en-USur-PK
  |  
02

مسیح کی دوسری آمد یا نزول مسیح

posted on
مسیح کی دوسری آمد یا نزول مسیح

هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن يَأْتِيَهُمُ اللّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآئِكَةُ وَقُضِيَ الأَمْرُ وَإِلَى اللّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ

(القرآن سورہ بقرہ ۲۱۰ )

.When the Son of Man comes in his glory,

and all the angels with him, he will sit on his throne in heavenly glory

(Matthew 25:31)

Second Coming of Christ

A Tract for Muslim’s Brethren

By

Sultan Muhammad Khan Paul

مسیح کی دوسری آمد یا نزول مسیح

نزول مسیح

ہمارے آقا ومولا سیدنا مسیح کی دوسر ی آمد کےلئے نہ صرف عیسائی ہی ترستے ہیں بلکہ تمام جہان ۔ اورہمارے مسلمان بھائی تو سیدنا مسیح کی مبارک آمد کے لئے  اس طرح منتظر ہیں جس طرح لوگ سخت گرمی اوربارانِ رحمت کے انتظار میں آسمان کی جانب دست دعا اٹھاتے اورکمال عاجزی کے ساتھ  آٹھ آٹھ آنسوبہا کے اور چلا چلا کر کہتےہیں کہ  یا الہیٰ بھیج بھیج اوربہت جلد بھیج ۔

دوسری آمد کا اثر

          ناظرین خیال فرماتے ہونگے کہ سیدنا مسیح کی دوسری آمد کا کیوں اس قدر انتظار ہوتاہے؟ اوراس کی کیا وجہ ہے کہ عیسائی اورمسلمان دونوں یکساں اس کی دوسر آمدی پر یقین رکھتے ہیں؟ ہم عرض کرتے ہیں کہ جس طرح بارش کی آمد سےزمین  سرسبز وشاداب ہوجاتی ہے ۔ ہر پودے میں نشوونما  کی قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔خشک اور مرُدہ  زمین ایک طرح کی زندگی حاصل کرکے خطہ کلزار  بن جاتی اور دنیا میں ایک عجیب راحت اطمینان اور سکون پیدا ہوکر گویایہ زمین  بالکل دوسری زمین بن جاتی ہے اور اسی طرح سیدنا مسیح کی تشریف  آوری سےروحانی مرُدوں میں زندگی پیدا ہوگی اور یہ پژمردہ اور خشک  پودہ روحانی نموحاصل کرکے  ازسرِ نوسرسبز  شاداب  ہوکر لہلہائیگا۔ زمین پر صلح  اور سلامتی ہوگی ۔ اُس وقت  نہ موت ہوگی اور نہ رنج اورنہ مصیبت  ہوگی اورنہ تکلیف ۔ نہ لڑائی  ہوگی اور نہ جھگڑے ۔ گویاکہ  یہ زمین جو اس وقت  دوزخ کا نمونہ بنی ہوئی ہے اُس وقت جنت کا طبقہ بن جائیگی۔ چنانچہ قرآن شریف میں سورہ ابراہیم کی 48آیت میں لکھاہے :

يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُواْ للّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ

ترجمہ: یعنی مسیح کی دوسری آمد کے وقت یہ زمین دوسری زمین سے اورآسمان سے بدل جائینگے"۔ انجیل میں لکھاہے کہ " پھر میں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ  پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہتی تھی"(مکاشفہ باب ۲۱آیت ۱)۔غرض کہ وہ عجب سرور اور خوشی کا دن ہوگا جس کا مفصل بیان ہمارے احاطہ قلم سے باہر ہے ۔

قرآن وانجیل  کی ہمنوائی

          یہ ایک لطف کی بات ہے کہ انجیل میں جتنے بیان سیدنا مسیح کی آمد کے متعلق لکھے ہوئے ہیں وہ سب کے سب لفظ بلفظ  خود قرآن شریف اور صحیح احادیث میں موجود ہیں۔ چنانچہ ذیل میں ہم ایک نہایت صحیح حدیث کا ترجمہ نقل کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ جب سیدنا مسیح  پھر آئینگے تو وہ کس طرح شیطان اور دجالِ لعین کومار کر واصل جہنم کردینگے اوردنیا کو عدل اوربرکت سے بھردینگے۔

