخلوقات اوران کے نظام اور ترتیب کودیکھتے ہیں اور بالخصوص جب انسان اوراُس کے کے قویٰ پرغور کرتے ہیں۔ توہمارے دل میں خود بخود یہ خواہش اور تمنا پیدا ہوجاتی ہے ۔کہ کاش ہم اپنے خالق اورمالک کوبھی دیکھ لیتے۔اُس کی صحبت اور فیضان سے مستفید ہوتے ۔ اوراُس کے نورانی جلال میں مگن رہتے ۔ لیکن افسوس اور صدا افسوس کہ ہماری یہ تمنا پوری ہوتی نظر  نہیں آتی۔ اگرچہ بہت سے لوگوں نے اس وصلِ الہٰی  کے مختلف طریقےبتلائے ہیں  جن کو ہم مذہب کہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی تشنگانِ معرفت کی پیاس نہیں بجھتی اورہم اپنے مالک کے وصال سے ویسے ہی دُور رہتے ہیں ۔ جس طرح کہ روزِ  اوّل میں دُور تھے۔ آخر کیوں؟

          اس لئے کہ خدا نور ہے اور سراپاپاک ۔ اس لئے کوئی ظلمت آگین گنہگار اورناپاک انسان خُدا کے حضور ٹھہر نہیں سکتا۔اگرہم انسان کے قویٰ کو تحلیل اور تجزیہ  کرکے دیکھیں تومعلوم ہوجائیگا کہ انسان میں بہت سی قوتیں  ہیں۔ جن کا علیحدہٰ علیحدہٰ میدانِ عمل ہے۔ انہیں قویٰ کو عالمان علم اخلاق نے تین بڑی شاخوں میں تقسیم کیا ہے۔ یعنی قوت شہوانی ، قوت غضبی اور قوت ملکی ہیں۔ ان تین قوتوں میں سے پہلی دو قوتوں کا تعلق انسان کی دنیاوی۔خواہشات اور جذبات کے ساتھ ہے۔ صرف آخری  قوت کا تعلق انسان کی روحانی نشوونما کے ساتھ ہے۔ یہی سبب ہے کہ انسان کے دل میں جب نیکی کرنے کا ارادہ پیدا ہوتاہے۔ توباقی دوقوتیں اس کے ارادہ میں مزاحم ہوتی ہیں۔اور بجائے اس کے کہ وہ نیکی کرے۔ بدی اور معصیت میں گرفتار ہو جاتاہے۔ انسان توبہت ہی چاہتاہے کہ وہ خدا کے ساتھ ربط وضبط پیدا کرے۔ خدا کے دیدار سے مشرف ہوجائے۔ لیکن یہ مخالف اور سرکش قوتیں اُس کے دل پر گناہوں کا پردہ ڈال کر اُس کو خدا کے وصل سے محروم رکھتی ہیں۔

          پس جب تک یہ دوقوتیں اپنے کمال میں ہیں۔ اُس وقت تک ممکن نہیں کہ انسان گناہوں سے رہائی حاصل کرسکے۔ پس انسان کا گناہ سے بچنے اورخدا سے ملنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اوروہ یہ ہے کہ قوتِ ملکی کو طاقت پہنچائی جائے۔ تاکہ قوتِ ملکی اپنے حریف اور مخالف قویٰ پر غالب آکر ان کی مزاحمت کوپاش پاش کردے ۔ چنانچہ ہمارے منجئی نے سب سے اوّل یہی کام کیا۔ وہ اپنے ایماندار بندوں کے دلوں کو روح القدس سے معمور کرتے ہیں۔ اورروح القدس کا کام ہی یہی ہے۔ کہ وہ قوتِ ملکی کو الہٰی اورآسمانی طاقت سے بھردیتاہے۔ جب قوتِ ملکی کا تعلق روح القدس کے ساتھ مستحکم ہوجاتاہے۔تب وہ ترقی کرتی جاتی ہے۔کہ باقی قویٰ پر نہ صرف غالب آجاتی ہے ۔ بلکہ باقی قویٰ کا وجود اس کے بالمقابل ایسا ہی معدوم ہوجاتاہے۔ جس طرح آفتابِ عالمتابِ کی درخشانی کے سامنے کرمکِ شب تاب۔

