en-USur-PK
  |  
02

خدائےِ پاک کے پاک اورالہامی کلام کی صداقت

posted on
خدائےِ پاک کے پاک اورالہامی کلام کی صداقت

 Thursday, May 02, 2013

خدائےِ پاک کے پاک اورالہامی کلام کی صداقت

The truth of the Word of God & it’s Authenticity

عقل سلیم کا کام یہ ہے کہ مخلوقات پرنظر کرنے سے خدا ئے قادر کی ہستی اسکی قدرت وحکمت اوراسکے کمال کی بزرگی جانے۔لیکن وہ تمام مقاصد اور اغراض جوخدائے عزوجل نے انسان کی نسبت  رکھے ہیں  نیز خدا کی مقبول عبادت کے طریقے انسان دریافت کرنے سے قاصر ہے۔ اسی لئے انسانوں کی جماعت میں اختلاف دیکھنے کوملتے ہیں۔ چنانچہ خدائی احسان اورکرم نے ان ہی باتوں کو اعلان اوروحی کے ذریعہ انسان پر منکشف کردیا ہے۔ خدا نے ہمارے بزرگوں کے ساتھ خواب اور رویا کے ذریعہ موسیٰ کلیم کے ساتھ ازلی اعلانات حکمت اورقدرت کے کاموں کے ذریعہ تمام وصایا احکام اور فرائض موجودہ اورآئندہ آنے والے ہندؤں کے ایمان اور عمل کے دستور کے طورپر تحریر کرکے عطا کردئیے ۔ اورچونکہ ہر دور کے انسانوں کی طرح بنی اسرائیل بھی راہ الہٰی سے بھٹکتے رہے تھے ۔خدا نے ہر زمانے میں ایسے بزرگوں کوبرپا کیا جن پر اپنی وحی اتاری تاکہ ان کو قوم کی طرف پھیر لانے کی ذمہ داری دے۔ چنانچہ یہ انبیاءکرام  انسانوں کوعظ اور نصیحت  سنا کر عاقبت کے عذاب سے ڈراکر ۔ خدا کی طرف رجوع لانے میں ترغیب دیتے رہے اور بڑی بڑی باتوں کی پیش  خبری بھی اپنی رسالت کے دعویٰ کے ثبوت میں کلام خدا کی صحت پر مہر کرنے کے لئے طرح طرح کے معجزے دکھاتے رہے۔ ان نبیوں نےحضرت موسیٰ سے لے کر ظہور مسیح سے چار سوسال پہلے کی تمام خدائی  نبوتوں اورالہامی تعلیمات کوکتابوں میں درج کردیا جن کو بنی اسرائیل قوم زندہ خدا کی پاک الہامی کتاب  مانتے ہیں۔ پھر یہ ساری کتابیں تین سوسال قبل از مسیح ایک ہی کتاب میں اکٹھی کردی گئیں اور عنایات الہٰیہ سے آج تک ہرطرح کی تحریف اور تغیر اور تبدل سے سلامت رہ کر محفوظ چلی آئی ہیں۔حتیٰ کہ اب بھی دنیا میں آج تک کوئی ایسی کتاب (بشمول اسلامی قرآن اور احادیث) ہے ہی نہیں جس کی صحت کی بابت اتنی زیادہ شہادتیں موجود ہوں۔

الہامی اور مقدس کتاب کا غایات انسانی (غلطیوں) سے سلامت ہونا!