حدیث کا بیان

          حضرت نواس بن سمعان فرماتےہیں کہ رسول اللہ  نے دجال کا ذکر فرمایا: کہ وہ ملک شام اور عراق کے راستہ سے آئے گا اور دائیں بائیں طرف فساد پھیلائیگا۔۔۔۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ زمین پر ٹھہرنے کا اُس کا کتنا زمانہ ہوگا آپ نےفرمایا چالیس دن ایک دن  ایک برس کے برابر اور ایک دن ایک مہینے کے برابر اورایک دن ایک ہفتہ کےبرابر ہوگا۔ اورباقی دن تمہارے  دنوں کے برابر ہونگے۔ پھر ہم نے عرض کیا یا رسول زمین پراس کے جلد چلنے کی کیا کیفیت  ہوگی؟ آپ  نے فرمایا مینہ  کی طرح ہوگی جبکہ اس کے ساتھ پیچھے سے ہوا آتی ہے۔ پھر وہ ایک قوم کے پاس آکے اُنہیں اپنی طرف بلائے گا۔ وہ لوگ اس پر ایمان لائینگے ۔پھر وہ بادل کو حکم دیگا تو ان بادلوں سے زمین پر مینہ برسے گا اور زمین اناج اُگائیگی۔ پھر اُن کے مویشی  جو صبح کو چرنے گئے تھے شام کے وقت  اس طرح واپس آئینگے  کہ اُن کی کوہانیں اُس سے زیادہ لمبی ہونگی جیسے  کہ تھیں اوراُن کے تھن خوب بھرے ہوئے اور کو کیں خوب تنی ہوئی ہونگی ۔ پھر ایک اور قوم کے پاس جائے گا اورانہیں اپنی طرف بلائے گا۔ وہ لوگ اس کا قول رد کردینگے تو وہ اُن کے پاس سے پھر جائے گااور وہ لوگ  قحط زدہ ہوجائینگے  اوربالکل مفلس،  پھر دجال ویرانہ میں جائے گا تو ویرانہ  سے کہیگا  اپنے خزانے  نکال ڈال۔ چنانچہ  تمام خزانے  زمین سے نکل کر اس کے پیچھے  ایسے چلینگے جیسے شہد کی مکھیوں کے سردار  کے پیچھے  مکھیاں چلتی ہیں۔ پھر دجال  ایک جوان آدمی کو بلائیگا اوراسے تلوار مار کرایک تیر کی مسافت  پر اس کے وہ ٹکڑے  کرکے پھینک دیگا۔ پھر اسے پکاریگا وہ زندہ ہوکر اسکے پاس جائے گا اور اس کا چہرہ چمکتا اور وہ ہنستا ہوگا۔ دجال اسی حال  میں ہوگا کہ خداوند کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجیگا اور وہ شرقی جانب کی طرف سے  منارتہ  البیضا  (سفید گنبد) پر اترینگے ذرد رنگ  کے وہ کپڑے  پہنے ہوئے  اپنے ہاتھ دوفرشتوں کے بازوؤں  پر رکھے ہوئے ہونگے۔ جس وقت اپنا سر جھکا ئینگے تو پسینہ  ٹپکیگا اورجب سر اونچا کرینگے  تو اس سے چاندی کے دانوں جیسے موتیوں کی طرح  قطرے  ٹپکینگے  ۔ جس کا فر کو سانس (تھسلنیکیوں ۲: ۸) کی ہوا ملیگی وہ ضرور مرجائے گا اورانکا دم وہاں تک پہنچیگا جہاں تک  اُن کی نظر پہنچیگی۔ پھر حضرت عیسیٰ دجال کو ڈھونڈینگے اوراسے مقام لدہ کےدروازہ پرپاکر اُسے مارڈالینگے۔پھر یا جوج ماجوج کو اللہ بخشیگا جو زمین پر بہت  ہی بدی اور فساد برپا کرینگے ۔ حضرت عیسیٰ اپنے تمام ایمانداروں کو لے کر کوہ طور  کی طرف جائینگے۔ ۔۔۔۔ پھر حضرت عیسیٰ دعا کرینگے  تو خدا اُن کے گردوں میں کیڑے بھیج دے گا۔ پھر وہ سب مر جائينگے ۔پھر حضرت عیسیٰ کوہ طور سے اُترینگے۔ اورایک بالشت بھر زمین ایسی نہ پائینگے جسے ان کی چربی اوربدبو نے بھردیاہو۔ پھر حضرت عیسیٰ  خدا سے التجا کرینگے تو خدا  ایسے جانور بھیجدیگا جن کی گردنیں بختی  اونٹ  کی گردنوں  کی طرح ہونگی وہ  انہیں اٹھا کے جہاں خدا چاہیگا وہاں پھینک  دینگے۔ ۔۔۔پھر خدا ایسا مینہ  بھیج دیگا کہ زمین کو دھوکر  آئينہ  کی طرح صاف کردیگا۔ پھر زمین کو ارشاد  ہوگاکہ اپنے پھل  نکال اور مبارک ہو"(انتہی ملحض  مشکوات باب علامات القیامتہ)