          جب انسان اس روحانی درجہ تک پہنچ جاتاہے ۔ تب وہ اپنے آپ میں ایک زبردست الہٰی طاقت پاکر اپنی خواہشات اورجذبات پر غالب آجاتاہے۔ اُس وقت  اُس کی زندگی خدا کی فرمانبرداری ہوتی ہے ۔ اوراُس کی موت خداکی نافرمانی ۔ اس لئے وہ گناہوں سے متنفر ہوجاتاہے  اورخدا کی رضا جوئی میں شب وروز مشغول اورمہنمک رہتاہے۔ اس انقلابِ عظیم کو مسیحیت میں نئی زندگی کہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے منجئی  فرماتے ہیں کہ:

          " میں تجھ سے سچ سچ کہتاہوں کہ جب تک کوئی نئے سرے سے پیدا نہ ہو۔ وہ خدا کی بادشاہت کودیکھ نہیں سکتا "(انجیلِ شریف  بہ مطابق راوی حضرت یوحنا رکوع ۳: ۳)۔

          جب یہ نئی زندگی انسان کو مل جاتی ہے تواُس میں اور خدا میں جو جدائی کا پردہ حائل تھا۔ پھٹ جاتاہے ۔ عبداور معبود خالق اور مخلوق میں ازسرِنوعاشقانہ اور معشوقانہ راوبط وضوابط قائم ہوجاتے ہیں۔ اور براہِ راست  خدا سے فیض حاصل کرتا رہتاہے ۔ اوراُس کے عرفان اور دیدار میں مست والست رہا کرتاہے۔ چونکہ مسیحی مذہب انسان کو خدا کے ساتھ پھر ملاتاہے ۔ اس لئے میرا مذہب مجھے پیارا ہے۔

------(۳)------

مسیحی مذہب مجھے اُس لئے پیاراہے

خدا شناسی

کہ وہ انسان کے سامنے خدا کی ذات اوراس کی صفات کو اس خوبصورتی کے ساتھ پیش کرتاہے۔ کہ جس سے ہر ایک انسان کو پورا اطمینان اورکامل یقین حاصل ہوتاہے۔ چنانچہ ہر شخص کے دل میں خود بخود یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ" خدا کیا ہے"؟ اس سوال کا تسلی بخش جواب مسیحی مذہب دیتاہے کہ" خدا روح ہے"؟ " خدا محبت ہے" لفظ روح کا صحیح مفہوم بائبل مقدس کی رُو سے یہ ہے کہ خدا ایک ایسی اعلیٰ ہستی ہے جوازخود ہے۔ نہ تو اس کو کسی نے پیدا کیا ہے۔ اور نہ وہ کسی چیز کے سہارے پر قائم ہے۔ نہ وہ کسی کا محتاج ہے۔ بلکہ ازل سے ہے اورابد تک رہیگا۔

خدا کی صفات

مسیحی مذہب ہمیں صرف خداکی ذات ہی نہیں بتلاتا۔ بلکہ یہ بھی  نہایت وضاحت کے ساتھ بتلاتاہے کہ خدا کن صفات سے متصف ہے۔ چنانچہ بائبل مقدس میں لکھا ہے کہ:

          " خدا نے ابتدا میں زمین وآسمان کوپیدا کیا"(توریت شریف کتابِ پیدائش ۱:۱)۔اس میں یہ فرمایا کہ وہ خالق ہے۔  یعنی تمام دیدنی ونادیدنی مخلوقات کو اُس لئے خلق کیا ہے۔ بائبل مقدس نے سب سے اول خدا کی اس صفت کو اس لئے پیش کیا ہے ۔ کہ ان لوگوں کے خیالات کی اصلاح ہوجائے۔ جواپنی ہستی پر اُتراتے ہیں اور ملحدانہ عقائد کی پیروی کرکے ایک اعلیٰ ہستی کے آگے دُعا اور التجا کرنے کو اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں۔یا خدا کو تومانتے ہیں۔ لیکن اُس کو ایک تنکے کا خالق بھی نہیں مانتے ۔ پس تاوقتیکہ ہم خدا کا حقیقی معنوں میں خالق نہ مان لیں۔ اُس وقت تک نہ توہم اُس کی عبادت کرسکتے ہیں۔ اورنہ ہی اُس کے احکام کے آگے سرتسلیم خم کرسکتے ہیں ۔ پھر اس سوال کا کہ" کتنے خدا ہیں" ؟ بائبل مقدس یہ جواب دیتی ہے کہ:

          " سن اے اسرائیل خداوند ہمارا خدا ایک ہی خدا ہے"(استشنا ۶: ۴)۔

          یعنی دوسری صفت یہ بتلائی کہ خدا ایک ہے۔ اُس کا کوئی شریک وسا جھی نہیں ۔ وہ اپنی ذات وصفات میں وحدہ لاشریک ہے۔ پھر خدا کی تیسری صفت یہ بتائی ہے۔ کہ وہ ازلی وابدی خدا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ:

          "یارب پشت درپشت توہی ہماری پناہ گا ہے۔ اس سے پیشتر کہ پہاڑ پیدا ہوئے یا زمین اور دنیا کوتونے بنایا۔ ازل سے ابدتک توہی خدا ہے"(زبور ۱۹: ۱۔ ۲)۔

          خدا کی وحدانیت جس زور کے ساتھ بائبل مقدس ہمیں سکھاتی ہے۔ اُس کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کرسکتی ۔ حضرت موسیٰ کی معرفت جودس احکام خدا نے دئیے ہیں۔ اُس میں پہلا حکم یہ ہے کہ:

          " خداوند تیرا خدا میں ہوں۔ میرے حضور توغیر معبودوں کو نہ ماننا (خروج ۲۰: ۲)۔

خدا کی وحدانیت پر بائبل مقدس میں ہزار سے زائد آئتیں  موجو دہیں۔ لیکن جس وحدت کو بائبل مقدس پیش کرتی ہے۔ یہ وہ وحدت نہیں ہے۔ جوفرضی وحدت ہو۔

          بائبل مقدس خدا کی چوتھی صفت یہ بتاتی ہے کہ وہ ہمسہ جا حاضر وناظر ہے۔ چنانچہ زبور نویس فرماتے ہیں کہ:

          "اگر آسمان پر چڑھ جاؤں توتو وہاں ہے۔ اگر میں پاتال میں بستر بچھاؤں تودیکھ !تووہاں بھی ہے۔ اگرمیں صبح کے پرلگاکر سمندر کی انتہا میں جا بسوں۔ تووہاں بھی تیرا ہاتھ میری رہنمائی کرے گا۔۔۔۔۔ اندھیرا بھی تجھ سے چھپا نہیں سکتا۔بلکہ رات بھی دن کی مانند روشن ہے۔ اندھیرا اور اُجالادونوں یکساں ہیں"(زبور ۱۳۹: ۸۔ ۱۲)۔

بائبل مقدس بتاتی ہے ۔ کہ خدا قادرمطلق ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ :

          "یہ آدمیوں سے نہیں ہوسکتا۔ مگر خدا سے سب کچھ ہوسکتاہے (متی ۱۹: ۲۶)۔

پھر لکھا ہے کہ:

          "اور خدا وند ہمارا خدا قادر مطلق بادشاہی کرتاہے"(مکاشفات ۱۹: ۶)۔

نیز لکھا ہے کہ:

          " خداوند خدائے رحیم اورمہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت اور وفامیں غنی ہزاروں پر فضل کرنے والا ۔ گناہ اور تقصیر اور خطا کا بخشنے والا۔ لیکن وہ مجرم  کوہرگز بری نہیں کریگا ۔ بلکہ باپ دادا کے گناہ کی سزا ان کے بیٹوں اور پوتوں کو تیسری اورچوتھی پشت تک دیتاہے"(خروج ۳۴: ۶تا ۷)۔

          اس میں خدا کو رحیم ، مہربان، فیض ووفا کا رب" بخشندہ عادل اور قہار بتلایا ہے۔ زبور ۹۰ میں خدا کو لاتبدیل اور زبور ۸: ۱ میں خدا کوپروردگار کہا ہے۔

          پھر یسعیاہ ۴۶: ۹۔ ۱۱ میں لکھا ہے کہ:

          " میں خدا ہوں اور کوئی دوسرا نہیں ، میں خدا ہوں اورمجھ سا کوئی نہیں جو ابتدا ہی سے انجام کی خبردیتا ہوں اور ایام قدیم سے وہ باتیں جواب تک وقوع میں نہیں آئیں بتاتا ہوں۔۔۔۔ میں اپنی ساری مرضی  پوری کرونگا ۔۔۔ میں نے اس کا ارادہ کیا۔ اور میں ہی اس کو پورا کرونگا"۔

          ان آیات میں خدا کو وحدہ لاشریک ، بے مثل ، ازلی ، ابدی ، عالم الغیب قادرمطلق اور صاحب  ارادہ کہاہے۔ عالم الغیب کے معنی یہ ہیں کہ خدا ان تمام باتوں کو جواس وقت تک واقع نہیں ہوئی ہیں خوب جانتا ہے ۔ خدا کی اس صفت کی صداقت اس امر پرموقوف ہے۔ کہ اس کے کلام میں پیشینگوئیاں ہوں۔ اوروہ پیشینگوئیاں اسی طرح واقع ہوتی جائیں ۔ جس طرح کہ ان کی ترتیب کا اقتضا ہے۔ بائبل مقدس میں قریباً چھ سو پیشینگوئیاں ہیں۔ جن میں سے سب اپنے اپنے موقع پر پوری ہوئی ہیں۔ اور آئندہ پوری ہوکر رہینگی۔ مثلاً ابراہیم کی نسل کے بڑھ جانے کی۔ بنی اسرائیل کے مصر میں جانے اورواپس آنے کی، بنی اسرائیل کی اسیری  اور ان کی رہائی کی پیشینگوئیاں ۔ بائبل  کی بربادی اورسکندر کی فتحمندی وغیرہ  کی پیشینگوئیاں  اورہمارے منجئی کے متعلق ۵۴ پیشینگوئیاں ہیں ۔ جو لفظ بلفظ  پوری ہوئیں ۔ پس مسیحیت کیا ہے۔ وہ خدا شناسی کا منبع اور محزن ہے۔

ثبوت وجودِ خالق

مسیحی مذہب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے۔ کہ وہ خدا کا وجود جبراً منوانا نہیں چاہتا ہے۔ بلکہ خدا کے وجود کے لئے سینکڑوں دلائل پیش کرتاہے۔ کسی شے کی ہستی ثابت  کرنے کے دوطریقے ہیں۔ یعنی اِنی ولمی، اِنی کے معنی یہ ہیں کہ بنائی ہوئی چیزوں سے بنانے والے کا وجود ثابت کرنا۔ مثلاً کہیں آگ جل رہی ہو اورآپ دُور ہوں تودھوئیں کودیکھ کر آپ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں ۔ کہ وہاں آگ جل رہی ہے یا کسی تصویر کو دیکھ کر آپ فی الفور اس کا یقین کرینگے۔ کہ یہ تصویر خود بخود نہیں بنی ہے۔ بلکہ اس کا کوئی بنانے والا ضرور ہے۔ یہی سیدھا راستہ ہے جوخدا کی ہستی سمجھانے کے لئے بائبل مقدس نے اختیار کیا ہے۔ رومی اور یونانی بُت پرست تھے ۔ اوران کو اپنے علم اور فلسفہ پر بڑاناز تھا۔ مقدس پولوس ان کو لکھتے ہیں کہ:

          " خدا کی اندیکھی صفتیں یعنی ازلی قدرت اورالوہیت دنیا کی پیدائش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہوکر صاف نظر آتی ہیں۔یہاں تک کہ ان کوکچھ عذرباقی نہیں "(رومیوں ۱۱: ۲۰)۔

          حضرت داؤد اجرام سماوی سے خدا کا ثبوت  دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

          " آسمان خدا کا جلال ظاہر کرتاہے اور فضا اس کی دستکاری  دکھاتی ہے۔ دن سے دن بات کرتاہے اوررات کورات  حکمت سکھاتی ہے۔ نہ بولنا ہے نہ کلام ۔ نہ اُن کی آواز  سنائی دیتی ہے۔ اُن کا سُر ساری زمین پر اوران کا کلام دنیا کی انتہا تک پہنچا ہے ۔ اُس نے آفتاب کے لئے اُن میں خیمہ  لگایا ہے ۔ جو دُلہے کی مانند اپنےخلوت خانے سے نکلتاہے ۔ اورپہلوان کی طرح اپنی دوڑ میں دوڑنے کوخوش ہوتاہے ۔ وہ آسمان کی انتہا سے نکلتا ہے۔ اوراُس کی گشت  اُس کے دوسرے کناروں تک ہوتی ہے (زبور ۱۹: ۱تا۶)۔