                        کتاب مقدس (بائبل ) کی قدامت اوراسکے متن کا عبرانی زبان میں وجود ہے ۔اس کے مختلف زبانوں میں جو ترجمے ہوئے ہیں وہ بھی مسیحیوں کےپاس موجود ہیں اورجوبعد میں ترجمے ہوئے ہیں وہ بھی مسیحیوں  کے پاس موجود ہیں اورجوبعد مقابلہ بالکل اصلی متن کے موافق ہیں۔ سوائے چند ایسی جزوی باتوں کے جن سے اساسی تعلیمات میں ہرگز کوئی خلل واقع نہیں ہوسکتا حالانکہ بائبل میں ایسی نبوتیں بھی ہیں جو سیدنا مسیح کی مخالفت اور دشمنی کے اہلِ یہود کے رویوں کوصاف صاف رد کرتی ہیں۔ باوجود ان واضح اختلافات کے نہ یہودیوں نے اورنہ مسیحیوں نے کبھی کوئی تبدیلی کی۔ بائبل مقدس خدا کی حفاظت میں رہ کر ہمیشہ کے لئے سلامت رکھی گئی ہے اور باوجود اختلافات اور دشمنی کے کسی انسانی ہاتھ کو کبھی بائبل میں دست درازی کی جرات نہیں ہوئی۔

          دوم۔ کئی سوبرس پیشتر دی گئی  بائبل مقدس میں الہامی پیشین گوئیاں کچھ توپوری ہوچکی ہیں اورکچھ پوری ہونے کو ہیں۔چنانچہ ہرزمانہ اور ہرصدی کہ جس کے حالات کی نسبت اس میں خبردی گئی ہے اسکی صحت کی مضبوط گواہ ہیں۔ہم کو یقین ہے کہ تمام اسلامی دنیا میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس نے مسیحیوں کے خلاف اس اعتراض کو جواکثر بیان کیا جاتا ہے نہ سنا ہوکہ مسیحیوں نے کتاب مقدس بائبل میں کمی بیشی کرکے بائبل کو بگاڑ ڈالا ہے۔اگرچہ مکار اور دغاباز اور جھوٹے لوگوں کے ایسے بے بنیاد اور بے وجود الزامات قابل توجہ نہیں توبھی مسیحیوں کی جانب سے بارہا اس گناہ آلودہ اورناپاک اور گھنونے  جھوٹے الزام کی تردید کی گئی ہے۔ اورہم کو یقین نہیں کہ یہ جو دورجہالت کا جھوٹا الزام ہم مسیحیوں پرلگایا جاتاہے کوئی تعصب سے بالا روشن قلب  اسلامی عالم اس نکمے اور شرانگیز  اورشیطانی فریب آلودہ الزام کی صداقت  کا دل سے قائل ہوبھی سکے۔درحقیقت اسلامی عالم الہامی کتاب مقدس بائبل اوراسلامی کتاب قرآن میں موافقت (یکسانیت ) نہ پیدا کرسکنے کے سبب سے مجبوراً مسیحی دنیا پر تحریف کا باطل الزام لگاتاہے۔ قرآن تو خود بائبل مقدس کے الہامی ہونے پر گواہ ہے۔ مگرپھر مقدس بائبل اور قرآن میں واضح  فرق کیوں ہے؟ کیاہرایک سچا اور حقیقی مسلمان بائبل مقدس پر قرآن کی شہادت مان لے اور خود اسلامی کتاب قرآن کا انکار کرے؟ یا قرآن کی شہادت صحتِ بائبل مقدس کا انکار کرکے خود قرآن شریف کا منکر بنے؟پس اس متعدد عقدہ لایخل(مشکل بات جوحل نہ کی جاسکے) سے بچنے کے لۓ مسلمان دوست اپنے مسیحی بھائیوں پر بائبل مقدس کی نام نہاد تحریف کا جھوٹا الزام لگاکر قرآن کےراقم کوبھی جھوٹا ٹھہرانے سے باز نہیں آتے۔