          ناظرین اگر آپ حدیث بالا کو مکاشفات کی کتاب سے مقابلہ کریں تو آپ کو معلوم  ہوگا کہ حدیث بالا کتاب مکاشفات کا ایک مختصر اقتباس ہے۔

قرآن شریف کا بیان:

          اب ہم ذیل میں سیدنا مسیح کی دوسری آمد کی بابت  قرآن شریف کے چند اقتباسات  یوں پیش کرینگے کہ ایک کالم میں انجیل  شریف کی اوراُس کے مقابل کےکالم میں قرآن شریف کی آیتیں ہونگی۔ انجیل کی آیات قرآن شریف کا لفظ  بلفظ  اور صحیح ترجمہ ہیں کیونکہ  یہ وہ آیتیں  ہیں جو انجیل شریف سے ماخوذ  ہیں لیکن اُن لوگوں کی تسلی کیلئے جو عربی نہیں جانتے ہیں ساتھ ہی ترجمہ بھی کرتے جائينگے۔

 

 

پس اس میں  شک کی گنجائش نہیں کہ سیدنا مسیح کی دوسری آمد پر عیسائی اور مسلمان دونوں  کا ایمان ہے اور دونوں  کے نزدیک  یہ مسلم ہے کہ اس وقت  تک دنیا کو اطمینان  نصیب نہیں ہوسکتا جب تک سیدنا مسیح پھر تشریف نہ لائیں۔ اے کاشکے ہمارے مسلمان بھائی  اس امر کو محسوس کریں اور  اس ہوشیار اوردیانت داری  خادم کی طرح  تیار رہیں کہ جس کے آقا نے سفر سے پھر آکر اس کو مبارک باد اور بشارت دی اور یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا  جب تکہ بردارانِ اسلام انجیل پر عمل نہ کریں اور سیدنا مسیح کو اپنا منجی تصور نہ کرلیں۔

مسیح کی دوسری آمد کی صورت

          اب یہ امر قابلِ غور ہے کہ ہمارے منجئی سیدنا مسیح کس طرح اور کس حالت میں تشریف لائینگے  ۔ اس کے متعلق  انجیل میں یوں لکھا ہے کہ" یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے اسی طرح پھرآئے گا جس طرح تم نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھاہے"(اعمال الرسل ۱: ۱۱)۔

          آیت بالا سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جس طرح سیدنا مسیح یہاں سے گئے تھے اُسی طرح واپس تشریف لائینگے ۔اب یہ  بات کہ سیدنا مسیح کس طرح گئے تھے انجیل لوقا کے آخری باب کی آخری چار آیتیں ملاحظہ ہوں" پھر آپ انہیں بیت عنیا کے سا منے تک  باہر لے گئے اور اپنے ہاتھ اٹھا کر انہیں برکت دی۔  جب آپ انہیں  برکت دے رہے تھے تو ایسا ہوا کہ ان سے جدا ہوگئے اور آسمان پر اٹھائے گئے  اور صحابہ کرام آپ کو سجدہ کرکے بڑی خوشی سے یروشلم کو لوٹ گئے  اور ہر وقت بیت اللہ  میں حاضر ہوکر پروردگار کی حمد کیا کرتے تھے۔

          پس ظاہر ہے کہ جب سیدنا مسیح تشریف لائینگے توبرکت دیتے ہوئے آئینگے اورکس قدر جائے مسرت اور مقامِ شادمانی  ہے کہ ہماری یہ منحوس اورہلاکت  ومصیبت زدہ دنیا جوہر طرف سے گناہ کی ظلمت اور  کدورت سے گھری ہوئی ہے سیدنا مسیح کی آمد ثانی سے مبارک نورانی،  روحانی اور مسرت بخش دنیا بن جائیگی  اُس وقت ہم کہہ سکینگے  کہ ہم مبارک دنیا کے رہنے والےہیں اسی مضمون  کی طرف قرآن شریف نے یہ لطیف  اشارہ کیا ہے :

          إِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

          ترجمہ: جبکہ خدا نے کہا کہ اےعیسیٰ میں تجھ کومارنے والا ہوں اورتجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کافروں سے پاک کرنے والاہوں اورتیرے پیروؤں کو قیامت کے دن تک کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں۔(سورہ آل عمران آیت ۵۳)

 یہ ایک عجیب آیت ہے جس میں صاف تحریر ہے کہ مسیحی قیامت  تک کافروں پر غالب رہیں گے۔ مگر افسوس ہے کہ ایسی صریح آیت کے ہوتے ہوئے بھی ہمارے مسلمان بھائی اس پر غور نہیں فرماتے ۔ اگر کسی مسلمان کو قرآن شریف پر ایمان  ہےتو اُس کو اُس پر بھی ایمان رکھنا ازروئے آیت مذکور فرض ہے۔

سلطان

 

 

انجیل شریف

قرآن شریف

اور فوراً ان دنوں کی مصیبت  کے بعد سورج تاریک ہوجائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے  آسمان سے گریں گے اور آسمانوں کی قوتیں  ہلائیں جائیں گی ۔ اور اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر  دکھائی دے گا۔اور اس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹيں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور عظمت کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔ اور وہ نرسنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ اس کے برگزیدوں  کو چاروں طرف  سے آسمان کے اس کنارے سے اس کنارے تک جمع کریں گے ۔(متی ۲۴: ۲۹تا ۳۱)

 

إِذَا السَّمَاء انفَطَرَتْ وإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْ وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ۔(سورہ انفطار)۔

ترجمہ:جبکہ آسمان پھٹ جائے اورجبکہ ستارے جھڑ پڑیں اورجب دریاؤں کو بہادیاجائے۔

(سورہ انفطار)۔

إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ

 (سورہ تکویر)۔

ترجمہ : جب آفتاب سیاہ ہوجائے اورتارے جھڑپڑیں۔

هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن يَأْتِيَهُمُ اللّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآئِكَةُ وَقُضِيَ الأَمْرُ وَإِلَى اللّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ

 (سورہ بقرہ آیت ۲۱۰)۔

کیا یہ لوگ اس کے منتظر ہیں کہ خدابادلوں میں  فرشتوں کے ساتھ آئے اورامور کا فیصلہ ہوجائے اورسب کام خدا کے حوالے ہیں ۔

وَجَاء رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا۔

(سورہ فجر)۔

ترجمہ: تمہارا خدا آئےگا اور فرشتے صف بصف (اُس کےآگے آگے ہوں گے)۔

انجیل شریف

قرآن شریف

۲۔ اورجب اس نے چھٹی مہر  کھولی تو میں نے دیکھا کہ بڑا بھونچال  آیا اور سورج کمل کی مانند کالا اور چاند خون سوہوگیا۔۔۔۔ اورآسمان اس طرح سرک گیا جس طرح مکتوب  لپیٹنے  سے سرک جاتاہے ۔(مکاشفات ۷: ۲۔ ۱۴

۳۔ پھر میں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان  اورپہلی زمین جاتی رہی تھی( مکاشفات باب ۲۱آیت ۱)۔

 

 

 

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ

ترجمہ: لوگو اپنے خدا سے ڈرو کیونکہ  قیامت کا بھونچال  ایک بڑی مصیبت ہوگی (سورہ حج آیت ۱)

يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاء كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ

ترجمہ: ہم آسمان کو اس طرح لپٹ ینگے  جیسے خطوں کا مکتوب لپیٹ لیا جاتاہے۔(سورہ انبیاء آیت ۱۰۴)

يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُواْ للّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ

ترجمہ: زمین دوسری زمین سے اوریہ آسمان دوسرے آسمان سے بدل جائينگے(سورہ ابراہم آیت ۴۸)