          یعنی آسمان فضا ، دن رات آفتاب اوراُس کے اثرات  سے خدا کا وجود ثابت ہے۔ کہ یقیناً ان کا کوئی بنانے والا ہے۔

          اسی طرح حضرت ایوب بھی مصنوعات اور مخلوقات کو پیش کرکے خدا کے وجود کا ثبوت دیتے ہیں کہ:

          " وہ (خدا ) پہاڑوں کو ہٹادیتا اوراُنہیں پتہ بھی نہیں لگتا۔ وہ اپنے قہر میں اُنہیں الُٹ دیتا ہے۔ وہ زمین کو اُس کی جگہ سے ہلادیتا ہے ۔ اور اُس کے ستون کانپنے لگتے ہیں۔ وہ آفتاب  کوحکم کرتاہے ۔ اوروہ طلوع نہیں ہوتا۔۔۔۔ اُس نے بنات النعش اور جبار اور ثُریا اورجنوب کے برُجوں کو بنایا۔۔۔۔۔ اور بے شمار عجائب کرتاہے" (ایوب ۹: ۵تا ۱۰)۔

          یعنی وہ پہاڑوں ، اجرام سماوی ، آفتاب، ماہتاب، سیارگان سمندر اوراس کی لہروں ، بنات النعش اور عجائبات بُرج جبار وغیرہ کو پیش کرکے کہتے ہیں کہ بتاؤ یہ کس نے بنائے ؟ اس سے ثابت ہوتاہے۔ کہ دنیا ومافہیا کا ایک خالق ضرور ہے ۔ جس کا کوئی ساجھی نہیں۔ وہ اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج اور دستِ نگر نہیں ہے۔

نتیجہ

          ان تمام دلائل عقلیہ کے بعد بائبل مقدس کہتی ہے کہ:

          "احمق کہتاہے کہ خدا نہیں ہے"(زبور ۱۴:۱)

          جو شخص یہ تمام صفات ولوازمات قانون فطرت کے انتظامات ترتیب وبندوبست کودیکھ کر بھی یہ کہتاہے کہ "خدا نہیں ، وہ احمق ہے۔ خود مخلوقات خدا کی ذات پر گواہی دے رہی ہے۔ پس بائبل مقدس حقیقی  معنوں میں خدا شناسی کا منبع ہے۔ اور عجیب  فلسفیانہ  طورپر عرفانِ الہٰی کی تعلیم دیتی ہے۔

-------(۴)-------

مسیحی مذہب مجھے اس لئے پیارا ہے

انسانی قدرومنزلت

کہ وہ انسان کوایک معمولی اور پس پاافتادہ  مخلوق نہیں ۔ بلکہ اس کو اشراف المخلوقات اورالہٰی پر توکا عکس بتلاتاہے ۔ چنانچہ لکھا ہے ۔ کہ:

          "خدا نے انسان کواپنی صورت پر پیدا کیا"(پیدائش ۱: ۲۷)۔

          اس سے یہ مطلب نہیں کہ خدا مجسم ہے۔ بلکہ یہ کہ جوصفات خدا میں حقیقی طورپر پائی جاتی ہیں۔ وہ ظلی طورپر انسان میں موجود ہیں  یعنی انسان میں عقل ، فراست ، سماعت، بصارت وغیرہ جتنی اچھی صفات ہیں۔وہ خدا کی صفات کے عکس ہیں۔ انسان خدا کی صفات کا آئینہ ہے۔ انسان دیکھتاہے اور خیال کرتاہے۔ کہ میرا بنانے والا مجھے بہتر دیکھتاہے۔ انسان سنُتا ہے ۔ وہ خیال کرتاہے ۔ کہ میرا خالق ضرور مجھ سے بہتر سنتاہے۔ مجھ میں زندگی ہے۔ مگر میرے صانع میں مکمل ترین زندگی ۔ صرف یہی نہیں بلکہ خدا نے سطح زمین کی ہر  ایک چیز  پر انسان ہی کوحکومت کرنے کا اختیار دیا ہےکہ:

          "پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمور ومحکوم کرو، اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اور کل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں۔ اختیار رکھو"(پیدائش ۱: ۲۸)۔

          گویا کہ انسان اس کروہ زمین پر خدا کا خلیفہ اور نائب ہے۔

          مسیحی مذہب معاشرت ، سیاسات ،اورتمدن اور انتہائی تعلیم دیتاہے۔ جس کا مغز اور اُصول متی کی انجیل پانچویں باب سے ساتویں باب کے آخر تک مرقوم ہے۔ معاشرت کے اُصول وہ بنائے۔ کہ دنیا اس سے آگے جاہی نہیں سکتی۔ بتایا کہ جھگڑوں اور فسادوں کوروک دو اور بہترین اصول اس کے لئے یہ قرار دیاکہ:

          "جوتم چاہتے ہو۔ کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں۔ تم بھی اُن سے وہی کرو" ۔

پھرایک اور آیت نے اس کوموکد کردیا۔ کہ ہر انسان تمہارا بھائی ہے۔ ان سے وہی سلوک کروجوبھائیوں پرفرض ہے۔ دشمنوں کے معاملہ میں کہا ۔ کہ ان سے انتقام ہرگز مت لو۔ اگرکوئی تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے تودوسری بھی اُس کے آگے پھیردو۔ یعنی ظلم سہو لیکن ظلم مت کرو۔

اعمال اور نیت

          مسیحی مذہب کا کمال یہ ہے کہ ہرایک کام میں نیبت کو ملحوظ رکھاہے۔ کیونکہ اگر نیت صاف نہیں توافعال صاف نہیں رہ سکتے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ:

          "اگر کسی نے بُری نیت سے کسی عورت پر نظر کی تووہ اپنے دل میں اُس سے زناکرچکا"۔

          نیکی کرنے کی تلقین کی اورکہا کہ :

          "تم دنیا کے نمک ہو"

اورایک جگہ کہا کہ:

          "تم دنیا کے نُور ہو"۔

          یعنی تم دُنیا کے لئے باعثِ اصلاح ہو۔ تم دوسروں کی رہبری کرو۔ اوراُن کے لئے نمونہ بن جاؤ۔ غرضکہ مسیحی مذہب کا ایک ہی مقصد  ہے۔ اوروہ یہ ہے۔ کہ اس کرہ زمین پر آسمانی ابوت اورانسانی اُخوت  قائم کرے۔

خدا کی مرضی

          مسیحی مذہب کی ایک خصوصیت  یہ ہے۔ کہ وہ انسان پرخدا کی مرضی ظاہر کرتاہے کہ:

          "خدا کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا۔ بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے"۔(۲پطرس ۳: ۹)۔

          خدا محبت ہے۔ محبِ محبوب کو تکلیف دینا گوارا نہیں کرتا۔ بلکہ خدا یہ چاہتاہے ۔ کہ ہر انسان اپنے بُرے خیال اور بُرے ارادہ کو چھوڑ کر اُس کے حضور ہمیشہ کی راحت میں ابد الاآبا د تک رہے۔

خلقت اور غائت

          مسیحی مذہب نے دنیا کی پیدائش کی غایت بھی بتادی۔ اکثر سوال کیا جاتاہے ۔ کہ خدا نے دنیا کو کیوں پیدا کیا؟ بائبل مقدس جواب دیتی ہے کہ خدا محبت ہے۔ محبت کا تقاضایہ ہے کہ محبوب ہو۔ محبوب کی موجودگی  میں اظہار محبت ضروری ہے ۔ خدا نے ہمیں اپنا محبوب بنایا ہے۔یہ مت سوچو کہ خدا کو ہم سے عداوت ہے۔ نہیں بلکہ خدا محبت ہے۔وہ یہ چاہتاہے۔ کہ ہم ابدی سُرور میں فرشتوں کے ساتھ رہیں۔ اوراُس کی حمدوثنا میں مشغول رہیں۔


 

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح | Tags: | Comments (0) | View Count: (10103)

Post a Comment

English Blog