          بائبل مقدس کی تحریف سے متعلق اس بالکل ہی (سفید) جھوٹ الزام  کے اعتبار سے مسلمان خود تین جماعتوں میں تقسیم ہیں۔ اول وہ یہ جانتے ہیں کہ بائبل کی تحریف کا یہ الزام بالکل ہی غلط ہے۔ دوسرے وہ جو اس کے قائل ہیں کہ یہ جھوٹا الزام سچ ہے۔ تیسرے وہ جو اس تحریف کے جھوٹے الزام کی راستی اورناراستی سے اپنی کم علمی اور مذہبی تعصب اوراپنی مشہور زمانہ جہالت کے باعث ناواقف ہیں۔ پہلی قسم کے مسلمان سچی الہامی حقیقت سے خوب واقف ہیں کہ توریت اور زبور اور انبیاء کے صحائف  اورپاک انجیل واقعی سچے اور الہامی اور ہر طرح کی انسانی تحریف اور بگاڑ کے نام نہاد اورجھوٹے انسانی الزامات  سے پاک اورمبرا ہیں۔خدا کرے کہ آپ (قاری) بھی اسی جماعت میں شامل ہوں۔ دوسری قسم کے مسلمان تجاہل(ناپاک ارادہ اور شیطانی نیت سے عمداً انجان بنتے اورٹالنے کی کوشش) کرتےہیں۔ اور تیسری اسم کے مسلمان عادتاً یا رواجاً (عادت سے مجبور اور جھوٹے موجودہ رواج کے خوف میں آکر اورجھوٹی انسانی روایات  کے پیش نظر )بغیر کسی طرح کے غور اور خوض یہ جھوٹا اورنام نہاد الزام لگاتے ہیں۔ان سے پیشتر کے لوگ یہ جھوٹا الزام لگاتے چلے آئے ہیں اورمسلمان کی یہ جماعت صرف ان پہلے کے لوگوں کی تقلید اورنقل کرتی ہے۔ ان کو اس الزام کے تحقیقی یا الزامی ہونے سے کچھ واسطہ نہیں اورخدا سے دعا ہے کہ پہلی جماعت کے ساتھ ساتھ آخری دوقسم کے مسلمان لوگ بھی حقیقی راہ اورحق اور زندگی سے واقف ہوجائیں۔اس لئے کہ پہلی قسم کے لوگوں پر سچائی روشن تو ہے مگر صرف بحث کی غرض سے وہ حجت کرتے ہیں۔ لیکن آپ (قاری اورناظرین) محبت اور سچائی سے سوچیں!

          1۔ کیا حضرت محمد کے زمانہ میں بائبل مقدس صحیح اور درست تھی؟

          2۔ اگر بائبل مقدس درست تھی اوراس سے انکار ممکن نہیں توکیا حضرت محمد کے زمانہ میں بائبل مقدس میں تبدیلی یا تحریف ہوئی؟

          3۔ کیا مسلمان حضرات بائبل کا کوئی بھی ایسا نسخہ پیش کرسکتے ہیں جو حضرت محمد کے زمانہ کا ہو یا اس سے پیشتر کا ہو اور موجودہ مروجہ بائبل مقدس سے مختلف ہو؟

          4۔ اس بات کو جانتے ہوئے کہ یہودیوں اورمسیحیوں میں آسمان اور زمین کا فرق ہے کیا یہ بات قیاس میں آسکتی ہے کہ ان دونوں فرقوں نے مل کر الہامی بائبل مقدس میں تحریف یا تبدیلی کی ہو؟ آپ  یقین سے جانتے ہیں کہ ان سوالات کا کوئی جوات نہیں ہے۔

          (آیت الرجم یا کسی اور موضوع) سے متعلق تحری کا الزام بائبل مقدس پر صادق نہیں آتا بلکہ آیت الرجم قرآن سے نکال ڈالی گئی ہے اور یوں ہمارے مسلمان دوستوں کا الزام ہے کہ توریت شریف اور زبور شریف اور صحائف انبیاء  اور انجیل شریف جس طرح  حضرت محمد کے زمانہ میں ہر طرح کی تحریف (ایک حرف کی جگہ دوسرے حروف کورکھنا) سے پاک اور مبرا تھی اوراب بھی ہے اورسچی الہامی حالت میں رہے گی بھی۔