انجیل شریف

قرآن شریف

جب ابن آدم اپنی عظمت میں آئے گا اور سب فرشتے اس کے ساتھ آئیں گے تب وہ اپنی بزرگی کے تخت پر بیٹھے گا۔(۳۲) اور سب قومیں  اس کے سامنے جمع کی جائیں گی اور وہ ایک کو دوسرے سے جُدا کرے گا جیسے چرواہا  بھیڑوں کو بکریوں سے جُدا کرتاہے ۔(۳۳) اور بھیڑوں  کو اپنے  دہنے او ربکریوں کو بائيں  کھڑا کرے گا۔ (۳۴) اس وقت بادشاہ اپنے دہنی طرف والوں سے کہے گا آؤ میرے پروردگار کے مبارک لوگو جو بادشاہی بنائی عالم سے تمہارے لئے تیار کی گئی ہے اسے میراث میں لے لو۔(۳۵)کیونکہ میں بھوکا تھا ، تم نے مجھے  کھاناکھلایا ، میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا، میں پردیسی تھا، تم نے مجھے اپنے گھر میں اتارا ۔ (۳۶) ننگا تھا تم نے مجھے کپڑا پہنایا ، بیمار تھا تم نے میری خبر لی ، قیدمیں تھا ، تم میرے پاس آئے ، (۳۷) تب دیانتدار جواب میں اس سے کہیں اے مولا ہم نے کب آپ کو بھوکا دیکھ کر کھانا کھلایا، پیاسا دیکھ  کر پانی پلایا؟ (۳۸) ہم نے کب آپ کو پردیسی دیکھ کر گھر میں اتارا ؟ یا ننگا دیکھ کر کپڑا پہنایا؟ (۳۹) ہم کب آپ کو بیمار دیکھ کر آپ کے پاس آئے ؟ (۴۰) بادشاہ جواب میں ان سے فرمائے گا میں تم سے سچ کہتا ہوں جب تم نے میرے ان سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے کسی کےساتھ یہ سلوک کیا تو میرے ہی ساتھ کیا۔(۴۱) پھر وہ بائیں  طرف والوں سے کہے گا اے ملعونو میرے سامنے سے اس ہمیشہ کی آگ میں چلے جاؤ جو ابلیس اور اس کے فرشتوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ (۴۲) کیونکہ میں بھوکا تھا، تم نے مجھے کھانہ کھلایا،پیاسا تھا، تم نے مجھے پانی نہ پلایا ۔(۴۳) پردیسی تھا تم نے مجھے گھر میں نہ اتارا ، ننگا تھا، تم نے مجھے  کپڑا نہ پہنایا ، بیمار اور قید میں تھا ، تم نے میری خبر نہ لی، (۴۴) تب وہ بھی جواب میں کہیں گے اے مولا !ہم نے کب آپ کو بھوکا یا پیاسا یا پردیسی یا ننگا یا بیمار یا قید میں دیکھ کر آپ کی خدمت نہ کی ؟ (۴۵) اس وقت  وہ ان سے فرمائے گا  یہ  میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تم نے ان سب سے چھوٹوں میں سے کسی کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا تو میرے ساتھ نہ کیا؟ (۴۶) اور یہ ہمیشہ کی سزا پائیں گے مگر دیانتدار  ہمیشہ کی زندگی ۔(متی  25 : 31تا 46)

صحیح مسلم کتاب البرواصلتہ والارب  میں ابوہریرہ کی حدیث کا ترجمہ ملاحظہ ہو:

فرمایا رسول اللہ نے اللہ تعالیٰ   قیامت کے روز کہیے گا اے آدم کےبیٹے میں بیمار تھا مگر تونے میری عیادت  نہ کی وہ کہے گا اے رب میں کیسے تیری عیادت کرتا تو توسارےجہان  کا مالک ہے ؟ خدا فرمائے  تجھ کو علم نہیں تھاکہ میرا فلاں بندہ  بیمار تھا اورتونے  اس کی عیادت نہیں کی تھی۔ کیا تجھ کو خبر نہ تھی کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا  توتومجھ کو اس کے پاس پاتااے آدم کے بیٹے میں نے تجھ سے کھانا مانگا اورتونے مجھ کو کھانا نہ کھلایا؟  وہ کہے گا  اے رب میں تجھ کو کیونکر کھانا کھلاتا تو توسارے جہان کا مالک ہے۔ خدا فرمائے گا  کیا تجھ کو خبر نہ تھی کہ تجھ سے میرے ایک بندے نے کھانا مانگا تھا تونے اُسے نہیں کھلایا یا کیا تجھ  کو نہیں معلوم تھاکہ اگر تو اس کو کھلاتا تواس کا بدلہ تومجھ سے پاتا؟ ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا  تھا اور تونے نہ پلایا؟ وہ کہیگا اے رب میں تجھ کو کیسے پلاتا تو تو سارے جہان کا مالک ہے ؟ خدا فرمائے  گا میرے ایک  بندے نے تجھ سے پانی مانگا  تھا مگر تونے اس کو نہیں پلایا اگر تو اس کو پانی پلادیتا تو اس کا اجر مجھ سے پاتا"۔

Posted in: یسوع ألمسیح, مسیحی تعلیمات, اسلام, غلط فہمیاں | Tags: | Comments (0) | View Count: (9833)

Post a Comment

English Blog