          محترم قاری اور ناظرین! یہ دلائل کتابِ مقدس یعنی بائبل کی کامل صحت کے کافی گواہ ہیں ۔ جب آپ بائبل مقدس کی صحت اورسالمیت پر یقین کرلیں گے توآپ ان باتوں پر بھی جوبائبل مقدس میں خدا کے روح اورخدا کے کلام کی قدرت سے ثبت کی گئیں  اورانبیاء اورسیدنا مسیح کے صحابہ کرام  کی معرفت روح القدس کی تحریک سے لکھی گئیں ایمان لائیں گے۔ خدا کی ایک ہی راہ اورایک ہی دین ہے جیسا کہ وہ خود بھی ایک ہے۔ دنیا کے سارے مذاہب اور عقیدے جومختلف اورمتضاد میں کیا وہ سب کے سب خدا کی طرف سے ہیں اوراس کی مرضی کے مطابق ہیں ؟ یقیناً نہیں۔ حالانکہ ہرمذہب والا یہی خیال کرتاہے کہ اس کا دین جو ہے وہ دینِ حق ہے۔ اس معمہ کا ایک ہی علاج ہے کہ ہم پورے دل ساری عقل سے اوراپنی تمام جان سے اوراپنی ساری طاقت سے خدا کے مقدس اورالہٰی نوشتہ یعنی بائبل مقدس کی طرف جوخدا کی راست بازی (راہ حق اور زندگی ) کا حقیقی سرچشمہ ہے رجوع کریں۔

          اوپر دئیے گئے دلائل کی بنا پر اگرآپ بائبل مقدس کی صحت کو تسلیم کرلیں تولازم آتاہے کہ سیدنا مسیح کوبھی آپ اپنا شخصی نجات دہندہ اوراپنا منجی قبول کرکے مردوں میں سے زندہ ہونے والے المسیح پر ایمان لا کر مسیح کی تعلیمات کوقبول کرکے ان کی پیروی کرنا شروع کرسکیں۔کیونکہ صرف اور صرف سیدنا مسیح کی نسبت ہی سچی اورحقیقی توریت زبور اورسچی حقیقی مسیح کی انجیل میں بڑی واضح روشن اور لفظی اورمعنوی شہادتیں ہیں جومکمل طورپر مسیحیت اوراسلام میں ناقابل انکار ہیں۔ سیدنا مسیح ہی کی نسبت طرح طرح رموز اور اشارات اورکنائیے ہیں جو سوائے سیدنا مسیح کے اورکسی کے حق میں صادق ہی نہیں آتے۔ درحقیقت  سیدنا مسیح ہی سچے منجی اورہم سب انسانوں کے نجات دہندے  اور شافی اورمسیحا اور پروردگار عالم کے سامنے ہم سب کی شفاعت کرنے والے ہیں۔ آمین ثم آمین! سیدنا مسیح کے دین کی بابت عقیدہ یہ ہے کہ مسیح نے جو کلمتہ اللہ ہیں اپنی ذات سے اپنی قدرت کے وسیلہ سے جسم ونفس انسانی اختیار کیا اس لئے مسیح وہ دوطبیعتیں  متحدہ ہوگئیں یعنی انسانی طبعیت اورالہٰی طبعیت ۔ اُن کی الہٰی طبعیت پر کسی عرض کا مثلاً بھوک  تکلیف رنج والم وموت کا دخل نہیں۔ لیکن اُن کی انسانی طبعیت پر انسانی دکھ کا واقع ہونا عین فطرتی تھا۔ انجیل شریف میں مرقوم ہے کہ کلمہ مجسم ہوا اور ابن اللہ نے جسمانی لحاظ سے حضر ت داؤد  کی نسل سے پیدا ئے اورآپ نے دکھ اٹھایا اورجسم کے لحاظ سے سیدنا مسیح انسان کے گناہوں کے کفارہ کے لۓ مارے گئے ۔ اس کی مثال یوں ہی ہے جیسے آگ کپڑے کو توجلادیتی ہے لیکن زری اور سورنے کی تار کوکوئی ضرر نہیں پہنچتا۔ اس کی موت کی تکلیفوں نے صرف مسیح کی انسانی طبعیت پر تواثر کیا لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں تھاکہ آپ کی الہٰی طبعیت پر کچھ اثر ہوتا ۔ کیونکہ کسی مخلوق کی کیا طاقت  اورجرات کہ خالق کوضرر پہنچائے۔ دونوں طبعیتوں کے اتحاد والے شخصی مسیحا کی ذات واحد انسانی عقل کے ادراک سے باہر اگر معلوم ہوتی توبھی اللہ کی کاملیت میں کوئی نقص عائد نہیں ہوتا بلکہ یہ خدا کی محبت کے کمال کا اظہار ہے کہ خلقت انسانی کو اپنا پیارا بیٹا بخش دیا جس سے خدا کے عدل اور خدا کے رحم کے تقاضے  پورے ہوئے۔ صلیب فقط  مسیح کی انسانی طبعیت  پر واقع ہوئی بموافق  مشئیت الہٰی  تاکہ اپنے پاک روحانی اکلوتے بیٹے کے پاک کفارہ اور فدیہ کے خون سے گنہگارانسان کاکفارہ اور فدیہ دے اوراپنی بے بیاں خداوندی محبت کا اس دنیا میں مظاہرہ کرے۔ پروردگار عالم کی مرضی روزِ اول سے ہی مقرر ہوچکی تھی کہ بشر انسانی کی نجات اسی طرح کی جائے گی تویہ بات کیسے ٹل سکتی تھی۔ اورسیدنا مسیح ہی ایک ایسی الہٰی ہستی تھیں جن میں خدا کا عدل اور رحم یکجا ہوا اور سیدنا مسیح نے تجسم لیا اورجسم میں صلیبی موت کا دکھ اٹھایا اور تیسرے دن مردوں میں سے زندہ جی اٹھ کر ہم سب کو گناہ اورموت سے آزاد کیا ۔ بشرطیکہ ہم خدا کے اس نجات بخش کام اور سیدنا مسیح پر اوراس کے پاک کلام  انجیل شریف پر کامل ایمان لے آئیں۔اور سادہ ایمان اور اقرار سے یہ نجات آج میری اورآپ کی ہوسکتی ہے۔ اگر صرف دل اورجان اور روح اور عقل سے ہماری زبان یہ اقرار کرے " اے خدا میں آپ کی نظر میں آدم اور حوا کے میروثی گناہ اوراپنے گناہوں اور بدی اور ناراستی کے باعث روحانی طورپر مردہ ہوں اور آپ کے پاک حضور اپنے تمام گناہوں اور بدی سے سچی توبہ کرکے ان کو ہمیشہ کے لئے ترک کرتاہوں۔میں آپ کا شکر گزار ہوں ابن اللہ میرے میرے گناہوں کے لئے صلیب پر مر گئے اور آپ کی روح اور آپ کے کلام کی قدرت سے سیدنا مسیح تیسرے دن مردوں میں سے زندہ ہوگئے تاکہ میں سیدنا مسیح میں گناہوں سے نجات پاؤں اورایمان ہی سے سیدنا مسیح میں ابدی حیات پاؤں۔ آپ کا کلام (توریت اورانجیل ہی ) سچا اور برحق ہے!آمین۔ اب سے سیدنا مسیح میرا اور ساری دنیا کا آقا ومولا اور نجات دہندہ ہے۔ اب میں منتظر ہوں جب آپ زندوں اور مردوں کا انصاف کرنے آرہے ہیں ۔ اے میرے آقاو مولا جلد آئیے ۔ آمین

 

Posted in: بائبل مُقدس | Tags: | Comments (0) | View Count: (10000)

Post a Comment

English Blog